Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عید الاضحی پر عند اللہ قربانی ہی محبوب ترین عمل ہے (قسط: اول)|محمد ارقم رضا ازہری

عید الاضحی پر عند اللہ قربانی ہی محبوب ترین عمل ہے (قسط: اول)
عنوان: عید الاضحی پر عند اللہ قربانی ہی محبوب ترین عمل ہے (قسط: اول)
تحریر: محمد ارقم رضا ازہری
پیش کش: مدحت فاطمہ ضیائی

قربانی کرنے کے دنیوی فائدے

اللہ رب العزت کے حکم پر عمل کرتے ہوئے جہاں قربانی کرنے کے اخروی فائدے ہیں، وہیں قربانی کرنے کے دنیوی فائدے بھی بہت ہیں، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قربانی میں خرچ کی جانے والی رقم رفاہِ عامہ میں خرچ کی جائے تو انسانیت کا بھلا ہو جائے گا، وہ لوگ مندرجہ ذیل قربانی کے دنیوی فوائد پر غور کریں اور دیکھیں کہ قربانی کرنے سے رفاہِ عامہ کے کتنے کام ہوتے ہیں اور قربانی کے کس قدر دنیوی فوائد ہیں:

روزگار کے مواقع

قربانی کے سبب بہت سے لوگوں کو روزگار مل جاتا ہے، مثلاً:

  1. قربانی کے لیے بہت سے لوگ اپنے گھروں اور باڑوں وغیرہ میں جانور پالتے ہیں، ان جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے ملازمین رکھے جاتے ہیں، جس کے سبب ہزاروں لوگوں کو روزگار مل جاتا ہے۔

  2. ان جانوروں کے لیے بازار سے کھانے کا چارہ یا دوسری اشیاء خریدی جاتی ہیں تو اس طرح بازار میں تاجروں کو روزگار مل جاتا ہے۔

  3. جیسے ہی عید الاضحیٰ قریب آتی ہے تو جانوروں کو گاڑیوں کے ذریعے مویشی منڈی لے جایا جاتا ہے، جس کے سبب ہزاروں گاڑیوں والوں اور ڈرائیوروں کو روزگار مل جاتا ہے۔

  4. قربانی کے لیے پالے جانے والے جانور کبھی کبھی بیمار پڑ جاتے ہیں تو ان کے علاج و معالجہ کے لیے ڈاکٹر کی خدمت حاصل کی جاتی ہے، اس طرح سیکڑوں ڈاکٹروں کو روزگار مل جاتا ہے۔

  5. جب جانوروں کو مویشی منڈی لے جایا جاتا ہے تو وہاں ان کے کھانے کے لیے چارے وغیرہ کی دکانیں لگائی جاتی ہیں، ایسے ہی ان کے مالکان اور خرید و فروخت کرنے والے حضرات کے کھانے پینے کے لیے اسٹال لگائے جاتے ہیں جس کے سبب ہزاروں لوگوں کو روزگار میسر ہو جاتا ہے۔

  6. ایامِ قربانی میں ہزاروں لاکھوں قصاب جانور ذبح کرتے ہیں، گوشت بناتے ہیں، اس طرح انہیں اچھا روزگار مل جاتا ہے۔

  7. عید الاضحیٰ پر بہت سی جگہ خوب کھانا بنایا جاتا ہے جس کے لیے طباخ حضرات کی ضرورت ہوتی ہے، اس طرح سیکڑوں طباخ حضرات کو روزگار مل جاتا ہے۔

  8. عید الاضحیٰ کے موقع پر گوشت سے کھانے کے لیے جگہ جگہ تندوری روٹیوں کی دکانیں لگائی جاتی ہیں، اس طرح بھی ہزاروں لوگوں کو روزگار کا موقع مل جاتا ہے۔

  9. جانور میں نکلنے والی ہڈیوں کو بعد میں استعمال میں لایا جاتا ہے، ان سے بٹن وغیرہ یا دوسری مفید اشیاء بنائی جاتی ہیں، اس کے سبب بھی سیکڑوں لوگوں کو روزگار مل جاتا ہے۔

غرضیکہ قربانی کے جانور کے پیدا ہونے سے ذبح ہونے تک بلکہ اس کے بعد تک ہزاروں، لاکھوں لوگوں کو روزگار کے بہترین مواقع میسر آتے ہیں۔

غریبوں کا فائدہ

جہاں جہاں قربانی ہوتی ہے، تقریباً ہر ملک میں، خصوصاً ہند و پاک میں بے شمار ایسے غریب و مسکین لوگ موجود ہیں جن کے گھر پورے پورے سال اچھا کھانا نہیں پکتا، گوشت نہیں پکتا، قربانی کے اس عظیم الشان موقع پر قربانی کرنے والے حضرات غریبوں کے گھر گوشت پہنچاتے ہیں، تو ہزاروں غریبوں کے گھر ایامِ قربانی میں اچھا کھانا پک جاتا ہے۔

ملکی خزانے کو فائدہ

جانوروں کو مویشی منڈی لے جانے والی گاڑیاں مختلف مقامات پر ٹول ٹیکس ادا کرتی ہیں، اور مویشی منڈی کا بھی جگہ کے حساب سے کرایہ دیا جاتا ہے، اس سب سے ملکی خزانے کو فائدہ ہوتا ہے۔

ملکی معیشت کو فائدہ

قربانی کی کھالوں سے مختلف چیزیں بنائی جاتی ہیں، پھر انہیں دوسرے ممالک میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے، جس سے ملک کو قیمتی زرِ مبادلہ حاصل ہوتا ہے اور اس طرح ملکی معیشت کو بڑا فائدہ ملتا ہے۔

مسلم اتحاد کا ذریعہ

قربانی ایک ایسی عبادت ہے جو ایک سال میں صرف تین دن کی جاتی ہے، ہزاروں لوگ اجتماعی قربانی میں شرکت کرتے ہیں، اس طرح مسلمانوں میں آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا ہوتا ہے۔

اخوت و محبت کا ذریعہ

ایامِ قربانی میں بہت سی جگہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ قربانی کا گوشت تیار کر کے خاندان والوں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو کھانے پر مدعو کیا جاتا ہے، جس سے بہت سی آپسی رنجشوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے، اور آپسی بھائی چارہ مضبوط ہوتا ہے، اور اسی بہانے اپنوں سے ملاقات ہو جاتی ہے، اپنوں کے ساتھ کھانا کھانے کا موقع مل جاتا ہے۔

جاری۔۔۔ [سہ ماہی القلم، شمارہ نمبر: 12، ذی الحجہ 1446ھ تا صفر المظفر 1447ھ، ص: 6 تا 8]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!