Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

افقِ شفاعت برحق و صداقت کا آفتابِ نو (قسط: اول)

افقِ شفاعت برحق و صداقت کا آفتابِ نو (قسط: اول)
عنوان: افقِ شفاعت برحق و صداقت کا آفتابِ نو (قسط: اول)
تحریر: فیضان المصطفی قادری
پیش کش: سیدہ آمنہ جیلانی ونقشبندی
منجانب: جامعہ فاطمۃالزھراء گجرات

ساری خوبیاں اس ربِ کائنات کو جس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے زبان و بیان سکھایا، قلم پیدا کیا اور اسے استعمال کرنے کا ہنر دیا۔ اور بے شمار درود و سلام کے پھول اس کے محبوبِ کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی بارگاہ میں شمار جنہوں نے اسیرانِ بدر کو لکھنا سکھانے کی خوبصورت سزا دے کر آزادی کا پروانہ دیا تو کائنات میں علم و دانش اور تحریر و قلم کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ معلمِ کائنات نے مسلمانوں کے ہاتھ میں قلم کیا دیا کہ جو قوم امی تھی صاحبِ قلم ہو گئی۔ اس قلم کو نبی نے بھی شرف بخشا مگر لکھتے نہ تھے لکھاتے تھے، جس سے علم و حکمت پر اجارہ داری کا کلیسائی نظام رخصت ہوا۔ یہ قلم کاتبینِ وحی سے ہوتا ہوا کاتبینِ حدیث تک پہنچا، یہاں بھی اس نے اپنا فرض ادا کیا۔ پھر اس کی رسائی فقہائے مجتہدین کی بارگاہ تک ہوئی، امام ابوحنیفہ، امام محمد شیبانی، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل نے جب اسے اپنی توجہات کا مرکز بنایا تو یہی قلم فقہ و قانون کے حوالے سے اسلام کی آفاقیت آشکارا کر گیا۔ امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی وغیرہ اصحابِ سنن و جوامع کی بارگاہ میں پہنچا تو اقوال و اعمال و احوالِ رسول کا لازوال ریکارڈ دے گیا، پھر تو علم و فن کا نہ تھمنے والا سلسلہ چل پڑا؛ مفسرین تفسیریں لکھتے ہیں، فقہاء فقہ و فتاویٰ لکھتے ہیں، محدثین حدیثوں کی تشریحات لکھتے ہیں، متکلمین عقائد و کلام زیبِ قلم کرتے ہیں، ماہرینِ تاریخ و سیر تاریخی حقائق لکھتے ہیں۔ ایک سے ایک اعلیٰ دماغ، بڑے بڑے ماہرین، گوناگوں اسالیب، متنوع فنون، ہزاروں موضوعات، تدوین و تصنیف ہو یا ترتیب و تالیف، تسہیل و تشریح ہو یا تحقیق و تدقیق، ہر میدان میں یہ چلتا رہا، کبھی تفصیل، کبھی تلخیص، کبھی تنقید، کبھی تردید، ہر پہلو سے اور ہر اسلوب میں بولتا رہا۔ تین انگلیوں کے اس قیدی نے ساری دنیا کو اپنی نوکوں کا اسیر بنا لیا۔

کمال تو یہ کہ جب یہ قلم امام السیوطی کی بارگاہ میں پہنچا تو بند ہونا بھول گیا، لوگوں نے اللہ کی قدرت دیکھا کہ قلم کی باریک سی نلی سے ایک سمندر کیسے وجود میں آ سکتا ہے۔ ہر فن میں لکھا، ہر موضوع پر لکھا۔ بقولِ شخصے کسی کے لیے کچھ باقی نہ چھوڑا۔ پھر بھی اس کا سفر جاری رہا۔ بالآخر جب امام احمد رضا کی بارگاہ میں پہنچا تو اس قدر پختہ ہو چکا تھا کہ حالِ شباب پوچھنے سے نہیں دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہاں اس نے جو جوہر دکھائے گویا قلم کی پوری تاریخ ایک مقام پر سمٹ آئی تھی؛ حقیقت و عقیدت کی ایسی بوقلمونی کہ نہ اس میں کوئی کج تھی نہ کمی، نہ الجھاؤ، نہ خامی، بلکہ جو کچھ لکھا حرفِ آخر لکھا۔

