| عنوان: | میدانِ کربلا کا پس منظر اور پیش منظر |
|---|---|
| تحریر: | محمد سلمان العطاری |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
اسلامی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جو رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دیتے ہیں۔ واقعۂ کربلا بھی انہی عظیم اور لازوال واقعات میں سے ایک ہے۔ یہ صرف ایک جنگ یا تاریخی سانحہ نہیں بلکہ صبر، استقامت، قربانی، حق گوئی اور دینِ اسلام کی بقا کی ایک عظیم داستان ہے۔ میدانِ کربلا کا ذکر آتے ہی سید الشہداء حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ، ان کے جانثار ساتھیوں اور اہلِ بیتِ اطہار کی بے مثال قربانیوں کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔
واقعۂ کربلا کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر اور پیش منظر دونوں کا مطالعہ نہایت ضروری ہے، کیونکہ کسی بھی تاریخی واقعے کے اسباب و نتائج کو جانے بغیر اس کی اصل روح کو سمجھنا ممکن نہیں۔
میدانِ کربلا کا پس منظر
1۔ خلافتِ راشدہ کا اختتام
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اسلامی ریاست میں سیاسی اختلافات نے جنم لیا۔ پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں کئی فتنے رونما ہوئے، جن میں جنگِ جمل اور جنگِ صفین قابلِ ذکر ہیں۔ سن 40 ہجری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے۔ لیکن مسلمانوں کے اتحاد اور خونریزی کو روکنے کے لیے انہوں نے اپنی خلافت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں چھوڑ دی۔
2۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور
آپ کا نام معاویہ اور کنیت ابو عبد الرحمن ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور امن و استحکام کا دور تھا۔ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وفات کے بعد یزید تختِ سلطنت پر بیٹھا اور اس نے اپنی بیعت لینے کیلئے اطراف و ممالک سلطنت میں مکتوب روانہ کئے۔
3۔ یزید کی بیعت کا مسئلہ
سن 60 ہجری میں یزید کے حکمران بنتے ہی اس نے مدینہ منورہ کے گورنر "ولید بن عقبہ" کو حکم دیا کہ وہ ہر عام و خاص سے میری بیعت لو اور حسین بن علی، عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنھم) سے پہلے بیعت لو، ان سب کو ایک لمحہ مہلت نہ دو۔ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار فرمایا، کیونکہ آپ کے نزدیک خلافت ایک عظیم امانت تھی اور آپ ایسے شخص کی بیعت نہیں کرنا چاہتے تھے جس کے طرزِ حکومت پر آپ کو شدید تحفظات تھے۔
4۔ اہلِ کوفہ کے خطوط
کوفہ کے ہزاروں لوگوں نے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھے اور آپ کو دعوت دی کہ آپ کوفہ تشریف لائیں، ہم آپ کی نصرت کریں گے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے پہلے اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو حالات کا جائزہ لینے کے لیے کوفہ بھیجا۔
5۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی شہادت
ابتدا میں اہلِ کوفہ نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کا بھرپور استقبال کیا، لیکن جب یزید نے عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا تو اس نے لوگوں کو دھمکا کر اور لالچ دے کر حضرت مسلم رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ بالآخر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا۔
میدانِ کربلا کا پیش منظر
1۔ مکہ مکرمہ سے روانگی
سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ جن کا کربلا میں شہید ہونا ازل میں مقدر ہو چکا تھا ان کے لیے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ اب کربلا کی طرف جانا ان کا ضروری ہوگیا۔ حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے خط آنے کے بعد امام عالی مقام کو کوفیوں کی درخواست قبول کرنے میں کوئی معقول عذر باقی نہ رہا تو آپ عراق جانے کے لیے تیار ہو گئے اور سفر کے اسباب درست ہونے لگے۔
جب مکہ والوں کو آپ کی تیاری کا علم ہوا تو انہوں نے آپ کا عراق کی طرف جانا پسند نہ کیا جلیل القدس صحابہ "حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت جابر اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنھم" وغیرہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا آپ کوفہ ہرگز نہ جائیں کہ وہاں کے لوگ درہم و دینار کے بندے ہیں۔ غرض کہ بڑے بڑے صحابہ کرام آپ کو اس سفر سے روکنے کے لیے بہت اصرار کرتے رہے اور آخر تک یہی کوشش کرتے رہے کہ آپ مکہ مکرمہ سے تشریف نہ لے جائیں مگر ان کی کوششیں کار آمد نہ ہوئیں یہاں تک کہ امام عالی مقام 3 ذی الحجہ 60 ہجری کو اپنے اہلبیت اور موالی و خدام کل بیاسی (82) نفوس کے ساتھ مکہ شریف سے عراق کے لئے روانہ ہو گئے۔
2۔ راستے میں مختلف ملاقاتیں
