Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

نماز (قسط: دوم)|علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی

نماز (قسط: دوم)
عنوان: نماز (قسط: دوم)
تحریر: علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی
پیش کش: عائشہ صدیقہ بنت مجیب احمد
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

انسان بشارتوں کے نشے میں مدہوش ہو کر انجام سے بےخبر گناہوں میں ڈوبتا چلا جائے گا۔ وہ یہ یقین کر لے گا کہ خواہ ہم کچھ بھی کریں ایک بار صلیبِ مسیح کے سامنے اعترافِ گناہ ہمیں گناہوں سے بچا لے گا اور صرف انذار بھی جہنم سے نہیں بچا سکتا اس لیے کہ انذارِ محض کے بطن سے مایوسی جنم لیتی ہے، اور انسان یہ سوچ لے گا کہ گناہ تو ہو چکے اب اگر جنت سے محرومی مقدر بن چکی ہے تو دنیاوی لذتوں سے کیوں دست کش ہوا جائے۔ اس طرح اللہ کی رحمت سے مایوسی اسے جہنم میں پہنچا دے گی۔ لیکن انسان جب مغفرت کی امید اور سزا کا خوف دونوں رکھے گا تو پھر اس کے قدم صراطِ مستقیم پر گامزن ہوں گے۔ یہی میزانِ عدل ہے اور اسی کے بارے میں حضور نے ارشاد فرمایا:

الْإِيمَانُ بَيْنَ الْخَوْفِ وَالرَّجَاءِ

“ایمان امید و بیم کے درمیان ہے”

اگرچہ اسلام نے بداعمالیوں کی بڑی سخت سزائیں مقرر کی ہیں، مگر بے شمار ایسے مواقع عطا فرمائے گئے ہیں جہاں انسان اپنے رب کے حضور میں رحمت کا طلب گار ہو کر اپنے گناہوں کی مغفرت کرا سکتا ہے۔ انہیں منجیات میں سے نماز بھی ہے۔ مندرجہ بالا حدیثِ پاک میں نماز کو دریائے رحمتِ الٰہی سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی ایک انسان جب نماز پڑھتا ہے تو دریائے رحمتِ الٰہی میں غوطہ زن ہوتا ہے، اور جو رحمتِ الٰہی کے دریا میں غوطہ زن ہو اس کے جسم پر گناہوں کی کثافت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج مبارک یہ تھا کہ بعض وقت تکوینی حقائق کا مشاہدہ کرانے کے بعد اللہ کے انعام و اکرام کو ذہنِ انسانی میں منتقل فرماتے تھے۔ چنانچہ ایک بار حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کی خزاں رسیدہ شاخ کو اپنے دستِ کرم سے ہلایا تو اس کے خزاں رسیدہ پتے زمین پر بکھر گئے اور شاخ عریاں ہو گئی۔ آپ نے صحابۂ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا: جس طرح اس شاخ کے ہلانے سے پتے جھڑ گئے ہیں اسی طرح نماز سے انسان کے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔

حدیثِ پاک کا صحیح ذوق رکھنے والا یہ نتیجہ ضرور اخذ کرے گا کہ جب تک خزاں رسیدہ پتے جھڑ نہ جائیں درخت پر نئے برگ و بار نہیں آ سکتے جو بہار کی ضمانت ہیں۔ اسی طرح جب تک گناہوں کے خزاں رسیدہ پتوں کو نماز کی تحریک سے جھاڑ نہ دیا جائے اس وقت تک حیاتِ انسانی کے چمن میں بہار نہیں آ سکتی اور جب خزاں کے پتے جھڑ جائیں گے تو اعمالِ حسنہ کے شاداب برگ و بار انسانی زندگی کو جنت کی بہاروں سے ہمکنار کر دیں گے، جہاں کبھی خزاں نہ آئے گی۔ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اصل بہار ہے؛ اصل خزاں نہیں ہے، یعنی اعمالِ حسنہ ہی اصل ہیں، انسان فطرتِ اسلامیہ پر پیدا کیا گیا ہے، ہاں کبھی کبھی گناہوں کی بادِ سموم چلتی ہے تو شجرِ حیات مرجsummaryھا جاتا ہے مگر اس کو دوبارہ بہارِ جاوداں سے ہمکنار کرنے کے لیے نماز کا پابند بننا پڑے گا۔

تارکِ نماز اللہ کے ذمۂ کرم سے دور ہو جاتا ہے:

وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَإِنَّ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ

“حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قصداً فرض نمازیں ہرگز مت چھوڑو اس لیے کہ جو جان بوجھ کر فرض نماز چھوڑتا ہے اس کو اللہ اپنے ذمۂ رحمت سے دور کر دیتا ہے۔”

اس حدیث کے راوی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ ایک طویل حدیث کا ایک حصہ ہے، جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو چند اہم باتوں کی وصیت فرمائی ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ: خبردار نماز کو قصداً مت چھوڑنا ورنہ اللہ تم سے بری الذمہ ہو جائے گا۔ حدیثِ پاک میں یہ لب و لہجہ اس وقت اختیار فرمایا جاتا ہے جب اللہ رب العزت کی انتہائی ناراضی کو واضح کرنا مقصود ہو۔ انسان نماز کے ذریعے اپنے قلب کے اندر مخفی ایمان کی عملی تصدیق کرتا ہے کہ اگر وہ خدا پر یقین رکھتا ہے تو اس کا سجدہ ضرور کرے گا۔ اگر وہ جنت و دوزخ پر یقین رکھتا ہے تو نماز کے ذریعے جنت کے حصول اور جہنم سے بچنے کی ضرور کوشش کرے گا۔ نماز پڑھنے سے ان تمام عقائد کی تصدیق ہوتی ہے جو قلبِ انسانی کے اندر پوشیدہ ہیں، گویا نماز ایمان کے صحت مند بیج کا حسین و جمیل پودا ہے۔

نماز کی ادائیگی اگر گناہوں سے مغفرت اور حصولِ جنت کا ذریعہ ہے تو ترکِ نماز عذابِ الٰہی اور جہنم کا موجب ہے۔ انسان کی آخری امید اللہ رب العزت کا کرم اور اس کی بخشش ہے، مگر وہ انسان کتنا بد نصیب ہے جس کے بارے میں رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم یہ خبر دیں کہ: وہ اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ہے اور اب آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔

نماز جہاں انسان کو قربِ خداوندی کے شرف سے نوازتی ہے، وہیں آخرت کی کامیابیوں کی ضمانت بھی ہے۔ نماز انسان کے اندر پوشیدہ خیر کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے والی ہے، اس لیے کہ انسان خیر پر پیدا کیا گیا ہے۔

كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ

لیکن کبھی کبھی شر کی قوتیں غالب آ جاتی ہیں اور انسان اپنی فطرتِ اولیٰ سے بغاوت کر کے فطرتِ ثانیہ پیدا کر لیتا ہے۔ انسان اگر نماز قائم کر لے تو فطرتِ اصلیہ کی طرف لوٹ آتا ہے۔ لیکن جو بد نصیب اللہ کی تخلیق کردہ فطرت سے انحراف کر کے برائی کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ اس دنیا میں بھی اللہ کے کرم، اس کی بخشش اور عطا سے محروم رہتا ہے اور آخرت میں بھی اسے جہنم کے دردناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ [مقالاتِ خطیبِ اعظم، ص: 129 تا 131، اخذ و ترجمہ از: ریاض الصالحین للعلامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!