| عنوان: | نکاح کی عظمت اور زنا کی تباہی |
|---|---|
| تحریر: | انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف |
انسانی زندگی محض خواہشات کا نام نہیں بلکہ اصول، اقدار، حیا، عفت اور ذمہ داری کا مجموعہ ہے۔ یہی اوصاف انسان کو حیوانیت سے بلند کر کے شرافت و انسانیت کے مقام تک پہنچاتے ہیں۔ جب انسان اپنی خواہشات کو عقل، ایمان اور شریعت کے تابع رکھتا ہے تو اس کی زندگی سکون، پاکیزگی اور عزت کا نمونہ بن جاتی ہے، لیکن جب وہ خواہشاتِ نفس کو بے لگام چھوڑ دیتا ہے تو وہی خواہشات اسے اخلاقی پستی، روحانی تباہی اور معاشرتی بگاڑ کی طرف لے جاتی ہیں۔
اسلام چونکہ دینِ فطرت ہے، اس لیے اس نے انسانی جذبات اور تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ ان کے لیے پاکیزہ اور متوازن راستہ متعین فرمایا۔ اسی پاکیزہ راستے کا نام نکاح ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں خواہشات کی ناجائز تسکین کا نام زنا ہے۔ نکاح اسلام میں محض ایک سماجی رسم یا قانونی معاہدہ نہیں بلکہ عبادت، سنتِ انبیاء، تحفظِ نسل، سکونِ قلب اور پاکیزہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ اس کے برعکس زنا صرف ایک شخصی گناہ نہیں بلکہ ایسا مہلک جرم ہے جو فرد کے کردار، خاندان کے وقار اور پورے معاشرے کے اخلاقی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے نکاح کو عزت، رحمت اور سکون کا ذریعہ قرار دیا، جبکہ زنا کو فاحشہ اور بدترین راستہ فرمایا۔
قرآنِ حکیم میں دو عظیم واقعات ایسے بیان ہوئے ہیں جو اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔ ایک طرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ ہے جنہوں نے پاکیزہ نکاح کے حصول کے لیے برسوں محنت اور خدمت کو قبول فرمایا، اور دوسری طرف حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ہے جنہوں نے گناہ سے بچنے کے لیے قید و بند کی سختیوں کو برداشت کر لیا مگر اپنے دامنِ عصمت کو آلودہ نہ ہونے دیا۔ ان دونوں واقعات میں دراصل پوری انسانیت کے لیے یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ حلال راستہ اگرچہ صبر اور قربانی چاہتا ہے، لیکن اس کا انجام عزت، سکون اور اللہ کی رضا ہے، جبکہ حرام راستہ بظاہر آسان اور دلکش محسوس ہوتا ہے مگر اس کا انجام ذلت، بے سکونی اور روحانی تباہی ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ سورۂ قصص میں مذکور ہے۔ جب آپ مدین پہنچے تو وہاں دو خواتین کو دیکھا جو اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے لیے انتظار کر رہی تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کی مدد فرمائی۔ ان کے کردار، قوت اور امانت داری سے متاثر ہو کر ان میں سے ایک خاتون نے اپنے والد سے عرض کیا:
قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [سورۃ القصص: 26]
“ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا: ابا جان! انہیں ملازم رکھ لیجیے، بے شک بہترین آدمی وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔”
یہاں قرآنِ کریم نے ایک پاکیزہ معاشرے کی بنیاد بیان فرما دی۔ تعلقات کی بنیاد ظاہری حسن, دولت یا وقتی کشش پر نہیں بلکہ کردار، امانت اور دیانت پر ہونی چاہیے۔ اسی لیے اس خاتون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ظاہری حیثیت نہیں بلکہ ان کی امانت داری کو ترجیح دی۔ بعد ازاں حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا:
إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَىٰ أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ ۖ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ [سورۃ القصص: 27]
“میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں، اس شرط پر کہ تم آٹھ سال میری خدمت کرو، پھر اگر دس سال پورے کرو تو یہ تمہاری طرف سے احسان ہوگا۔”
یہ آیت اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام نے نکاح کو کتنی عظمت دی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے نکاح کے لیے محنت اور خدمت کو قبول فرمایا۔ گویا حلال تعلق کے لیے قربانی دینا باعثِ عزت ہے۔ اس واقعے میں نوجوان نسل کے لیے یہ عظیم سبق موجود ہے کہ نکاح ذمہ داری، استقامت اور سنجیدگی کا نام ہے، نہ کہ محض وقتی جذبات کا۔
اس کے بالمقابل حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ انسانی عفت و پاکدامنی کی معراج ہے۔ جوانی، حسن، تنہائی اور گناہ کے تمام اسباب موجود تھے، مگر اللہ کا خوف ان تمام چیزوں پر غالب تھا۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے:
وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ [سورۃ یوسف: 23]
“اور جس عورت کے گھر میں وہ تھے اس نے انہیں اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کر کے کہا: آؤ!”
لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کی زبان سے فوراً یہ الفاظ نکلے:
مَعَاذَ اللَّهِ [سورۃ یوسف: 23]
“میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔”
یہ مختصر جملہ دراصل ایمان، تقویٰ اور معرفتِ الٰہی کی مکمل تفسیر ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ واضح کر دیا کہ جس دل میں اللہ کا خوف زندہ ہو، وہاں گناہ کی کشش اپنا اثر نہیں دکھا سکتی۔ جب حالات مزید دشوار ہوئے تو آپ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا:
رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ [سورۃ یوسف: 33]
“اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس کام سے زیادہ پسند ہے جس کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں۔”
یہ دعا دراصل قیامت تک آنے والے اہلِ ایمان کے لیے ایک عظیم پیغام ہے کہ وقتی آزمائش برداشت کر لینا آسان ہے، مگر اللہ کی نافرمانی انسان کو اندر سے تباہ کر دیتی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے قید قبول کر لی لیکن گناہ قبول نہ کیا۔ یہی حقیقی ایمان کی علامت ہے۔
اسلام نے نکاح کو مضبوط عہد قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا [سورۃ النساء: 21]
“اور وہ تم سے مضبوط عہد لے چکی ہیں۔”
“میثاقِ غلیظ” کی تعبیر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ نکاح محض جذباتی تعلق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے جس پر خاندان، نسل اور معاشرتی استحکام کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا۔ ارشاد فرمایا:
النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي
“نکاح میری سنت ہے۔” [سنن ابن ماجہ، حدیث: 1846]
اس حدیث میں حضور اکرم ﷺ نے نکاح کو اپنے طریقے سے وابستہ فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح انسان کی فطری ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے دین، اخلاق اور کردار کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ اسی لیے علماء نے لکھا ہے کہ نکاح معاشرے میں پاکیزگی اور استحکام پیدا کرتا ہے۔
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ
“اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے۔” [صحیح بخاری، حدیث: 5066]
اس حدیث کے اگلے الفاظ میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ نکاح نگاہوں کو جھکانے اور شرمگاہ کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس ارشادِ نبوی ﷺ میں انسانی فطرت کی مکمل رہنمائی موجود ہے۔ اسلام نے خواہشات کے انکار کے بجائے ان کی صحیح رہنمائی کی ہے تاکہ انسان پاکیزگی کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
اسی لیے اسلام نے زنا کو نہایت سختی سے حرام قرار دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا [سورۃ الاسراء: 32]
“اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی اور بہت برا راستہ ہے۔”
یہاں صرف زنا سے منع نہیں کیا گیا بلکہ اس کے قریب جانے سے بھی روکا گیا ہے۔ اس میں ہر وہ چیز شامل ہے جو انسان کو گناہ کی طرف لے جائے؛ بے پردگی، فحش گفتگو، ناجائز تعلقات، شہوت انگیز مناظر اور غیر ضروری اختلاط وغیرہ۔ اسلام جرم کے اسباب کو ختم کر کے پاکیزہ معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“زانی جب زنا کرتا ہے تو حالتِ ایمان میں نہیں ہوتا۔” [صحیح بخاری، حدیث: 2475]
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کے وقت انسان کے دل پر ایمان کی کیفیت غالب نہیں رہتی۔ اگر دل میں اللہ کا خوف اور آخرت کا یقین پوری قوت کے ساتھ موجود ہو تو انسان اس گناہ کی جرأت نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ گناہ انسان کے دل کی روشنی کو کمزور کر دیتا ہے۔
معاشرتی اعتبار سے زنا کی تباہ کاریاں انتہائی وسیع ہیں۔ اس سے خاندان بکھر جاتے ہیں، اعتماد ختم ہو جاتا ہے، نسب مشکوک ہو جاتے ہیں، غیرت و حیا کمزور پڑ جاتی ہے اور نئی نسل اخلاقی بحران کا شکار ہو جاتی ہے۔ مغربی معاشروں میں خاندانی نظام کی تباہی اس حقیقت کی زندہ مثال ہے۔ اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی انسانیت کو اس انجام سے خبردار کر دیا تھا۔
اس کے برعکس نکاح انسان کو سکون، محبت اور رحمت عطا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [سورۃ الروم: 21]
“اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔”
یہی وہ سکون ہے جس کی تلاش میں آج کا انسان بھٹک رہا ہے۔ دولت، شہرت اور آسائشیں وقتی راحت تو دے سکتی ہیں مگر قلبی اطمینان صرف اسی زندگی میں ملتا ہے جو اللہ کی اطاعت اور پاکیزگی پر قائم ہو۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان حضرت موسیٰ علیہ السلام کے صبر اور حضرت یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کو اپنا نمونہ بنائیں۔ والدین نکاح کو آسان بنائیں، معاشرہ حیا کو فروغ دے، اور نوجوان اپنی نگاہوں اور کردار کی حفاظت کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو فرد کو عزت، خاندان کو استحکام اور معاشرے کو پاکیزگی عطا کرتا ہے۔
آخر میں یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ نکاح انسان کو انسانیت کی معراج تک پہنچاتا ہے جبکہ زنا اسے اخلاقی تباہی کی گہرائیوں میں دھکیل دیتا ہے۔ ایک راستہ انبیاء کا راستہ ہے اور دوسرا نفس و شیطان کا۔ کامیاب وہی ہے جو وقتی خواہشات کے مقابلے میں دائمی پاکیزگی کو اختیار کرے اور اللہ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حلال و حرام کی تمیز عطا فرمائے، نکاح کی عظمت کو سمجھنے کی توفیق دے، اور ہر قسم کی بے حیائی سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین۔