راستے میں کئی لوگوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ جانے سے منع کیا، کیونکہ انہیں اہلِ کوفہ کی بے وفائی کا اندیشہ تھا، لیکن امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اصلاحِ امت اور حق کے قیام کے لیے نکل رہا ہے۔
دو قدم بھی نہیں چلنے کی ہے طاقت مجھ میں
عشق کھینچے لئے جاتا ہے میں کیا جاتا ہوں
3۔ کربلا میں آمد
2 محرم الحرام 61 ہجری کو امام حسین رضی اللہ عنہ کربلا کے میدان میں پہنچے۔ یہی وہ سرزمین تھی جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی تھی۔
4۔ پانی کی بندش
7 محرم کو یزیدی لشکر نے دریائے فرات سے پانی لینا بند کر دیا۔ شدید گرمی میں اہلِ بیتِ اطہار اور معصوم بچوں پر پیاس کی شدت بڑھتی گئی، لیکن امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
5۔ شبِ عاشور
9 محرم کی رات امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو اجازت دی کہ اگر کوئی جانا چاہے تو چلا جائے، کیونکہ دشمن صرف مجھے چاہتا ہے۔ لیکن آپ کے وفادار ساتھیوں نے جواب دیا: "اگر ہمیں ستر مرتبہ بھی قتل کر کے زندہ کیا جائے تو بھی ہم آپ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔"
6۔ یومِ عاشور
10 محرم الحرام 61 ہجری بروز جمعہ یا ہفتہ (روایات میں اختلاف ہے) جنگ کا آغاز ہوا۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھی ایک ایک کر کے شہید ہوتے گئے۔ اہلِ بیت کے نوجوانوں نے بھی بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔
مرد حق باطل سے ہرگز خوف کھا سکتا نہیں
سر کٹا سکتا ہے لیکن سر جھکا سکتا نہیں
7۔ حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ کی شہادت
حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔ آپ کی شہادت نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے دل کو شدید غم میں مبتلا کر دیا۔
8۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی شہادت
حضرت عباس علمدار بچوں کے لیے پانی لانے گئے، لیکن راستے میں شہید کر دیے گئے۔
9۔ حضرت علی اصغر رضی اللہ عنہ کی شہادت
چھ ماہ کے شیر خوار حضرت علی اصغر رضی اللہ عنہ بھی یزیدی ظلم کا نشانہ بنے اور شہید کر دیے گئے۔
10۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم شہادت
تمام ساتھیوں کی شہادت کے بعد اب جگر پارۂ رسول، شہزادۂ بتول، علی کے نورعین، مومنوں کے دل کے چین، جنتی نوجوانوں کے سردار، مجاھدوں کے قافلہ سالار، ابن حیدر کرار، شہنشاہ کربلا، پیکر صبر و رضا حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا وقت آگیا۔ جب آپ نے میدانِ جنگ میں جانے کا ارادہ فرمایا تو حضرت زین العابدین اپنی بیماری کی نقاہت اور کمزوری کے باوجود نیزہ لئے ہوئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "بابا جان پہلے ہمیں میدانِ کار زار میں جانے اور اپنی جان نثار کرنے کی اجازت دیجئے، میرے ہوتے ہوئے آپ شہید ہو جائیں یہ نہیں ہوسکتا۔" امام عالی مقام نے نورِ نظر کو اپنی آغوشِ محبت میں لیا، پیار کیا اور چند نصیحتیں فرما کر انہیں بسترِ علالت پر لٹا دیا۔ آپ نے نہایت بہادری سے مقابلہ کیا اور آخرکار جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی شہادت کے ساتھ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم باب رقم ہوا۔
واقعۂ کربلا کے اہم اسباق
• حق کے لیے قربانی دینا: حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے ثابت کیا کہ حق کے لیے جان، مال اور خاندان سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے۔
• ظلم کے سامنے نہ جھکنا: کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ باطل اور ظلم کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے۔
• صبر و استقامت: شدید پیاس، بھوک اور مصائب کے باوجود اہلِ بیت نے صبر کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
• دین کی حفاظت: اگر امام حسین رضی اللہ عنہ قربانی نہ دیتے تو امتِ مسلمہ کے لیے حق اور باطل میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا bilge۔
• وفاداری کا درس: حضرت عباس، حضرت حبیب بن مظاہر اور دیگر جانثاروں نے وفاداری کی بے مثال مثالیں قائم کیں۔ (رضی اللہ عنھم)
لبِ لباب
میدانِ کربلا صرف ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ ایک درسگاہ ہے جو ہر دور کے مسلمانوں کو حق، صداقت، قربانی، صبر اور استقامت کا پیغام دیتی ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے خون سے اسلام کی آبیاری کی اور یہ پیغام دیا کہ باطل خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کی شمع کبھی بجھ نہیں سکتی۔ اسی لیے آج بھی دنیا کے گوشے گوشے میں یہ صدا گونجتی ہے:
"کربلا والوں نے اسلام کو زندہ کر دیا، اور یہ ثابت کر دیا کہ حق ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔"
خداوندِ متعال ہمیں حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔
