Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

بیویوں کو ذلیل کرنے والے خود ذلیل ہیں|محمد عارف رضا قادری امجدی

بیویوں کو ذلیل کرنے والے خود ذلیل ہیں
عنوان: بیویوں کو ذلیل کرنے والے خود ذلیل ہیں
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

کسی نے خوب ہی فرمایا:

مَا رَأَيْتُ رَجُلًا يَسْتَلِذُّ بِإِهَانَةِ نِسَاءِ بَيْتِهِ إِلَّا وَجَدْتَهُ مُهَانًا بَيْنَ أَوْسَاطِ الرِّجَالِ۔

میں نے کوئی آدمی نہیں دیکھا جو اپنے گھر میں عورتوں کی تذلیل سے لذت اٹھائے مگر وہ مَردوں کی محفل میں ذلیل نہ ہو۔

یعنی ہر وہ مرد جو عورت کو ذلیل سمجھتا ہے جب مَردوں کے بیچ جاتا ہے تو مرد اسے ذلیل سمجھتے ہیں۔ آپ دیکھ لیں، غور کر لیں، مشاہدہ و تجربہ کر لیں کہ جو مرد محفل میں اپنی بیوی کی ذلت بیان کرتا ہے مرد اسے گھٹیا شمار کرتے ہیں۔

روایت میں ہے:

مَا أَكْرَمَ النِّسَاءَ إِلَّا كَرِيمٌ وَلَا أَهَانَهُنَّ إِلَّا لَئِيمٌ۔ [ابن عساکر]

عورتوں کی عزت وہی کرتا ہے جو عزت دار ہو اور ان کی اہانت وہی کرتا ہے جو خود ذلیل ہو۔

عورتوں کو ذلیل کرنے میں چند چیزیں شامل ہیں:

  1. ان کا کھانا پینا پورا نہ کیا جائے۔

  2. ان کے محرم رشتہ داروں سے نہ ملنے دیا جائے۔

  3. اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں کی بے جا حمایت کی جائے اور ہمیشہ بیوی کو قصوروار ٹھہرایا جائے۔

  4. بیوی کے لیے ردی و گھٹیا الفاظ بولے جائیں۔

  5. بیوی کو بچے پیدا کرنے کی مشین اور کام کاج کرنے کے لیے خادمہ سمجھا جائے۔

  6. بیوی کے دل کا لحاظ نہ کیا جائے اور اس کی ہر خواہش کو رد کر دیا جائے۔

عموماً مرد حضرات اپنی والدہ اور بہنوں کے خلاف کچھ سننا پسند نہیں کرتے۔ جب بھی گھریلو مسئلہ ہو تو بیوی کو ہی رگید دیتے ہیں، بیوی کو ہی قصوروار کہتے ہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو نہ بیوی کو کچھ کہتے ہیں نہ ماں بہنوں کو کہتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ماں بہنوں کو کچھ نہیں کہتے، بیوی کو صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ سراسر ظلم و زیادتی ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہے:

كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ عَلَيْهِمْ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ۔ [سنن أبي داود]

تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہوگا۔ امیر سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہوگا اور آدمی سے اس کے گھر والوں کے متعلق سوال ہوگا۔

سب رشتوں کے درمیان توازن رکھنا مردانگی ہے۔ صرف پیسہ ہو اور شادی کر لی جائے حماقت و جہالت ہے، مالی وسعت کے ساتھ حق کو حق کہنے کی جرأت ہونا ضروری ہے۔ ماں باپ و دیگر ذی رحم رشتوں کے حقوق کے ساتھ بیوی کے حقوق نہ صرف یاد رکھنا بلکہ ان پر عمل کرنا مردانگی ہے، اور جب تک یہ مردانگی موجود نہ ہو کسی مومن کو شادی کرنا جائز نہیں ہے۔ انسان کے قریبی ترین تعلقات میں سے میاں بیوی کا تعلق ہے، حتیٰ کہ ازدواجی تعلق انسانی تمدن کی بنیاد ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رشتہ کو اپنی قدرت کی نشانیوں میں شمار فرمایا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَمِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَجَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً، اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ۔ [سورۃ الروم، پارہ: 21، آیت: 21]

ترجمہ کنز الایمان: اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبت اور رحمت رکھی، بے شک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے۔

اس رشتے کی اہمیت کے پیش نظر قرآن و حدیث میں شوہر کے بیوی پر اور بیوی کے شوہر پر کئی حقوق بیان فرمائے گئے ہیں جن کو پورا کرنا میاں بیوی میں سے ہر ایک کی شرعی ذمہ داری بنتی ہے۔

(1) نان و نفقہ: بیوی کے کھانے پینے وغیرہ ضروریات زندگی کا انتظام کرنا شوہر پر واجب ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَعَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۔ [سورۃ البقرۃ، پارہ: 2، آیت: 233]

ترجمہ کنز الایمان: اور جس کا بچہ ہے اس پر عورتوں کا کھانا اور پہننا (لباس) ہے حسب دستور۔

