| عنوان: | زنا کی نحوست (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد حسان رضا عینی |
| پیش کش: | محمد رضا اشرفی فیضی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
زنا کی نحوست (قسط: دوم)
مسندِ بزار میں ہے:
إِنَّ فُرُوجَ الزُّنَاةِ لَتُؤْذِي أَهْلَ النَّارِ بِنتْنِ رِيحِهَا
زانیوں کی شرمگاہوں کی بدبو اہل نار کو اذیت (تکلیف) دے گی۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا زنا میں 6 مصیبتیں ہیں:
-
دنیا میں رزق کم ہو جاتا ہے۔
-
زندگی مختصر ہو جاتی ہے۔
-
چہرہ مسخ ہو جاتا ہے۔
-
آخرت میں خدا کی ناراضگی ہوتی ہے۔
-
سخت پرسش (حساب و کتاب) ہوتی ہے۔
-
جہنم میں داخل ہوتا ہے۔
[مکاشفۃ القلوب]
زنا کی نحوست اور تباہ کاریاں جان لینے کے بعد بھی اگر کوئی انسان اس فعلِ بد سے اپنے آپ کو نہیں بچاتا تو وہ اپنی عقل کا دشمن ہے۔ وہ اپنی آخرت برباد کر ہی رہا ہے، ساتھ ہی ساتھ جسمانی نقصانات بھی بہت ہیں، جن کی فہرست بہت طویل ہے۔ بس اتنا سمجھ لیجیے کہ زانی انسان کی زندگی میں کوئی حسن باقی نہیں رہتا ہے۔
زنا سے کیسے بچیں؟
چونکہ اسلام نظامِ حیات ہے تو زنا سے بچنے کا طریقہ بھی اسلام سے پوچھتے ہیں۔ زنا سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے زنا کے اسباب کو ترک کر دیا جائے، جو چیز ہمیں زنا کی طرف مائل کرتی ہے ان چیزوں کو اپنی زندگی سے دور کر دیا جائے، جیسے اجنبی عورت سے ملنا ملانا، اس کے ساتھ تنہائی میں رہنا، بری صحبت اختیار کرنا، انٹرنیٹ اور موبائل کے ذریعے زنا کے مناظر دیکھنا، فحاشی سے بھرے لٹریچر پڑھنا وغیرہ۔ یہ سب زنا کے اسباب ہیں؛ اگر آپ اسباب سے دور نہیں ہوتے ہیں تو آپ ہرگز زنا سے دور نہیں ہو سکتے۔
زنا سے بچنے کا دوسرا طریقہ نکاح ہے۔ ضروری ہے کہ ہمارے لیے جہاں تک ممکن ہو جلد سے جلد نکاح کریں۔ قرآن پاک میں جہاں کامیاب لوگوں کی نشانیاں بتائی گئی ہیں، ان نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی بتائی گئی ہے کہ وہ لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، تو ضروری ہے کہ ہم اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم نیک اور صالح انسان بن کر زندگی گزاریں۔ اگر خواہشات پر قابو نہیں ہو رہا ہو تو نکاح کریں اور ایسا ممکن نہ ہو تو روزہ رکھیں، کیونکہ روزہ نفسانی خواہشات کو مارنے میں کافی کارگر ثابت ہوتا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں زنا کی نحوست سے بچائے رکھے اور ہمیں حیا کا پیکر بنا دے۔
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
[افکار، امتِ مسلمہ کے حالات، عصری تقاضے اور دعوتِ فکر، ص: 39 تا 40]
