Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

بقرہ عید (قربانی) اور محرم میں غلط رسومات و خرافات اور ان کا سدِ باب (پہلی قسط) | محمد ارقم رضا حسنی ازہری

بقرہ عید (قربانی) اور محرم میں غلط رسومات و خرافات اور ان کا سدِ باب (پہلی قسط)
عنوان: بقرہ عید (قربانی) اور محرم میں غلط رسومات و خرافات اور ان کا سدِ باب (پہلی قسط)
تحریر: محمد ارقم رضا حسنی ازہری (کلیۃ اصول الدین، جامعہ ازهر شریف)
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی اتر پردیش

بسم اللہ الرحمن الرحیم
پیارے آقا، سرورِ کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ

ترجمہ: اچھا مسلمان ہونے کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان بے فائدہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ [سنن الترمذي، رقم الحدیث: ۲۳۱۷، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان]

پیارے آقا ﷺ کی یہ حدیثِ پاک ہم کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اسلام ایک دینِ فطرت ہے جو سادگی، اخلاص اور ترکِ لغویات کا درس دیتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بعض مسلمان، اسلامی شعائر میں اپنی من گھڑت رسومات اور خرافات شامل کر لیتے ہیں، جو دین کی روح کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ بقرہ عید اور محرم الحرام کے مہینے میں کئی ایسی رسومات اور خرافات رائج ہو چکی ہیں جو نہ صرف غیر اسلامی ہیں بلکہ معاشرے میں خرابیوں کا سبب بنتی ہیں۔

بقرہ عید میں ہونے والی غلط رسومات و خرافات

بقرہ عید میں متعدد طریقوں سے خرافات کی جاتی ہیں، جن میں سرِ فہرست مہنگے جانور خرید کر ان کی نمائش کرنا ہے۔ قربانی کا مقصد، محض رضائے الہی کا حصول ہے، مگر بعض مسلمان اس مقصد کو بھول جاتے ہیں، اور جانور کو خوب مہنگی قیمت میں خریدتے ہیں، پھر دیگر مسلمانوں سے اس کا مقابلہ کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر اس خبر کو شائع کرتے ہیں کہ فلاں شخص نے اتنے لاکھ کا جانور خریدا ہے، اور اس پر فخر کرتے ہیں۔

جس کے کئی نقصان ہوتے ہیں، جیسے دوسرے مسلمانوں کا دل دکھنا، غریب مسلمانوں کا خود پر افسوس کرنا کہ کاش ہم پر مال ہوتا تو ہم بھی ایسے قربانی کرتے، دشمنانِ اسلام کا اسلام پر حملہ کرنا کہ یہ لوگ جانور کشی کرتے ہیں اور اتنے خوبصورت جانور کاٹ دیتے ہیں، اور سب سے اہم ریاکاری کے سبب ثواب کی بجائے عذاب کا مستحق ہونا وغیرہ وغیرہ۔

یہ اور اس طرح کی دیگر خرافات بھی جن سے ریاکاری لازم آتی ہے، ان کے سدِ باب کے لیے مسلمانوں کو ایک بات باور کرانا ضروری ہے، وہ یہ کہ قربانی کا مقصد محض رضائے الٰہی ہے، اگر کوئی ریاکاری کرے اور زیادہ سے زیادہ پیسے خرچ کرے تو اس کی قربانی اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ رب تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:

لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاۤؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقٰى مِنْكُمْ

ترجمہ: اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون، ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔ [سورۃ الحج، آیت: 37]

لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ قربانی میں تقویٰ اختیار کریں، جانوروں کی نمائش اور ریاکاری کر کے ثواب کے بجائے عذاب کے مستحق نہ بنیں۔ اسی طرح بعض مسلمانوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ قربانی کے جانور کو گلیوں میں گھماتے ہیں، اور ان کی بیجا نمائش کراتے ہیں، اور کچھ بدمعاش قسم کے لوگ ان جانوروں کو تفریح کا ذریعہ بناتے ہیں، یہ سب بھی جانور کو تکلیف دینے اور ریاکاری کے ضمن میں آتا ہے، جس کی اسلام میں بالکل اجازت نہیں اس سے بچنا بہت ضروری ہے۔

اس دورِ جدید میں قربانی کے موقع پر ایک نئی رسم اور نکل آئی ہے، وہ یہ کہ کوئی شخص قربانی کرتا ہے تو سارے ہی گوشت کی بریانی وغیرہ بنا کر اپنے رشتہ داروں کو دعوت دیتا ہے اور غریبوں کو بھول جاتا ہے، اور جن رشتہ داروں کو دعوت دیتا ہے ان کے یہاں خود قربانی ہوتی ہے اور ان کے پاس گوشت کی فراوانی ہوتی ہے۔ اس رسم سے قربانی کا ایک اہم مقصد "غریبوں تک ان ایام میں گوشت پہنچنا اور ان کو اچھی غذا کا میسر آنا" ختم ہو جاتا ہے، حالانکہ اپنے قریبی لوگوں کو دعوت دینا، ان کو کھانا کھلانا اچھا فعل ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ غریبوں کو اس میں شامل کیا جائے، اور ان تک بھی گوشت پہنچایا جائے تاکہ قربانی کا ایک اہم مقصد فوت نہ ہو۔

محرم الحرام اور غلط رسومات و خرافات

محرم الحرام کا مہینہ اسلامی تاریخ میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، یہ مہینہ اپنے دامن میں بے شمار اسلامی واقعات سمیٹے ہوئے ہے، خاص کر واقعہء کربلا اس ماہ کا مشہور ترین و اہمیت یافتہ واقعہ ہے۔ اس ماہ کے کثیر فضائل کتاب و سنت میں وارد ہوئے ہیں۔ بخشش و مغفرت پانے کے لیے یہ مہینہ اہل اسلام کے لیے کسی غنیمت سے کم نہیں۔ مگر افسوس کہ مسلمان جتنی خرافات اس مہینے میں کرتے ہیں، شاید ہی دوسرے کسی مہینے میں کرتے ہوں۔

ان خرافات اور غلط رسومات میں سرِ فہرست مروجہ تعزیہ داری ہے۔ پھر تعزیہ داری کے ساتھ ماتم کرنا، تعزیوں پر چڑھاوے چڑھانا، ان کے سامنے کھانا رکھ کر وہاں فاتحہ پڑھنا، ان سے منتیں مانگنا، ان کے نیچے سے برکت حاصل کرنے کے لیے بچوں کو نکالنا، تعزیے دیکھنے کو جانا، انہیں جھک کر سلام کرنا، اور سواریاں نکالنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب جاہلانہ باتیں اور ناجائز حرکتیں ہیں، مذہب اسلام کا ان تمام غلط رسومات و خرافات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سارے کام کھیل تماشا اور دین کا مذاق بنانا ہیں، اور ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن و سنت میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّلَهْوًا

ترجمہ: اور چھوڑ دے ان کو جنہوں نے اپنا دین ہنسی کھیل بنا لیا۔ [سورۃ الأنعام، آیت: 70]

(جاری ہے...)

[حوالہ:- سہ ماہی القلم شمارہ نمبر 12 ذی الحجہ 1446 ھ تا 1447 ھ ص 43 تا 45]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!