Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قربانی پر مخالفین کے شبہات اور ان کا رد (دوسری قسط) | محمد ذاکر علیمی

قربانی پر مخالفین کے شبہات اور ان کا رد (دوسری قسط)
عنوان: قربانی پر مخالفین کے شبہات اور ان کا رد (دوسری قسط)
تحریر: محمد ذاکر علیمی (دارالعلوم اسلامیہ قادریہ بفلیاز جموں کشمیر)
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی اتر پردیش

بے رحمی کا عقلی جواب

ہمارے ایک قابل اور سینئر ساتھی نے اپنی کتاب دفاعِ اسلام میں اس کا جواب دیتے ہوئے یوں تحریر فرمایا ہے: "جو لوگ جانوروں کی قربانی کر کے ان کے گوشت کھانے کو ان پر ظلم، تشدد اور بے رحمی سے تعبیر کرتے ہیں، ان پر واضح رہے کہ اگر جانور کو مارنا اور ان کا گوشت کھانا ان پر ظلم و تشدد اور بے رحمی ہے، تو سبزیوں، پھلوں اور دیگر نباتاتی غذاؤں کو کھانا بھی ظلم ہے، اگر جانور حیات رکھتے ہیں تو نباتات میں بھی سائنس کے مطابق حیات پائی جاتی ہے۔ ماضی میں لوگ سمجھتے تھے کہ درختوں میں حیات نہیں ہوتی لیکن آج جدید سائنسی تحقیق نے یہ انکشاف کر دیا ہے، کہ حیوانات کی طرح نباتات میں بھی حیات پائی جاتی ہے۔ تاہم ان کی چیخ و پکار انسان نہیں سن سکتے ہیں۔"
[الذب عن الاسلام فی ضوء الأحادیث والقرآن / ص 35، 234 / مکتبہ سنی پبلیکیشنز دہلی]

مالی اخراجات اور رفاہی کاموں کا شبہ

اعتراض ۲: ایسے ہی ایک معترض کا یہ کہنا ہے، کہ جتنا روپیہ پیسہ، مال و دولت آپ لوگ قربانی کے وقت خرچ کرتے ہو اگر وہی مال و زر غریبوں، فقیروں، یتیموں مسکینوں وغیرہ کو دیا جائے تو قوم سے غریبی ختم ہو جائے؟

جواب: ایسے انسانیت نوازوں، رفاہی کام کے دل دادہ لوگوں سے عرض ہے کہ آپ پہلے اسلام کی تعلیمات کو پڑھیں اور سمجھیں! میں یہ دعوے سے کہتا ہوں کہ جتنا غریبوں، مسکینوں، بیواؤں، یتیموں، فقیروں کا خیال رکھنا دینِ اسلام نے سکھایا ہے، پوری دنیا میں کسی بھی مذہب میں اس کا تصور تک نہیں ملے گا! جو حقوق کا تحفظ اسلام نے کیا ہے، واللہ تاللہ باللہ ادیانِ باطلہ میں اس کا اڑھائی فیصد بھی نہیں ملے گا۔ قربانی پر بے جا تنقید کرنے والے یاد رکھیں! قرآن کھول کر دیکھ لیں سال بعد زکوۃ کا حکم صرف دینِ اسلام میں ہی آپ کو نظر آئے گا، صدقہ فطر، کفارہ وغیرہ گو کہ ہر طرح غریبوں کا کفیل اگر کوئی ہے، تو صرف اور صرف اقائے نعمت ﷺ کا لایا ہوا سچا دین ہے، کیوں کہ قربانی کے ذریعہ نہ جانے کتنے بھوکوں کو کھانا مل جاتا ہے، جو سال بھر گوشت جیسی نعمتِ عظمیٰ کے لیے ترستے ہیں ان کو اس موقع پر ان کی خواہش کے مطابق کھانے کو گوشت مل جاتا ہے، اپنی آنکھ بیتی بات عرض کر رہا ہوں، کہ گزشتہ سال اس عظیم موقع پر اس سب کا مشاہدہ بھی کیا، غریب لوگ ہر قربانی کرنے والے کے یہاں قطار در قطار دیکھنے کو ملتے ہیں، جو میں نے خود دیکھا ہے۔

