| عنوان: | تعظیمِ سادات تعلیماتِ رضا کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | محمد مقصود عالم قادری |
| پیش کش: | خان یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
تعظیمِ سادات تعلیماتِ رضا کی روشنی میں
محبت وہی کامل و اکمل ہوتی ہے کہ جو بھی چیز محبوب سے جڑی ہو اس سے ٹوٹ کر محبت کی جائے، بلکہ محبت کرنے والے تو محبوب کی گلی کے کتوں کا بھی ادب کرتے ہیں۔ حضرت قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تمام چیزیں جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت رکھتی ہیں ان کی تعظیم کی جائے۔ [الشفاء، الجزء الثانی، الباب الثالث، فصل فی اعظامہ واکبارہ، ص: 36، دارالکتب العلمیۃ]
لہٰذا اگر کوئی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور محبت کا دعویٰ کرتا ہے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب چیزوں سے محبت نہیں کرتا تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے کا دم بھرتا ہے مگر ساداتِ کرام اور اہلِ بیت اطہار جن کی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلیٰ یعنی خون کی نسبت ہے، کے تعلق سے دل میں بغض رکھتا ہے اور ان کے ادب اور تعظیم کو ملحوظ نہیں رکھتا تو وہ بھی اپنے دعوے میں کبھی سچا نہیں ہو سکتا۔ صحابہ کے زمانے سے لے کر آج تک عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ساداتِ کرام کی عزت اور ان سے محبت کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی اور خلیفۂ وقت جب مالِ غنیمت بانٹتے تو اپنے بیٹے کو تین ہزار جبکہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو پانچ پانچ ہزار دیتے تھے۔ صحابہ، تابعین اور اسلاف کے متعلق اور بھی اسی طرح کے بے شمار واقعات تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔
چودھویں صدی کے مجدد حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پوری زندگی یہی تعلیم دیتے رہے۔ اس سلسلے میں امام کے چند اقوال ملاحظہ ہوں:
-
سید سنی مذہب کی تعظیم لازم ہے اگرچہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں، ان اعمال کے سبب اس سے تنفر، نفرت نہ کی جائے، نفسِ اعمال سے تنفر ہو۔ ساداتِ کرام کی انتہائی نسبت حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے، اس فضلِ انتساب کی تعظیم عام مسلمان تو کیا ہر متقی پر فرض ہے کیونکہ وہ اس کی تعظیم نہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد 22، ص: 423، رضا فاؤنڈیشن]
-
اس میں کوئی شک نہیں کہ جو سید کی تحقیر باوجہ سیادت کرے وہ مطلقاً کافر ہے، اس کے پیچھے نماز محض باطل ہے ورنہ مکروہ۔ اور جو سید مشہور ہو اگرچہ واقعیت معلوم نہ ہو اسے بلا دلیلِ شرعی کہہ دینا کہ یہ صحیح النسب نہیں، اگر شرائطِ قذف کا جامع ہے تو صاف کبیرہ ہے اور ایسا کہنے والا 80 کوڑوں کا سزاوار ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 26، ص: 363، رضا فاؤنڈیشن]
-
یہ فقیر ذلیل بحمدہ تعالیٰ حضرات ساداتِ کرام کا ادنیٰ غلام و خاکپا ہے، ان کی محبت و عظمت ذریعۂ نجات اور شفاعت جانتا ہے، اپنی کتابوں میں چھاپ چکا ہے کہ سید اگر بد مذہب بھی ہو جائے تو اس کی تعظیم نہیں جاتی جب تک کہ حدِ کفر تک نہ پہنچے اور یہ بھی فقیر بارہا فتویٰ دے چکا ہے کہ کسی کو سید سمجھنے اور اس کی تعظیم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذاتی علم سے اسے سید جاننا ضروری نہیں ہے، جو لوگ سید کہلائے جاتے ہیں ہم ان کی تعظیم کریں گے ہمیں تحقیقات کی حاجت نہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد 29، ص: 587، رضا فاؤنڈیشن]
ان سے ان لوگوں کو درسِ عبرت حاصل کرنا چاہیے جو آج محض ذاتی عداوت کی بنا پر سیدوں سے الجھ کر ان کے نسب کو ٹٹولنا شروع کر دیتے ہیں اور نہ جانے کیا کیا بک دیتے ہیں، العیاذ باللہ!
