| عنوان: | اہل قبلہ کی تکفیر اور فتاویٰ امارت شرعیہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر محمد امجد رضا امجد |
| پیش کش: | عالمہ صغریٰ انجم حنفی |
بدایوں میں مولانا عبد الکافی اللہ آبادی اور امام احمد رضا کی ملاقات کے امکانات سے انکار نہیں مگر اس ملاقات کے دوران علمائے دیوبند کی تکفیر کے مسئلہ میں مولانا عبد الکافی اللہ آبادی کا یہ فرمانا کہ: ”آپ علمائے دیوبند کی جن عبارتوں پر گرفت کر کے کفر کا حکم لگاتے ہیں کیا ان عبارتوں کا کوئی صحیح محمل نہیں ہو سکتا ہے؟ ہمارے امام ابو حنیفہ کا اصول ہے کہ عاقل بالغ کے قول کو جہاں تک ممکن ہو کسی صحیح محمل پر محمول کرنا چاہیے، اس کے ساتھ اصول و معانی و بلاغت میں بھی امرِ محقق ہے کہ کسی متکلم کے کلام کی مراد کو سمجھنے کے لیے اس کے معتقدات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے، اب یہ دونوں اصول ایسے ہیں جو اپنی جگہ محقق اور منصوص علیہ ہیں اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ آپ کسی پر حکم لگاتے وقت اس کو بھی پیش نظر رکھیں تو بہتر ہے۔“ اور اس پر امام احمد رضا کا یہ فرمانا: ”بلاشبہ جناب نے ایک اہم نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے اور بلاشبہ ان اصولوں کی رعایت کرتے ہوئے اگر ہم ان عبارتوں کے لکھنے والوں کو کافر نہیں کہیں تو خاطی ضرور کہہ سکتے ہیں“ اس صدی کا سب سے بڑا فراڈ ہے، جسے خود مولانا سجاد اور فتاویٰ امارت شرعیہ کے ناشرین بخوبی جانتے ہیں۔
عبارتوں کے صحیح محمل کے حوالے سے، مولانا عبد الکافی سے منسوب جو بات مفتیِ امارتِ شرعیہ نے لکھی ہے تاریخی حقیقت یہ ہے کہ امام احمد رضا نے ہمیشہ اس احتیاط اور احتمال کا خیال رکھا ہے اور اس وقت تک انہوں نے کسی کی تکفیر نہیں کی ہے جب تک حقائق پورے طور پر واضح نہیں ہو گئے اور قائل کے قول کا کفری معنی متعین نہیں ہو گیا۔ اس کا ذکر بار بار خود انہوں نے اپنی مختلف کتابوں میں کیا ہے۔ مثلاً ۱۳۰۹ھ میں عظیم آباد سے شائع کتاب ”سبحان السبوح“ میں امام احمد رضا نے اس کی پوری وضاحت کی، پھر صفر ۱۳۱۶ھ میں عظیم آباد ہی سے شائع ہونے والی کتاب ”سل السیوف الہندیہ علی کفریات بابا النجدیہ“ میں آپ نے اس سلسلہ میں لکھا: ”اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں، بے حد برکتیں ہمارے علمائے تنقید و احتسابِ کرام پر کہ یہ کچھ دیکھتے اور اس طائفہ کے پیر سے بات بات پر سچے مسلمانوں کی نسبت حکمِ کفر سنتے ہیں بایں ہمہ نہ شدتِ غضب دامنِ احتیاط ان کے ہاتھ سے چھڑاتی ہے نہ قوتِ انتقام حرکت میں آتی ہے، وہ اب تک یہی تحقیق فرما رہے ہیں کہ لزوم و التزام میں فرق ہے، اقوال کا کلمۂ کفر ہونا اور بات اور قائل کا کافر مان لینا اور بات۔ ہم احتیاط برتیں گے، سکوت کریں گے، جب تک ضعیف سے ضعیف احتمال ملے گا حکمِ کفر جاری کرتے ڈریں گے۔“
