| عنوان: | حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل (قسط سوم) |
|---|---|
| تحریر: | فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
آپ کی سخاوت
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سخاوت کا وصف بہت ممتاز تھا، آپ لوگوں کو بڑے بڑے انعام واکرام سے نوازتے تھے خصوصاً حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمتِ اقدس میں گرانقدر نذرانے پیش کرتے تھے، حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مشکوٰۃ شریف کی شرح میں حضرت عبداللہ بن بریدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت امیر معاویہ کے پاس تشریف لے گئے تو انھوں نے آپ سے کہا:
لَأُجِيزَنَّكَ بِجَائِزَةٍ لَّمْ أُجِزْ بِهَا أَحَدًا قَبْلَكَ وَلَا أُجِيزُ بِهَا أَحَدًا بَعْدَكَ. [الناہیہ، ص: 27]
ترجمہ: میں آپ کی خدمت میں اتنی نذر پیش کروں گا کہ اس سے پہلے کسی کو اتنی نذر نہیں دی ہے اور نہ آئندہ کسی دوسرے کو دوں گا۔ پھر انھوں نے چار لاکھ درہم حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پیش کیا جنھیں آپ نے قبول فرمایا۔
محترم قارئین کرام! ایک درہم ساڑھے تین ماشہ چاندی کا ہوا کرتا تھا چار لاکھ درہم کی کتنی چاندی ہوئی اور موجودہ بھاؤ سے اس کا کتنا روپیہ ہوا آپ لوگ بآسانی جوڑ سکتے ہیں، اتنی بڑی رقم اس افراطِ زر کے زمانہ میں ہو سکتا ہے بعض لوگوں کے نزدیک کوئی خاص وقعت نہ رکھتی ہو لیکن اس زمانہ میں جبکہ ایک پیسہ بڑی محنت کرنے کے بعد ملتا تھا چار لاکھ درہم بہت بڑی اہمیت رکھتا تھا۔
ابن عساکر کی روایت ہے کہ جنگ صفین کے زمانہ میں حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے بھائی حضرت عقیل نے آپ سے کچھ روپیہ طلب کیا، حضرت علی نے نہیں دیا۔ انھوں نے کہا آپ اجازت دیجئے کہ میں امیر معاویہ کے پاس چلا جاؤں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جاؤ۔ جب حضرت عقیل حضرت امیر معاویہ کے پاس گئے تو انھوں نے آپ کی بڑی عزت کی اور ایک لاکھ درہم نذرانہ پیش کیا۔ [صواعق محرقہ، ص: 81]
علامہ محمد بن محمود آملی اپنی کتاب نفائس الفنون میں تحریر فرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حاضرینِ مجلس سے فرمایا:
مَنْ اَنْشَأَ شِعْرًا فِيْ مَدْحِ عَلِيٍّ كَمَا يَلِيْقُ بِهِ أَعْطَيْتُهُ بِكُلِّ بَيْتٍ أَلْفَ دِيْنَارٍ.
ترجمہ: جو شخص حضرت علی کی تعریف میں ان کی شان کے لائق شعر کہے گا تو میں اسے فی شعر ایک لاکھ دینار دوں گا۔ (ایک دینار ساڑھے چار ماشہ سونے کا ہوتا تھا)۔
حاضرین شعراء نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں اشعار کہے اور خوب انعام لئے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر شعر پر فرماتے تھے:
عَلِيٌّ اَفْضَلُ مِنْهُ. [الناہیہ، ص: 29]
ترجمہ: علی اس سے بھی افضل ہیں۔ یہاں تک کہ اسی مجلس میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں عمرو بن عاص شاعر کا ایک شعر آپ کو اتنا زیادہ پسند آیا کہ ایک ہی شعر پر اس کو سات ہزار دینار دیا۔
ان واقعات سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بے مثل سخاوت کے ساتھ یہ بات بھی اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور انکے خاندان والوں کی آپ کے دل میں بڑی عزت تھی۔
طیوریات میں سلیمان مخزومی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ایک بار حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دربارِ عام کیا اور جب تمام لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ مجھے کسی عربی شاعر کے ایسے تین اشعار کوئی سنائے جن میں یہ خوبی ہو کہ ہر شعر کا مطلب اسی شعر میں پورا ہو جاتا ہو۔ لوگ یہ سن کر خاموش رہے اتنے میں حضرت ابو خبیب عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما آ گئے۔ حضرت امیر معاویہ نے فرمایا لیجئے عرب کے بسیار گو اور فصیح شخص آ گئے، پھر آپ نے کہا اے ابو خبیب! میں اس خوبی کے تین اشعار سننا چاہتا ہوں۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ میں سناؤں گا لیکن ہر شعر کے بدلے ایک لاکھ درہم لوں گا۔ آپ نے فرمایا مجھے منظور ہے پڑھو۔ تو عبد اللہ بن زبیر نے یہ اشعار پڑھے:
بَلَوْتُ النَّاسَ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ
فَلَمْ أَرَ غَيْرَ خَيَّالٍ وَقَالِ
ترجمہ: میں نے یکے بعد دیگرے بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں کی ہیں لیکن میں نے سوائے غدار و مکار اور دشمنی کرنے والے کے کسی کو نہیں دیکھا۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا سچ ہے، اب دوسرا شعر پڑھو۔ حضرت ابو خبیب نے دوسرا شعر پڑھا:
وَلَمْ أَرَ فِي الْخُطُوْبِ أَشَدَّ وَقْعًا
وَأَصْعَبَ مِنْ مُعَادَاتِ الرِّجَالِ
ترجمہ: میں نے حوادث اور صعوباتِ زمانہ میں لوگوں کی دشمنی کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا۔
آپ نے فرمایا سچ ہے۔ پھر تیسرا شعر پڑھنے کے لئے کہا تو حضرت عبد اللہ بن زبیر نے تیسرا شعر پڑھا:
وَذُقْتُ مَرَارَةَ الْأَشْيَاءِ طُرًّا
فَمَا طَعْمٌ أَمَرُّ مِنَ السُّؤَالِ
[تاریخ الخلفاء، ص: 138]
ترجمہ: میں نے ہر چیز کی تلخی کو چکھا ہے مگر کسی چیز کے مانگنے کی تلخی سے زیادہ کوئی چیز تلخ نہیں ہے۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا بالکل سچ ہے۔ پھر وعدہ کے مطابق حضرت ابو خبیب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کو تین لاکھ درہم عطا فرمایا۔ [حوالہ: خطبات محرم، ص: 310 تا 313]
