Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور برطانوی مسلمان|مصباح صدف

ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور برطانوی مسلمان
عنوان: ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور برطانوی مسلمان
تحریر: مقالات خطیب اعظم
پیش کش: مصباح صدف
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی مرادآباد

برطانوی مسلمان آج کل ایک عجیب کرب کے عالم سے گزر رہا ہے، سلمان رشدی کی بد نام زمانہ کتاب سیٹینک ور سیز نے نہ صرف یہ کہ مسلمانانِ برطانیہ کا سکون غارت کیا ہے، بلکہ اس صورت حال نے سنجیدہ مسلمانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اگر مغربی پریس کی اسلام دشمنی کا یہی حال عالم رہا تو برطانوی مسلمانوں کا دینی مستقبل کیا ہو گا؟

کیا ہم یہاں رہ کر اپنے دینی اقدار کا تحفظ کر سکیں گے؟ یا رفتہ رفتہ زندگی کی کچھ سہولتوں کے بدلے میں اپنی روایات، اپنی تہذیب اور اپنے دینی اقدار کے ساتھ اپنا عقیدہ اور اپنی متاعِ ایمان بھی کھو بیٹھیں گے؟

برطانیہ میں دنیا کے مختلف ملکوں سے مسلمان اس لیے آکر آباد ہو گئے تھے کہ اس جمہوری ملک میں اپنے عقیدہ اور مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ لیکن اب اس آزادی کا ایک ایسا بھیانک رخ سامنے آرہا ہے، جس سے اہلِ ایمان لرز اٹھے ہیں۔

اپنی تہذیب اور روایات کے خلاف برطانوی معاشرے کے مسموم اثرات کا جائزہ یہاں کا دین دار طبقہ پہلے ہی سے لے رہا ہے اور اس سے اپنی نسلوں کو محفوظ کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش بھی، چنانچہ جہاں ایک طرف لوگ حلت، و حرمت کی پرواہ کیے بغیر عظیم الشان بلڈنگیں تعمیر کرنے اور کاروباری وسعتوں میں گم ہیں، وہیں یہاں کا دین دار طبقہ مساجد کی تعمیر، مدارس کے قیام، بچوں کی اخلاقی اور دینی تربیت کے لیے اداروں کی تاسیس پر بھر پور توجہ دے رہا ہے۔ 20-25 سال کے عرصے میں کم و بیش 600 مساجد اور بجز وقتی اور بعض کل وقتی مدارس کا قیام یہاں کے مسلمانوں کا مثالی کارنامہ ہے۔

مساجد اور مدارس کے قیام کے ساتھ ساتھ برطانوی اسکولوں اور ہسپتالوں میں حلال کھانوں کا اہتمام، لباس کی پابندی سے استثنا، غیر اسلامی دُعاؤں میں شمولیت سے اجتناب، جنسی تعلیم سے پر ہیز وغیرہ جیسے مسائل میں مسلمانوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی اور بڑی حد تک اپنی نئی نسل کو یہ محسوس کرانے میں کامیاب ہیں کہ ہم ایک جدا گانہ تہذیب کے مالک ہیں، اور ہمیں اپنی تہذیب کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

مسلمانوں کی ان کامیاب کوششوں کو دیکھ کر وہ طبقہ جو مسلمانوں کو برطانوی معاشرے میں ضم کر لینا چاہتا ہے، سخت مایوسی کا شکار ہوا، اور اس نے ایک نئے انداز سے مسلمانوں کی نئی نسل کو دین سے منحرف یا بدگمان کرنے کے لیے کوششیں کرنی شروع کر دیں۔ چنانچہ اسکولوں میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ اسلام میں عورت کو مناسب حیثیت نہیں دی گئی ہے، چار شادی کی اجازت دے کر عورتوں کے حقوق کو غصب کیا گیا ہے، نو جوانوں کو جنسی آزادی نہ دے کر ان کی فطرت کو کچلا جا رہا ہے، غیر مسلم لڑکیوں سے شادی اور ہر طرح کے جنسی اختلاط سے روک کر انہیں ان کے فطری حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے، اسلام ایک دقیانوسی مذہب ہے جو حلت و حرمت کے قوانین پیش کر کے انسانوں کو ان فطری لذتوں سے محروم کر رہا ہے جس کے وہ مستحق ہیں، پنج وقتہ نماز کی پابندی اور رمضان میں روزے کا اہتمام طبیعت انسانی پر ایک بے جا جبر کے ساتھ ترقی کی راہوں میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔ موسیقی اور ناچ و رنگ میں شمولیت مغربی تہذیب کا طرہ امتیاز ہے، مسلمان اپنے بچوں کو ان فنونِ لطیفہ سے محروم کر کے ان کے لطیف جذبات کو کچل رہے ہیں، مسلمان والدین اپنے پسند کی زندگی اپنے بچوں پر مسلط کرتے ہیں۔ حتی کہ انہیں شادی اور بیاہ وغیرہ کی آزادی بھی حاصل نہیں ہے۔ وہ انہیں ماضی کی ظلمتوں میں رکھنا چاہتے ہیں، جب کہ مستقبل کا سورج طلوع ہو چکا ہے اور یہ مسلم نو جوان اس کی روشنی سے محروم ہیں۔