۱۳۱۷ھ میں عظیم آباد ہی سے آپ کی کتاب ”ازالۃ العیب بجحر الکرائم عن کلاب النار“ شائع ہوئی، اس میں آپ فرماتے ہیں: ”ہم اس باب میں قولِ متکلمین اختیار کرتے ہیں، ان میں جو کسی دینی ضرورت کا منکر نہیں، نہ ضروریاتِ دین کے کسی منکر کو مسلمان کہتا ہے اسے کافر نہیں کہتے۔“ اس موضوع پر لکھی ہوئی اپنی مشہور کتاب ”تمہیدِ ایمان“ میں فرماتے ہیں: ”مسلمانو! یہ روشن، ظاہر، واضح، قاہر عبارات تمہارے پیش نظر ہیں جنہیں چھپے ہوئے دس دس اور بعض کو سترہ اور تصنیف کو انیس سال ہوئے اور ان دشنامیوں کی تکفیر تو اب چھ سال یعنی ۱۳۲۰ھ سے ہوئی جب سے المعتمد المستند چھپی۔ ان عبارات کو بغور نظر فرماؤ اور اللہ اور رسول کے خوف کو سامنے رکھ کر انصاف کرو، یہ عبارتیں فقط ان مفتریوں کا افترا ہی رد نہیں کرتیں بلکہ صراحۃً صاف صاف شہادت دے رہی ہیں کہ ایسی عظیم احتیاط والے نے ہرگز ان دشنامیوں کو کافر نہ کہا جب تک کہ یقینی، قطعی، واضح، روشن، جلی طور سے ان کا صریح کفر آفتاب سے زیادہ ظاہر نہ ہو لیا جس میں اصلاً اصلاً ہرگز ہرگز کوئی گنجائش، کوئی تاویل نہ نکل سکتی کہ آخر یہ بندۂ خدا وہی تو ہے جو ان کے اکابر پر ستر ستر وجہ سے لزومِ کفر کا ثبوت دے کر یہی کہتا ہے کہ ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل لا الہ الا اللہ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے جب تک وجہِ کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو جائے اور حکمِ اسلام کے لیے اصلاً کوئی ضعیف سے ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے، یہ بندۂ خدا وہی تو ہے جو خود ان دشنامیوں کی نسبت (جب تک ان کی دشنامیوں کی اطلاع یقینی نہ ہوئی تھی) اٹھتر وجہ بحکمِ فقہائے کرام لزومِ کفر کا ثبوت دے کر یہی لکھ چکا تھا کہ ہزار ہزار بار حاشا للہ میں ہرگز ان کی تکفیر پسند نہیں کرتا، جب کیا ان سے کوئی ملاپ تھا اب رنجش ہو گئی؟ جب ان سے جائیداد کی کوئی شرکت نہ تھی اب پیدا ہو گئی؟ حاشا للہ! مسلمانوں کا علاقۂ محبت و عداوت صرف محبت و عداوتِ خدا و رسول ہیں، جب تک ان دشنام دہوں سے دشنام صادر نہ ہوئی یا اللہ و رسول کی جناب میں ان کی شتم نہ دیکھی نہ سنی تھی اس وقت تک کلمہ گوئی کا پاس لازم تھا، غایتِ احتیاط سے کام لیا حتیٰ کہ فقہائے کرام کے حکم سے طرح طرح ان پر کفر لازم تھا مگر احتیاطاً ان کا ساتھ نہ دیا اور متکلمینِ عظام کا مسلک اختیار کیا، جب صاف صریح انکارِ ضروریاتِ دین و دشنام دہی رب العالمین و سید المرسلین آنکھ سے دیکھی تو اب بے تکفیر چارہ نہ تھا کہ اکابر ائمہ دین کی تصریحیں سن چکے: مَنْ شَکَّ فِيْ کُفْرِہٖ وَعَذَابِہٖ فَقَدْ کَفَرَ جو ایسے کے معذب اور کافر ہونے میں شک کرے خود کافر ہے۔ اپنا اور اپنے دینی بھائیوں عوامِ اہل اسلام کا ایمان بچانا ضروری تھا لاجرم حکمِ کفر دیا اور شائع کیا۔“
