Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اہل قبلہ کی تکفیر اور فتاویٰ امارت شرعیہ (قسط: اول)|ڈاکٹر محمد امجد رضا امجد

اہل قبلہ کی تکفیر اور فتاویٰ امارت شرعیہ (قسط: اول)
عنوان: اہل قبلہ کی تکفیر اور فتاویٰ امارت شرعیہ (قسط: اول)
تحریر: ڈاکٹر محمد امجد رضا امجد
پیش کش: عالمہ صغریٰ انجم حنفی

فتاویٰ امارت شرعیہ مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔ یہ امارت شرعیہ کے پہلے مفتی ہیں، اس میں سن ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۱۹ھ سے سن ۵ ذی قعدہ ۱۳۴۶ھ تک کے فتاویٰ ہیں۔ یہ مجموعہ ۳۳ ابواب اور ۳۱۱ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس مجموعہ میں مستفتی کے نام کو پتہ نہیں کیوں حذف کر دیا گیا ہے، پوری کتاب میں کہیں بھی کسی مستفتی کا نام نہیں، اس سے شبہہ ہوتا ہے کہ یہ جوابات باہر سے آئے ہوئے استفتاء کے ہیں یا مختلف موضوعات کے تحت اپنی پسند و مزاج کے مطابق وضع کردہ سوالات کے۔ اگرچہ اس کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے مگر اس کا ذکر مقدمہ میں کیا جانا چاہیے تھا تاکہ قاری اس طرح کے شبہات میں مبتلا نہ ہو۔ فتویٰ کی زبان آسان ہے اور مجیب نے سوال کے جواب میں نفس مسئلہ بیان کرنے پر زیادہ توجہ دی ہے، یہی وجہ ہے کہ استدلال، ضروری حوالہ جات اور علمی و فقہی بحث کے تعلق سے قاری کو کمی کا احساس ہوتا ہے۔ بعض مقامات پر مجیب نے خلاف واقعہ بات لکھ دی ہے جس سے اس مجموعہ فتاویٰ کی حیثیت مجروح ہوگئی ہے مثلاً: صفحہ ۲۶ پر ایک ذیلی سرخی ہے:

[الف] مولانا عبد الکافی اللہ آبادی کا مسلک

[ب] مدرسہ سبحانیہ الہ آباد کے لیے صحیح روش

[ج] مولانا عبد الکافی اور مولانا احمد رضا خاں صاحب کے درمیان علمائے دیوبند کی تکفیر و عدم تکفیر کے مسئلہ پر گفتگو اور اس کے تحت لکھا ہے کہ:

”مولانا کا طریق عمل اعتقاداً اور عملاً صراطِ مستقیم اور افراط و تفریط سے خالی تھا۔ اس لیے آپ کے تعلقات علمائے دیوبند و اتباعِ مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی، اور علمائے بریلی و تبعینِ مولانا احمد رضا خاں صاحب کے ساتھ یکساں تھے۔۔۔۔۔۔ مولانا محمد عبد الکافی صاحب قدس سرہ علمائے دیوبند کی تضلیل و تکفیر کے قائل نہیں تھے، انہوں نے اپنی علمی تحقیقات اور کثرتِ افتاء کے دور میں جو تقریباً ۱۳۴۰ھ تک قائم رہا، علمائے دیوبند کے خلاف نہ علی الاطلاق فتویٰ تکفیر دیا اور نہ نام بنام صراحتِ اسم کے ساتھ۔ وہ تو علمائے اہل حدیث اور غیر مقلدینِ زمانہ کو بھی کافر نہیں سمجھتے تھے، چہ جائے کہ علمائے دیوبند کی تکفیر کو بنظرِ استحسان دیکھنا۔“

آگے لکھا ہے:

”ہمیں خوب یاد ہے کہ حضرت استاذ ایک مرتبہ ایک خاص تقریب کے سلسلہ میں بدایوں تشریف لے گئے اور اسی تقریب میں مولانا احمد رضا بھی تشریف لائے تھے وہیں ان دونوں بزرگوں میں مخصوص صحبت و ملاقات میں علمائے دیوبند کی تکفیر کے مسئلہ پر گفتگو ہوئی ۔۔۔۔ حضرت الاستاذ نے فرمایا کہ آپ علمائے دیوبند کی جن عبارتوں پر گرفت کر کے کفر کا حکم لگاتے ہیں کیا ان عبارتوں کا کوئی صحیح محمل نہیں ہو سکتا ہے؟ ہمارے امام ابو حنیفہ کا اصول ہے کہ عاقل بالغ کے قول کو جہاں تک ممکن ہو کسی صحیح محمل پر محمول کرنا چاہیے، اس کے ساتھ اصول و معانی و بلاغت میں بھی امرِ محقق ہے کہ کسی متکلم کے کلام کی مراد کو سمجھنے کے لیے اس کے معتقدات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے، اب یہ دونوں اصول ایسے ہیں جو اپنی جگہ محقق اور منصوص علیہ ہیں اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ آپ کسی پر حکم لگاتے وقت اس کو بھی پیش نظر رکھیں تو بہتر ہے۔“

آگے کا جملہ بھی توجہ طلب ہے:

”اس مختصر سی تقریر محبت آمیز لیکن پر از حقیقت کو سن کر حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب نے فرمایا: بلاشبہ جناب نے ایک اہم نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے اور بلاشبہ ان اصولوں کی رعایت کرتے ہوئے اگر ہم ان عبارتوں کے لکھنے والوں کو کافر نہیں کہیں تو خاطی ضرور کہہ سکتے ہیں“ اور آخر میں لکھا ہے کہ:

”اسی کے ساتھ حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب کے اصلی خیال پر ایک روشنی پڑتی ہے“

اس جواب میں کئی باتیں ایسی ہیں جو سوالات کھڑے کرتی ہیں اور اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ مجیب نے واقعہ کو گڑھ کر پیش کیا ہے، حقائق سے دانستہ چشم پوشی کی ہے اور عوام کو گمراہ کرنا چاہا ہے۔

[۱] سب سے پہلے تو یہ حقیقت تسلیم کر لی جائے کہ علمائے دیوبند کے عقائد کے حوالہ سے مولانا عبد الکافی اللہ آبادی کا موقف وہی تھا جو امام احمد رضا کا تھا یعنی مولانا موصوف بھی علمائے دیوبند کی تکفیر کے قائل تھے۔ ان کے پیچھے نہ نماز پڑھتے تھے اور نہ کسی کے لیے اسے جائز سمجھتے تھے۔ اگر مفتیِ امارتِ شرعیہ یا ان کے حواریین اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو کوئی ایک فتویٰ ایسا دکھائیں جس میں مولانا عبدالکافی سے علمائے دیوبند کی تکفیر کے مسئلہ پر سوال ہوا اور انہوں نے ان کی تکفیر نہیں کی اور تکفیر کرنے والوں کو برا سمجھا۔

[۲] یہاں ان تین فتووں کا ذکر ناگزیر معلوم ہوتا ہے جن میں علمائے دیوبند کی تکفیر کی گئی ہے اور اس پر آپ یعنی مولانا عبدالکافی اللہ آبادی کی تصدیقات ہیں۔ پہلا فتویٰ مفتی نعیم الدین صاحب مدرس مدرسہ سبحانیہ الہ آباد کا ہے، دوسرا فتویٰ مولانا فرخند علی صاحب بانی مدرسہ خیریہ نظامیہ سہسرام کا ہے اور تیسرا فتویٰ مفتی عبدالرشید صاحب مدرس مدرسہ سبحانیہ الہ آباد کا ہے۔ تینوں فتووں میں علمائے دیوبند کی تکفیر کی گئی ہے اور ان کے پیچھے نماز ناجائز لکھا گیا ہے، ان تینوں فتووں پر آپ کی تصدیقات موجود ہیں۔ یہ فتاویٰ علامہ عاشق الرحمن مدرسہ سبحانیہ الہ آباد، مولانا ملک الظفر مدرسہ خیریہ نظامیہ سہسرام اور ایک فوٹو کاپی راقم کے پاس محفوظ ہے۔ تصدیق کے لیے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ اس حقیقت کے برخلاف مولانا سجاد صاحب کا یہ لکھنا کہ مولانا محمد عبد الکافی صاحب قدس سرہ علمائے دیوبند کی تضلیل و تکفیر کے قائل نہیں تھے سراسر غلط، بے بنیاد اور مبنی بر کذب ہے۔