عمل و کردار میں تعظیمِ سادات کی جھلکیاں
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے محض اپنے اشعار و اقوال ہی میں ساداتِ کرام کی تعظیم کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ آپ نے جو کہا اس سے دوگنا کر کے دکھایا۔ مہدی حسن میاں صاحب سجادہ نشین سرکار کلاں مارہرہ شریف نے فرمایا: حضرت شہزادہ صاحب انگوٹھی اور چھلے مجھے دے دیجیے، تو میں نے اتار کر دے دیا اور وہاں سے ممبئی چلا گیا۔ ممبئی سے مارہرہ واپس آیا تو میری لڑکی فاطمہ نے کہا: ابا! بریلی کے مولانا صاحب کے یہاں سے پارسل آیا تھا جس میں چھلے اور انگوٹھی تھے، یہ دونوں طلائی تھے اور والا نامہ میں مذکور تھا: شہزادی صاحبہ یہ دونوں طلائی اشیاء آپ کی ہیں۔ [حیاتِ اعلیٰ حضرت، جلد ایک، ص: 75، اکبر بک سیلز لاہور]
جب ایسی صورتحال ہو تو اچھے اچھے شریعت کے پابند حضرات کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اب کیا کریں؟ آیا غیر شرعی کام سے روک دیں یا شیخ صاحب کا ادب بجا لائیں اور ان کو صغیرہ شرعی عمل سے نہ روکیں، وہ دونوں میں سے ایک کرتے ہیں۔ لیکن اعلیٰ حضرت کی ذاتِ مبارکہ ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا عظیم فریضہ اس طرح ادا کیا کہ شریعت کا دامن بھی نہیں چھوڑا اور عشقِ آلِ رسول کی پیشانی میں شکن بھی پڑنے نہیں دیا۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ جب سید کی تعظیم کرتے تو بچہ، بوڑھا، شیخ، استاد، شاگرد، عالم، ناخواندہ، امیر اور غریب میں کبھی بھی بھید بھاؤ نہیں کرتے تھے۔ جیسے آپ علیہ الرحمہ اپنے پیر و مرشد کی تعظیم کرتے ویسی ہی ایک عام اور غریب سید صاحبزادے کی کرتے۔ یقین نہ ہو تو جناب سید ایوب صاحب علیہ الرحمہ کا یہ بیان پڑھیے:
ایک مرتبہ ایک کم عمر صاحبزادے خانہ داری کے کاموں میں امداد کے لیے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے کاشانۂ اقدس میں ملازم ہوئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سید زادے ہیں۔ لہٰذا آپ علیہ الرحمہ نے گھر والوں کو تاکید فرما دی کہ صاحبزادے صاحب سے خبردار کوئی کام نہ لیا جائے کہ مخدوم زادہ ہیں، کھانا وغیرہ اور جس شے کی ضرورت ہو، جس تنخواہ کا وعدہ ہے وہ بطورِ نذرانہ پیش ہوتا رہے؛ چنانچہ حسبِ الارشاد تعمیل ہوتی رہی۔
اعلیٰ حضرت کی سید زادوں کی تعظیم کی ایک جھلک اور ملاحظہ فرمائیے! آپ علیہ الرحمہ نے ایک سید صاحب کو محلے میں آباد کر لیا تھا۔ ایک دن ان کا تین چار سال کا بچہ کھیلتے کھیلتے بچوں کے ساتھ دروازے کے سامنے آیا اور تین بار آیا۔ اعلیٰ حضرت تینوں بار تعظیماً کھڑے ہو گئے۔ تو ان کے ماموں زاد بھائی شاہد یار خان صاحب اٹھ کر دروازے پر جا کھڑے ہوئے تو سارے بچے ان کو دیکھ کر بھاگ گئے۔ تو اعلیٰ حضرت نے رو کر فرمایا کہ: اے بھائی! کیا آپ نے سید زادے صاحب کو دروازے سے ہٹا دیا؟ ہائے! میں قیامت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کیسے چوم سکوں گا؟ [جہانِ رضا، ص: 152، مطبوعہ لاہور]
اب اعلیٰ حضرت غریب سیدوں کی کس قدر تعظیم فرماتے تھے، ایک واقعے کے تناظر میں ملاحظہ فرمائیے: بریلی شریف کے کسی محلے میں اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ مدعو تھے۔ ارادت مندوں نے اپنے یہاں لانے کے لیے پالکی کا اہتمام کیا۔ چنانچہ آپ رحمۃ اللہ علیہ سوار ہو گئے اور چار مزدور پالکی کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر چل دیے۔ ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ یکایک امام اہلِ سنت علیہ الرحمہ نے پالکی میں سے آواز دی: پالکی روک دو! پالکی رک گئی۔ آپ علیہ الرحمہ فوراً باہر تشریف لائے اور بھرائی ہوئی آواز میں مزدوروں سے فرمایا: سچ سچ بتائیں، آپ میں سے سید زادہ کون ہے؟ کیونکہ میرا ذوقِ ایمان سرورِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو محسوس کر رہا ہے۔
