Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

برطانوی اسکولوں میں صبح کی دُعائیں اور مسلمانوں کی غفلت (قسط: اول)

برطانوی اسکولوں میں صبح کی دُعائیں اور مسلمانوں کی غفلت (قسط: اول)
عنوان: برطانوی اسکولوں میں صبح کی دُعائیں اور مسلمانوں کی غفلت (قسط: اول)
تحریر: خطیب اعظم علامہ قمر الزماں خان اعظمی
پیش کش: نوری کرن
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

پورے یورپ بالخصوص برطانیہ کے تمام اسکولوں میں تعلیم کے آغاز سے پہلے کم و بیش آدھا گھنٹہ تمام بچوں کو ایک ہال میں جمع کر کے مختلف قسم کی دُعائیں پڑھائی جاتی ہیں۔ عام طور پر ان دُعاؤں کے دو حصے ہوتے ہیں۔ پہلے حصے میں بچے سنتے ہیں اور دوسرے حصے میں دُعاؤں میں عملاً شریک ہوتے ہیں اور اخیر میں ’’آمین‘‘ کہتے ہیں۔ دُعاؤں کا یہ رواج یورپ میں سیکڑوں سال پُرانا ہے، اور عصرِ حاضر میں چرچ کی روایات میں سے صرف یہی ایک روایت باقی رہ گئی ہے۔ برطانیہ اپنے تمام اداروں کو سیکولر بنیادوں پر چلا رہا ہے مگر اِس طرح کی اسمبلیاں تمام اسکولوں میں ہوتی ہیں۔

عام طور پر ان دُعاؤں میں جو الفاظ شامل ہوتے ہیں اُن کے بعض حصے مسلمانوں کے عقائد کے قطعاً خلاف ہیں۔ مثلاً باپ، بیٹا اور روح القدس کے نام سے دُعا کرنا۔

Jesus Son of God
Father, Son and Holy Spirit
Jesus Died on the Cross

مندرجہ بالا الفاظ چرچ کے اسکولوں میں تو عام طور پر استعمال ہوتے ہیں مگر دوسرے اسکولوں میں بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ الفاظ اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف ہیں۔ اگرچہ اب برطانیہ کو ایک کثیر النسلی اور کثیر الثقافتی معاشرہ تسلیم کر لیا گیا ہے، اور ایجوکیشن اتھارٹیز کی ہدایات بھی ہیں کہ اُن اسکولوں میں جہاں غیر عیسائی بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں وہاں اُن کے مذہب کے خلاف کوئی کام نہ کیا جائے، مگر پھر بھی شعوری یا لاشعوری طور پر بہت سے ایسے اسکولوں میں جہاں مسلمان بچوں کی تعداد 80 اور 90 فیصد ہے، وہاں بھی اسی طرح کی دُعاؤں کا رواج ہے۔ غالباً اِس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک مسلم والدین نے اِس طرف توجہ نہیں کی یا انہیں خبر ہی نہیں کہ اسکولوں میں اس طرح کی دُعائیں پڑھائی جاتی ہیں، جو اسلام کے قطعاً خلاف ہیں یا پھر وہ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ بچوں کا عمل قابلِ مواخذہ نہیں ہوتا، یا بعض لوگ یہ سوچتے ہوں گے کہ اِس طرح کی باتوں پر احتجاج کرنے سے ہماری رواداری پر حرف آئے گا۔

اب یہ مسلمانانِ برطانیہ کے سوچنے کی بات ہے کہ وہ اپنے مذہب کے سلسلے میں کس حد تک روادار ہو سکتے ہیں۔ کیا رواداری کی نام نہاد روایت کو نباہنے کے لیے وہ جان بوجھ کر عقیدۂ توحید کے خلاف دُعاؤں کو گوارا کر لیں گے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو انہیں اسکولوں کے ذمے داروں سے احتجاج کر کے دُعاؤں سے ایسے الفاظ کو خارج کرانا ہوگا جو عقیدۂ توحید کے منافی ہیں یا پھر اپنے بچوں کو ان اسمبلیوں سے مستثنٰی کرانا ہوگا، یا بطورِ متبادل برطانوی نظامِ تعلیم کے اربابِ حل و عقد سے اجتماعی طور پر یہ مطالبہ کرنا ہوگا کہ وہ ان اوقات میں مسلم علما اور اسکالرس کو یہ حق دیں کہ وہ اسلامی اسمبلیوں کا اہتمام کریں۔

عقیدۂ توحید کے منافی کلمات بچوں پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ بار بار ان کلمات کے اعلان سے ان کے ذہن سے توحید کی عظمت نکل جائے گی، وہ شرک کی طرف مائل ہوں گے یا کم از کم شرکیہ کلمات کی ادائیگی ایک گوارا حقیقت بن جائے گی، بعد میں وہ دین سے انحراف بھی کر سکتے ہیں۔ العیاذ باللہ۔

برطانیہ میں مسلمان آئے دن اپنے حقوق کے سلسلے میں احتجاج کرتے رہتے ہیں مگر افسوس کہ اس اہم دینی معاملے میں وہ بے حسی بلکہ مجرمانہ غفلت کا شکار ہیں۔ کاش! وہ اس حقیقت کا ادراک کر سکتے کہ اللہ ربّ العزت کی غیرتِ وحدانیت شرک کو کسی بھی شکل میں معاف نہ فرمائے گی۔ قرآنِ عظیم نے شرک کو ظلمِ عظیم اور ناقابلِ معافی گناہ قرار دیا ہے۔ اسلام میں عقیدۂ توحید ہی تمام عقائد کی اساس ہے، اگر یہی عقیدہ مجروح ہو جائے تو دوسرے عقائد کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ پورے قرآنِ عظیم میں سیکڑوں مقامات پر شرک کی مذمت کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں پوری پوری سورتیں نازل کی گئی ہیں بلکہ میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ قرآنِ عظیم کی ہر آیتِ عظمتِ توحید کی آئینہ دار ہے۔ قرآنِ عظیم کے علاوہ احادیثِ مبارکہ میں سیکڑوں مقامات پر شرک سے متعلق بڑے واضح احکامات موجود ہیں۔

سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ! سب سے بڑا گناہ کیا ہے۔ حضور نے ارشاد فرمایا: “تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ جبکہ وہ تمہارا خالق ہے۔”

حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ: مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ خواہ تمہیں قتل کر دیا جائے یا جلا دیا جائے۔

ان واضح احکامات اور وعیدوں کی موجودگی میں ایک مسلمان کی موحدانہ غیرت ایک لمحے کے لیے بھی گوارا نہیں کر سکتی کہ ان کے بچے ایسے الفاظ ادا کریں جو عقیدۂ توحید کے منافی ہیں۔

میں برطانیہ کے تمام مسلمان والدین سے استدعا کروں گا کہ وہ اپنے بچوں سے معلوم کریں کہ کیا ان کو اس طرح کی دُعائیں پڑھائی جاتی ہیں۔ اِس سلسلے میں اسکول ہیڈ ٹیچر سے مل کر دُعاؤں کا متن بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ بات معلوم ہو جائے تو اپنے بچوں کو ایسی دُعاؤں سے مستثنٰی کرا لیں۔ اس سلسلے میں اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز کے نام درخواست کا ایک فارم شائع کیا جا رہا ہے۔ آپ اس کی فوٹو کاپی کرا کے فارم کی خانہ پُری کے بعد اسکولوں کے ہیڈ ٹیچرز کے حوالہ کر دیں۔ [مقالاتِ خطیبِ اعظم، ص: 73 تا 75]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!