Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مفتی اعظم عوام و خواص کا مرکز عقیدت (قسط: دوم)|علامہ محمد احمد مصباحی

مفتی اعظم عوام و خواص کا مرکز عقیدت (قسط: دوم)
عنوان: مفتی اعظم عوام و خواص کا مرکز عقیدت (قسط: دوم)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی
پیش کش: محمد احسان مصطفیٰ
منجانب: جامعۃ المدینہ فیضان عطار، ناگپور

ان کی حیات کا بہت روشن پہلو یہ بھی ہے کہ وہ کسی خلافِ شرع قول و فعل کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتے تھے بلکہ اس پر نکیر ضروری تھی۔ اس کردار کے خلوص میں ان کا التزام، ان کی جسارت، ان کا قلبی اضطراب اور ان کا حسنِ اخلاص دیکھ کر دل بے اختیار گواہی دیتا کہ بلا شبہ یہ سچے نائبِ رسول اور واقعی وارثِ علومِ انبیاء ہیں۔ رسول کے سامنے اگر کسی نے کوئی کام کیا یا کوئی بات کہی اور رسول نے اس پر سکوت اختیار کیا، انکار نہ فرمایا تو یہ اس بات کی دليل ہوتی ہے کہ یہ فعل یا قول درست اور صحیح ہے اگرچہ غیرِ رسول کی یہ شان نہیں مگر سچے نائبِ رسول کی یہ ذمہ داری ضرور ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو منکر (برائی) سے روکے اور معروف (نیکی) کا حکم دے لیکن انکارِ منکر سے عالم کو اگر فتنے کا اندیشہ یا جان و عزت کا خطرہ ہو یا اس منکر کی برائی سے مرتکب اور دوسرے سبھی آگاہ ہوں ساتھ ہی منع کرنے سے باز آنے کی توقع بھی نہ ہو تو بعض حالات میں عالم کے لیے سکوت کی رخصت مل جاتی ہے۔

مگر مفتیِ اعظم بجائے رخصت کے عزیمت پر عامل تھے اور ان کی جلالت و سطوت یہ تھی کہ کوئی کیسا ہی صاحبِ ثروت یا صاحبِ اقتدار کیوں نہ ہو مگر حضرت کی زبانِ شریعت ترجمان کے آگے مجالِ دم زدن نہ تھی۔

انھوں نے بڑے بڑے قد آور اور نامور خطبا کو بھی برسرِعام ٹوک دیا۔ اور بعض صورتوں میں توبہ بھی کرائی ہے مگر عموماً ان کی یہ اصلاح بڑی آسانی سے اور خندہ پیشانی سے قبول کر لی جاتی اور تقریر کرنے والے اپنی ممنونیت کا اعتراف و اعلان کرتے۔ آج کسی کے لیے یہ کام بڑا مشکل ہے۔

ایک طرف تقریروں کی سطحیت اور بازاری پن کا یہ حال ہے کہ تاریخی واقعات و حکایات میں بے سروپا ملاوٹ اور تہ بہ تہ غلطیاں تو الگ رہیں احادیث کے متن میں اس قدر آمیزش کی جاتی ہے کہ قولِ رسول کی اصل صورت ہی مسخ ہو کر رہ جاتی ہے۔ فقہ و عقائد اور علم و فن کے لحاظ سے غلط، نادر اور تکلیف دہ جملوں اور عبارتوں کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے اس پر بس نہیں بلکہ اس قسم کی تقریروں کو چھاپ کر فروخت بھی کیا جا رہا ہے اور جہالت کی فراوانی کا یہ عالم ہے کہ نئی نسل ان غلط سلط تقریروں کو رٹ کر عوام سے داد و تحسین اور زر و مال کے انبار لوٹ رہی ہے اور کسی کو ہمت نہیں کہ ان چرب زبانیوں پر کوئی قدغن لگا دے۔ اگر کسی نے جرات کی تو انجام اور زیادہ خطرناک ہے۔ مقرر صاحب بجائے اس کے کہ ممنون ہوں اور توبہ و اعتراف کر کے دنیا میں اپنی غلطیوں سے باز آئیں اور آخرت میں اپنی نجات کا سامان کریں، الٹے اپنے بزرگ محسن ہی کے خلاف ایک طوفان کھڑا کر دیں گے اور اعترافِ قصور میں اپنی ذلت محسوس کرتے ہوئے اس بزرگ کی تذلیل و تحقیر کے درپے ہو جائیں گے۔ اور اسی میں اپنے وقار، اپنے شرف اور اپنی مقبولیت کا سارا راز مضمر سمجھیں گے۔

