Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

بیس رکعت تراویح کا ثبوت اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (قسط دوم)مولانا حسان المصطفیٰ قادری امجدی

بیس رکعت تراویح کا ثبوت اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (قسط دوم)
عنوان: بیس رکعت تراویح کا ثبوت اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (قسط دوم)
تحریر: مولانا حسان المصطفیٰ قادری امجدی
پیش کش: مسکان فاطمہ قادریہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

(1) ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت میں تراویح کا کوئی واضح لفظ موجود نہیں۔ اس لیے مخالفین کو چاہیے کہ صحاح ستہ سے کوئی ایسی صحیح روایت پیش کریں جس میں تراویح کا لفظ موجود ہو۔

(2) علما سے محققین فرماتے ہیں کہ یہ حدیث وتر سے متعلق ہے جیسا کہ “ان تنام قبل ان توتر” کا لفظ اس کی صراحت کرتا ہے۔

(3) امام مسلم نے اس حدیث کو صلوۃ اللیل اور وتر کے باب کے تحت ذکر کیا ہے۔ امام مسلم نے اس باب: “بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلَاةٌ صَحِيحَةٌ” کے تحت رکھا ہے۔ دیگر ائمہ محدثین امام ترمذی، امام نسائی، امام ابو داؤد، امام مالک، امام ابن خزیمہ اور امام عبد الرزاق وغیرہ نے اپنی اپنی کتب حدیث میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے مگر صلاۃ اللیل کے باب میں درج کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ان تمام ائمہ محدثین کے نزدیک اس حدیث سے صلاۃ التراویح مراد نہیں، بلکہ صلاۃ اللیل مراد ہے۔

(4) امام بخاری اور امام محمد نے اس حدیث کو قیام رمضان کے باب میں ضرور رکھا ہے، مگر ان کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح پورے سال صلاۃ اللیل پڑھی جاتی ہے، اسی طرح ماہ رمضان میں بھی پڑھی جائے گی۔ جو لوگ امام بخاری اور امام محمد کا مقصود صلاۃ التراویح بتائیں، ان پر لازم ہے کہ وہ اس کی دلیل پیش کریں۔

(5) اگر اس حدیث سے امام بخاری اور امام محمد وغیرہ کی مراد صلاۃ التراویح ہی ہو تو اس صورت میں بھی اس پر عمل کرنا غیر مقلدوں کے لیے جائز نہ ہوگا، چوں کہ اس صورت میں امام بخاری وغیرہ کی تقلید لازم آئے گی، اور ان حضرات کے نزدیک کسی کی تقلید ناجائز و حرام، بلکہ شرک ہے۔

(6) ائمہ اربعہ میں سے کسی نے اس حدیث سے آٹھ رکعت تراویح پر استدلال نہیں کیا ہے۔ اگر اس سے آٹھ رکعت کا ثبوت ہوتا تو ائمہ مجتہدین میں سے کوئی امام تو آٹھ رکعت تراویح کا قائل ہوتا۔

(7) حدیث کے الفاظ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں آٹھ رکعت نماز پڑھتے تھے۔ جو نماز سال بھر پڑھی جاتی ہے خواہ رمضان ہو یا غیر رمضان، وہ تراویح نہیں بلکہ صلوۃ اللیل ہے۔ اور یہ حدیث صلوۃ اللیل ہی کے ثبوت میں ہے نہ کہ تراویح کے ثبوت میں۔ پھر آپ نے اس حدیث کو رمضان کی تراویح پر کیسے محمول کر لیا؟

(8) اگر اس سے آٹھ رکعت تراویح کا ثبوت ہوتا ہے تو حدیث کے الفاظ میں یہ بھی واضح طور پر موجود ہے کہ حضور غیر رمضان میں بھی اسے پڑھتے تھے۔ پھر آپ نے حدیث کے کس الفاظ سے یہ سمجھ لیا کہ آپ رمضان میں تو آٹھ رکعت کا ثبوت مان کر بڑی دھوم دھام سے باجماعت آٹھ رکعت پڑھیں گے، مگر رمضان گزرتے ہی حدیث پر عمل کا دعویٰ کرنے کے باوجود اس حدیث پر عمل نہیں کریں گے۔

(9) اس حدیث میں یہ بھی ذکر ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار، چار رکعت کر کے نماز پڑھتے تھے، جب کہ تراویح دو دو رکعت کر کے پڑھی جاتی ہے، خود وہابیہ بھی دو دو رکعت پر سلام پھیرتے ہیں اور اہل حدیث کہلانے کے باوجود حدیث کے بر خلاف عمل کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ حدیث خود ان کے مخالف ہوئی۔

(10) اس حدیث میں تنہا نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔ سلفیانِ زمانہ بتائیں کہ مذکورہ بالا حدیث میں جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنا کس لفظ سے مفہوم ہوتا ہے؟ یہاں پر بھی اہل حدیثوں نے حدیث پر عمل نہ کیا اور بڑے اہتمام کے ساتھ باجماعت تراویح پڑھنے لگے، وہابیوں کو چاہیے کہ وہ اس حدیث پر پورے طور پر عمل کرتے ہوئے تنہا تنہا تراویح کی نماز ادا کریں۔

(11) اگر واقعی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک تراویح آٹھ رکعت ہی تھی تو حضرت فاروقِ اعظم کے بیس رکعت تراویح کا حکم دینے پر اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے بیس رکعت تراویح پڑھنے پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں منع کیوں نہ فرمایا۔ اگر صحابہ خطا پر تھے تو آپ انہیں حدیث کی روشنی میں مسئلہ بیان فرماتیں اور حضور کی حدیث سنا کر بیس رکعت تراویح سے صحابہ عظام کو روک دیتیں۔ مگر ایسا نہ ہوا۔

