| عنوان: | زنا کی نحوست (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد حسان رضا عینی |
| پیش کش: | محمد رضا اشرفی فیضی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
زنا کی نحوست (قسط: اول)
نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اسلام وہ مذہبِ مہذب ہے جو انسان کو جینے کا صحیح طریقہ فراہم کرتا ہے، جو ایک اچھے اور نیک معاشرے کی تشکیل کی تعلیم دیتا ہے، کیونکہ صرف اسلام ہی وہ مذہب ہے جو انسان اور جانور میں تمیز کو واضح کرتا ہے۔ دنیا کے باطل نظام انسان کو جانور سے بھی بدتر بنا دینا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس تہذیب نہیں ہے۔ ان کے نظام کا یہ حال ہے کہ ماں، بیٹے اور باپ، بیٹی میں تمیز ختم ہو چکا ہے۔ بدکاری کا وہ حال ہے کہ جانور بھی دیکھ کر ماتم کریں۔ وہ لوگ انسانی حدود کو پار کر کے جانوروں کی حدود کو بھی پامال کر چکے ہیں، لیکن ان باطل نظاموں کا رونا رونے سے کیا ہوگا جبکہ ہمارے آنگن میں ہی بدکاری کے جراثیم پنپ رہے ہوں۔
ہمارے پاس نظامِ حیات بھی ہے پھر بھی بد سے بدتر حالات ہیں۔ اگر مغربی تہذیب کے پروردہ لوگ جانور سے بدتر ہو چکے ہیں تو ہم بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ ہماری آنکھوں سے بھی ہماری ماں، بہن، بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں۔ ہم بھی سرِ راہ اپنی مسلم خواتین کو شہوانی نگاہوں سے گھورتے نظر آتے ہیں۔ اگر ہم کو ان مسلم بیٹیوں کا خیال ہوتا جو فلسطین، برما، عراق، کشمیر وغیرہ میں زیادتیوں کا شکار ہوتی ہیں، جن کو آئے دن کوئی موذی کتا اپنا شکار بنا لیتا ہے، تو کبھی بھی ہم اپنی آنکھوں کو بدکاری کی طرف مائل نہ کرتے۔ یہ تو میں نے صرف آنکھوں کا ذکر کیا، آنکھوں کے ساتھ منہ، ہاتھ، پیر، کان سب زنا کرتے ہیں، لیکن آنکھیں ان سب کا سرچشمہ ہیں۔ اگر ہم آنکھوں کی حفاظت کر لیں تو کافی حد تک زنا سے بچ سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ؕ وَسَآءَ سَبِيْلًا [سورۃ الإسراء: 32]
اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ۔
یہاں پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بدکاری یعنی زنا کے قریب جانے سے منع کیا، اس کا مطلب صاف ہے کہ صرف زنا سے بچنا ہی ضروری نہیں بلکہ جو زنا کے اسباب و ذرائع ہیں ان سے بچنا بھی انتہائی ضروری ہے۔
زنا قتل سے بھی بدتر گناہ
احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ زنا قتل سے بھی بدتر گناہ ہے کیونکہ قتل میں ایک جرم ہے اور زانی یعنی زنا کرنے والا ایک وقت میں تین جرم کرتا ہے: گناہِ کبیرہ، بے حیائی پھیلانا، نسلِ انسانی کو خراب کرنا۔ نیز قتل صرف ہاتھ سے ہوتا ہے، زنا پورے جسم سے۔ اس لیے قتل کی سزا قتل، دیت یا والی وارث کی طرف سے معافی ہے، لیکن زنا کی سزا سارے جسم کو سنگسار کرنا (پتھر مارنا) ہے، اس کی معافی کوئی نہیں دے سکتا۔
زنا کے تعلق سے احادیثِ پاک
کوئی شخص یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ زنا صرف عورت و آدمی کے ناجائز تعلقات قائم کرنے کا نام ہے، تو اس کی عقل کی اصلاح کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیثِ پاک کافی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ كُلَّهُ وَيُكَذِّبُهُ [رقم الحديث: 6243]
آنکھ کا زنا نظرِ بد ہے۔ زبان کا زنا گفتگو ہے۔ دل تمنا اور خواہش کرتا ہے۔ شرم گاہ اس خواہش کو سچا یا جھوٹا کرتی ہے، یعنی شہوت سے غیر عورتوں کو دیکھنا زنا ہے اور اجنبی عورتوں کے حسن و جمال کی تعریف زبان کا زنا ہے، اسے شوق سے سننا کان کا زنا ہے۔ غرض کہ زانی اپنے ہر عضو سے زنا کرتا ہے، اس لیے اس کی سزا سنگسار کرنا ہے یعنی زانی کے اوپر پتھر برسانا ہے۔
امام ابن جوزی اپنی کتاب ”ذم الہویٰ“ میں لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا مِنْ ذَنْبٍ بَعْدَ الشِّرْكِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ نُطْفَةٍ وَضَعَهَا رَجُلٌ فِي رَحِمٍ لَا يَحِلُّ لَهُ
کہ شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اللہ عزوجل کے نزدیک یہ ہے کہ آدمی اپنا نطفہ ایسے رحم میں رکھے جو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔
مجمع الزوائد میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ الزُّنَاةَ يَأْتُونَ تَشْتَعِلُ وُجُوهُهُمْ نَارًا
زانی اس حال میں لائے جائیں گے کہ ان کے چہرے آگ سے بھڑک رہے ہوں گے۔
[افکار، امتِ مسلمہ کے حالات، عصری تقاضے اور دعوتِ فکر، ص: 37 تا 38]