[۳] اس حوالہ سے تیسری خاص بات یہ بھی قابل لحاظ ہے کہ مناظرِ اہل سنت مجاہدِ ملت حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب قبلہ جنہوں نے زندگی بھر علمائے دیوبند کے ساتھ ایمان و کفر کی جنگ لڑی اور ہر مناظرے میں علمائے دیوبند کی تکفیر ثابت کی اور مَنْ شَکَّ فِيْ کُفْرِہٖ وَعَذَابِہٖ فَقَدْ کَفَرَ (یعنی جو ان کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے) تک فرمایا، وہ حضرت مولانا عبد الکافی اللہ آبادی ہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ اگر معاملہ ایسا ہی ہوتا جیسا مفتیِ امارتِ شرعیہ لکھ رہے ہیں تو اس فتویٰ کی زد میں خود مولانا عبد الکافی بھی آتے اور ایسی صورت میں حضرت مجاہدِ ملت مولانا عبد الکافی سے بیعت و ارادت کا تعلق قائم نہیں رکھ سکتے تھے۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ پیر و مرید کا یہ رشتہ کبھی منقطع نہیں ہوا اس سے صاف واضح ہے کہ اس مسئلہ میں پیر و مرید دونوں کا ایک ہی موقف تھا۔

[۴] چوتھی بات یہ کہ حضرت مولانا فرخند علی علیہ الرحمہ حضرت مولانا عبد الکافی علیہ الرحمہ کے سب سے مقرب اور معتمد شاگرد تھے خود مولانا سجاد صاحب نے اس فتویٰ میں لکھا ہے کہ: ”آپ کی عادتِ شریفہ از راہِ حوصلہ افزائی یا ذرہ نوازی یہ تھی کہ آپ کے پاس جو اہم استفتاء جاتے تھے تو اس کے جواب اس وقت تک نہ دیتے تھے جب تک مجھ سے اور جناب مولانا فرخند علی صاحب سے ملاقات نہ ہو اور اس کے متعلق مشورہ نہ فرما لیں، اس قسم کے سوالات کی ایک یادداشت وہ مرتب فرماتے تھے اور اس یادداشت کی بنا پر گفتگو اور بحث کے بعد خلاصۂ جواب نوٹ فرماتے تھے۔“ حضرت مولانا فرخند علی صاحب کے اس تکفیری فتویٰ پر حضرت مولانا عبد الکافی اللہ آبادی صاحب کا دستخط موجود ہے۔ اس سے صاف واضح ہے کہ علمائے دیوبند کے تکفیر کے مسئلہ میں بھی انہوں نے اپنے معتمد تلمیذ کے موقف کی تائید کی اور علمائے دیوبند کو ان کی کفری عبارات کے سبب کافر سمجھا۔ مولانا سجاد صاحب کی گفتگو سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اس طرح کے مسائل میں وہ اپنے تلامذہ سے گفتگو اور بحث کیا کرتے تھے۔ اور بات اپنے فتویٰ کی ہو یا شاگرد کے فتویٰ کی تصدیق کی، اصلاً دونوں ایک ہی ہے، اس لیے یہ بھی ثابت ہے کہ اس موضوع پر پہلے انہوں نے اپنے معتمد شاگرد سے گفتگو اور بحث کی، اور اس کے بعد اس فتویٰ کی تصدیق کی۔ اس واضح اور بدیہی حقیقت کے باوجود مولانا سجاد صاحب کا یہ لکھنا سوائے کتمانِ حقیقت کے اور کیا ہے:

”آخری دور میں مدرسہ سبحانیہ کے کسی مدرس یا مفتی نے کوئی فتویٰ لکھا ہو جو حضرت استاذ کی قدیم اور محقق روش سے ہٹا ہوا ہو اور اس مدرس یا مفتی نے اپنے فتویٰ پر دستخط کرا لیا ہو جو حضرت نے لکھنے والے پر اعتماد کر کے دستخط کر دیا ہو تو اس فتویٰ کا کوئی اعتبار نہیں کرنا چاہیے اور اس قسم کے فتویٰ یا تحریر کو حضرت استاذ کے مسلک کو معلوم کرنے کے لیے معیار بنانا سخت غلطی ہے۔“

