Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

پیرزادگی نہیں، اہلیت معیار ہے

پیرزادگی نہیں، اہلیت معیار ہے
عنوان: پیرزادگی نہیں، اہلیت معیار ہے
تحریر: انیس الرحمٰن حنفی رضوی بہرائچ شریف

اسلام نے انسانیت کو جو انقلابی تصورات عطا کیے، ان میں ایک عظیم تصور یہ بھی ہے کہ اس نے فضیلت، قیادت، اقتدار، علم، امامت اور رہنمائی کے تمام دروازوں کو خاندانی اجارہ داری سے آزاد کر کے اہلیت، تقویٰ اور استحقاق کے لیے کھول دیا۔ دنیا کی قدیم تہذیبوں میں عموماً منصب و اقتدار موروثی سمجھے جاتے تھے۔ باپ بادشاہ تو بیٹا بادشاہ، باپ سردار تو بیٹا سردار، باپ پیشوا تو بیٹا پیشوا۔ نسب ہی قابلیت کی دلیل سمجھا جاتا تھا اور خاندان ہی استحقاق کی سند قرار پاتا تھا۔ اسلام آیا تو اس نے اس تصور کو جڑ سے بدل دیا۔ اس نے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہ کوئی خاندان بذاتِ خود نجات کی ضمانت ہے اور نہ کوئی نسب اپنے آپ میں فضیلت کی دلیل۔ فضیلت کا معیار تقویٰ ہے، عزت کا معیار کردار ہے اور استحقاق کا معیار اہلیت ہے۔

قرآن کریم کے صفحات اس حقیقت کے شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کے مقدس خاندانوں میں بھی نسب کو کامیابی کی ضمانت قرار نہیں دیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا نبوت کے گھر میں پیدا ہونے کے باوجود راہِ حق سے محروم رہا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد ایمان کی دولت حاصل نہ کر سکے، اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب قربت و قرابت کے باوجود ایمان کی سعادت سے محروم رہے۔ گویا قرآن کا پیغام بالکل واضح ہے کہ خاندان احترام کا سبب ہو سکتا ہے لیکن استحقاق کا معیار نہیں بن سکتا۔

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۝ [سورۃ الحجرات: 13]

اور یہی وہ آیت ہے جس نے انسانی عظمت کا معیار ہمیشہ کے لیے متعین کر دیا۔ نسب، دولت، شہرت اور وراثت کے بجائے تقویٰ، کردار اور صلاحیت کو اصل مقام عطا کر دیا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام کے پورے علمی نظام میں کہیں بھی محض خاندانی نسبت کو منصب کی دلیل نہیں بنایا گیا۔ کسی عظیم محدث کا بیٹا محض اس لیے محدث نہیں کہلاتا کہ اس کے والد محدث تھے۔ کسی فقیہ کا فرزند فقہ پڑھے بغیر فقیہ نہیں بنتا۔ کسی مفتی کا بیٹا علومِ شرعیہ میں مہارت پیدا کیے بغیر مفتی نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی شخص اپنے والد کے نام پر فتویٰ دینا شروع کر دے تو اہلِ علم اسے قبول نہیں کرتے۔ یہی حال دنیاوی علوم کا ہے۔ ڈاکٹر کا بیٹا میڈیکل سائنس پڑھے بغیر ڈاکٹر نہیں بن سکتا، انجینئر کا بیٹا انجینئرنگ کی تعلیم کے بغیر انجینئر نہیں بن سکتا، وکیل کا بیٹا قانون کی تعلیم حاصل کیے بغیر وکیل نہیں کہلا سکتا۔ دنیا کا ہر ادارہ، ہر نظام اور ہر عقل مند انسان اسی اصول کو تسلیم کرتا ہے کہ منصب کا تعلق اہلیت سے ہے، وراثت سے نہیں۔

