Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

آخر یہ جہالت کب تک؟|ثمن فردوس امجدی

آخر یہ جہالت کب تک؟
عنوان: آخر یہ جہالت کب تک؟
تحریر: ثمن فردوس امجدی
پیش کش: الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی مرادآباد

محرم الحرام اللہ تعالیٰ کا حرمت والا مہینہ ہے۔ قرآن کریم میں ہے:

إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا [...] مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ [سورۃ التوبۃ: 36]

ہمارے علمائے کرام کا عقیدہ ہے کہ اس مہینے کی تعظیم سنت کے مطابق ہے، عبادت، روزہ، ذکر اور توبہ سے کرنی چاہیے۔

لیکن برصغیر میں محرم کے نام پر جو رسومات رائج ہو گئی ہیں، جیسے تعزیہ بنانا، چڑھاوا چڑھانا، عورتوں کا جلوس میں نکلنا، ڈھول بجانا، نوحہ و ماتم کرنا، ان کا نہ قرآن میں ذکر ہے، نہ سنت میں، نہ صحابہ و تابعین کے عمل میں۔

تعزیہ بنانا اور اس کی زیارت

تعزیہ کی اصل نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، نہ خلفائے راشدین سے، نہ اہل بیت سے۔ سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت 61 ہجری میں ہوئی۔ اگر تعزیہ بنانا دین ہوتا تو سب سے پہلے اہل بیت خود بناتے۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا، سیدنا امام زین العابدین رحمہ اللہ نے کبھی تعزیہ نہیں بنایا، نہ جلوس نکالا۔

اور دیکھو، آج ہماری امت مسلمہ اہل سنت و جماعت کے کچھ لوگ تعزیہ بناتے ہیں، ڈھول بجاتے ہیں، حتیٰ کہ ہماری مائیں اور بہنیں اس میں جاتی ہیں، تعزیہ پکڑتی ہیں، اس میں چڑھاوا چڑھاتی ہیں، اس میں کھانے رکھتی ہیں۔ یہ کیا ہے؟ یہ جہالت نہیں تو اور کیا ہے؟ محرم الحرام کا اصل طریقہ کیا ہے؟ یہ کہ زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کی جائے، نواسۂ رسول حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو یاد رکھا جائے اور ان کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا جائے۔ نہ کہ نمازیں چھوڑ کر ڈھول باجے کریں۔

اہل بیت سے محبت کا تقاضا اتباع ہے نہ کہ ایسی نئی شکلیں ایجاد کرنا جو دین میں ہی نہ ہوں۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “جو چیز صحابہ کے زمانے میں نہ تھی، آج وہ دین نہیں بن سکتی۔”

آج کل جو ہماری خواتین، ہماری مائیں اور بہنیں تعزیہ میں جا کر چڑھاوا چڑھاتی ہیں، اس پر منت ماننا باطل ہے اور تعزیہ پر چڑھایا گیا چڑھاوا، نیاز وغیرہ ناجائز ہے اور اس کا کھانا بھی حرام ہے۔ جب کہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، اس لیے اس کا تماشہ دیکھنا یا اس میں شرکت کر کے تعداد بڑھانا بھی ناجائز اور گناہ ہے۔

اسلام نے عورت کو پردے اور وقار کا حکم دیا ہے۔ قرآن کریم میں ہے:

وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ [سورۃ الأحزاب: 33]

عورت کا بلاوجہ بلاضرورت گھر سے نکلنا، غیر محرم مردوں کے ساتھ اختلاط کرنا، جلوس میں شامل ہونا ناجائز ہے۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا: “اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آج کی عورتوں کا حال دیکھ لیتے تو مسجد جانے سے بھی منع فرما دیتے۔”

اہل بیت کی خواتین نے کربلا کے بعد صبر، پردہ اور تقویٰ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بازاروں میں ماتم کر کے دین کی خدمت نہیں کی۔

صبر و استقامت

اہل بیت کی خواتین نے مصائب و آلام کے بعد ٹوٹنے کے باوجود بے صبری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کا صبر جذبات پر قابو پانے اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا بہترین نمونہ تھا جس نے باطل کو شکست دی۔ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اور دیگر خواتین نے انتہائی مشکل حالات میں بھی پردہ اور حیا نہیں چھوڑی۔ ان کی سیرت سے ثابت ہوا کہ تبلیغ دین اور حق کی آواز بلند کرنے کے لیے پردے کی حدود کو توڑنا ہرگز ضروری نہیں۔

دربار یزید میں خواتین اہل بیت نے (نہ ماتم کیا، نہ سینہ پیٹا، نہ ڈھول بجایا) بلکہ اپنے خطبات کے ذریعے اسلام کے حقیقی چہرے کو پیش کیا۔ ان کے خطبات میں سیدہ زینب کے خطبے نے کوفہ اور شام کی عوام کو جھنجھوڑ دیا اور یزید کے جھوٹے پیغام کو خاک میں ملا دیا۔

سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کی ظاہری جیت کو ایک عارضی مہلت اور ابدی رسوائی ثابت کر دیا۔ انہوں نے یزید کے سامنے اس بات پر شدید احتجاج کیا کہ اس نے رسول اللہ کی نواسیوں کی چادر چھین کر اسلامی اصولوں کی دھجیاں اڑائیں۔ سیدہ زینب کا پردے اور چادر کی حرمت پر احتجاج محض ذاتی شکایت نہیں تھی۔

جب اسیران کربلا کو دمشق میں یزید بن معاویہ کے بھرے دربار میں پیش کیا گیا، تو یزید اپنی ظاہری اور عارضی جیت کے نشے میں چور تھا۔ اس نے ایک طرف تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسیوں، جن کی حیا اور پردے کی گواہی تاریخ دیتی ہے، سر برہنہ، بے چادر نامحرموں کے سامنے لا کھڑا کیا، دوسری طرف اپنے محل کے اندر بنو امیہ کی خواتین کو پردے کے پیچھے عزت و احترام سے بٹھا رکھا تھا۔

سیدہ زینب نے یزید کے اس دہرے اور منافقانہ معیار کو بھانپ لیا۔ انہوں نے اپنے خطبے کے آغاز میں ہی یزید کے اس غیر اسلامی اور ظالمانہ فعل پر کڑی ضرب لگائی اور فرمایا:

پردہ اور حجاب اسلام کا ایک بنیادی اور قطعی حکم ہے۔ یزید نے آل رسول کی چادر چھین کر دراصل احکامات قرآنی اور شریعت کا مذاق اڑایا تھا۔ سیدہ زینب کا احتجاج اس بات کا اعلان تھا کہ یزید کا یہ عمل اسلام سے انحراف اور کفر کے مترادف ہے۔

“ابن طلقاء” (فتح مکہ پر بخشے گئے قیدیوں کی اولاد)۔ سیدہ زینب کا ابن طلقاء کہہ کر پکارنا اس بات کی یاد دہانی تھی کہ جن کے باپ دادا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحم دلی کے تحت آزاد کیا تھا، آج وہی احسان فراموش نسل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کے حجاب پر حملہ کر رہی ہے۔ اس سے یزید کا خاندانی اور اخلاقی تکبر خاک میں مل گیا۔ سیدہ زینب نے یزید کو یہ باور کرایا کہ چادریں چھیننے سے اہل بیت کی وہ طہارت اور عظمت کم نہیں ہو سکتی جو خدا نے انہیں عطا کی ہے، بلکہ رسوائی خود یزید کا مقدر بن چکی ہے۔ سیدہ زینب نے تاریخ انسانی کو یہ سکھایا کہ بدترین حالات اور قید کی حالت میں بھی ایک مومنہ خاتون اپنے حقوق اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے ظالم ترین حکمران کے سامنے نہ صرف کھڑی ہو سکتی ہے بلکہ اس کا احتساب بھی کر سکتی ہے۔

سیدہ زینب کے اس طویل اور فصیح خطبے نے یزید کے تخت و تاج کو ہلا کر رکھ دیا۔ دربار یزید میں موجود افراد جو بیعت کے زیر اثر اہل بیت کو (معاذ اللہ) باغی سمجھ رہے تھے، رو پڑے۔ انہیں معلوم ہو گیا کہ یزید نے کتنا بڑا ظلم ڈھایا ہے۔

اس خطبے سے یہ پیغام اجاگر ہوتا ہے کہ دین اسلام میں پردہ، حیا اور عفت محض ایک رواج نہیں بلکہ دین کی اساس ہے۔ سیدہ زینب نے بازاروں میں روایتی اور شور و غوغے والے ماتم، یا ڈھول باجے کی مہم چلانے کی بجائے پردے کے تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے جرات مندانہ علمی خطبات سے دین کی وہ خدمت کی جس کی مثال قیامت تک نہیں مل سکتی ہے۔ چادر زینب پر احتجاج دراصل اسلام کی اخلاقی اقدار کی فتح کا ابدی اعلان ہے۔

سیدہ زینب کا حجاب اور پردے کے تحفظ کے لیے تڑپنا دور حاضر کی مسلم خواتین کے لیے ایک ابدی مشعل راہ ہے۔ آپ نے قید و بند کی صعوبتوں میں بھی چادر کے تقدس پر آنچ نہ آنے دی اور باطل کے سامنے سر جھکانے کی بجائے اپنے تقویٰ اور حیا کو فتح کا دیار بنایا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ ہمیں سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی اس عظیم سیرت اور اسوۂ حسنہ پر سچے دل سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کو حضرت فاطمۃ الزہرا اور سیدہ زینب جیسی حیا، پاک دامنی اور پردے کا مخلصانہ ذوق و شوق نصیب فرمائے۔ اور ہمیں فتنوں سے محفوظ رکھے۔ اور ہمارے دلوں کو ائمہ اہل بیت کے حقیقی راستے کی طرف موڑ دے جو نماز، صبر، تقویٰ ہے اور شریعت محمدی کی پاسداری کا راستہ ہے۔ ہمیں یہ شعور اور توفیق دے کہ ہم ان لغو اور من گھڑت طریقوں سے بچیں اور غم حسین کو سیرت حسین پر چل کر یاد کریں۔ اور ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق دے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی رضا اور خوشنودی کا باعث بنے۔ آمین بجاہ سید المرسلین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!