| عنوان: | عورت کی آزادی یا مغربی غلامی؟ |
|---|---|
| تحریر: | انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف |
تہذیبوں کی تاریخ میں بعض تصورات ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ محض نظریات نہیں رہتے بلکہ ایک فکری تحریک، ایک سماجی شعور اور ایک تہذیبی بیانیے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ گزشتہ دو صدیوں میں "عورت کی آزادی" بھی ایک ایسا ہی عنوان بن کر ابھرا ہے۔ اس عنوان کے گرد اتنی بحثیں ہوئیں، اتنے مضامین لکھے گئے، اتنی تحریکیں چلائی گئیں اور اتنے قوانین بنائے گئے کہ بظاہر یہ محسوس ہونے لگا گویا انسانی معاشرے کے تمام مسائل کا حل اسی ایک مسئلے کے اندر پوشیدہ ہے۔ جدید دنیا میں عورت کی آزادی کو ترقی، روشن خیالی، انسانی حقوق اور جدید تہذیب کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے برعکس کسی بھی تنقیدی نقطۂ نظر کو اکثر قدامت پسندی، تنگ نظری یا رجعت پسندی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک سنجیدہ طالبِ علم اور منصف مزاج محقق کا کام نعروں کے سحر میں گرفتار ہونا نہیں بلکہ ان کے پس منظر، ان کے نتائج اور ان کے حقیقی اثرات کا جائزہ لینا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ عورت کو عزت ملنی چاہیے یا نہیں، اس کے حقوق تسلیم کیے جانے چاہییں یا نہیں، یا اسے تعلیم، تحفظ اور معاشرتی وقار حاصل ہونا چاہیے یا نہیں۔ یہ تمام امور تو انسانی انصاف اور اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آزادی کا وہ تصور کیا ہے جو آج عورت کے نام پر پوری دنیا میں فروغ دیا جا رہا ہے؟ کیا یہ آزادی حقیقتاً عورت کو باوقار، مطمئن اور محفوظ بنا رہی ہے یا اس نے غلامی کی ایک پرانی شکل کو ختم کر کے ایک نئی شکل پیدا کر دی ہے؟ کیا عورت کو اس کی فطری عظمت عطا کی جا رہی ہے یا اسے ایک نئے تہذیبی اور معاشی نظام کا آلہ بنا دیا گیا ہے؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسلام سے قبل دنیا کے اکثر معاشروں میں عورت مظلوم تھی۔ اسے وراثت سے محروم رکھا جاتا، اس کی رائے کو کوئی اہمیت نہ دی جاوتی اور بعض تہذیبوں میں تو اس کی انسانیت تک محلِ بحث تھی۔ عرب جاہلیت میں بیٹی کی پیدائش باعثِ ننگ سمجھی جاتی تھی۔ ایسے ماحول میں اسلام نے عورت کے بارے میں ایک انقلابی تصور پیش کیا۔ قرآنِ کریم نے نہ صرف عورت کی انسانی عظمت کو تسلیم کیا بلکہ اسے خاندان، معاشرے اور انسانیت کی تعمیر میں بنیادی حیثیت عطا کی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ [سورۃ البقرۃ: 228]
"اور عورتوں کے لیے بھی دستور کے مطابق ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں۔"
یہ آیت اس دور میں نازل ہوئی جب عورت کو حقوق کا اہل ہی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے اسے وراثت دی، نکاح میں رضامندی کا حق دیا، ملکیت کا حق دیا، عزت و تکریم عطا کی اور اسے معاشرے کا باوقار رکن قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب مغربی دنیا ابھی عورت کے بنیادی حقوق پر بحث کر رہی تھی، اس وقت اسلام صدیوں پہلے ان حقوق کو قانونی اور اخلاقی حیثیت دے چکا تھا۔
تاہم عصرِ حاضر کا مسئلہ حقوقِ نسواں نہیں بلکہ آزادیٔ نسواں کے اس تصور کا ہے جو مغربی تہذیب نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ مغرب میں عورت کی آزادی کی تحریک ایک مخصوص تاریخی پس منظر میں پیدا ہوئی۔ وہاں کلیسا کی بعض زیادتیوں، سماجی ناانصافیوں اور سیاسی محرومیوں نے ردِّعمل کو جنم دیا۔ لیکن تاریخ کا ایک اصول ہے کہ ردِّعمل اکثر اعتدال پر نہیں رکتا بلکہ دوسری انتہا کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ یہی معاملہ یہاں بھی پیش آیا۔ عورت کو بعض حقیقی محرومیوں سے نجات دلانے کی کوشش کرتے کرتے یہ نظریہ اس مقام تک جا پہنچا جہاں خاندان، مادریت، حیا اور مذہبی اقدار تک کو مشکوک نظروں سے دیکھا جانے لگا۔
یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ جدید مغربی فکر میں آزادی کا تصور اکثر "خواہشات کی خودمختاری" کے گرد گھومتا ہے، جبکہ اسلام میں آزادی کا مفہوم "خواہشات کی غلامی سے نجات" ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:
أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ [سورۃ الجاثیہ: 23]
"کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟"
یہ آیت انسانی زندگی کا ایک بنیادی اصول بیان کرتی ہے۔ جب خواہشات معیار بن جائیں تو پھر اخلاق, اقدار اور حدود کی حیثیت ثانوی ہو جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آزادی کا نعرہ رفتہ رفتہ خواہشات کی غلامی میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔
آج عورت کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اس کی کامیابی کا واحد معیار معاشی خودمختاری، پیشہ ورانہ برتری اور روایتی خاندانی کرداروں سے دوری ہے۔ گویا اگر وہ ماں بننے، خاندان کی تربیت کرنے اور گھریلو زندگی کو اہمیت دینے کو اپنی ترجیح بنائے تو اسے کم تر سمجھا جائے گا، لیکن اگر وہ سرمایہ دارانہ نظام کے معاشی اہداف میں اپنا کردار ادا کرے تو اسے ترقی یافتہ قرار دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر عورت کو واقعی آزادی حاصل ہے تو پھر اسے اپنی فطری ترجیحات اختیار کرنے کا بھی مساوی حق کیوں نہیں دیا جاتا؟
حقیقت یہ ہے کہ جدید سرمایہ دارانہ نظام نے عورت کو آزادی کے نام پر ایک نئی منڈی کا حصہ بنا دیا ہے۔ اشتہارات، فیشن، تفریح اور سوشل میڈیا کی پوری دنیا عورت کے ظاہری حسن کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس سے پہلے تاریخ میں عورت بعض افراد کے استحصال کا شکار تھی، آج وہ بعض اوقات پورے معاشی نظام کے استحصال کا شکار نظر آتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے زنجیریں نمایاں تھیں اور آج انہیں آزادی، خودمختاری اور جدیدیت کے خوبصورت الفاظ سے مزین کر دیا گیا ہے۔
یہ کہنا ہرگز درست نہیں ہوگا کہ مغربی معاشروں میں عورت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا یا وہاں کی تمام اصلاحی کوششیں غلط تھیں۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں عورت کو بعض قانونی اور سماجی حقوق حاصل ہوئے، وہاں اس کا اعتراف بھی کیا جائے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ سوال بھی کیا جانا چاہیے کہ کیا ان معاشروں نے عورت کو حقیقی سکون، خاندانی استحکام اور روحانی اطمینان بھی فراہم کیا؟ اگر آزادی کے باوجود خاندانی نظام کمزور ہو رہا ہو، طلاق کی شرح بڑھ رہی ہو، تنہائی عام ہو رہی ہو اور نفسیاتی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہو تو کم از کم یہ حق تو بنتا ہے کہ اس پورے ماڈل کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔
اسلام عورت کو نہ تو معاشرے سے کاٹتا ہے اور نہ ہی اسے بازار کی زینت بناتا ہے۔ اسلام کا تصورِ عورت نہ جاہلیت کی محرومیوں پر مبنی ہے اور نہ جدید تہذیب کی انتہاؤں پر۔ اسلام عورت کو ایک مکمل انسان، ایک باوقار شخصیت، ایک صالحہ بیٹی، ایک وفادار بیوی اور ایک عظیم ماں کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ماں کے مقام کو باپ پر تین گنا مقدم قرار دیا اور جنت کو اس کے قدموں کے نیچے رکھا۔ درحقیقت اسلام کی نظر میں عورت صرف ایک فرد نہیں بلکہ نسلوں کی معمار ہے، اور جو تہذیب نسلوں کی معمار کا مقام گرا دیتی ہے وہ بالآخر اپنی بنیادوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
لہٰذا عورت کی آزادی کے مسئلے کو محض جذباتی نعروں، سیاسی مطالبات یا تہذیبی کشمکش کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ مسئلہ انسان، خاندان، اخلاق اور تہذیب کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر آزادی عورت کو اس کی عزت، حیا، روحانیت، خاندانی وقار اور فطری شناخت سے محروم کر دے تو پھر اس آزادی کے مفہوم پر ازسرِ نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہر وہ چیز جو آزادی کے نام پر پیش کی جائے، ضروری نہیں کہ حقیقتاً آزادی ہی ہو۔ بعض اوقات غلامی اپنی پرانی زنجیریں اتار کر نئے اور زیادہ دلکش لباس میں سامنے آتی ہے، اور اسے پہچاننا ہی فکری بصیرت کی اصل علامت ہے۔