یہاں یہ واضح کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ علمائے دیوبند کی جن کتابوں پر تکفیر کا حکم دیا گیا ہے اس میں تحذیر الناس کی تصنیف کے تیس سال بعد، براہینِ قاطعہ کی اشاعت کے تقریباً سولہ سال بعد، حفظ الایمان کی اشاعت کے قریباً ایک سال بعد، ۱۳۲۰ھ میں ”المعتقد المنتقد“ کے حاشیہ ”المعتمد المستند“ میں مرزا غلام احمد قادیانی اور مذکورہ بالا کتابوں کے مصنفین مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا خلیل احمد انبیٹھوی، مولانا اشرف علی تھانوی پر ان کی عباراتِ کفریہ کے سبب حکمِ کفر عائد کیا۔ اب اس سے زیادہ احتیاط اور تحقیقِ حال و احوال کی صورت اور کیا ہو سکتی تھی جس کے نہ ہونے کا الزام امام احمد رضا پر دیا جاتا ہے۔
علمائے دیوبند اپنے بچاؤ کے لیے مختلف طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مولانا احمد رضا نے احادیث اور فقہی جزئیات کی خلاف ورزی کی ہے ان میں یہ حربے بہت مشہور ہیں:
۱۔ اسلام نام کلمہ گوئی کا ہے حدیث شریف میں ہے مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ جس نے لا الہ الا اللہ پڑھ لیا جنت میں جائے گا، پھر کسی قول یا فعل سے کافر کیسے ہو سکتا ہے؟
۲۔ امام اعظم کا مذہب ہے لَا نُکَفِّرُ اَحَداً مِّنْ اَھْلِ الْقِبْلَۃِ ہم اہل قبلہ میں سے کسی کو کافر نہیں کہتے۔ پھر علمائے دیوبند کی تکفیر کیسے ہو سکتی ہے۔
۳۔ فقہ میں لکھا ہے جس میں ننانوے باتیں کفر کی ہوں گی اور ایک بات اسلام کی، تو اس کو کافر نہیں کہنا چاہیے۔
امام احمد رضا نے ان تمام شبہات کا شافی، وافی، کافی جواب اپنی کتابوں میں دے دیا ہے۔ پہلے دونوں شبہات کے علمی اور مدلل جوابات کے لیے ”تمہیدِ ایمان“ کا مطالعہ کیا جائے۔ آخری شبہ چوں کہ مفتیِ امارتِ شرعیہ کے اٹھائے ہوئے سوال سے ہے (اور یہی مذموم خیال اب صلح کلیت کی روشنی پر ایمان لانے والے بعض افراد کا ہے) اس لیے کی اس کی تھوڑی توضیح ضروری ہے۔ اس تیسرے شبہ کا جواب بھی امام احمد رضا نے تمہیدِ ایمان میں دیا ہے، یہاں اس کا خلاصہ حاضر کیا جاتا ہے جس سے مسئلہ زیرِ بحث کی مکمل وضاحت ہو جاتی ہے۔ امام احمد رضا اس حوالے سے فرماتے ہیں:
