Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

اسلام اور دیگر مذاہبِ عالم (قسط: سوم)|علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی

اسلام اور دیگر مذاہبِ عالم (قسط: سوم)
عنوان: اسلام اور دیگر مذاہبِ عالم (قسط: سوم)
تحریر: علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

نظامِ عبادت

اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کی عبادتوں کا جائزہ لیجیے تو یہ محسوس ہوگا کہ مسیحیت، یہودیت، ہندومت اور بدھ مت میں عبادت "رہبانیت" اور "ترکِ لذات" کا نام ہے۔ عبادت زندگی نہیں دیتی، بلکہ زندگی سے فرار سکھاتی ہے۔ عبادت زندگی کا حوصلہ، مستقبل کا عزم، کامیابی کا یقین اور جرأت و ہمت بخشنے کے بجائے یاسیت، قنوطیت، عافیت پسندی، نوازعِ فطریہ سے علیحدگی اور زندگی کے اقدارِ عزت سے بیزاری بخشتی ہے۔ وہ انسان کی بہترین صلاحیتوں کو فنا کر دیتی ہے جن کے ذریعے سے وہ جہاں بانی کے فرائض انجام دے سکتا تھا؛ وہ انسانوں کا رشتہ انسانوں سے توڑ دیتی ہے اور صومعہ نشینی یا صحرا نوردی کا حکم دیتی ہے، جہاں یہ نغمہ گنگنایا جاتا ہے:

"کسے را با کسے کارے نباشد"

ظاہر ہے کہ یہ نظامِ عبادت اس دنیا کے بسنے والوں کا نہیں ہو سکتا جہاں زندگی کی عمارت تعاون اور تمانع پر قائم ہوتی ہے، جہاں خوشیاں، مسرتیں، غم و اندوہ، قہقہے اور نغمے، سسکیاں اور آہیں ہیں، جہاں جذبات و احساسات کی کارفرمائی ہے اور جہاں فطرت کا حسن کائنات کی ہر شے کو دعوتِ نظارہ دے رہا ہے۔

جو عبادت زندگی کی عظمتوں کے حصول کی تڑپ کے بجائے زندگی سے بیزاری کا درس دیتی ہے، وہ زندگی نہیں بلکہ موت ہے۔ اس کے برعکس اسلام کا نظامِ عبادت کس قدر خوب صورت اور زندگی کی عظمتوں سے بھرپور ہے! اسلام ایک خدائے وحدۂ قدوس کی بارگاہ میں سجدے کا حکم دیتا ہے، تو دوسری طرف رزم گاہِ حیات میں تیز گامی کو لازمہٴ حیات قرار دیتا ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کی صفت بیان کرتا ہے: "ہُمۡ بِاللَّيْلِ رُهْبَانٌ وَبِالنَّهَارِ فُرْسَانٌ" (وہ رات میں اللہ کے حضور جھکنے والے اور دن میں میدانِ عمل کے شہسوار ہیں)۔

اسلام اگر روزے کا حکم دیتا ہے تو دوسرے مذاہب کے برت کی طرح آسودگیِ شکم کے لیے دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کی بھوک کو محسوس کر کے دوسروں کے لیے آسودگیِ حیات کا سامان فراہم کرنے کے لیے۔ اسلام اگر حجِ پاک کا حکم دیتا ہے تو صرف اس لیے نہیں کہ چند دنوں کے لیے علائقِ دنیوی سے قطع تعلق کر کے اللہ کی راہ میں جہاد بالنفس کی لذت کشی کی جائے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک اجتماعی مرکزِ اسلام سے وابستہ ہونے کے لیے کعبۃ اللہ کی دیواروں کے نیچے سجدہ ریزی کا حکم دیتا ہے، تاکہ وحدتِ کلمہ کی بنیاد پر انسان رنگ و نسل کے تمام امتیازات کو فراموش کر کے، طبقاتیت کی تمام دیواروں کو ڈھا کر، نسلی اور جغرافیائی حد بندیوں سے آزاد ہو کر اپنے وجود کو اسلام کے مقدس ترین معاشرے کا ایک فرد تصور کرے۔

عبادت کے نظام کا جائزہ لیں تو یہاں بھی زندگی سے فرار نہیں، بلکہ زندگی کے بحرِ ناپیدا کنار میں اپنے قطرہء وجود کو فنا کر دینے کا نام ہے:

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا

دن میں پانچ بار ایک محلے کے لوگ مسجد میں حاضر ہو کر اپنی وحدتِ ملّی کا ثبوت دیں، سال میں ایک بار عید گاہ میں حاضر ہو کر اجتماعی زندگی کی مسرتوں سے ہم کنار ہوں، اور زندگی میں ایک بار کعبۃ اللہ کے نیچے تمام دنیا کے مسلمان لونی و نسلی غرور کو پاش پاش کر کے اجتماعی سجدہء نیاز پیش کریں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میرے لیے پوری زمین سجدہ گاہ ہے"۔ احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کریں تو یہ بات ثابت ہوگی کہ اللہ کی بارگاہ میں سر جھکانا بھی عبادت ہے اور اللہ کے بندوں سے پیار کرنا بھی عبادت۔ اسلام میں عبادت زندگی بخشتی ہے، زندگی کا وقار عطا فرماتی ہے، آفاق و انفس پر حکمرانی کا مستحق بناتی ہے، استقلال و ہمت بخشتی ہے، اور خدا کی بارگاہ میں سر جھکا کر اپنی انسانی خودی کی حفاظت کا درس دیتی ہے۔

اندازہ فرمائیں کہاں اسلام کا پاکیزہ ترین نظامِ عبادت اور کہاں دوسرے مذاہب کی عبادتیں جن کا نقشہ قرآنِ عظیم نے اپنی اس آیتِ کریمہ میں کھینچا ہے:

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ إِلَّا مُكَاءً وَتَصْدِيَةً [سورۃ الانفال: 35]

"اور ان کی عبادت تو گھر (کعبہ) کے پاس صرف سیٹیاں اور تالیاں ہیں۔"

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!