نہ صرف یہ کہ اس طرح کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے بلکہ ایسے ادارے بھی قائم ہو چکے ہیں جو مسلمان بچوں اور بچیوں کو اپنے معاشرے سے بغاوت پر اکساتے ہیں اور اگر کوئی بچی یا بچہ ان کے دامِ فریب میں آجائے تو وہ اسے باضابطہ رہائش کی سہولت اور اپنی خواہشات کی تکمیل کا سامان فراہم کرتے ہیں۔

یہاں کے اسکولوں اور کالجوں میں آئے دن بچوں اور بچیوں سے یہ سوال کیا جارہا کہ تم خود اپنی مرضی سے شادی کرو گے یا ماں باپ کے فیصلے کا احترام کرو گے؟ کیا تمہاری کوئی گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ ہے اگر نہیں تو کیوں؟ بار ہا ٹی وی پر اسکولوں اور کالجوں کے ناپختہ ذہن نو جوانوں سے یہ کہلوایا جا رہا ہے کہ ہم اپنی خاندانی روایات سے مجبور ہیں، ہمارے ماں باپ ہم پر جبر کر رہے ہیں اور پھر ماں باپ کو یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ انہیں خود کو نئے ملک اور نئے حالات کے سانچے میں ڈھال لینا چاہیے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میڈیا صرف ان ہی بچوں کو پیش کرتا ہے جو اپنے معاشرے سے بغاوت پر آمادہ ہوں، مگر جو بچے ایسا نہیں کرتے انہیں پیش کرنے سے گریز کرتا ہے، اس ملک میں ایسے ہزاروں نوجوان ہیں جو اپنے معاشرے کی خوبیوں کو نہایت مدلل انداز سے پیش کر سکتے ہیں، مگر ان پر قدامت پرستی کا الزام عائد کر کے اس طرح کے مباحثوں سے دور رکھا جاتا ہے۔

مسلمانانِ برطانیہ اس طرح کے چیلنجوں کا سامنا کم و بیش ربع صدی سے کر رہے ہیں، اور اس کے مثبت اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کو نئی نسل کو گم راہ کرنے کا جو منصوبہ تیار کیا گیا تھا وہ ساحرانِ مغرب کی توقعات کے مطابق پورا ہوتا نظر نہ آیا۔ اس صورت حال سے پریشان ہو کر اہلِ مغرب نے اندازِ جنگ تبدیل کر لیا ہے۔ چنانچہ اسلام اور اس کے محاسن پر تنقید کرنے کے بجائے پیغمبرِ اسلام کی ذات ہی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ سیٹینک ورسیز اس کی زندہ مثال ہے۔ جب سے سیٹینک ورسز کا قصہ برطانیہ میں ایک شعلہ جوالہ کی حیثیت سے اُبھرا ہے، برطانیہ کے تمام اخبارات، ریڈیو، ٹی وی اور عمائدینِ حکومت سیٹینک ورسز پر پابندی کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ کبھی وہ مسلمانوں کی کوششوں کو نازی ازم کا نام دے رہے ہیں، اور کبھی آزادیِ اظہار کے خلاف ایک سازش قرار دے رہے ہیں، اور مسلمانوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ انہیں اس کتاب کو گوارا کر لینا چاہیے اور اہلِ مغرب سے تہذیب و شائستگی کی سند حاصل کرنے کے لیے انہیں مکمل خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔ یہ مظاہرے، یہ جلوس یہ سب اُس جنون کی پیداوار ہے جس کے لیے آج کے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔

مسلمانوں کے یہ نام نہاد خیر خواہ مسلمانوں کو تو مشورہ دے رہے ہیں مگر سلمان رشدی سے آج تک کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ تم نے یہ لرزہ خیز کتاب کیوں لکھی۔ تم نے اپنے ناول کے لیے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پرائیوٹ زندگی کے علاوہ اور کوئی موضوع کیوں نہیں اختیار کیا۔ تم نے سستی شہرت کے حصول کے لیے کائنات کی سب سے عظیم اور محترم ہستی کی شان میں گستاخیاں کیوں کیں اور تم نے دیدہ و دانستہ دنیا کے ایک ارب مسلمانوں کا دل کیوں دُکھایا؟ مسلمان اپنے عقیدے اور عقیدت دونوں کی روشنی میں سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کو اپنی مقدس مائیں تصور کرتے ہیں۔ تم نے ایک ارب مسلمانوں کی مقدس اور عظیم ماؤں کے سلسلے میں ناشائستہ الفاظ کیوں استعمال کیے؟ کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ ایک شر پسند کسی کی محترم ماں کو گالیاں دے رہا ہے اور آپ اس شر پسند کو اس عمل سے روکنے کے بجائے اُس بیٹے کو برا کہہ رہے ہیں جو اپنی عظیم ماں کی مقدس آبرو کا دفاع کرنا چاہتا ہے۔ برطانوی پریس نے روزِ اول سے ہی مسلمانوں کے ساتھ انتہائی دل آزارانہ رویہ اپنا رکھا ہے اور پریس کی مطلق العنان آزادی کے دفاع میں دنیا کے ایک ارب مسلمانوں کے احساسات کا خون کر رہا ہے۔

ہم اظہار کی آزادی کے قائل ہیں لیکن اظہار اور تحریر کی ایسی آزادی جو دوسروں کی کردار کشی اور توہین کے مترادف ہو، دنیا کے کسی بھی شائستہ معاشرے میں قابل قبول نہیں ہے۔ مسلمانانِ برطانیہ اس ناول کے خلاف نہیں بلکہ اس میں موجود اس ناپاک زبان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو انسانیت اور شرافت کے دامن پر بدنما داغ ہے۔ کاش برطانیہ کے اربابِ اقتدار اس فرق کو محسوس کر سکتے۔ آپ کو اختیار ہے کہ آپ اپنا ہاتھ جس طرح چاہیں استعمال کریں، مگر دُنیا کا کوئی بھی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اپنے ہاتھ کو کسی کا گلا دبانے کے لیے استعمال کریں اور یہ عذر پیش کریں کہ میں اپنے ہاتھ کے استعمال میں آزاد ہوں، مجھے یہ آزادی ضرور ملنی چاہیے۔

دنیا کے ہر انسان کو اختلافِ رائے اور آزادیِ تحریر و تقریر کا حق حاصل ہے۔ خود اسلام اس حق کو تسلیم کرتا ہے، مگر اس آزادیِ تحریر و تقریر کے ذریعے اگر کوئی شخص کسی کی کردار کشی کرے تو اسے دنیا کا کوئی قانون برداشت نہیں کرے گا۔ سلمان رشدی نے حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزامات عائد کرنے کے لیے ناول کا سہارا اس لیے لیا ہے کہ وہ اس میں اپنی منحوس فکر کو شامل کر سکے، اور قاری کسی ثبوت کا مطالبہ نہ کر سکے اور نہ ہی مأخذ و مراجع پیش کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ اور اگر کوئی اس کی ناپاک تحریر پر اعتراض کرے تو یہ کہہ کر اپنا دامن چھڑا لے کہ یہ میرا ناول ہے۔