بات کسی عام مدرس یا مفتی کی نہیں جسے ناقابلِ اعتبار سمجھ لیا جائے، بلکہ ان کی ہے جنہیں بارگاہِ استاذ میں اعتماد حاصل ہے، جن سے ہر مسئلہ میں استاذ مشورہ کرتا رہا ہے اور جس سے بحث کے بعد اپنا موقف واضح کرتا رہا ہے، اب اگر ایسے کسی خاص شاگرد کے فتویٰ پر استاذ کا دستخط موجود ہے تو اس فتویٰ کا کوئی اعتبار کیوں نہیں کرنا چاہیے اور اس قسم کے فتویٰ یا تحریر کو حضرت استاذ کے مسلک کو معلوم کرنے کے لیے معیار بنانا سخت غلطی کیوں ہونے لگا۔ خود اسی مجموعۂ فتاویٰ میں مولانا سجاد صاحب کے ایک فتویٰ پر جو ترکِ سوالات سے متعلق ہے مولانا فرخند علی صاحب کی تصدیق موجود ہے، اگر مولانا فرخند علی صاحب ان کے نزدیک قابلِ اعتماد نہیں تو اپنے کسی فتویٰ پر ان سے تصدیق لینا کیا معنی رکھتا ہے۔ ان تمام تصریحات سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ علمائے دیوبند کی تکفیر کے تعلق سے فتاویٰ امارتِ شرعیہ میں بیان کیا گیا، مولانا عبد الکافی اللہ آبادی کا موقف، بے بنیاد، واقعہ کے خلاف اور سراسر گڑھا ہوا ہے۔

[۵] یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر معلوم ہوتی ہے کہ واقعہ گڑھنے، کسی فتویٰ پر پڑھے بغیر تصدیق کرنے اور معلوم ہونے کے بعد کہ اس کی زد اپنے ہی عالم پر پڑ رہی ہے، اس سے رجوع کر لینے کا مرض علمائے دیوبند ہی کے یہاں عام ہے۔ دعویٰ تشنہ نہ رہ جائے اس لیے فتاویٰ امارتِ شرعیہ میں گڑھی ہوئی عبارت کی طرح علمائے دیوبند کی گڑھی ہوئی کتابوں کا عبرت ناک سانحہ بھی دیکھیے۔

جن دنوں امام احمد رضا، علمائے دیوبند کی کفری عبارات سے متعلق تحقیقی، توضیحی اور تنقیدی کتابیں لکھ کر ان سے توبہ و رجوع کا مطالبہ کر رہے تھے، علمائے دیوبند بجائے اپنی لکھی ہوئی کفری عبارت پر نادم ہونے کے اپنی حمایت میں علمائے اہل سنت کے نام سے کتابیں گڑھ کر شائع کر رہے تھے، جس کا ذکر امام احمد رضا نے مولانا اشرف علی تھانوی کو لکھے گئے اپنے اس مکتوب میں کیا ہے جو ابحاثِ اخیرہ کے نام سے شائع ہوا۔ چنانچہ علمائے دیوبند کی گڑھی ہوئی کتابوں کا ایک جدول ذیل میں ملاحظہ کریں اور فیصلہ کریں جبہ و دستار کی آڑ میں یہ لوگ دین کے ساتھ کتنا بڑا فراڈ کرتے ہیں:

۱۔ کتاب: ہدایۃ الریب | فرضی مصنف: علامہ نقی علی صاحب | فرضی مطبع: لاہور | فرضی صفحہ: ۱۳ | عنوانِ عبارت: مسئلہ علمِ غیب

۲۔ کتاب: تبدیلِ قبرستان بحمایت گنگوہی | فرضی مصنف: علامہ نقی علی صاحب | فرضی مطبع: لاہور | فرضی صفحہ: ۱۵ | عنوانِ عبارت: تعریفِ جناب گنگوہی

