| عنوان: | مدارس اسلامیہ مسائل، مشکلات اور چند تجاویز (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد ساجد رضا مصباحی |
| پیش کش: | مریم رضوی |
اتر پردیش کے مدارس میں کامل و فاضل کی ڈگریوں کو سپریم کورٹ کے ذریعہ کالعدم قرار دیے جانے کے بعد کئی طرح کے مسائل کھڑے ہو گئے ہیں، اب عالم مساوی انٹر کے بعد مدارس کے بعد بی اے اور ایم اے کرنے کے لیے کوئی نظام نہیں ہے، ایسے میں طلبہ کی تعداد مزید کم ہونے کا اندیشہ قوی ہو گیا ہے، ان حالات میں ذمے دارانِ مدارس کو سر جوڑ کر بیٹھنے اور متبادل ڈھونڈنے کی سخت ضرورت ہے۔
مدارسِ اسلامیہ میں ہاسٹل کا نظام بہت فرسودہ ہے، جدید آلات و وسائل سے استفادہ نہ کے برابر ہے، خوردونوش کا نظام جس انداز اور معیار سے ہونا چاہیے نہیں ہوتا، گرمی اور سردی سے بچاؤ کے لیے بھی مناسب انتظام نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے مال دار گھرانے کے طلبہ مدارسِ عربیہ کا رخ کم کرتے ہیں۔
لاک ڈاؤن میں اکثر مدارس کے اساتذہ کے ساتھ جو سلوک ہوا اور معاشی اعتبار سے جو ان کی حالت رہی اور جس طرح ایک بڑی تعداد کو در بدر بھٹکنا پڑا اس سے بھی طلبہ منفی اثرات کے شکار ہوئے۔
اکثر صوبوں کے مدارس کی سندیں اور ان کی ڈگریوں کی حکومت کی نظر میں کوئی اہمیت اور وقعت نہیں ہے اور نہ اس کی اہمیت کو منوانے کی طرف کبھی توجہ دی گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بڑی تعداد مدارس سے عالم اور فاضل کرنے کے بعد بھی حکومت کی نظر میں ناخواندہ ہے۔ اگر وہ پاسپورٹ بنواتے ہیں تو ان اسناد اور ڈگریوں کے بعد بھی ان کا شمار مزدوروں اور ناخواندہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ ان داخلی و خارجی مسائل و مشکلات پر کچھ حد تک قابو پانے کے لیے درج ذیل امور پر ہمیں خاص توجہ دینی ہوگی۔
-
جو مدارس کسی بورڈ سے مجاز نہیں ہیں ان کو کسی بورڈ کے دائرے میں لانا از حد لازمی ہے، جن صوبوں میں یہ سہولت دست یاب ہے وہاں کے ذمے داران کوشش کر کے یہ کام ضرور کر لیں، اس لیے کہ مستقبل میں اس حوالے سے بڑی دشواریوں کے امکانات ہیں۔
-
جدید تعمیرات میں تعمیراتی ضابطوں کی پاس داری کا لحاظ رکھیں، تنگ و تاریک کمروں کی تعمیر نہ کریں، خاص طور سے جن مدارس میں ہاسٹل کا نظام ہو انھیں تعمیرات میں خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، ابھی تو صرف حکومتی عملے دستاویزات طلب کر رہے ہیں، مستقبل میں مدارس کے ہاسٹل کے نظام پر بھی سوالات کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے بہت سارے مدارس ایسے ہیں جہاں طلبہ کی معقول رہائش اور ایک اقامتی ہاسٹل میں جو سہولیات ہونی چاہییں ان کا فقدان ہوتا ہے، ذمے دارانِ مدارس ان امور پر بالکل توجہ نہیں دیتے، کمرے تنگ و تاریک، برآمدے چھوٹے، چھت بغیر سیلنگ کے، صفائی کا کوئی نظم ونسق نہیں، بیت الخلا کی حالت ناگفتہ بہ، ان کے نہانے دھونے اور کپڑے سکھانے کا کوئی مناسب انتظام نہیں، چھوٹے چھوٹے کمروں میں ایک درجن سے زائد طلبہ کا قیام، یہ وہ مسائل ہیں جو اکثر مدارس میں قدرِ مشترک ہیں۔ ظاہر ہے کسی ہاسٹل کے جو حکومتی ضوابط ہیں، ہمارے مدارس کے یہ ہاسٹل ان ضابطوں کو پورا نہیں کر سکیں گے۔ مستقبل میں کبھی بھی مدارس کے یہ غیر معیاری ہاسٹل نشانے پر آ سکتے ہیں۔ اس لیے قبل از وقت ایسے ہاسٹلوں کے معیار کو درست کرنے پر توجہ کی سخت ضرورت ہے۔
-
قانونی جہت سے کرنے کا ایک کام یہ بھی ہے کہ ہر ادارہ اپنے لیے ایک قانونی مشیر مقرر کرے، جو ٹیکس کے شعبہ سے تعلق رکھنے والا وکیل ہو تو زیادہ بہتر ہے، وہ مدرسہ کی املاک اور آمد و صرف پر گہرائی کے ساتھ نظر رکھے اور بوقتِ ضرورت سرکاری محکموں میں حساب پیش کر سکے، اس سے مدارس کا تحفظ ہو گا، جو ذمہ دارانِ مدارس حساب و کتاب کے فن سے واقف نہیں ہیں، نہ ٹرسٹ یا سوسائٹی وغیرہ کے اصولوں سے آگاہ ہیں، وہ نہ عوام کو مطمئن کر پاتے ہیں، نہ سرکاری محکموں کو۔ اس لیے جہاں دیگر عہدہ دار ہوتے ہیں، ایک عہدہ “قانونی مشیر” کا ہونا چاہیے۔