لیکن تعجب ہوتا ہے کہ جب روحانی قیادت، خانقاہی نظام اور مسندِ ارشاد کی بات آتی ہے تو بعض حلقوں میں یہی اصول فراموش کر دیا جاتا ہے۔ بعض مقامات پر یہ تصور راسخ ہو گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے والد یا خاندان میں کوئی پیر، سجادہ نشین یا شیخِ طریقت تھا تو وہ خود بخود مرشدِ کامل بھی ہے، خواہ اس نے طریقت کے آداب سیکھے ہوں یا نہیں، خواہ اس نے سلوک و معرفت کی منازل طے کی ہوں یا نہیں، خواہ وہ علمِ دین میں مہارت رکھتا ہو یا نہیں۔ حالانکہ جب ہم قرآن، حدیث، فقہ اور تصوف کی مستند کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مشیخت اور ارشاد کا منصب اسلام میں انتہائی نازک، حساس اور عظیم ذمہ داری کا حامل ہے، اور اس کے لیے وہی شخص اہل قرار دیا گیا ہے جو علمی، عملی اور روحانی اعتبار سے کامل ہو۔

درحقیقت طریقت کوئی خاندانی خطاب نہیں بلکہ ایک علمی و روحانی امانت ہے۔ تصوف محض چند وظائف، چند اوراد یا مخصوص لباس کا نام نہیں بلکہ تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب، اصلاحِ اخلاق اور قربِ الٰہی کے حصول کا ایک عظیم نظام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکابر صوفیہ نے ہمیشہ شریعت اور طریقت کو لازم و ملزوم قرار دیا۔ ان کے نزدیک جو شخص شریعت کے علوم سے بے بہرہ ہو، سنتِ نبوی سے ناواقف ہو، نفس کی اصلاح کے مراحل سے نہ گزرا ہو اور اخلاقی و روحانی تربیت سے محروم ہو، وہ دوسروں کی رہنمائی کا حق دار نہیں ہو سکتا۔

إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ

"جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔" [صحیح البخاری، کتاب العلم]

یہ حدیث اپنے اندر ایک مکمل ضابطۂ حیات رکھتی ہے۔ اس میں صرف حکومت اور سیاست ہی نہیں بلکہ ہر وہ منصب شامل ہے جو لوگوں کی رہنمائی سے تعلق رکھتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ مرشد و شیخ کا منصب تو ان تمام مناصب سے زیادہ حساس ہے، کیونکہ یہاں صرف دنیاوی معاملات نہیں بلکہ عقائد، اعمال، اخلاق اور روحانی زندگی کی اصلاح کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔

اسی لیے فقہائے اسلام نے پیر و مرشد کے لیے واضح شرائط بیان فرمائی ہیں۔ مجددِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"پیری کے لیے چار شرطیں ہیں: سنی صحیح العقیدہ ہو، اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضروریات کے مسائل کتب سے نکال سکے، فاسقِ معلن نہ ہو اور اس کا سلسلہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تک صحیح اتصال کے ساتھ پہنچتا ہو۔" [فتاویٰ رضویہ، ج 21]

یہ مختصر عبارت درحقیقت مشیخت کے پورے تصور کو واضح کر دیتی ہے۔ غور فرمائیے کہ ان شرائط میں نسب کا کوئی ذکر نہیں، خاندان کا کوئی ذکر نہیں، پیرزادگی کا کوئی ذکر نہیں۔ معیار علم ہے، عقیدہ ہے، تقویٰ ہے اور صحیح روحانی اتصال ہے۔ اعلیٰ حضرت ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: "جاہل پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دینا اندھے کے ہاتھ میں ہاتھ دینا ہے۔" یہ مختصر جملہ اپنے اندر پورا فلسفۂ ارشاد سموئے ہوئے ہے۔ جو شخص خود راستے سے واقف نہ ہو وہ دوسروں کو منزل تک کیسے پہنچائے گا؟