ایک مزدور نے آگے بڑھ کر عرض کی: حضور! میں سید ہوں۔ ابھی اس کی بات مکمل بھی نہ ہونے پائی تھی کہ عالمِ اسلام کے مقتدر پیشوا اور اپنے وقت کے عظیم مجدد اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اپنا عمامہ شریف اس سید زادے کے قدموں میں رکھ دیا۔ آپ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے ہیں اور ہاتھ جوڑ کر التجا کر رہے ہیں: معزز شہزادے! میری گستاخی معاف کر دیجیے، بے خیالی میں مجھ سے بھول ہو گئی، ہائے غضب ہو گیا، جن کی نعلِ پاک میرے سر کا تاجِ عزت ہے، ان کے کاندھے پر میں نے سواری کی! اگر بروزِ قیامت تاجدارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھ لیا کہ احمد رضا! کیا میرے فرزند کا دوشِ نازنین اس لیے تھا کہ وہ تیری سواری کا بوجھ اٹھائے تو میں کیا جواب دوں گا! اس وقت میدانِ محشر میں میرے ناموسِ عشق کی کتنی زبردست رسوائی ہوگی۔
کئی بار زبان سے معاف کر دینے کا اقرار کروا لینے کے بعد امام اہلِ سنت نے آخری التجائے شوق پیش کی: محترم شہزادے! اس لاشعوری میں ہونے والی خطا کا کفارہ تبھی ادا ہوگا کہ اب آپ پالکی میں سوار ہوں گے اور میں پالکی کو کاندھا دوں گا۔ اس التجا پر لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بعض کی تو چیخیں بھی بلند ہو گئیں۔ ہزار انکار کے بعد، آخر کار مزدور شہزادے کو پالکی میں سوار ہونا ہی پڑا۔
اللہ اکبر! یہ منظر کتنا دلگداز ہے کہ وقت کا عالمی شہرت یافتہ عالمِ دین اور مفتی، جن کے سینکڑوں مریدین اور عقیدت مند صرف ان کے دیدار کو اپنی تقدیر کی معراج سمجھتے ہیں، وہی آج اپنی تمام تر خداداد علمیت اور شہرت کو ایک غریب اور گمنام سید زادے کے قدموں پر قربان کر رہے ہیں۔ واقعی سید زادوں کے ساتھ اس طرح حسنِ سلوک اور تعظیم وہی کر سکتا ہے جس نے اپنے بدن کے ہر ہر حصے کو اللہ اور اس کے رسول کے نام کر دیا ہو۔ اور محض خوشبو سے سید کو پہچان لینا عشقِ رسول کی اعلیٰ دلیل ہے۔
آج کچھ سادات حضرات اعلیٰ حضرت کے نام سے چڑتے ہیں، معاذ اللہ کچھ تو دشنام بازی اور گستاخی تک بھی کرتے ہیں۔ یاد رکھیں! کہ آج جو پاک و ہند میں سادات کی اس طرح لوگ تعظیم بجا لاتے ہیں یقیناً اس میں اعلیٰ حضرت کا ایک اہم کردار ہے اور کیوں نہ ہو کہ آپ کو قومِ پٹھان میں پیدا ہی اس لیے کیا گیا تاکہ سیدوں کی عظمت اور رفعت کو مزید اجاگر کریں۔ یہ میں نہیں بلکہ مخدوم الاولیاء سید آلِ مصطفیٰ میاں علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ: میں نے اس بات پر بہت ہی غور کیا کہ حضور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو ہر فضیلت، کرامت کے حامل ہونے کے باوجود سادات میں کیوں نہیں پیدا فرمایا؟ تو سمجھ میں یہ آیا کہ اگر وہ سید ہوتے اور سید ہو کر سیدوں کا اس طرح ادب و احترام اور ان کی شان بیان فرماتے، ان کی تعظیم و توقیر کا خطبہ ایسے پڑھتے تو منافقین یہ کہہ سکتے تھے کہ میاں اپنے منہ میاں مٹھو بن رہے ہیں (اپنی تعریف کر رہے ہیں)۔ چنانچہ رب تعالیٰ کی یہ حکمت ظاہر ہوئی کہ سادات میں ان کو پیدا نہ فرما کر اعدائے دین کا روزِ قیامت تک کے لیے منہ بند فرما دیا۔ [تجلیاتِ امام احمد رضا، ص: 82، رضا اکیڈمی لاہور]
اللہ تعالیٰ ہم سب کو تعلیماتِ رضا کے مطابق ساداتِ کرام کی تعظیم اور ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم!
[سہ ماہی القلم، شمارہ (10)، جمادی الآخر تا شعبان، ص: 114 تا 120]