(2) سکنیٰ: بیوی کی رہائش کے لیے مکان کا انتظام کرنا بھی شوہر پر واجب ہے اور ذہن میں رکھیں کہ یہاں مکان سے مراد علیحدہ گھر دینا نہیں، بلکہ ایسا کمرہ جس میں عورت خود مختار ہو کر زندگی گزار سکے، کسی کی مداخلت نہ ہو، ایسا کمرہ مہیا کرنے سے بھی یہ واجب ادا ہو جائے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَلَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ۔ [سورۃ الطلاق، پارہ: 28، آیت: 6]

ترجمہ کنز الایمان: عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی طاقت بھر اور انہیں ضرر نہ دو کہ ان پر تنگی کرو۔

(3) مہر ادا کرنا: بیوی کا مہر ادا کرنا بھی بیوی کا حق اور شوہر پر واجب ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً۔ [سورۃ النساء، پارہ: 4، آیت: 4]

ترجمہ کنز الایمان: اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دو۔

(4) نیکی کی تلقین اور برائی سے ممانعت: شوہر پر بیوی کا یہ بھی حق ہے کہ اسے نیکی کی تلقین کرتا رہے اور برائی سے منع کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کو حکم ارشاد فرمایا ہے کہ خود اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِیْكُمْ نَارًا۔ [سورۃ التحریم، پارہ: 28، آیت: 6]

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔

(5) حسن معاشرت: ہر معاملے میں بیوی سے اچھا سلوک رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس سے محبت میں اضافہ ہوگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۔ [سورۃ النساء، پارہ: 4، آیت: 19]

ترجمہ کنز الایمان: اور ان (بیویوں) سے اچھا برتاؤ کرو۔

امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ شوہر پر بیوی کے حقوق بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: مرد پر عورت کا حق نان و نفقہ دینا، رہنے کو مکان دینا، مہر وقت پر ادا کرنا، اس کے ساتھ بھلائی کا برتاؤ رکھنا اور اسے خلاف شرع باتوں سے بچانا۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 379، 380]

البتہ عورت پر بھی ضروری ہے کہ شوہر کے حقوق ادا کرے اور اللہ و رسول (عز وجل و صلی اللہ علیہ وسلم) کے حقوق کے بعد بیوی پر سب سے بڑھ کر، حتیٰ کہ اپنے ماں باپ سے بھی بڑھ کر شوہر کا حق ہے۔

حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بارگاہ رسالت میں عرض کی:

أَيُّ النَّاسِ أَعْظَمُ حَقًّا عَلَى الْمَرْأَةِ؟

ترجمہ: عورت پر جن لوگوں کے حقوق ہیں، ان میں سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

زَوْجُهَا۔ [المستدرک علی الصحیحین، ج: 4، ص: 167]

ترجمہ: اس کے شوہر کا۔

اور شوہر پر ضروری نہیں کہ ہر بات بیوی کو بتائے کہ کہاں گئے تھے؟ کیوں گئے تھے؟ وغیرہ وغیرہ، کیونکہ مرد حاکم (افسر) ہے، نہ کہ محکوم (ملازم) کہ بیوی کے سامنے اپنے ہر کام کا جواب دہ ہو، لہٰذا اگر کسی حکمت کے پیش نظر یا ویسے بھی اگر شوہر ان باتوں کا جواب نہ دے، تو شرعاً مجرم نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ۔ [سورۃ النساء، پارہ: 5، آیت: 34]

ترجمہ کنز الایمان: مرد افسر ہیں عورتوں پر۔

لیکن یہ یاد رہے کہ باہم صلح صفائی اور تعاون سے رہنے میں عافیت ہوتی ہے، ورنہ بہت سی چیزوں میں بیوی بھی جواب دہ نہیں ہوتی۔

مثلاً ماں باپ، بہن بھائی وغیرہ کے جو جو حقوق شرعاً اس پر لازم ہیں، شادی کے بعد بھی ان حقوق کی ادائیگی ضروری ہوگی، کیونکہ اسلام میں ہر صاحب حق کے حق کو ادا کرنے کا حکم ہے۔

حضرت سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ۔

ترجمہ: بے شک تمہارے رب (تعالیٰ) کا تم پر حق ہے اور تمہاری جان کا تم پر حق ہے اور تمہارے اہل و عیال کا بھی تم پر حق ہے، تو ہر صاحب حق کا حق ادا کرو۔

لیکن یہ بات واضح ہے کہ شادی کے بعد شوہر کو جتنا وقت بیوی کو دینا پڑتا ہے وہ بقیہ افراد کے حصے سے کم ہوجاتا ہے، ایسی چیزوں پر ہرگز اعتراض اور طعن نہیں کرنا چاہیے۔ اصل میں معاملہ شوہر کی سمجھ داری پر ہے کہ سب کو ساتھ لے کر کیسے چلتا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!