| عنوان: | حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرضی تصویر |
|---|---|
| تحریر: | ام رباب امجدی |
| پیش کش: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
لندن کے مشہور اخبار سنڈے ٹائمز ہائر ایجوکیشن سپلیمنٹ نے اپنی 27 جنوری 1989ء کی اشاعت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی فرضی تصویر شائع کر کے مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ اس نے نہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فرضی تصویر شائع کی ہے بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بدنامِ زمانہ گستاخِ رسول سلمان رشدی کی بھی تصویر شائع کی ہے۔
نیز اسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف ناپسندیدہ باتیں لکھی ہیں، مسلمان ابھی رشدی کی کتاب پر احتجاج کر ہی رہے تھے کہ ٹائمز سپلیمنٹ نے ایک اور گستاخی کا ارتکاب کر کے مسلمانوں کو مزید مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے۔
رشدی کے مسئلے میں حکومت کی خاموشی نے پورے برطانوی پریس کو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ حکومتِ برطانیہ کو شاید ابھی تک حالات کی نزاکت کا صحیح احساس نہیں ہے۔ ہم برطانوی حکومت سے پُر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کی گستاخیوں کے سدِ باب کے لیے فوری اقدام کرے، ورنہ نتائج کی ذمہ دار خود حکومت ہوگی۔
ہم برملا اعلان کرتے ہیں کہ ہم پہلے مسلمان ہیں، پھر برطانوی، ہندی، پاکستانی یا عرب ہیں۔ ہم کسی ملک میں قیام کی قیمت پر اپنے مذہب اور اپنے شعائر کی توہین برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ برطانیہ میں جس فتنے کو ہوا دی جا رہی ہے، اس کے اثرات صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہیں گے۔
بلاشبہ ہم ان گستاخیوں کے جواب میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتے جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام یا سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی عظمت کے خلاف ہو۔ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے، اس لیے کہ ان کا احترام ہمارے ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ اس لیے وہ اسلام اور قرآن کے پیغمبر ہیں۔
لیکن یہاں اگر مسلمانوں کے دینی جذبات کا احترام نہ کیا گیا تو یہ دنیا بھر کے لیے ایک انتہائی غلط مثال ہوگی، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے چرچ اور مشنری اداروں کے لیے ہزاروں دشواریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس طرح سے تو کسی کی بھی عزت کسی مقام پر محفوظ نہ رہ سکے گی۔
کیا برطانیہ کا عیسائی معاشرہ دنیا کی غیر عیسائی اقلیتوں کو یہ حق دیتا ہے کہ اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے جو یہاں مسلمانوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے؟
سلمان رشدی کے ایک انگریز حامی نے اپنے ایک انٹرویو میں یہاں تک کہا کہ بریڈ فورڈ کی 10 فی صد مسلم آبادی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بریڈ فورڈ کی 90 فی صد غیر مسلم عوام سے مطالبہ کرے کہ وہ رشدی کی کتاب نہ پڑھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ نام نہاد جمہوریت ایمان اور عقیدے کو بھی ووٹوں کے ترازو میں تولنے کی عادی ہو گئی ہے۔ ہم اس معترض سے سوال کرنا چاہتے ہیں کہ کیا بریڈ فورڈ کے 90 فی صد غیر مسلم عوام کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ 10 فی صد مسلم عوام کا قتلِ عام کریں؟ کیا قانون اس صورت میں خاموش تماشائی بن کر رہ سکتا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پیغمبرِ اسلام کے وقار پر حملہ یہاں کے دو ملین مسلمانوں کے قتل کے مترادف ہے۔ ہماری جانیں اور ہمارا سب کچھ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو پر قربان ہے۔
حکومت برطانیہ کیا کر سکتی ہے؟
برطانوی حکومت کے ذمہ دار افراد یہ عذر پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ برطانوی قانون میں چرچ آف انگلینڈ کے علاوہ اور کسی کے تحفظ کی ضمانت نہیں دی گئی ہے، اس لیے ہم کوئی قانونی اقدام نہیں کر سکتے۔ ہمارا جواب یہ ہے کہ برطانیہ ہر روز نئی ضرورتوں کے مطابق اپنے قوانین میں تبدیلیاں کر رہا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں یہاں کی معاشی، ثقافتی اور تعلیمی ضروریات کو سامنے رکھ کر متعدد قوانین تبدیل کیے گئے ہیں۔ برطانیہ میں چرچ آف انگلینڈ کو اس وقت تحفظ فراہم کیا گیا تھا جب یہاں مذہبی اعتبار سے صرف چرچ آف انگلینڈ کی حکومت تھی۔ مگر اب یہاں اسلام دوسری بڑی طاقت ہے، اس لیے برسرِ اقتدار جماعت ایک بل کے ذریعے چرچ کو دیے گئے حقوق میں اسلام کو بھی شامل کر سکتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کھلے بندوں اپنی نسلی عصبیتوں کا بھی اعتراف کر رہی ہے اور اس طرح وہ اس برطانوی جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہے جس نے دنیا کے دوسرے ممالک کو جمہوریت اور احترامِ حقوقِ انسانی کا راستہ دکھایا ہے۔
