Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

جان ہے تو جہان ہے|سائرہ الطاف امجدی

جان ہے تو جہان ہے
عنوان: جان ہے تو جہان ہے
تحریر: سائرہ الطاف امجدی

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا، وہ جو نہ ہو تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی، جان ہے تو جہان ہے

یہ شعر عشقِ رسول ﷺ، عقیدتِ مصطفیٰ ﷺ اور آپ ﷺ کی عظمت و رفعت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کرتا ہے۔ شاعر حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو کائنات کے لیے خیر و برکت قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ دنیا میں جو بھی ہدایت، ایمان، علم، اخلاق اور روحانی روشنی نظر آتی ہے، وہ سب حضور اکرم ﷺ کے فیض کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ ﷺ دنیا میں تشریف نہ لاتے تو انسانیت جہالت، گمراہی اور اخلاقی پستی کے اندھیروں میں بھٹکتی رہتی اور اسے حق و باطل میں تمیز کرنے کا شعور حاصل نہ ہوتا۔

شاعر کے نزدیک حضور ﷺ کی بعثت نے مردہ دلوں کو زندگی بخشی، بکھرے ہوئے معاشروں کو وحدت عطا کی اور انسان کو اس کے رب کی پہچان کرائی۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو عدل، مساوات، محبت، رحم دلی اور اخوت کا درس دیا۔ اسی لیے شاعر عقیدت کے ساتھ کہتا ہے کہ اگر حضور ﷺ نہ ہوتے تو دنیا کی حقیقی رونق اور مقصدِ حیات بھی نہ ہوتا۔

دوسرے مصرعے میں شاعر حضور ﷺ کو ”جانِ جہان“ قرار دیتا ہے۔ جس طرح جان کے بغیر جسم بے حرکت اور بے معنی ہو جاتا ہے، اسی طرح حضور ﷺ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کی رحمت کے بغیر دنیا روحانی اعتبار سے ویران اور بے مقصد ہو جاتی۔ آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ انسانیت کے لیے امید، ہدایت اور نجات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہی وہ روشن چراغ ہے جس کی روشنی میں انسان اپنی زندگی کا صحیح راستہ تلاش کرتا ہے۔

مختصراً یہ شعر حضور نبی کریم ﷺ کی عظمت، آپ ﷺ کی انسانیت پر بے شمار احسانات اور آپ ﷺ سے والہانہ محبت کے جذبات کا حسین اظہار ہے۔ شاعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ دنیا کی حقیقی کامیابی، عزت اور فلاح حضور اکرم ﷺ کی اتباع اور آپ ﷺ کی محبت میں پوشیدہ ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!