| عنوان: | سیّد الشہداء حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| منجانب: | جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی شریف |
سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادتِ مبارکہ 5 شعبان 4ھ کو مدینہ طیبہ میں ہوئی۔ سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ کے کان میں اذان دی، منہ میں لعابِ دہن ڈالا اور آپ کے لیے دعا فرمائی، پھر ساتویں دن آپ کا نام حسین رکھا اور عقیقہ کیا۔
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب “سبطِ رسول” اور “ریحانۃ الرسول” ہے۔ حدیث شریف میں ہے، رسولِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کا نام شبّر و شبیر رکھا اور میں نے اپنے بیٹوں کا نام انہی کے نام پر حسن اور حسین رکھا ہے۔ اسی لیے حسنین کریمین کو شبّر و شبیر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ سریانی زبان میں شبّر و شبیر اور عربی زبان میں حسن و حسین دونوں کے معنی ایک ہیں۔
اور حدیث میں ہے کہ:
اَلْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ اسْمَانِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
حسن اور حسین جنتی ناموں میں سے دو نام ہیں۔ عرب کے زمانۂ جاہلیت میں یہ دونوں نام نہیں تھے، ابن الاعرابی حضرت مفضل سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نام خفی رکھے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے نواسوں کا نام حسن اور حسین رکھا ہے۔
حضرت ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی چچی، حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہلیہ محترمہ ایک دن حضور کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: “یا رسول اللہ! آج میں نے ایک ایسا خواب دیکھا ہے کہ جس سے میں ڈر گئی ہوں”۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: “تو نے کیا دیکھا ہے؟” انہوں نے عرض کیا: “وہ بہت سخت ہے جس کے بیان کی میں اپنے اندر جرأت نہیں پاتی ہوں”۔ حضور نے فرمایا: “بیان کرو”۔ تو انہوں نے عرض کیا: “میں نے یہ دیکھا ہے کہ حضور کے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھا گیا ہے”۔ ارشاد فرمایا: “تمہارا خواب بہت اچھا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ فاطمہ زہرا کے بیٹا پیدا ہوگا اور وہ تمہاری گود میں دیا جائے گا”۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے اور حضرت ام الفضل کی گود میں دیے گئے۔
ترمذی شریف کی حدیث ہے، حضرت یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضور پرنور سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنَ الْحُسَيْنِ
حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، یعنی حسین کو حضور سے اور حضور کو حسین سے انتہائی قرب ہے گویا کہ دونوں ایک ہیں، تو حسین کا ذکر حضور کا ذکر ہے، حسین سے دوستی حضور سے دوستی ہے، حسین سے دشمنی حضور سے دشمنی ہے اور حسین سے لڑائی کرنا حضور سے لڑائی کرنا ہے۔
سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْناً
ترجمہ: جس نے حسین سے محبت کی اس نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی۔
اس لیے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محبت کرنا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے محبت کرنا ہے اور حضور سے محبت کرنا اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: “جسے پسند ہو کہ کسی جنتی جوانوں کے سردار کو دیکھے تو وہ حسین بن علی کو دیکھے”۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا: “چھوٹا بچہ کہاں ہے؟” حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور حضور کی گود میں بیٹھ گئے اور اپنی انگلیاں داڑھی مبارک میں داخل کر دیں، حضور نے ان کا منہ کھول کر بوسہ لیا پھر فرمایا:
اَللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ
اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے بھی محبت فرما جو اس سے محبت کرے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لعابِ دہن کو اس طرح چوستے ہیں جیسے کہ آدمی کھجور چوستا ہے:
يَمْتَصُّ لُعَابَ الْحُسَيْنِ كَمَا يَمْتَصُّ الرَّجُلُ التَّمَرَةَ[اشرف المؤبد، مشکوٰۃ شریف]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا:
إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَايَ مِنَ الدُّنْيَا
ترجمہ: حسن اور حسین دنیا کے میرے دو پھول ہیں۔ [ایضاً، ص: 570]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
ترجمہ: حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔ [مشکوٰۃ شریف]
حضرت جعفر صادق بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کم سنی کے زمانے میں ایک دوسرے سے کشتی لڑ رہے تھے اور حضور بیٹھے ہوئے یہ کشتی ملاحظہ فرما رہے تھے، تو حضرت حسن سے حضور نے فرمایا: “حسین کو پکڑ لو”۔ اور حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب یہ سنا تو انہیں تعجب ہوا اور عرض کیا: “ابا جان! آپ بڑے سے فرما رہے ہیں کہ چھوٹے کو پکڑ لو”۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: “دوسری طرف جبرائیل حسین سے کہہ رہے ہیں کہ حسن کو پکڑ لو”۔ یزیدی آنکھیں کھول کر دیکھ لیں حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا وہ مقام ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آکر ان کے درمیان کشتی لڑا رہے ہیں۔ [نور الابصار، ص: 114]