جو کہتے ہیں اس کے بجائے قربانی کی جگہ رفاہِ عامہ کے مفید کاموں، ہسپتالوں کا بنانا، غربا کی فلاح و بہبود کے لیے اتنا روپیہ پیسہ صدقہ کر دینا چاہیے! وہ لوگ سن لیں!! ان کاموں میں خرچ کرنے کے لیے اسلام نے تو زکوٰۃ، صدقات، عشر، میراث، وغیرہ بہت سی چیزوں کے احکام صادر فرما رکھے ہیں، آپ بتائیں آپ کے مذہب میں اس کا متبادل کیا ہے؟ لیکن آپ جو نیو ائیر نائٹ پر اربوں روپے اڑاتے ہیں اگر اتنی خطیر رقم آپ غربا میں بانٹ دیں تو دنیا میں کوئی محتاج ہی نہیں ملے گا، جتنا شراب نوشی، ڈرگز، جوا، کرکٹ، فلم، رقص بازی، آتش بازی، وغیرہ بہت سی خرافات میں اخراجات آپ لوگ کرتے ہیں اگر وہ پورے عالم کے غربا میں تقسیم کر دیں تو میں کامل وثوق سے کہتا ہوں کہ صرف کسی ایک ملک سے نہیں بلکہ کسی ملک میں کوئی مسکین نظر نہیں آئے گا۔ لیکن کیا کریں ان حقیقت سے معدوم البصر لوگوں کو یہ سب کہاں نظر آتا ہے؟ اللہ حق شناس آنکھ عطا فرمائے!

گوشت خوری اور درندگی کا الزام

اعتراض ۳: ایک شبہ یہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ گوشت خوری انسانوں کے اندر درندگی لاتی ہے، وحشیانہ پنتی پیدا کرتی ہے؟

جواب: یہ تصور بالکل عقل و شواہد کے خلاف ہے، اس لیے کہ رحم دلی میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے؟ حالاں کہ غیر بھی آپ کی رحم دلی تسلیم کرتے ہیں، لیکن آقاۓ دو جہاں صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے گوشت خود بھی کھایا اور فرمایا: کہ گوشت تمام پکوان کا سردار ہے۔

اگر آپ کی بات مان بھی لی جاۓ تو ہٹلر جو کبھی گوشت نہیں کھاتا تھا وہ کیوں اتنا شدت پسند تھا؟ اور اس کے برعکس حضرت عیسیٰ مسیح جن کو یہ رحم دلی کا سب سے بڑا داعی سمجھتے ہیں، وہ بھی گوشت کھایا کرتے تھے، جو لوگ گوتم بدھ کو رحم دلی کا آئینہ کے طور پر پیش کرتے ہیں ان کی اس دنیا سے رخصتی گوشت کھا کر ہوئی ہے۔ اگر گوشت کھانے سے درندگی آتی ہے، تو جو گوشت کے استعمال کو ممنوع سمجھتے ہیں حالاں کہ وہ بہت سنگ دل ہوتے ہیں، تو ان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟

معاشی فوائد اور روزگار کا ذریعہ

قربانی کے اس عظیم الشان موقع پر جہاں مسلمان بڑھ چڑھ کر اللہ کی راہ میں اپنی محبوب چیزیں خرچ کرتے ہیں، قیمتی سے قیمتی جانور کو بارگاہ الہی میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، صرف اس ایک دن میں پوری دنیا میں لا تعدی و لا تحصی، جانوروں کو بارگاہ رب لم یزل میں ذبح کرتے ہیں، اگر ایک سال ایسا نہ ہو تو پھر یہ تعداد کس عروج پر ہوگی؟ ان کا سنبھالنا لوگوں کے لیے مشکل ہو جاۓ گا، خاص کر وہ لوگ جن کا دھندہ ہی یہی ہے، اگر یہ قربانی نہ کی جاۓ، حلال جانوروں کو کھایا نہ جاۓ تو پھر بڑی تعداد میں جو لوگ یہ کاروبار کرتے ہیں وہ کیا کریں گے؟ راقم جموں کشمیر سے تعلق رکھتا ہے، اور دیگر جو لوگ بھی اس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، وہ خوب جانتے ہیں کہ یہاں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد بکریاں رکھ کر بقر عید کے موقع پر فروخت کرتی ہے (خود فقیر بھی ان ہی میں سے ہے) اس کام کے لیے وہ اتنی مشقت اٹھاتے ہیں کہ شاید ہی کسی دوسرے کام کے لیے اٹھاتے ہوں! اور عید کے موقع پر فروخت کرنے کے لیے ان کو لے کر پیدل کشمیر کا رخ کرتے ہیں، یہاں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو پانچ سو سے زائد بکریاں رکھتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر وہ یہ کام چھوڑ دیں تو پھر اتنی تعداد میں وہ لوگ کیا کریں گے؟ اتنا روزگار کہاں سے ملے گا؟ فیملی کے اخراجات کہاں سے پورا کریں گے؟
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمیشہ دین اسلام پر قائم و دائم رکھے! اسی پر خاتمہ فرماۓ۔

[حوالہ:- سہ ماہی القلم شمارہ نمبر (12) | ذی الحجہ 1446ھ تا صفر المظفر 1447ھ ص 40 تا 42]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!