-
شرپسند عناصر مدارس کو بدنام کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، ایسے میں تحفظ کے لیے ہر طرح اقدامات کی سخت ضرورت ہے، لہٰذا ضروری ہے مدرسہ کیمپس میں مضبوط چہار دیواری ہو اور کم از کم مدرسہ کیمپس کے اہم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے لازمی طور پر لگائے جائیں تاکہ شرارت پسند افراد کوئی بھی حرکت کرنے سے باز رہیں اور کوئی حادثہ رونما ہو جائے تو بطور شہادت سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس محکمہ کو پیش کیا جا سکے۔
-
دینی اور قانونی دونوں اعتبار سے مدارس کے آمدات و اخراجات کے ریکارڈ میں شفافیت ہونی چاہیے، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی ہدایت کے مطابق حساب لکھنا ضروری ہے، سال بہ سال اس کا آڈٹ بھی کرا لینا چاہیے تاکہ حکومتی ضابطے کے مطابق اس میں شفافیت رہے اور کسی قانونی داؤ پیچ کا شکار نہ ہوں۔
-
اقامتی ہاسٹل والے مدارس کے لیے ایک نگراں برائے ہاسٹل کا انتظام ضروری ہے جو غیر تعلیمی اوقات میں طلبہ کی سر گرمیوں پر نظر رکھ سکے اور ان کے تحفظ کا بھی پورا پورا خیال رکھے، بعض مدارس میں ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ آپسی تنازعات کی وجہ سے ایسی حرکتیں کر بیٹھتے ہیں کہ معاملہ خون خرابہ اور قتل تک پہنچ جاتا ہے، گزشتہ ایک سال کے اندر ملک کے متعدد مدارس میں اس طرح کے حادثات رونما ہوئے، جن کو میڈیا نے خوب اچھالا اور لوگوں کو مدارس سے متنفر کرنے کی مکمل کوشش کی، یاد رکھیں اس طرح کے واقعات سے جہاں غیروں کو مدارس پر کیچڑ اچھالنے کا موقع مل جاتا ہے، وہیں اپنے بھی مدارس سے بدظن ہوتے ہیں اور اپنے بچوں کو مدارس کے اقامتی ہاسٹل میں رکھنے سے خوف کھاتے ہیں۔ عام طور پر ہمارے مدارس میں وارڈن کا کام بھی اساتذہ سے ہی لیا جاتا ہے، بے چارہ مدرس دن بھر آٹھ گھنٹیاں پڑھانے کے بعد یوں ہی ذہنی اور جسمانی طور پر تھکاماندہ ہوتا ہے، پھر وہ کس طرح بارہ ایک بجے شب تک ہاسٹل کی نگرانی کر سکے گا۔
-
قرب و جوار اور دور دراز کے طلبہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں، ان کا داخلہ ان کی رہائش، اہلِ خانہ اور فیملی بیک گراؤنڈ کی تفتیش کے بغیر یوں ہی کر لیا جاتا ہے، بعض مدارس میں ان کے دستاویزات بھی صحیح طریقے سے جمع نہیں کرائے جاتے، کیریکٹر سرٹیفکیٹ لینے اور خارجہ سرٹیفکیٹ دینے کا بھی ہمارے یہاں کوئی خاص نظم نہیں ہوتا، داخلہ رجسٹر حکومتی معیار کے مطابق نہیں ہوتا۔ ہاسٹل میں قیام کرنے والے طلبہ کا الگ سے ہاسٹل رجسٹر بھی نہیں ہوتا، گیٹ پر کوئی دربان نہیں ہوتا جو ان کے مدرسہ کیمپس سے باہر جانے اور واپس آنے کے اوقات رجسٹر پر درج کر سکے۔ ایسے میں جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے اور پولیس تحقیقات کرنا چاہتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ مدارس کے یہ ہاسٹل یوں ہی بغیر کسی نظم و ضبط کے چلتے ہیں ان کے پاس بتانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ وقت رہتے ان امور پر توجہ دے کر نظام میں شفافیت لانے کی سخت ضرورت ہے۔
حالات کا جبری تقاضا ہے کہ اہلِ مدارس پوری مضبوطی اور استحکام کے ساتھ مدارس کے نظام کو باقی رکھیں، مدارسِ اسلامیہ سے مسلم سماج کی کم ہوتی دل چسپی کا ازالہ کریں، اسلامی بچے بچیوں کو عمدہ تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کریں، مدارس کو تجارتی نقطہ نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ان کے قیام کے اعلیٰ مقاصد پر ہمیشہ نظر رکھیں اور ماضی میں مدارسِ اسلامیہ کی شان دار تاریخ کو سامنے رکھ کر عظمتِ رفتہ کی بحالی کی کوششیں تیز کر دیں۔
یقینِ محکم، عملِ پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