سلمان رشدی کی کتاب اسلام کے خلاف انٹر نیشنل سازش کا حصہ

اس دل آزار کتاب کے خلاف جو عالمی ردِ عمل ہو رہا ہے، یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے، اور نہ ہی رائٹر، پبلشر اور برطانوی اربابِ اقتدار اس بات کا دعوی کر سکتے ہیں کہ ہمیں اس کتاب کے مندرجات یا اس کے ردِ عمل کا احساس نہیں تھا۔ پینگوئن پبلشرز نے اس کتاب کی اشاعت کے لیے ہندوستان کی زمین منتخب کی تھی، اور اس سلسلے میں اس نے وہاں کے مشہور معمر صحافی اور پینگوئن کے ایجنٹ سے رابطہ قائم کیا کہ وہ اس کتاب کو شائع کریں، مگر انہوں نے کتاب کے مطالعہ کے بعد پینگوئن کو متنبہ کیا کہ اس کتاب کی اشاعت بڑی ہنگامہ خیز ہوگی، اور اس سے اس اشاعتی ادارے کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔

پینگوئن نے ان سے اپنی رائے بدلنے کے لیے دوبارہ غور کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دوبارہ پھر اسی رائے کا اظہار کیا کہ اس کتاب کی اشاعت کسی بھی اعتبار سے سود مند نہ ہوگی، اس لیے میں ذمے داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اس ادارے کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ اس کتاب کی اشاعت انتہائی تہلکہ خیز ثابت ہوگی اور پوری دنیا میں آگ لگ جائے گی، تو پھر پینگوئن پبلشرز نے اس کتاب کی اشاعت کیوں کی؟

کیا اس کو اپنے نقصانات کا احساس نہیں تھا؟ یقیناً تھا مگر اسلام دشمن قوتوں نے اسے مطمئن کر دیا تھا کہ تمہارے نقصانات کے ہم ذمے دار ہیں، تم اس کتاب کی ضرور اشاعت کرو۔ پینگوئن پبلشرز کا جان بوجھ کر مسلمانوں کے خلاف یہ اقدام انتہائی بھیا نک جرم ہے۔

دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ مسلمانوں کے پر امن احتجاج کی مذمت کر رہے ہیں، مگر یہ اسلام دشمن قوتیں اس پبلشر اور رائٹر سے باز پرس کیوں نہیں کرتیں، جنہوں نے یہ آگ لگائی ہے۔ جن کی وجہ سے متعدد بے قصور افراد کی جانیں جا چکی ہیں، اور اگر جلد از جلد کوئی مناسب اقدام نہ کیا گیا تو مزید جانیں جاسکتی ہیں۔

کیا آزادیِ اظہار کے نام پر کسی ایک فرد کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک ارب افراد پر مشتمل پوری قوم کے قتل کا ارتکاب کرے۔

22 فروری کی صبح کو بی بی سی ٹیلی ویژن نے شاہِ ایران کے آخری دور کے برطانوی ہائی کمشنر کا انٹرویو پیش کیا، جس میں انہوں نے یہ بات واضح کی کہ میں نے اس کتاب کو ان تمام ہنگاموں سے بہت پہلے پڑھ لیا تھا، اور اس کتاب کے مطالعے کے بعد مجھے یقین تھا کہ اس کتاب کی اشاعت بڑی تہلکہ خیز ثابت ہوگی۔ اس لیے کہ مسلم ملکوں میں برطانوی سفارت کے فرائض انجام دینے کی وجہ سے میں مسلمانوں کے احساسات سے بخوبی واقف ہوں۔ مجھے حیرت تو یہ ہے کہ یہ ہنگامے اس قدر تاخیر سے کیوں شروع ہوئے۔

ملاحظہ فرمائیں! یہ برطانیہ کے ایک ذمے دار نمائندے کے الفاظ ہیں۔ اس کے بعد بھی کوئی شبہ رہ جاتا ہے کہ برطانیہ کے حکم رانوں کو اس کتاب کی اشاعت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عواقب و نتائج کا علم نہیں تھا؟ اگر تھا تو ہمیں یہ بات کہنے میں کوئی خوف نہیں ہے کہ مسلمانوں کی دل آزاری میں سلمان رشدی اور ادارہ پینگوئن کے ساتھ ساتھ حکومت برطانیہ برابر کی شریک ہے۔ اور اب وہ اپنی نام نہاد آزادیِ اظہار کا سہارا لے کر مسلمانوں کے جذبات کو کچل دینا چاہتی ہے۔ آزادیِ اظہار اگر برطانیہ اور مغربی ممالک کا مسلمہ قانون ہے تو پھر اسپائی کیچر پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟ برطانیہ کے بیش تر شہروں کی لائبریریوں میں نسلی امتیازات کو ابھارنے والی کتابوں پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟

چرچ آف انگلینڈ کی توہین کے مرتکب کو سزا کا مستحق قرار کیوں دیا گیا ہے؟ اور برطانوی قانون کے وقار کی ضمانت کیوں دی گئی ہے؟ کیا یہ ادارے یا افراد انسانوں سے ماورا کوئی مخلوق ہیں جہاں آزادیِ اظہار کی رسائی نہیں ہو سکتی؟ برطانیہ میں بسنے والی مختلف نسلوں کے تحفظ کے لیے نسلی اختلافات اُبھارنے والی کتابوں پر پابندی محض اس لیے ہے کہ یہاں نسلی اختلافات نمودار نہ ہوسکیں۔ تو پھر وہ جہاں سوز کتاب جس نے برطانیہ کے دو ملین مسلمانوں کا سکون تباہ کر دیا ہے، اس پر پابندی عائد کیوں نہیں کی جارہی ہے؟

فکشن یا جھوٹ کا انبار؟

مغربی ذرائع ابلاغ اس کتاب کو ادب کا شاہ کار قرار دے رہے ہیں، حالاں کہ یہ کتاب اس اعتبار سے فکشن نہیں ہو سکتی کہ اس میں بدنامِ زمانہ مصنف نے پیغمبرِ اسلام اور آپ کی ازواجِ مطہرات کے نام لیے ہیں۔ فکشن کے کردار فرضی ہوتے ہیں لیکن اس نے حقیقی ناموں کا تذکرہ کر کے فرضی الزامات عائد کیے ہیں۔

اس کتاب کو تاریخ اس لیے نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا اندازِ تحریر فنکشنل ہے، مگر اس کو فکشن اس لیے نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں ان عظیم تاریخی ناموں کا تذکرہ کر کے ان کی کردار کشی کی گئی ہے، جن کی عظمت کی گواہ پوری دنیا ہے۔ کیا ایک ناول نگار کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی کی پرائیوٹ لائف کو موضوع بحث بنائے اور اس پر فرضی الزامات عائد کرے؟ اگر ناول کے کردار حقیقی ہیں تو ان سے منسوب باتوں کو بھی حقیقی ہونا چاہیے، جنہیں تاریخ اور تحقیق کے معیار پر پرکھا جاسکے، اور اگر کہانیاں فرضی ہیں تو پھر کرداروں کو حقیقی نام کیوں دیے گئے؟ اس کتاب میں حقوقِ انسانی کے عالمی منشور کی خلاف ورزی کی گئی ہے: حقوقِ انسانی کے مسلمہ منشور میں دنیا کے تمام افراد کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کا تحفظ کریں، اور دُنیا کے کسی انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی فرد کی ذاتی زندگی کو بلا وجہ تنقید کا نشانہ بنائے۔ ایک عام آدمی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ اگر کوئی شخص اس کی عزت و وقار کے منافی کوئی اقدام کرے تو وہ اس پر ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرے۔

پھر آپ خیال فرمائیں! کہ وہ رُسوائے زمانہ انسان، جس نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے، اس نے بالواسطہ دنیا کے ایک ارب مسلمانوں کی توہین کی ہے۔ کیا اس صورت حال میں مسلمان اس کتاب کے ضبط کرنے اور اس پر پابندی لگانے کے مطالبے میں حق بجانب نہیں ہیں؟