اولاً: یہ مکرِ خبیث سب مکروں سے بدتر و ضعیف، جس کا حاصل یہ کہ جو شخص دن میں ایک بار اذان دے یا دو رکعت نماز پڑھے اور ننانوے بار بت پوجے، سنکھ پھونکے، گھنٹی بجائے، وہ مسلمان ہے کہ اس میں ننانوے باتیں کفر کی ہیں تو ایک اسلام کی بھی ہے یہی کافی ہے حالانکہ مومن تو مومن کوئی عاقل اسے مسلمان نہیں کہہ سکتا۔
ثانیاً: اس کی رو سے سوائے دہریے کے کہ سرے سے خدا کے وجود ہی کا منکر ہے، تمام کافر، مشرک، مجوس، ہنود، نصاریٰ، یہود و غیرہم دنیا بھر کے کفار سب کے سب مسلمان ٹھہرے جاتے ہیں کہ اور باتوں کے منکر سہی، آخر وہ وجودِ خدا کے تو قائل ہیں ایک یہی بات سب سے بڑھ کر اسلام کی بات، بلکہ تمام اسلامی باتوں کی اصل الاصول ہے۔
ثالثاً: اس کی رد میں قرآنِ عظیم کی وہ آیتیں کہ اوپر گزریں کافی و وافی ہیں جن میں باوصفِ کلمہ گوئی و نماز خوانی، صرف ایک ایک بات پر حکمِ تکفیر فرمایا، کہیں ارشاد ہوا: کَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِہِمْ وہ مسلمان ہو کر اس کلمہ کے سبب کافر ہو گئے۔ کہیں فرمایا: لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ بہانے نہ بناؤ تم کافر ہو چکے ایمان کے بعد۔ حالانکہ اس مکرِ خبیث کی بنا پر جب تک ننانوے سے زیادہ کفر کی باتیں جمع نہ ہو جاتیں، صرف ایک کلمہ پر حکمِ کفر (معاذ اللہ) صحیح نہ تھا۔
رابعاً: کلامِ الٰہی میں فرض کیجیے اگر ہزار باتیں ہوں تو ان میں سے ہر ایک بات کا ماننا اسلامی عقیدہ ہے۔ اب اگر کوئی شخص ۹۹۹ نو سو ننانوے مانے اور صرف ایک نہ مانے تو قرآنِ عظیم فرما رہا ہے کہ وہ ان ۹۹۹ کے ماننے سے مسلمان نہیں، بلکہ صرف اس ایک کے نہ ماننے سے کافر ہے۔ دنیا میں اس کی رسوائی ہوگی اور آخرت میں اس پر سخت عذاب۔
خامساً: فقہا نے یہ نہیں فرمایا کہ جس شخص میں ننانوے باتیں کفر کی اور ایک اسلام کی ہو وہ مسلمان ہے۔ حاشا للہ! بلکہ تمام امت کا اجماع ہے کہ جس میں ننانوے ہزار باتیں اسلام کی اور ایک بات کفر کی ہو وہ یقیناً قطعاً کافر ہے۔ ننانوے قطرے گلاب میں ایک بوند پیشاب کا پڑ جائے سب پیشاب ہو جائے گا مگر یہ جاہل کہتے ہیں کہ ننانوے قطرے پیشاب میں ایک بوند گلاب کا ڈال دو سب طیب و طاہر ہو جائے گا۔ حاشا کہ فقہا تو فقہا کوئی ادنیٰ تمیز والا بھی ایسی جہالت بکے۔ بلکہ فقہائے کرام نے یہ فرمایا ہے کہ جس مسلمان سے کوئی ایسا لفظ صادر ہو جس میں سو پہلو نکل سکیں ان میں ننانوے پہلو کفر کی طرف جاتے ہوں اور ایک اسلام کی طرف، تو جب تک ثابت نہ ہو جائے کہ اس نے خاص کوئی پہلو کفر کا مراد رکھا ہے ہم اسے کافر نہ کہیں گے کہ آخر ایک پہلو اسلام کا بھی تو ہے، کیا معلوم شاید اس نے یہی پہلو مراد رکھا ہو اور ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ اگر واقع میں اس کی مراد کوئی پہلوئے کفر ہے تو ہماری تاویل سے اسے فائدہ نہ ہوگا وہ عند اللہ کافر ہی ہوگا۔