(12) حدیث کا ایک ٹکڑا “ما كان يزيد في رمضان ولا غيره” سے انہیں شبہ ہوا کہ رمضان کی تراویح کی نماز میں آٹھ رکعت پر اضافہ نہیں کیا جاسکتا، حالانکہ یہ بات اس وقت کہی جاتی جب کہ یہ حدیث تراویح کے لیے ہوتی۔ اس شبہ کا جواب اوپر ذکر کر دیا گیا کہ یہ حدیث تراویح کے لیے نہیں بلکہ صلوۃ اللیل کے لیے ہے، لہٰذا حدیث کے اس جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ حضور جب صلوۃ اللیل پڑھتے تو رمضان ہو یا غیر رمضان آٹھ رکعت پر اضافہ نہیں فرماتے تھے۔

حضرت عائشہ کے قول “ما كان يزيد في رمضان ولا غيره” کی وضاحت کرتے ہوئے امام کرمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

«فَإِنْ قُلْتَ صَلَاةُ التَّرَاوِيحِ عِشْرُونَ رَكْعَةً وَعِنْدَ مَالِكٍ سِتٌّ وَثَلَاثُونَ رَكْعَةً، فَمَا وَجْهُهُ؟ قُلْتُ: إِمَّا أَنَّ الْمُرَادَ بِهَا صَلَاةُ الْوِتْرِ، وَالسُّؤَالُ وَالْجَوَابُ وَارِدَانِ عَلَيْهَا، أَوْ هُوَ مُعَارِضٌ مِمَّا رُوِيَ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ عِشْرِينَ رَكْعَةً لَيْلَتَيْنِ فَلَمَّا كَانَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ اجْتَمَعَ النَّاسُ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ وَقَالَ: خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَلَا تُطِيقُوهَا. وَرِوَايَةُ الْمُثْبِتِ مُقَدَّمَةٌ عَلَى رِوَايَةِ النَّافِي» [شرح الكرماني على البخاري، ج: 4، ص: 156، جز: 80]

اگر آپ اعتراض کریں کہ تراویح بیس رکعت ہے، اور امام مالک کے یہاں چھتیس رکعت ہے، پھر اس کی کیا وجہ ہے؟ (یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیسے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان و غیر رمضان میں گیارہ رکعت پڑھتے تھے) میں جواب دوں گا کہ یا تو اس گیارہ رکعت سے مراد نمازِ وتر ہے، اور سوال و جواب اسی سے متعلق ہے یا یہ روایت معارض ہے اس کے جو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے لوگوں کو دو رات بیس رکعت تراویح پڑھائی، پھر جب تیسری رات آئی تو لوگ پھر جمع ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف نہ لائے، اور آپ نے فرمایا کہ مجھے خوف ہوا کہ یہ تم پر فرض کر دی جائے اور تم اس کی طاقت نہ رکھو۔ اور مثبت کی روایت نافی کی روایت پر مقدم و راجح ہوتی ہے۔

ہم نے احادیث و آثار، تعامل و اجماعِ صحابہ اور نصوصِ ائمہ و فقہا کی روشنی میں اپنا موقف ثابت کر دیا ہے۔ غیر مقلدین تمام مسائل میں بخاری شریف اور مسلم شریف کا حوالہ طلب کرتے ہیں۔ جب کہ خود آٹھ رکعت تراویح کے ثبوت میں بخاری، مسلم تو کجا، صحاح ستہ سے بھی کوئی روایت پیش نہیں کرتے۔ قارئین سے عرض ہے کہ جب اس سلسلے میں ان سے گفتگو ہو تو آٹھ رکعت تراویح کے ثبوت میں صحاح ستہ کی حدیث کا مطالبہ کریں، جس میں آٹھ رکعت تراویح کی صراحت ہو۔

غیر مقلدینِ زمانہ عموماً یہ مکر بھی کرتے رہتے ہیں، اور عام مسلمانوں کو باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ نمازِ تراویح کوئی مستقل نماز نہیں، بلکہ یہ وہی تہجد و وتر کی نماز ہے، جسے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے۔ لہٰذا یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ نمازِ تراویح ایک مستقل نماز ہے، اور نمازِ تہجد یا نمازِ وتر ایک مستقل نماز، اس لیے کوئی شخص نمازِ تراویح کو تہجد اور وتر کی نماز ہرگز خیال نہ کرے۔ احادیثِ کریمہ میں نمازِ تراویح کا الگ سے ذکر آیا ہے۔ ائمہ کرام و محدثینِ عظام نے اس کا مستقل باب باندھا ہے حضور کے فرمانِ عالی شان سے بھی یہی عیاں ہوتا ہے کہ صلوۃ التراویح مستقل ایک نماز ہے۔ حدیث کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

«قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ عَلَيْكُمْ وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» [سنن النسائي، ج: 1، ص: 239، سنن ابن ماجه، ص: 94]

حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ رب تبارک و تعالیٰ نے تم پر رمضان کا روزہ فرض فرمایا اور میں نے تم لوگوں پر رمضان کی نماز (نمازِ تراویح) سنت قرار دی، لہٰذا جو ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے روزہ رکھے اور نوافل پڑھے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے گا جیسا کہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔

مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازِ تراویح ایک الگ نماز ہے، نمازِ تہجد یا وتر سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

سلفیانِ زمانہ حدیثِ رسول پر عمل کا اور صحابہ کے طریقوں پر چلنے کا دعویٰ تو خوب کرتے ہیں مگر حقیقت میں ان کا عمل، حدیث اور صحابہ کے طریقوں کے برخلاف ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے مکر و فریب سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین۔ [ماہنامہ پیغام شریعت دہلی، مئی، جون 2019، ص: 23]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!