حضرت امام ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ "الرسالۃ القشیریۃ" میں مشائخِ سلف کا طریقہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ کسی شخص کو اس وقت تک اجازتِ ارشاد نہیں دیتے تھے جب تک اس کی استقامت، تربیت اور روحانی کمال ان پر واضح نہ ہو جائے۔ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ "کشف المحجوب" میں بارہا اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ شیخ وہی ہوسکتا ہے جو علمِ شریعت اور معرفتِ طریقت دونوں کا جامع ہو۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ "احیاء علوم الدین" میں مرشد کی ضرورت پر گفتگو کرتے ہوئے واضح فرماتے ہیں کہ جس طرح جسمانی بیماری کے لیے ماہر طبیب درکار ہوتا ہے، اسی طرح روحانی امراض کے علاج کے لیے ایسا مربی درکار ہے جو خود ان مراحل سے گزر چکا ہو۔

تاریخِ تصوف کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ اکابر صوفیہ نے خلافت و اجازت کو کبھی خاندانی جاگیر نہیں بنایا۔ حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو خلافت عطا فرمائی، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی روحانی امانت کا وارث بنایا، اور سلاسلِ تصوف کی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں جانشینی کا معیار نسب نہیں بلکہ صلاحیت، تقویٰ اور روحانی استحقاق تھا۔

اس کے برعکس جب خانقاہی نظام میں اہلیت کی جگہ صرف وراثت کو معیار بنایا جاتا ہے تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہوتے ہیں۔ خانقاہیں اصلاحِ باطن کے مراکز کے بجائے خاندانی ادارے بن جاتی ہیں، بیعت و ارادت تربیت کے بجائے رسم بن جاتی ہے، اور روحانی قیادت کے منصب پر ایسے افراد فائز ہو جاتے ہیں جو خود رہنمائی کے محتاج ہوتے ہیں۔ نتیجتاً عوام تصوف کی حقیقی روح سے محروم رہ جاتے ہیں اور طریقت کا وہ عظیم مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے جس کے لیے اکابر صوفیہ نے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں۔

البتہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ پیرزادگی کو مطلقاً مذموم نہ کہا جائے۔ اگر کسی بزرگ کا صاحبزادہ علمِ دین میں مہارت حاصل کرے، عقائد و اعمال میں پختگی پیدا کرے، شریعت و سنت کا پابند ہو، کسی شیخِ کامل سے روحانی تربیت حاصل کرے، مجاہداتِ نفس سے گزرے اور اپنے اندر اصلاح و تربیت کی صلاحیت پیدا کرے تو بلا شبہ وہ دوسروں کی طرح بلکہ بعض صورتوں میں دوسروں سے زیادہ جانشینی کا مستحق ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا استحقاق اس کے نسب سے پیدا نہیں ہوگا بلکہ اس کی اہلیت سے پیدا ہوگا۔

یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے آج سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔ خانقاہیں اگر واقعی اکابر صوفیہ کی امانت ہیں تو ان میں معیار بھی وہی ہونا چاہیے جو اکابر نے مقرر کیا تھا۔ مسندِ ارشاد اگر واقعی لوگوں کی دینی و روحانی رہنمائی کا منصب ہے تو اس پر وہی شخص فائز ہونا چاہیے جو اس ذمہ داری کا اہل ہو۔ کیونکہ اسلام میں ہر منصب امانت ہے اور امانت ہمیشہ اہل لوگوں کے سپرد کی جاتی ہے۔

لہٰذا یہ سوال محض ایک جملہ نہیں بلکہ پورے خانقاہی نظام کے لیے ایک سنجیدہ دعوتِ فکر ہے کہ جب مفتی کا بیٹا افتاء پڑھے بغیر مفتی نہیں بنتا، ڈاکٹر کا بیٹا طب پڑھے بغیر ڈاکٹر نہیں بنتا، انجینئر کا بیٹا انجینئرنگ سیکھے بغیر انجینئر نہیں بنتا، تو پھر سلوک و احسان، تزکیۂ نفس، علمِ دین، مجاہداتِ باطن اور تربیتِ روحانی کے مراحل طے کیے بغیر پیر کا بیٹا پیر کیسے بن سکتا ہے؟

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!