۳۔ کتاب: تحفۃ المقلدین | فرضی مصنف: حضرت خاتم المحققین | فرضی مطبع: صبحِ صادق، سیتاپور | فرضی صفحہ: ۲۳ | عنوانِ عبارت: مسئلہ علمِ غیب بحمایت تھانوی

۴۔ کتاب: ہدایۃ الاسلام | فرضی مصنف: علامہ رضا علی خان | فرضی مطبع: صبحِ صادق، سیتاپور | فرضی صفحہ: ۳۰ | عنوانِ عبارت: مسئلہ علمِ غیب بحمایت تھانوی

۵۔ کتاب: خزینۃ الاصفیاء | فرضی مصنف: سید شاہ حمزہ قدس سرہ | فرضی مطبع: کانپور | فرضی صفحہ: ۱۵ | عنوانِ عبارت: مسئلہ علمِ غیب بحمایت تھانوی

۶۔ کتاب: ملفوظات | فرضی مصنف: سید شاہ حمزہ قدس سرہ | فرضی مطبع: مصطفائی | فرضی صفحہ: ۱۷ | عنوانِ عبارت: تبدیلِ قبرستان بحمایت گنگوہی

۷۔ کتاب: مرآۃ الحقیقۃ | فرضی مصنف: سیدنا غوثِ اعظم | فرضی مطبع: مصر | فرضی صفحہ: ۱۸ | عنوانِ عبارت: مسئلہ علمِ غیب

یہ معاملہ تو چودہویں صدی کے مجدد امام احمد رضا قادری برکاتی علیہ الرحمہ والرضوان کے ساتھ تھا۔ ان خدا نا ترسوں نے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ والرضوان اور دیگر اسلاف کی کتابوں کو بھی تحریفات کا نشانہ بنایا بلکہ ان کے نام سے بھی کتابیں گڑھ کے شائع کیں۔ چنانچہ معروف محقق حضرت شاہ ابو الحسن زید فاروقی نے اپنی کتاب ”القول الجلی“ کی بازیافت میں حکیم سید محمود احمد برکاتی کے مضمون ”شاہ ولی اللہ اور ان کے خاندان کی تحریرات میں تحریفات“ کا اقتباس نقل کیا ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

”ان حضرات (حضرت شاہ ولی اللہ اور ان کے خاندان) کی تالیفات کی کمیابی اور نایابی اور ان میں تحریفات کا سلسلہ تو سقوطِ دہلی سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا، شاہ صاحب کے مصنفات کو نایاب کر کے دوسرا قدم یہ اٹھایا گیا کہ اپنے مصنفات کو شاہ صاحب کی طرف منسوب کر دیا اور اپنے نظریات کی تبلیغ شاہ صاحب کے نام سے کی گئی۔“

اب ذیل میں شاہ صاحب کی کتاب تفہیماتِ الٰہیہ میں ان نام نہاد موحدین کی شامل کردہ جعلی عبارت ملاحظہ کریں، جس کے جعلی ہونے کی پوری تحقیق مولانا سید فاروق القادری نے انفاس العارفین کے مقدمہ میں اور مولانا شاہ ابوالحسن زید نے ”القول الجلی“ کے مقدمہ میں پیش کر دی ہے:

کُلُّ مَنْ ذَھَبَ اِلٰی بَلْدَۃِ جَمِیْرَا وَاِلٰی قَبْرِ سَالارْ مَسْعُوْدٍ اَوْ مَا ضَاھَاھَا لِاَجْلِ حَاجَۃٍ یَّطْلُبُھَا فَاِنَّہٗ اٰثِمٌ اِثْماً اَکْبَرَ مِنَ الْقَتْلِ وَالزِّنَا اَلَیْسَ مِثْلُہٗ اِلَّا مِثْلَ مَنْ کَانَ یَعْبُدُ الْمَصْنُوْعَاتِ اَوْ مِثْلَ مَنْ کَانَ یَدْعُوْا اللَّاتَ وَالْعُزّٰی [تفہیماتِ الٰہیہ، مطبوعہ حیدرآباد، سندھ، جلد: ۲، ص: ۴۲]

ماہنامہ الرضا انٹرنیشنل، پٹنہ، مارچ، اپریل ۲۰۱۷ء، صفحہ ۲۰

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!