| عنوان: | اسلام اور دیگر مذاہبِ عالم (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
نظامِ اخلاق
نظامِ عقائد اور نظامِ عبادت کی طرح دُنیا کے دوسرے مذاہب کے دامن ایک باضابطہ نظامِ اخلاق سے بھی خالی ہیں۔ اِس وقت ہمارے سامنے متممِ مکارمِ اخلاق صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ جتنے بھی معلمینِ اخلاق کے صحائف موجود ہیں، ان میں انسان کی صرف چند خصلتوں کا تذکرہ ہے، جنہیں انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر مسیحیت ہی کو لیجیے، اس کی کُل اخلاقی تعلیمات کو ان چند فقروں میں سمیٹا جا سکتا ہے:
اکرامِ والدین
خونِ ناحق سے پرہیز
زنا سے بچنا
سرقہ سے دست برداری
شہادتِ کاذبہ سے احتیاط
کیا اِن چند اخلاقی تعلیمات سے انسان کی پوری زندگی کو سنوارا جا سکتا ہے؟ کیا مَہد سے لے کر لَحد تک زندگی کے تمام گوشوں پر یہ تعلیمات حاوی ہیں؟ اِس کے برعکس اگر آپ اسلام کی اخلاقی تعلیمات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصدِ بعثت ہی تکمیلِ اخلاق ہے؛ خود ارشاد فرمایا: "بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ" (مجھے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے)۔ قرآنِ عظیم آپ کے اس مقدس منصب کی نشان دہی یوں کرتا ہے:
وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ [سورۃ القلم: 4]
یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظامِ اخلاق انسان کی پوری زندگی پر چھایا ہوا ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جب سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق کیا تھا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: "کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْاٰنَ" (آپ کا خُلق قرآن ہے)۔
ایک اور نقطۂ نظر سے اگر آپ مسیحی اخلاقیات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ اس کا حاصل صرف تذلُّل اور انفعال ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب یہ جملہ مشہور ہے: "جو تمہارے داہنے رخسار پر طمانچہ مارے، اُسے بایاں رخسار بھی پیش کر دو۔" کیا یہ تعلیم کسی نظامِ سلطنت و اقتدار کے لیے کوئی اخلاقی ضابطہ دے سکتی ہے؟ اس تعلیم کی روشنی میں "امر بالمعروف" اور "نہی عن المنکر" ناممکن ہے، ظلم کا استیصال اور عدل کی ہم نوائی محال ہے۔ مشہور جرمن مفکر نیشے نے جب مسیحی اخلاقیات کا مطالعہ کیا تو پکار اٹھا: "مسیحیت کی اخلاقی تعلیمات انحطاط، تذلل اور بوسیدگی کی طرف مائل ہیں، وہ انسان کی بہترین صلاحیتوں کو فنا کر دیتی ہیں۔"
اس کے برعکس اسلامی تعلیمات میں جہاں تواضع اور انکساری کا حکم ہے، وہیں ظلم و کفر اور عصیان و سرکشی کے مقابلے میں جہاد کا بھی حکم ہے۔ اسلام ایک متوازن نظامِ عدل و اخلاق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یورپ نے عملاً مسیحی اخلاقیات سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے اور اسلامی اخلاقِ حسنہ کو کسی نہ کسی شکل میں قبول کر لیا ہے۔ دنیا کے دیگر مذاہب جیسے یہودیت، بدھ مت اور ہندومت کا تو یہ عالم ہے کہ وہاں کسی اجتماعی اخلاق کا تصور ہی نہیں، محض کچھ مبہم اشارے ہیں جو انسان کی مکمل رہنمائی سے قاصر ہیں۔
جب اسلام کے علاوہ دُنیا کے تمام مذاہب کے نظامِ عقائد، نظامِ عبادت اور نظامِ اخلاق کا ناقص ہونا ثابت ہو گیا، تو حتمی حقیقت قرآنِ عظیم کی اس آیتِ کریمہ میں مضمر ہے:
اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ [سورۃ آل عمران: 19]
"بے شک دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔"