یہ وہ المیہ ہے جس سے ہم مفتیِ اعظم کی حیات کے بعد دوچار ہیں۔ صد افسوس کہ آج کی دنیا علم، عمل، انصاف اور اعترافِ حقائق سے کس قدر دور ہوتی جا رہی ہے۔ اور کوئی ایک شخصیت تو کیا علما کی کوئی ایک مجلس یا یونین بھی ایسی نہیں جو ہمارے اس خلا کو اس طرح پر کر دے کہ نہ کوئی اختلاف ہو نہ کوئی فتنہ برپا ہو یا کوئی ایسی تدبیر بروئے کار لائی جائے جس سے عوام اس قابل ہو جائیں کہ غلط بولنے والے مقررین کو گوارا نہ کر سکیں یا مقررین اتنے ذمہ دار بن جائیں کہ بغیر تیاری اور کافی علم و آگہی کے لب کشائی کی زحمت نہ کر سکیں یا کم از کم اپنے دل میں ایمان و انصاف اور اخلاص و امانت کا اتنا جوہر ضرور رکھتے ہوں کہ اعترافِ خطا کو اپنی ذلت کے بجائے اپنی عزت، اپنی عافیت اور اپنی نجات تصور کریں۔ بہرحال آج دردمندانِ ملت اور دانشورانِ قوم کا یہ فریضہ ہے کہ اس طرح کے امراض کا علاج تلاش کریں، بیماریوں سے مصالحت کو بیماریوں کا علاج ہرگز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مفتیِ اعظم کی ایک عظیم امتیازی خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کے حلقۂ ارادت میں علما اس کثرت سے داخل ہوئے کہ بہت سے پیروں کے مریدین کی مجموعی تعداد بھی ان کے برابر نہ ہوگی۔ ان علما کو بھی دیکھیے تو ان میں ایک قابلِ ذکر تعداد ایسے علما کی مل جائے گی جو اپنے علم و فضل اور تدین و تقویٰ کے لحاظ سے نہ معلوم کتنے پیروں پر بھاری ہوں گے۔ ایسے علما جس کے ہاتھ پر بیعت ہوں وہ اپنے علم و فضل اور اخلاص و تقویٰ میں یقیناً یکتائے روزگار ہوں گے۔

مفتیِ اعظم کے مریدین میں عوام کی بھی بڑی تعداد ہے ان میں اہلِ ثروت بھی بکثرت ہوں گے مگر حضرت کی زندگی کا لمحہ لمحہ شاہد ہے کہ انھوں نے اپنے مریدین کو کبھی بھی اپنی منفعت بخش “جائیداد” تصور نہ کیا، نہ کبھی اس کی کوشش ہوئی کہ کوئی دولت مند حلقۂ ارادت میں داخل ہو جائے۔ ان کا فیضانِ عام تھا، غریب و امیر یکساں ان کی بارگاہ میں حاضر ہوتے اور سب کے ساتھ یکساں سلوک ہوتا خصوصاً اپنے والدِ گرامی بلکہ اپنے رسولِ عظمت مآب علیہ التحیات والصلوات کی سنتِ کریمہ پر عمل کرتے ہوئے غریب کی دلداری کا ہمیشہ پاس و لحاظ رکھتے۔ اور کسی امیر کی رعایت میں کسی غریب کی دل شکنی ہرگز گوارا نہ تھی۔

ظاہر ہے کہ جس کا دل حبِ دنیا سے پاک ہو، جو مریدوں کی دولت کے بجائے اپنے مولیٰ کی رحمت پر بھروسا رکھتا ہو، جو کسی ناروا قول و فعل کو دیکھ کر خاموش نہ رہ سکتا ہو، جو عوام تو عوام علما کو بھی علمی و عملی خطاؤں پر نظر انداز کر دینا مصلحت اندیشی کی تاریخ کا جرمِ عظیم تصور کرتا ہو، جس کے اخلاص و عزیمت کے آگے علما و اکابر کی گردنیں خم ہوں، جس کے فقہ و فتویٰ اور ورع و تقویٰ کی ستائش میں اجلۂ زمانہ رطب اللسان ہوں، جس کی جلوتوں کے ساتھ اس کی خلوتیں بھی سنتِ رسول کی آئینہ دار اور یادِ خدا اور رسول سے آباد و سرشار ہوں وہی علمائے زمانہ کا امام، ملتِ اسلامیہ کا بے باک رہنما اور گروہِ اولیاء کا سرخیل کہا جا سکتا ہے۔ عوام و خواص کی مرجعیت کا تاج اسی کے سر زیب دیتا ہے۔

امت کی نباضی و رہنمائی کا فریضہ اسی کی زبان و قلم کا بے داغ گوہرِ آبدار ہے۔ بلا شبہ وہ تمام اہلِ حق اور تمام اربابِ علم و فن کا بے بدل تاجدار ہے۔

رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى وَرَحِمَنَا بِهٖ رَحْمَةً وَاسِعَةً۔ [مقالاتِ مصباحی، ص: 404 تا 406]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!