اب اس کی ایک مثال دے کر اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں مثلاً زید کہے عمر کو علمِ قطعی یقینی غیب کا ہے، اس میں اتنے پہلو ہیں:
(۱) عمرو اپنی ذات سے غیب داں ہے۔ یہ صریح کفر و شرک ہے۔
(۲) عمرو آپ تو غیب داں نہیں مگر جن علمِ غیب رکھتے ہیں ان کے بتائے سے اسے غیب کا علمِ یقینی حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ بھی کفر ہے۔
(۳) عمرو نجومی ہے۔ (۴) رمال ہے۔ (۵) سامندرک جانتا، ہاتھ دیکھتا ہے۔ (۶) کوّے وغیرہ کی آواز، (۷) حشرات الارض کے بدن پر گرنے، (۸) کسی پرندے یا وحشی چرندے کے داہنے یا بائیں نکل کر جانے، (۹) آنکھ یا دیگر اعضاء کے پھڑکنے سے شگون لیتا ہے۔ (۱۰) پانسہ پھینکتا ہے۔ (۱۱) فال دیکھتا ہے۔ (۱۲) حاضرات سے کسی کو معمول بنا کر اس سے احوال پوچھتا ہے۔ (۱۳) مسمریزم جانتا ہے۔ (۱۴) جادو کی میز، (۱۵) روحوں کی تختی سے حال دریافت کرتا ہے۔ (۱۶) قیافہ دان ہے۔ (۱۷) علمِ زائچہ سے واقف ہے ان ذرائع سے غیب کا علمِ قطعی یقینی ملتا ہے۔ یہ سب بھی کفر ہیں۔
(۱۸) عمرو پر وحیِ رسالت آتی ہے اس کے سبب غیب کا علمِ یقینی پاتا ہے، یہ اشد کفر ہے۔
(۱۹) وحی تو نہیں آتی مگر بذریعہ الہام جمیع غیوب اس پر منکشف ہو گئے ہیں، اس کا علم تمام معلوماتِ الٰہی کو محیط ہو گیا، یہ یوں کفر ہے کہ اس نے عمرو کا علم حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ترجیح دے دی کہ حضور کا علم بھی جمیع معلوماتِ الٰہی کو محیط نہیں۔
(۲۰) جمیع کا احاطہ نہ سہی مگر جو علومِ غیب اسے الہام سے ملے ان میں ظاہراً باطناً کسی طرح کی رسولِ انس و ملک کی وساطت و تبعیت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بلا واسطۂ رسول اسے غیوب پر مطلع کیا یہ بھی کفر ہے۔
(۲۱) عمرو کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے سمعاً یا عیناً یا الہاماً بعض غیوب کا علمِ قطعی اللہ عزوجل نے دیا یا دیتا ہے، یہ احتمال خالص اسلام ہے۔ تو محققین فقہا اس قائل کو کافر نہ کہیں گے کہ اگرچہ اس کی بات کے اکیس پہلوؤں میں سے بیس کفر ہیں مگر ایک اسلام کا بھی ہے۔ احتیاط و تحسینِ ظن کے سبب اس کا کلام اسی پر محمول کریں گے جب تک ثابت نہ ہو کہ اس نے کوئی پہلوئے کفر ہی مراد لیا۔ نہ کہ ایک ملعون کلام، تکذیبِ خدا یا تنقیصِ شانِ سید الانبیاء علیہ وعلیہم الصلوۃ والثناء میں صاف صریحاً ناقابلِ تاویل و توجیہ ہو اور پھر بھی حکمِ کفر نہ ہو۔ اب تو اسے کفر نہ کہنا کفر کو اسلام ماننا ہوگا اور جو کفر کو اسلام مانے خود کافر ہے۔ اسی کتاب میں صفحہ ۴۶ پر احتمال کے تعلق سے فرماتے ہیں: ”احتمال وہ معتبر ہے جس کی گنجائش ہو۔ صریح بات میں تاویل نہیں سنی جاتی، ورنہ کوئی بات بھی کفر نہ رہے۔ مثلاً زید نے کہا خدا دو ہیں۔ اس میں یہ تاویل ہو جائے کہ لفظِ خدا سے بحذفِ مضاف حکمِ خدا مراد ہے یعنی قضا دو ہیں، مبرم و معلق، جیسے قرآنِ عظیم میں فرمایا: اِلَّا اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللہُ اَیْ اَمْرُ اللہِ، عمرو کہے میں رسول اللہ ہوں، اس میں تاویل گڑھ لی جائے کہ لغوی معنی مراد ہیں یعنی خدا ہی نے اس کی روح بدن میں بھیجی۔ ایسی تاویلیں زنہار مسموع نہیں۔“
احتمال کے تعلق سے یہ بات قابلِ ذکر معلوم ہوتی ہے کہ اس موضوع پر حضرت مفتی محمد مطیع الرحمن صاحب رضوی کی ایک مدلل اور ایک مستند کتاب ”اہل قبلہ کی تکفیر“ کے نام سے موجود ہے، جو مجمع المصباحی سے شائع ہو چکی ہے، جس میں آپ نے امام احمد رضا کی کتابوں کی روشنی میں ہی احتمال کی دونوں صورتوں یعنی احتمال عن دلیل اور احتمال بلا دلیل کی تمام شقیں بیان کر دی ہیں، پھر محل کے اعتبار سے احتمال کے تحقق کی تین صورتیں: تکلم میں احتمال یعنی اسناد و ثبوت میں احتمال، متکلم میں احتمال یعنی متکلم کے حالات و کیفیات میں احتمال بیان کرتے ہوئے علمائے دیوبند کی تکفیر اور شاہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی سے احتیاط کے سارے حقائق بیان کر دیے ہیں۔ اسی کتاب میں فتاویٰ رضویہ جلد ۹ ص ۹۴۱ کے حوالے سے امام احمد رضا کا موقف بھی لکھ دیا گیا ہے کہ: ”کسی قول یا فعل کا موجبِ کفر ہونا تو خود افعالِ مکلفین ہی سے بحث ہے اس کے بیان کو کتبِ فقہ میں ”باب الردۃ“ مذکور اور صدہا اقوال و افعال پر انہی مشائخ کے بے شمار فتاوائے کفر مسطور، مگر محققینِ محتاط، تارکینِ تفریط و افراط، بانکہ سچے دل سے حنفی مقلد اور ان مشائخِ کرام کے خادم و معتقد ہیں، زنہار ان پر فتویٰ نہیں دیتے اور حتی الامکان تکفیر سے احتراز رکھتے، بلکہ صاف فرماتے ہیں کہ اگر کوئی روایتِ ضعیفہ اگرچہ دوسرے ہی مذہب کی، دربارۂ اسلام مل جائے گی اسی پر عمل کریں گے اور جب تک تکفیر پر اجماع نہ ہو لے کافر نہ کہیں گے۔ الخ“
اہلِ علم اور صاحبِ رائے حضرات ان تصریحات کی روشنی میں اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مفتیِ امارتِ شرعیہ نے مولانا عبد الکافی اللہ آبادی کی زبانی جس صحیح محمل کی بات کی تھی، امام احمد رضا کی مذکورہ بالا تحریروں میں اس احتیاط اور احتمال کی کتنی تفصیل موجود ہے۔ اور ان تصریحات سے یہ بھی مترشح ہے کہ تکفیر کے معاملہ میں امام احمد رضا کتنے محتاط تھے۔ اس کے باوجود مولانا عبد الکافی کی طرف منسوب کر کے مفتیِ امارتِ شرعیہ کا لکھنا کہ ”آپ علمائے دیوبند کی جن عبارتوں پر گرفت کر کے کفر کا حکم لگاتے ہیں کیا ان عبارتوں کا کوئی
