| عنوان: | رجالِ حدیث سے متعلق محدثین کے نقد و جرح غیبت میں داخل نہیں |
|---|---|
| تحریر: | نور الحسن خان رضوی |
| پیش کش: | عائشہ رضا عطاریہ |
رجالِ حدیث سے متعلق محدثین کے نقد و جرح پر کچھ نا سمجھ لوگ عیب زن ہوئے، اس لیے کہ انھوں نے اسے غیبت سمجھا، اور نقد و جرح کی غرض و غایت نہ جانی۔ محدثین نے راویوں پر کلام کیا، کسی کو عادل بتایا، کسی کو مجروح ٹھہرایا، ان کے اس اقدام کا باعث اور محرک صرف یہ ہے کہ امورِ دین میں احتیاط، قوانینِ شرع کی حفاظت، اور روایتِ حدیث میں غلطی و خطا کے مقامات کی نشان دہی ہو اس لیے کہ حدیثِ رسول وہ اصلِ اعظم ہے جس پر اسلام کی بنیاد اور شریعت کی اساس قائم ہے۔ [اس سے قرآن کی تفسیر و تفہیم بھی ہوتی ہے]۔
ان محدثین سے متعلق یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ ان کا مقصد لوگوں پر طعن و تشنیع یا ان کی غیبت اور بدگوئی ہے۔ انھوں نے کسی کا ضعف بیان کیا ہے تو اس لیے کہ لوگ اسے پہچان لیں اور اس کی حدیث لینے اور اس سے روایت کرنے سے پرہیز کریں۔ ان محدثین ناقدین کا یہ کام ورع و احتیاط، طلبِ ثواب اور امرِ دین میں وثوق و اعتماد حاصل کرنے کی خاطر ہوا، اگر لوگوں کے حقوق اور اموال سے متعلق کوئی شہادت آتی ہے تو اس کی تحقیق و تفتیش کی جاتی ہے تو حدیث کی روایت جو امرِ دین سے متعلق شہادت پر مشتمل ہے اس کی تحقیق و تفتیش زیادہ ضروری اور زیادہ مناسب ہے۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح مسلم میں اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں فرمایا:
انسان کی زندگی میں یا مرنے کے بعد غرضِ شرعی کے لیے اس کی غیبت کرنا چھ صورتوں میں جائز ہے جب کہ وہ غرضِ شرعی غیبت کے علاوہ کسی اور طریقے سے حاصل نہ ہو:
(1) کسی کے ظلم کی شکایت حاکم، بادشاہ یا قاضی یا صاحبِ قدرت آدمی سے کرنا تاکہ حاکم اس کا انصاف و دادرسی کر سکے۔
(2) منکر اور غلط کام کے خاتمہ کے لیے کسی کی برائی ایسے شخص سے بیان کرنا جس سے ازالۂ منکر کی امید ہو مثلاً کہے: فلاں ایسا کرتا ہے لہذا اسے منع کرو۔
(3) مفتی کے سامنے استفتا پیش کرنے میں کسی کی برائی بیان کرنا۔
(4) مسلمانوں کو شر و فساد سے محفوظ رکھنے اور ان کی خیر خواہی کے لیے کسی کی برائی بیان کرنا اس کی مختلف صورتیں ہیں جن کی تفصیل یہ ہے:
جس سے کسی بات کا مشورہ لیا گیا وہ اگر اس شخص کا عیبِ واقعی بیان کرے جس کے متعلق اس سے مشورہ کیا گیا ہے، مثلاً کسی کے یہاں اپنا یا اپنی اولاد وغیرہ کا نکاح کرنا چاہتا ہے دوسرے سے اس کے متعلق تذکرہ کیا، اس شخص کو جو معلومات ہیں بیان کر دیا۔
اسی طرح کسی کے ساتھ تجارت وغیرہ میں شرکت کرنا چاہتا ہے، یا اس کے پاس کوئی چیز امانت رکھنا چاہتا ہے، یا کسی کے پڑوس میں سکونت کرنا چاہتا ہے، اس کے متعلق دوسرے سے مشورہ لیا اس شخص نے اپنی معلومات کے مطابق اس کی خرابی بیان کی۔
قاضی کی مجلس میں گواہوں پر جرح کرنا، یوں ہی حدیث کے راویوں پر جرح کرنا، ایک طالبِ علمِ دین کو دیکھا جو کسی بد مذہب یا فاسق کے پاس تحصیلِ علم کے لیے آتا جاتا ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ طالبِ علم کو اس کی بدمذہبی یا فسق سے ضرر لاحق ہو سکتا ہے تو محض خیر خواہی کے لیے اس کے استاذ کی برائی بیان کرنا۔
(5) ایک شخص ہے جو علانیہ طور سے فسق و فجور کرتا ہے یا کھلے طور پر بدعات کا ارتکاب کرتا ہے، اس کے عیوب بیان کرنا.
(6) ایک شخص کسی عیب کے ساتھ موصوف ہے اس سے اس کی شناخت ہوتی ہے تو محض اس کی معرفت و شناخت کرانے کے لیے اس عیب سے یاد کرنا، جیسے اعمش، اصم، اعور، اعرج، ائمی وغیرہ۔
صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:
حدیث کے راویوں اور مقدمہ کے گواہوں اور مصنفین پر جرح کرنا اور ان کے عیوب بیان کرنا جائز ہے اگر راویوں کی خرابیاں بیان نہ کی جائیں تو حدیثِ صحیح اور غیر صحیح میں امتیاز نہ ہو سکے گا۔ اسی طرح مصنفین کے حالات بیان نہ کیے جائیں تو کتبِ معتمدہ و غیر معتمدہ میں فرق نہ رہے گا۔ گواہوں پر جرح نہ کی جائے تو حقوقِ مسلمین کی نگہداشت نہ ہو سکے گی۔ [بہارِ شریعت بحوالہ رد المحتار، ج: 16، ص: 153]
📚 (ماخوذ از اصولِ جرح و تعدیل) 📚
