Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

بقرہ عید (قربانی) اور محرم میں غلط رسومات و خرافات اور ان کا سدِ باب (دوسری قسط) | محمد ارقم رضا حسنی ازہری

بقرہ عید (قربانی) اور محرم میں غلط رسومات و خرافات اور ان کا سدِ باب (دوسری قسط)
عنوان: بقرہ عید (قربانی) اور محرم میں غلط رسومات و خرافات اور ان کا سدِ باب (دوسری قسط)
تحریر: محمد ارقم رضا حسنی ازہری (کلیۃ اصول الدین، جامعہ ازہر شریف)
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی اتر پردیش

اور رب تعالیٰ نے فرمایا:

الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَهْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا فَالْيَوْمَ نَنْسٰهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ يَوْمِهِمْ هٰذَا وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ

ترجمہ: جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا اور دنیا کی زیست نے انہیں فریب دیا تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے جیسا انہوں نے اس دن کے ملنے کا خیال چھوڑا تھا اور جیسا ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے۔ [سورۃ الاعراف، آیت: 51]

اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا:

لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ

ترجمہ: جو (میت کے غم میں) گال پیٹے، گریبان پھاڑے، اور زمانہ جاہلیت کی سی چیخ و پکار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب ليس منا من شق الجيوب، رقم الحدیث: 1294، ط: دار الکتب العلمیۃ]

نیز مشائخِ مارہرہ مطہرہ و مشائخِ بریلی شریف و بدایوں شریف، خصوصاً امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے ان تمام تر غلط رسومات و خرافات کو ناجائز قرار دیا ہے۔

بچوں کو فقیر بنانا

محرم الحرام کے مہینے میں بہت سے لوگ اپنے بچوں کو امام حسین کا فقیر بناتے ہیں اور گھر گھر بھیک منگواتے ہیں، اور سوچتے ہیں ایسا کرنے سے بچوں کی عمر دراز ہوگی اور اس کو نیکی کا کام جانتے ہیں۔ امامِ اہل سنت نے فتاویٰ رضویہ میں فرمایا: یوں ہی فقیر بہ مکر بلا ضرورت و مجبوری مانگنا حرام ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 494، ط: رضا فاؤنڈیشن لاہور]

اس کے علاوہ بھی بہت سے فضول رسومات ہیں، جیسے: امام قاسم کی مہندی، ہرے یا کالے کپڑے پہننا، فرضی کربلا بنانا وغیرہ وغیرہ۔ ان سب رسومات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہمارے فقہائے کرام نے ان سب کو ناجائز لکھا ہے۔ لہٰذا ان سب سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اور شہدائے کربلا کے ذکرِ خیر کی مجلس کرنا چاہیے، نیکی کے جو کام قرآن و سنت نے بتائے ہیں وہ کرنا چاہیے۔ قرآن و سنت پر عمل کر کے ہی ان خرافات کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

ان غلط رسومات و خرافات کا سدِباب

  1. دینی تعلیمات کا فروغ: علما، خطبا، اور پیرانِ عظام کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں بقرہ عید اور محرم کی اصل تعلیمات کو عام کریں اور لوگوں کو سنت کے مطابق عمل کرنے کی ترغیب دیں۔

  2. وعظ و نصیحت کا اہتمام: مساجد اور مدارس میں ان موضوعات پر خصوصی بیانات کا اہتمام کیا جائے، جن میں ریاکاری، بدعات اور خرافات کے نقصانات کو اجاگر کیا جائے۔

  3. سوشل میڈیا کا مثبت استعمال: سوشل میڈیا پر سنتِ ابراہیمی اور شہدائے کربلا کی قربانیوں کو اجاگر کیا جائے اور ان سے حاصل ہونے والے سبق کو عام کیا جائے۔ غلط رسومات اور خرافات کی مذمت کے لیے ویڈیوز اور مضامین شیئر کیے جائیں۔

  4. شعور بیدار کرنا: لوگوں کو یہ شعور دیا جائے کہ دینِ اسلام میں ہر عمل کا مقصد اخلاص اور اللہ کی رضا ہے، نہ کہ دکھاوا یا ریاکاری۔

  5. علماء و مشائخ کا کردار: علماء اور مشائخ کو چاہیے کہ وہ عملی نمونہ پیش کریں اور بدعات سے اجتناب کریں تاکہ عوام ان کی پیروی کریں۔

  6. ذمہ داران سے خصوصی ملاقات: محرم کی خرافات کرنے میں، ہر بستی میں چند ذمہ داران ہوتے ہیں، جن کے کہنے پر ہی تمام کام کیے جاتے ہیں، علماء و مشائخ کو چاہیے کہ محرم سے پہلے ہی چند مرتبہ ان سے خصوصی ملاقات کریں اور ان کو قرآن و سنت کا پیغام اچھے انداز میں سمجھائیں، ان کو خوفِ الٰہی دلائیں، اور ان کو ان خرافات سے روکیں، جب وہ اجتناب کرنے پر راضی ہو جائیں تو ان کی مدد سے قوم سے ملاقات کریں اور سنجیدگی سے سب کو سمجھائیں۔ محرم گزر جانے کے بعد قوم کو برا بھلا کہنا، یا پہلے ہی قوم کو برا بھلا کہہ کر برے انداز میں اصلاح کرنا کبھی کارگر نہیں ہو سکتا۔ وقت سے ان کی اصلاح کریں اور قرآنی طریقے کو اپنائیں تو ضرور تمام خرافات ختم ہو سکتی ہیں۔

اور قرآنی طریقہ یہ ہے:

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ

ترجمہ: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔ [سورۃ النحل، آیت: 125]

اللہ پاک ہم سب کو قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

[حوالہ:- سہ ماہی القلم شمارہ نمبر (12) ذی الحجہ 1446ھ تا صفر المظفر 1447ھ ص 46 تا 48]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!