تحریر و قلم کی اس تاریخ نے ہمیں یہ ذہن دیا کہ وہ قلم ہی کیا جو اللہ و رسول کی حمایت نہ کرے، حق بیانی کو اپنا محوِ فکر و خیال نہ بنائے، حرمتوں کی پاسبانی نہ کرے۔

تاریخ شاہد ہے کہ جس قلم نے حرمتوں کی پاسبانی کی ہے وہ حیاتِ جاودانی سے ہمکنار ہوا ہے۔ اور جس نے تفننِ فن کو اپنی جولان گاہ بنایا، فن کے فرسودہ ہوتے ہی وہ قصۂ ماضی بن گیا۔ ہمارے اسلاف کے قلم کی نگارشات کا محور یہی نکتہ رہا۔ ہاں، رنگ و آہنگ الگ الگ ہو سکتے ہیں، چنانچہ امام الشان السیوطی کے صفحۂ حیات پر خدمتِ علم کا غلبہ ہے، تو کوئی ان سے ناراض نہیں، مگر امام الشان امام احمد رضا کے صفحۂ حیات پر حرمتوں کی پاسبانی کا غلبہ رہا تو حرمتوں سے کھیلنے والے روٹھ گئے۔ ہم ان دونوں قلموں کو آنکھوں سے لگاتے ہوئے انہیں حق و صداقت کا معیار سمجھتے ہیں اور انہیں کی روشنی میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے۔

امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کی تعلیمات، ان کی تصنیفات اور ان کی تمام تر باقیاتِ صالحات ہمارا سب سے بڑا قومی و ملی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے ایسا سرمایہ عطا کیا کہ ہمیں کسی کا محتاج نہ رکھا، ہمیں انہوں نے علمی ورثہ عطا کیا، فکر دی، احترام و عقیدت کا جذبۂ دروں دیا، عقیدتوں کو قوتِ گویائی دی، استدلال کا سلیقہ دیا، عشقِ رسالت کی روح سے آشنائی دی، اور دلائل و براہین کے حوالے سے حقائق کے اجالے میں لا کھڑا کیا۔ ضرورت یہ ہے کہ ان کی علمی وراثت کو نئے رنگ و آہنگ میں قوم کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ جو قوم کلامِ رضا سن کر جھومتی ہے وہ دلائل کی دنیا کی بھی سیر کرے اور جو لوگ چون و چرا کی بھول بھلیوں میں گم ہیں وہ ذرا سوزِ دروں سے بھی آشنا ہوں اور جو اس سب سے دور ہوں انہیں بھی کچھ نہ کچھ ہاتھ آئے۔

آج “پیغامِ شریعت” کے پلیٹ فارم سے اسلامی صحافت کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے ہم قلم کی اس پوری تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو خود کو اس تاریخ کی سرحدوں میں محدود پاتے ہیں۔ یہ تحریر لکھتے وقت کچھ تو مسرت و شادمانی ہے، لیکن اپنے ناتواں کاندھوں پر ذمہ داریوں کا ایک بوجھ محسوس کرتے ہیں۔ یہ دیانت و امانت کا بوجھ ہے، راست گوئی و صدق بیانی کا بوجھ ہے، جسے چند بھولے بھالے دوستوں نے خود ہی اپنے کاندھوں پر اٹھا لیا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس خاردار وادی میں جادہ پیمائی کرنے والے بہت ہیں، بہترین قلم کار، نت نئے اسلوب کے ماہرین، الفاظ سے کھیلنے والے زبان آور۔ کچھ کو خاطر خواہ کامیابیاں بھی ملیں اور کچھ زیادہ سفر طے نہ کر سکے اور تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ ہمارا مقدر کیا ہوگا، یہ کاتبِ تقدیر کو معلوم ہے، لیکن ہم نے یہ ضروری سمجھا کہ جس قدر استطاعت ہو، جو کچھ کر سکیں کیا جائے۔ اس کے پس منظر میں یہ داعیہ کارفرما ہے کہ قوم کو وہ کچھ دیا جائے جس کی اسے ضرورت ہے، نہ کہ وہ جس کی اسے چاہت ہے؛ وہ جو اس کے حق میں بہتر ہے، نہ کہ وہ جس کی وہ خوگر ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!