Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طریقِ مصطفیٰ کو چھوڑنا ہے وجہ بربادی (قسط: اول)|مفتی محمد ارسلان رضا خاں قادری

طریقِ مصطفیٰ کو چھوڑنا ہے وجہ بربادی (قسط: اول)
عنوان: طریقِ مصطفیٰ کو چھوڑنا ہے وجہ بربادی (قسط: اول)
تحریر: مفتی محمد ارسلان رضا خاں قادری
پیش کش: ناظم اسماعیلی

قارئین! مختلف موضوعات پر گفتگو کی جا سکتی ہے اور کرنے کا جی بھی کرتا ہے مگر کہتے ہیں کہ سب سے بہترین گفتگو وہی ہے جو زمان و مکان کے مطابق ہو، مقتضائے حال کے مطابق ہو اور فصیح و بلیغ کلام کی ایک علامت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ کلام جو مقتضائے حال کے مطابق ہو، نیز یہ کہ بہترین گفتگو وہی ہے جو مختصر ہو مگر معنی خیز ہو۔

”خَيْرُ الْكَلَامِ مَا قَلَّ وَدَلَّ“، اس اصول و ضابطے کو پیشِ نظر رکھ کر اپنی گفتگو کو مختصر کرنے کی بھی کوشش کروں گا اور حالاتِ زمانہ کے مطابق بھی کرنے کی کوشش کروں گا۔ ابھی کچھ سال قبل عرسِ رضوی میں بحث کا ایک موضوع یہ بھی دیا گیا تھا کہ ”لامرکزیت کا خاتمہ اور فتنہ و فساد کا انسداد کیوں کر ممکن“، آج میری کوشش یہی رہے گی کہ اسی موضوع پر کچھ اظہارِ خیال کروں。

آج جس زمانے میں ہم اور آپ جی رہے ہیں یقیناً یہ لا مرکزیت کا دور ہے، یہ دورِ فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے، یہ دورِ اختلاف و انتشار کا دور ہے، یہ دور یقیناً فتنہ و فساد کا دور ہے، حضورِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن فتنوں کی نشان دہی ایک زمانہ دراز پہلے فرمائی تھی، ان کی بہت سی علامتیں آج کے دور میں پائی جاتی ہیں، آپ جب ان حدیثوں کو پڑھیں گے اور سنیں گے اور اپنے زمانہ اور اہلِ زمانہ کا جائزہ لیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا جو کچھ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا وہی کچھ آج رونما ہو رہا ہے، جن فتنوں کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نشان دہی فرمائی، ان میں سے ایک بہت بڑا فتنہ یہ ہوگا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ وَلَٰكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ“، فرمایا کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم اس طرح سے نہیں اٹھایا جائے گا کہ لوگوں کے سینوں سے چھین لیا جائے گا، نکال لیا جائے گا بلکہ علمائے ربانین، سچے حاملینِ علم، سچے وارثینِ علم یکے بعد دیگرے، ایک ایک کر کے دنیا سے اٹھتے چلے جائیں گے، تو جب علمِ نبوی کے سچے وارثین ایک ایک کر کے دنیا سے اٹھتے چلے جائیں گے، تو اس طرح سے گویا ان علمائے ربانین کے دنیا سے اٹھ جانے سے، علم بھی اٹھ جائے گا، پھر آقا علیہ السلام نے فرمایا: ”حَتَّىٰ إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُوسًا جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا“ ”پھر جب کسی علاقے، خطے یا شہر میں کوئی عالمِ ربانی باقی نہ رہے گا، کوئی علمِ حق کا حامل نہ بچے گا، تو وہاں لوگ جاہلوں کو، علمِ حق سے عاری و خالی لوگوں کو اپنا سربراہ اور سردار بنا لیں گے، پھر ان سے دین کے سوال کرنے لگ جائیں گے تو وہ علمِ حق کے بغیر فتویٰ دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔“

ذرا غیب داں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیثِ پاک کی روشنی میں ہندوستان بھر کے بڑے بڑے مراکز اور زاویات کا جائزہ لے لیں تو آپ کو حدیثِ پاک کا ایک ایک حرف سچا ثابت ہوتا نظر آئے گا، کثرت کے ساتھ یہی حالات ہوتے جا رہے ہیں إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ۔ اور آج ہم جس زمانے اور جس دور میں موجود ہیں، یہ اسی فتنے کا دور معلوم ہوتا ہے جس کی نشان دہی حضور علیہ السلام نے سینکڑوں برس قبل فرمائی تھی، ہم دورِ پرفتن میں جی رہے ہیں۔

حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ فتنے آسمان سے ایسے برسیں گے جیسے بارش برستی ہے، ہر صبح ایک نیا فتنہ لے کر طلوع ہوگی اور ان فتنوں اور آزمائشوں میں ایک بڑی آزمائش یہ ہوگی کہ لوگ بڑوں کے جانے کے بعد جاہلوں اور نااہلوں، غیر مستحقین کو بڑے بڑے مقام و مرتبے اور مناصبِ جلیلہ پر بٹھا دیں گے۔

یہ فتنہ اور یہ علامت اتنے واضح اور کھلے طور پر پہلے زمانے میں نظر نہیں آتی تھی لیکن اس زمانے میں واضح طور پر نظر آ رہی ہے، یہ وہ فتنہ ہے، یہ وہ علامت ہے جسے آپ ہر روز کثرت کے ساتھ اپنے ماحول میں دیکھتے ہیں، اس کی وضاحت اور تفصیل و تمثیل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح علمائے حق کی کمی ہوتی جا رہی ہے، کس طرح دنیا علمائے ربانین سے خالی ہوتی جا رہی ہے اور ان کی جگہ نااہل لوگ لیتے جا رہے ہیں۔

علمائے ربانین اٹھ جائیں گے اور ایک عالمِ ربانی کی موت کو حدیثِ پاک میں ایسا رُخنہ فرمایا گیا ہے جو بھرا نہیں جا سکتا۔ ”مَوْتُ الْعَالِمِ مُصِيبَةٌ لَا تُجْبَرُ وَثُلْمَةٌ لَا تُسَدُّ“ یعنی ایک عالمِ ربانی کی موت سے دین میں ایسا رُخنہ پیدا ہو جائے گا جو پُر نہیں ہو سکتا، اس حدیث کی شرح میں ایک عالمِ ربانی علامہ عاشقِ الرحمن صاحب قبلہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں عالم سے مراد نام نہاد علماء مراد نہیں ورنہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ صوبہ اتر پردیش میں ہی سینکڑوں نہیں ہزاروں مدارس ہیں اور ان مدارس سے ہر سال ہزاروں لاکھوں نام نہاد علماء پیدا ہوتے ہیں، علامہ عاشقِ الرحمن فرماتے ہیں کہ حدیث میں یہ علماء مراد نہیں ورنہ ان جیسے سارے نام نہاد علماء ایک ساتھ بھی انتقال فرما جائیں تب بھی دین میں کوئی رُخنہ پڑنے والا نہیں، حدیثِ پاک میں جس عالم کی موت سے دین میں رُخنہ پڑ جانے کا ذکر ہے، اس عالم سے وہ عالمِ ربانی مراد ہے جس کے کردار میں، گفتار میں، اللہ کی برہان نظر آئے اور اس کی مثال میں انہوں نے جس عالمِ ربانی کو پیش کیا تھا، جس ذاتِ بابرکت کا نام لیا تھا وہ کوئی اور نہیں، وہ مفتیِ اعظم کا نورِ نظر، شریعت و طریقت کا تاجدار، عالمِ ربانی حضور تاج الشریعہ کی ذاتِ بابرکت ہے۔

ماضیِ قریب میں یہی بات حضور مفتیِ اعظم ہند کے بارے میں کہی جاتی تھی کہ سرکار مفتیِ اعظم کے وصال سے دین میں رُخنہ پیدا ہو گیا اور لوگوں نے دیکھا کہ مفتیِ اعظم کی ذاتِ بابرکت کس طرح فتنوں کو روکے ہوئی تھی، کس طرح سنیت اور فتنوں کے درمیان مضبوط دروازہ بن کر حائل تھی۔ اسی طرح نبیرۂ اعلیٰ حضرت، شہزادۂ حجۃ الاسلام، مفسرِ اعظم حضرت علامہ مفتی ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں اور ان کے شہزادۂ اکبر، نبیرۂ اعلیٰ حضرت، ریحانِ ملت حضرت علامہ ریحان رضا خاں علیہ الرحمہ کی شخصیات بھی ایسے مضبوط دروازے تھے کہ جنہوں نے اہلِ سنت میں برپا ہو جانے والے بے شمار فتنوں کو اپنی حکمت و موعظت اور دانشمندی و ہوشمندی سے روک رکھا تھا مگر ان شخصیات کے اس دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد فتنہ و فساد اور اختلاف و انتشار کا دروازہ صرف کھلتا ہی نہیں بلکہ مکمل طور پر ٹوٹ جاتا ہے اور وہ فتنے جو جماعتِ اہلِ سنت پر يلغار کرنے کے لیے زور و آزمائش کر رہے تھے وہ ابلتے ہوئے سیلاب کی طرح جماعت کی صفوں میں پے در پے گھستے چلے گئے۔

بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیثِ پاک ہے کہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا کہ کیا کسی کو فتنوں کے متعلق حدیث یاد ہے، حضرت حذیفہ بن یمان فرماتے ہیں کہ ہاں مجھے یاد ہے اور وہ مال و اولاد کے فتنے کی حدیث سنانے لگتے ہیں تو حضرت عمر فرماتے ہیں اس فتنے کے متعلق میں دریافت نہیں کر رہا ہوں، میں اس فتنے کے تعلق سے پوچھ رہا ہوں ”الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ“ ”وہ فتنے جو سمندر کی طرح موجیں ماریں گے“، حضرت حذیفہ نے فرمایا اے امیر المؤمنین! آپ کو اس سے کیا، آپ کے اور اس کے درمیان تو دروازہ بند ہے، حضرت عمر نے پوچھا کہ کیا وہ دروازہ ٹوٹے گا یا کھلے گا، فرمایا بلکہ ٹوٹ جائے گا، حضرت عمر نے فرمایا تب تو پھر کبھی بند نہ ہو سکے گا، حضرت مسروق نے حضرت حذیفہ سے پوچھا وہ دروازہ کون ہے، انہوں نے فرمایا وہ دروازہ عمر ہیں۔

تاریخِ اسلام پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق اعظم کے وصال سے اسلام و مسلمین پر فتنہ و فساد کا دروازہ کھلتا نہیں ہے بلکہ ٹوٹ جاتا ہے اور جن کی نگاہ میں برصغیر ہند و پاک کے سوادِ اعظم اہلِ سنت کی تاریخ ہے وہ بھی جانتے ہیں کہ اہلِ سنت کی شیرازہ بندی اور فتنوں سے تحفظ فراہم کرنے میں حضور مفتیِ اعظم ہند کی ذاتِ عمر فاروق اعظم کی پرتو اور عکسِ جمیل تو تھی ہی مگر ان کے فیضانِ کرم سے سرکار مفسرِ اعظم ہند اور حضرت ریحانِ ملت کی شخصیات بھی ان فتنوں کی روک تھام کے لیے ایک مضبوط دروازے کا کام کرتی نظر آ رہی تھیں۔

تو جس طرح حضرت عمر فاروق اعظم کے وصال سے اسلام میں فتنہ و فساد، اختلاف و انتشار کا دروازہ کھلتا ہی نہیں بلکہ ٹوٹ جاتا ہے، اسی طرح برصغیر ہند و پاک میں مفتیِ اعظم, مفسرِ اعظم اور حضرت ریحانِ ملت کے وصال سے اہلِ سنت و جماعت میں فتنہ و فساد اور اختلاف و انتشار کا دروازہ صرف کھلتا ہی نہیں بلکہ ٹوٹ جاتا ہے اور آج ہم حضور تاج الشریعہ کے وصال کے بعد کے زمانے میں جی رہے ہیں، حضرت کے زمانے میں اس دروازے کو جوڑا تو نہیں جا سکا مگر حضور مفتیِ اعظم، مفسرِ اعظم اور حضرت ریحانِ ملت کے وصال کے بعد وہ دروازہ ٹوٹ تو گیا تھا مگر تاج الشریعہ نے بھی مفتیِ اعظم کی روش اور ان کے طریقے پر چل کر بہت سارے فتنوں کو روکے رکھا تھا۔

آج ایک بار پھر حضور تاج الشریعہ کے پردہ فرما جانے کے بعد فتنوں کا دروازہ کھلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے، حضور تاج الشریعہ کی ذاتِ بابرکت بھی مفتیِ اعظم کی روش اور ان کے طریقوں پر چل کر بہت سارے فتنوں کو روکے ہوئی تھی اور آج بھی اگر فتنہ و فساد کے دروازے کو بند کرنا ہے تو حضرت تاج الشریعہ کی طرح حضور مفتیِ اعظم کی روش اور ان کے طریقے کو اپنانے کی ضرورت ہے، ارے مفتیِ اعظم کی بہت عظیم شان ہے، ارے رضویو! مفتیِ اعظم کی روش کو نہ چھوڑنا، ارے سرکار تاج الشریعہ نے مفتیِ اعظم کی روش اور طریقے کو اپنایا تو عالم یہ تھا کہ:

محفلِ انجم میں اختر دوسرا ملتا نہیں

[ماہنامہ اعلیٰ حضرت، مارچ 2023ء، ص: 11-13]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!