| عنوان: | بعد میں۔۔۔؟؟ |
|---|---|
| تحریر: | عالمہ مدحت فاطمہ ضیائی گھوسی |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
بعد میں چائے کی حرارت سرد پڑ جاتی ہے اور شگفتہ پھولوں کی پنکھڑیاں پژمردہ ہو کر بکھر جاتی ہیں۔ بعد میں خزاں آتی ہے اور سارے پتوں کو شجر سے حجر پر گرا دیتی ہے، خزاں رسیدہ پتوں کی طرح، بعد میں ہم خود بھی ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ بعد میں لوگ بدل جاتے ہیں، اپنے روٹھ جاتے ہیں، اور راہیں جدا ہو جاتی ہیں۔ رفتہ رفتہ محبتوں کا اختتام ہو جاتا ہے، قربتوں کے سلسلے ٹوٹ جاتے ہیں اور طویل گفتگو مختصر لفظوں میں سمٹ جاتی ہے۔ بعد میں دل کسی چیز سے تسلی نہیں پاتا، دلچسپیاں دم توڑ دیتی ہیں، اور تمام تر ذوق و شوق راکھ بن جاتے ہیں۔ ہم ناکامیوں کی گرد اوڑھ لیتے ہیں، مصروفیات کے جال میں الجھ کر عمر کی منازل طے کر لیتے ہیں (بڑے ہو جاتے ہیں)، اور سب سے بڑھ کر۔۔۔ بعد میں ہم خود، خود سے ناآشنا ہو جاتے ہیں اور ہم؛ “ہم” نہیں رہتے
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس بعد کے پسِ پردہ کون سے راز پنہاں ہیں؟
بعد میں سرد چائے کو دوبارہ گرم کر لیا جاتا ہے، خزاں کے بعد بہار لوٹتی ہے اور نئی شاخوں پر نوخیز پتے اور تازہ پھول کھل اٹھتے ہیں۔ بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹ کر ہم خود کو دوبارہ جوڑ لیتے ہیں، شکست کے بعد فتح حاصل ہوتی ہے اور ناکامیوں کے بعد کامرانیوں کے دروازے وا ہو جاتے ہیں۔ روٹھے ہوؤں کو منا لیا جاتا ہے، کچھ بچھڑے واپس لوٹ آتے ہیں، اور زندگی میں نئے چہروں کی آمد سے محبت کا ایک نیا باب رقم ہوتا ہے۔ پھر سے خاموشیوں کی جگہ ڈھیروں باتیں لے لیتی ہیں، نئے اور بڑے عزائم جنم لیتے ہیں، اور مصروفیات کے طویل سلسلے کے بعد ہم اتنے فارغ ہو جاتے ہیں کہ طفولیت (بچپن) کی یادیں بڑھاپے کے روپ میں لوٹ آتی ہیں۔۔۔ زندگی کے ہر خسارے کا کوئی نہ کوئی نعم البدل ضرور مل جاتا ہے، سوائے ایک کے۔۔۔ واقعی، بعد میں “ہم” خود “ہم” نہیں رہتے
(پہلا پیراگراف پڑھ کر یقیناً یہ محسوس ہوا ہوگا کہ زندگی کس قدر بے رحم ہے اور کیسے ایک مقام پر آ کر جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔ لیکن دوسرا حصہ پڑھ کر یقیناً دل کو ایک گونہ اطمینان اور دلاسہ بھی ملا ہوگا کہ چیزیں بعد میں ٹھیک ہو ہی جاتی ہیں۔۔۔)
ہاں؛ بعد میں سب کچھ لوٹ تو آتا ہے، مگر۔۔۔! بعد میں وہ بات کہاں؟ بعد میں وہ بات نہیں رہتی۔۔۔ دوبارہ گرم کی گئی چائے میں وہ پہلی سی لذت نہیں ہوتی، نہ ہی نئے پھولوں میں وہ پرانی مہک باقی رہتی ہے۔ بارش کے پانی میں کاغذ کی ناؤ چلانے کی وہ سرشاری، مصروفیات کے بعد ملنے والی فرصت میں وہ قلبی سکون، اور تاخیر سے ملنے والی کامیابی میں وہ جشن کا خمار نہیں رہتا۔ بعد میں ملنے والی محبت میں وہ پہلی سی چاشنی نہیں ہوتی، نہ ہی گفتگو میں وہ سابقہ جذبات اور شدت باقی رہتی ہے۔ خواہشات پوری تو ہو جاتی ہیں، مگر ان کے حصول کی وہ بے ساختہ خوشی ماند پڑ چکی ہوتی ہے، اور بڑھاپے کی دہلیز پر بچپن کی وہ معصوم ادائیں محض ایک سراب لگتی ہیں۔
اس لیے، وقت کی سب سے بڑی نصیحت یہی ہے کہ پہلی فرصت اور حال کو ترجیح دیں۔ چیزوں کا تاخیر سے ٹھیک ہو جانا محض ایک دلاسہ تو ہو سکتا ہے، لیکن گزرے وقت اور احساسات کی تلافی کبھی نہیں ہو سکتی۔ “بعد والے” پہلو کو محض اپنی دلجوئی اور امید کے لیے اپنے پاس محفوظ ضرور رکھیں، مگر یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ “پہلے” لمحے کی سچائی اور خوبصورتی کا کبھی مقابلہ نہیں کر سکتا