سلمان رشدی دُنیا کے ایک ارب مسلمانوں اور 46 مسلم ممالک کا مشترکہ مجرم ہے

سلمان رشدی کی کتاب نے جو آگ لگائی ہے اس میں متعدد بے گناہ جل چکے ہیں، اور اگر اس آگ کو فرو نہ کیا گیا تو ابھی سیکڑوں جانیں مزید ضائع ہوں گی۔ سلمان رشدی ایک ایسا مجرم ہے جس پر بالواسطہ قتل کے متعدد الزامات ہیں، اور آج جب کہ اُس نے اپنی ایک تحریر کے ذریعے تسلیم کر لیا ہے کہ میری تحریر سے دنیا کے سنجیدہ مسلمانوں کو تکلیف پہنچی ہے تو وہ اپنے جرم کا اقبالی مجرم ثابت ہو چکا ہے۔ کیا برطانیہ جیسے تہذیب کے دعوے دار ملک کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ایک مجرم کی پشت پناہی کرے، اور نہ صرف یہ کہ اسے پناہ دے بلکہ اس کی حمایت کے لیے دوسرے ممالک کو بھی آمادہ کرے۔

ایران کے مذہبی رہ نما خمینی کا اعلان اور اس کے مضمرات

ایران کے مذہبی رہ نما نے گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا فیصلہ صادر کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ جو بھی اس گستاخِ رسول کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائے گا وہ 40 لاکھ پاؤنڈ کا انعام حاصل کر سکے گا۔ اس اعلان کے شائع ہوتے ہی مغربی ممالک میں کھلبلی مچ گئی۔ سلمان رشدی انڈر گراؤنڈ کر دیا گیا۔ برطانوی لیڈروں نے اس اعلان کو جارحیت کا نام دیا اور خمینی پر غیر مہذب ہونے کا الزام لگایا۔ اخبارات اور نشریاتی ذرائع نے اس کو غیر انسانی عمل سے تعبیر کیا، اور وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ ہم کسی بھی ملک کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ہماری زمین پر اس طرح کا کوئی اقدام کرے اور مغربی ممالک بشمول امریکہ نے ان کی تائید و حمایت کی۔

خمینی صاحب کے اس اعلان سے اختلاف کا حق محفوظ رکھتے ہوئے کیا ہم برطانیہ کے اربابِ حل و عقد سے ایک سوال کر سکتے ہیں کہ آج سے کچھ دنوں پہلے جب امریکہ جیسے سپر پاور نے کرنل قذافی کو قتل کرنے کے لیے لیبیا کی زمین پر اپنے طیارے بھیجے تھے اور اُس کے بم بار طیاروں نے ایک بے گناہ بچی کی جان لی تھی، تو اُس کا یہ عمل تہذیب اور شرافت کے کسی معیار پر تولا گیا تھا؟ کیا یہ ایک دوسرے ملک میں مداخلت کے مرادف نہیں ہے، اور کیا امریکہ کے اس عمل کو ایک دوسرے ملک کی زمین پر منظم دہشت گردی کا نام نہیں دیا جائے گا؟

اگر امریکہ جیسا طاقت ور ملک محض اپنی پالیسیوں سے اختلاف کی سزا دینے کے لیے یہ منظم دہشت گردی کر سکتا ہے تو پھر دوسروں کو اس حق سے محروم کیوں کیا جا رہا ہے؟

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آج انسانیت، تہذیب اور شرافت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے برطانیہ نے امریکہ کو اس دہشت گردی کے لیے اپنے فضائی مستقر بھی فراہم کیے تھے۔ امریکہ اور برطانیہ دونوں کے ہاتھ لیبیا کی اپنی سرزمین پر ایک بے گناہ بچی کے قتل سے رنگین ہیں۔ ابھی تو اس بے گناہ کا لہو بھی ان کی آستینوں سے خشک نہ ہو سکا ہے، پھر یہ ممالک دوسروں کو غیر مہذب ہونے کا طعنہ کسی طرح دے رہے ہیں؟

بہر کیف! یہ مغربی اقوام خمینی صاحب کے اس اعلان کو جو بھی چاہیں نام دے لیں مگر اس با غیرت ایرانی رہ نما کے اس اعلان نے اہلِ مغرب کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ مسلمان سب کچھ گوارا کر سکتا ہے مگر اپنے پیغمبر کے ناموں کے خلاف ایک جملہ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس اعلان کے بعد ہی امریکہ کی تجارتی کمپنیوں نے کئی سو بک اسٹالوں سے اس کتاب کو ہٹالیا۔ جاپان اور بہت سے مغربی ممالک نے اس کتاب کی اشاعت کا پروگرام منسوخ کر دیا۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا حریف اسرائیل، اس کتاب کے عبرانی ترجمے کی اشاعت کا اعلان کر چکا تھا مگر اب مبتلائے تذبذب ہے اور سلمان رشدی، اب زندگی بھر اپنی ریل سے باہر نہ آسکے گا۔

ایرانی رہ نما خمینی کو انقلابِ ایران کے روزِ اول ہی سے گالیاں دی جارہی ہیں، یہاں تک کہ برطانیہ کے نام نہاد مہذب اخبارات نے اپنی قوم کے اس عظیم لیڈر کو باریش حرامی [Bearded Bastard] کا نام دیا، مگر اس نے کبھی بھی اپنی آبرو اور ناموس پر کیے جانے والے حملوں کے جواب میں اس طرح کا اقدام نہیں کیا لیکن جب اہلِ مغرب کی اسلام دشمنی اس حد تک بڑھ گئی کہ ناموسِ رسالت کو نشانہ بنایا جانے لگا تو اس نے فطری غیض و غضب کے عالم میں وہ اعلان کیا جو آج پوری دنیا کا سب سے حساس مسئلہ Burning Issue ہے۔

مغربی ممالک نے ایران کا بائی کاٹ کر دیا ہے، اپنے سفارت خانے مقفل کر دیے ہیں، جواباً ایران نے بھی یورپ اور امریکہ کے تمام ممالک سے اپنے سفیر بلا لیے ہیں، حالاں کہ ایران جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اس کو ان ممالک کی امداد کی ضرورت ہے۔

پاکستان نے اپنے طور پر تمام اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کتاب کے سلسلے میں مشترکہ اقدام کے لیے مل بیٹھیں اور برطانیہ نیز دیگر ممالک پر دباؤ ڈالیں، وہ اس کتاب پر پابندی عائد کریں۔

اب دنیا بھر کے مسلمانوں کی نگاہیں اُن عرب ملکوں اور ان کے سربراہوں پر لگی ہوئی ہیں، جنہوں نے اب تک کوئی مؤثر احتجاج کیا ہے اور نہ ہی اُن کی طرف سے کوئی واضح مطالبہ سامنے آیا ہے۔

صلیبی قوتوں کا عالمی اتحاد

مسلمانانِ برطانیہ نے جس شائستہ انداز سے اپنے احتجاج کا آغاز کیا تھا اگر برطانوی حکومت نے ان کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہوتا یا کم از کم ان کے مجروح دلوں پر مرہم رکھنے کے لیے اتنا کہہ دیا ہوتا کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرے گی، تو معاملہ اس حد تک آگے نہ بڑھتا۔ لیکن حکومتِ برطانیہ نے روزِ اول ہی سے اس کتاب کے معاملے میں خود کو فریقِ مخالف کی حیثیت سے پیش کیا اور مسلمانوں کے جذبات کو مزید مشتعل کرنے کے لیے ان پر جنون، جذباتیت، بنیاد پرستی، ملائیت، نازی ازم وغیرہ کے الزامات عائد کیے، اور نام نہاد آزادیِ اظہار کا سہارا لے کر ان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔

اب صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ ایک طرف یہ مسئلہ مسلمانوں کی موت و حیات کا مسئلہ بن گیا ہے اور دوسری طرف حکومتِ برطانیہ کی روایتی انا کو ایران کی طرف سے چیلنج بھی کر دیا گیا ہے۔ اس لیے برطانیہ اب وہ تمام ہتھکنڈے استعمال کرے گا جو اس کی انا کی تسکین فراہم کر سکے اور اس کے احساسِ برتری کے موہوم قلعے کو منہدم ہونے سے بچا سکے۔ چنانچہ خمینی کے اعلان کے بعد ہی وزیر داخلہ نے یورپ کے ان تمام ممالک کو ایران کے خلاف اقدام کرنے پر مجبور کیا جو اس کے حلیف ہیں، اور پھر امریکہ جس نے برطانیہ کے کاندھے پر بندوق رکھ کر لیبیا کی ایک بے گناہ بچی کے قتل کا ارتکاب کیا تھا، وہ اپنی احسان شناسی کے پیش نظر اس حکومت کا مؤید ہو گیا۔ اور اب عالم یہ ہے کہ صلاح الدین ایوبی کے مقابلے میں صلیبی اتحاد کے بعد پہلی مرتبہ پورا مغرب اسلام کے خلاف محاذ آرائی پر آمادہ ہو گیا ہے۔ اور برطانوی حکومت ایک مرتبہ پھر شیر دل رچرڈ کی حیثیت سے اپنے اتحادیوں کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ صلیبی جنگوں میں براہِ راست مذہب کا نام لیا گیا تھا، مگر اب مذہب کے مقابلے میں اظہارِ رائے کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔

صرف مسلمان ہی کیوں؟

گزشتہ دنوں ایک مراسلہ نگار نے اخبارات میں یہ سوال اُٹھایا تھا کہ برطانیہ میں ہندو، یہودی، کیتھولک، بودھسٹ اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی بستے ہیں لیکن وہ اپنے حقوق کے مطالبے کرنے کے لیے بھی اس طرح جمع نہیں ہوتے جس طرح مسلمان جمع ہوتے ہیں۔ کبھی وہ اپنی فورڈ کے مقابلے میں تحریک چلاتے ہیں، کبھی علیحدہ اسکولوں کے لیے تحریک چلاتے ہیں، کبھی کسی گستاخی کے خلاف مشتعل ہو جاتے ہیں۔ مسلمان اس ملک میں رہنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے جذبات کو لگام لگائیں، ورنہ یہاں کی اکثریت کا پیمانہِ صبر لبریز ہو سکتا ہے۔

مراسلہ نگار کو اپنے اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے اس ملک کی اکثریت کے اس طرزِ عمل کا بھی جائزہ لینا ہوگا جو وہ مسلمانوں کے ساتھ برت رہی ہے۔ گزشتہ 25 برسوں میں اس ملک میں اسلام کے خلاف جتنا پروپیگنڈا کیا گیا ہے، کیا کسی اور مذہب کے خلاف اتنا پروپیگنڈا کیا گیا؟ مسلمانوں کے عظیم پیغمبر اور دیگر محترم اسلامی شخصیات کے خلاف جس قدر ناپاک زبان استعمال کی گئی ہے کیا کسی اور مذہب کے پیشوا یا قابلِ احترام شخصیتوں کے لیے ایسی زبان استعمال کی گئی؟ اسلام کو جس قدر خوف ناک شکل و صورت میں پیش کیا جا رہا ہے اور کوئی مذہب اس طرح سے پیش کیا گیا؟ ہم مراسلہ نگار سے جواباً یہ سوال کر سکتے ہیں کہ آخر ہر بار اسلام اور پیغمبرِ اسلام ہی کو کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟

مگر ہم یہ سوال نہ کریں گے کیوں کہ اس کا جواب ہمیں معلوم ہے، ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے مذاہب میں یہ دم خم نہیں ہے کہ وہ ایک تیسری بڑی طاقت بن کر ابھریں، مگر اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور ہمارے حریف یہ جانتے ہیں کہ ہم نے اس مذہب کو کچلنے کی کوشش نہ کی تو نہ صرف یہ کہ اسلام دنیا کی سب سے بڑی سیاسی طاقت بن جائے گا بلکہ عین ممکن ہے کہ مستقبل میں پوری دنیا کا مذہب اسلام ہو۔

ابتداءً کم و بیش نصف صدی قبل یہی طرزِ عمل یہودیوں کے ساتھ بھی روا رکھا گیا تھا۔ انہیں طرح طرح کے گندے نام دیے گئے تھے، ان کے بچوں کو مہذب برطانیہ کی کھڑکیوں سے نیچے پھینکا گیا تھا، اور انہیں اس ملک سے نکل جانے کی وارننگ دی گئی تھی۔ مگر انہوں نے اپنے دفاع کے لیے خود کو منظم کیا، تعمیری اور تعلیمی میدانوں میں اپنے ہم وطنوں کے مقابلے میں زیادہ تیز روی کا مظاہرہ کیا، اور آج وہ اس ملک کی شہ رگ پر قابض ہو چکے ہیں وہ تعداد میں تھوڑے تھے، انہوں نے خود کو منظم کیا اور آج ان کے خلاف کسی بھی قدیم برطانوی کو زبان کھولنے کی اجازت نہیں ہے۔ مسلمانوں کے خلاف اکثریت...

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!