| عنوان: | ہمارے راستے اور ہم |
|---|---|
| تحریر: | مفتی ڈاکٹر سبطین رضا مرتضوی |
| پیش کش: | مریم رضوی |
ذرا ٹھہرئیے! اس سے پہلے کہ ہم لفظوں کی پگڈنڈی پر آگے بڑھیں، ایک لمحے کے لیے اپنی آنکھیں موند لیجیے۔ تصور کیجیے؛ ایک طلسماتی دنیا جہاں ہر راستہ ریشم کی لکیر ہو اور ہر بازار رنگوں کی ایک بستی۔ جہاں قدموں کی چاپ میں ایک گیت ہو اور ہر نگاہ میں ایک ان کہی کہانی۔ جہاں فضا میں مہکتی ہوئی خوشبو اس بات کا اعلان کرتی ہو کہ یہ صرف پتھر اور تارکول کی بنائی ہوئی گزرگاہیں نہیں بلکہ یہ تو شہر کی زندہ سانسیں ہیں، جہاں ہر شخص ایک دوسرے کے لیے راحت کا سائبان بنتا ہے۔ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ یہ ایک تہذیب کا وہ عکس ہے جو ہماری روح کے نہاں خانوں میں کہیں پوشیدہ ہے جو ہمیں بے ساختہ خوبصورت رویوں کی طرف مائل کرتا ہے۔ مگر آنکھیں کھلتی ہیں تو نظر آتا ہے ایک دوسرا ہی منظر۔ شہر کی یہ شاہراہیں جو کبھی زندگی کا ساز تھیں، اب بے ہنگم شور کا میدان ہیں۔ بازار جو کبھی محبت اور میل جول کے آئینے تھے، اب بے حسی کی گرد سے اٹے ہیں۔ یہاں انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے مگر ایسا لگتا ہے جیسے ہر موج اپنی ہی سمت بھاگ رہی ہو۔ اس سمندر میں تہذیب کی کشتی کبھی ڈگمگاتی اور کبھی غرق ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ یہاں ہر شخص اپنی خیاالات میں قید ہے، جہاں دوسروں کے وجود کی پرواہ سراب سے زیادہ نہیں۔ یہ کوئی دلکش افسانہ نہیں یہ ہماری اپنی حقیقت کا ایک تلخ باب ہے۔
روزمرہ کے مشاہدات اور تہذیبی زوال
ہم روزمرہ کی زندگی میں آدابِ راہ کی پامالی کے بے شمار ایسے مناظر دیکھتے ہیں جو نہ صرف آنکھوں کو ناگوار گزرتے ہیں بلکہ روح کو بھی مجروح کرتے ہیں اور دل پر ایک عجیب سی بے کیفی طاری ہوتی ہے۔ یہ وہ لمحات ہیں جب ہماری تہذیب پارہ پارہ ہوتی ہے۔ آپ ایک مصروف سڑک پر پیدل چل رہے ہیں، اچانک ایک موٹر سائیکل سوار آپ کے بالکل قریب سے سرسراتی بجلی کی طرح گزرتا ہے اور اپنی بے جا ہارن کی کرخت آواز سے آپ کو چونکا دیتا ہے، حالانکہ وہاں کسی قسم کے خطرے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔ یہ محض ہارن کی آواز نہیں بلکہ یہ دوسروں کے سکون کو غارت کرنے کی ایک بے شعوری کوشش ہے، یہ ایک ایسی ناگواری ہے جو ہوا میں گھل کر اجتماعی اضطراب اور چڑچڑے پن کا باعث بنتی ہے۔ آپ ایک عوامی بس میں سفر کر رہے ہیں، کھڑکی سے سر نکالے ایک صاحب نے منہ سے پچکاری یوں اچھالی جیسے کوئی گلاب کی پنکھڑی نچھاور کر رہا ہو اور یہ بھول گئے کہ ان کی اس ”بے نیازی“ کا شکار کوئی راہ گیر بھی ہو سکتا ہے، جو ان کی اس ”تہذیبی پچکاری“ سے لت پت ہو کر بدبو اور کراہت کی گہرائیوں میں ڈوب جائے۔ یہ صرف ایک ناگوار بدبو نہیں بلکہ یہ عوامی مقامات کو گندا کرنے کی ایک افسوس ناک عادت ہے۔ یہ اس اجتماعی احساس کی موت ہے جو ہمیں دوسروں کے لیے ذمہ دار بناتی ہے، اس احساس کی جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہماری ہر حرکت کے اثرات دوسروں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ یا پھر ایک صاحب گاڑی کا شیشہ کھولتے ہیں اور نہایت اطمینان سے کیلے کا چھلکا یا پلاسٹک کی خالی بوتل سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ یہ محض ایک چھلکا نہیں بلکہ ہماری بے حسی اور ماحولیاتی ذمہ داری سے غفلت کا ایک کھلا ہوا ثبوت ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا یہ عمل نہ صرف سڑک کو گندا کرتا ہے بلکہ یہ کیلے کا چھلکا کسی راہ گیر کے پھسلنے کا باعث بن سکتا ہے جو ہسپتال کے بستر پر لے جانے کے لیے کافی ہے اور یہ پلاسٹک جو آج انھوں نے پھینکی ہے شاید صدیوں تک زمین میں موجود رہ کر آلودگی پھیلاتی رہے گی۔ یہ ایک ایسا قرض ہے جو ماحول ہم سے وصول کرتا ہے اور پھر ہماری صحت اور ہمارے بچوں کے مستقبل پر اس کے منفی اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی طرح گاڑی سے بسکٹ کے ریپرز، ٹشوپیپر، یا دیگر کھانے پینے کی چیزوں کے فضلات پھینک دینا بھی عام ہو گیا ہے، جو ہماری شہری ذمہ داری کا فقدان ظاہر کرتا ہے۔
ہمارے راستے، ہماری اجتماعی زندگی کا عکس ہیں۔ یہاں کوئی سست قدم چلتا ہے تو وہ ایک سست رفتار گھڑیال کی مانند دکھائی دیتا ہے جو وقت کا ادراک ہی نہیں رکھتا اور پیچھے آنے والوں کے لیے غیر ارادی طور پر رکاوٹ بنتا ہے۔ اس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے اور بسا اوقات غصہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ کوئی ٹریفک میں بے دھڑک گھستا ہے تو وہ ایک بے لگام گھوڑے کی طرح ہوتا ہے جو دوسروں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے اور ٹریفک کے بہاؤ کو متاثر کرتا ہے۔ یہ ایک غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے جو کئی بار حادثات کا سبب بنتی ہے اور زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ کوئی ہجوم میں کندھے سے کندھا چھوتا ہوا نکل جاتا ہے، جیسے راستے پر اس کا ذاتی حق ہو اور باقی سب اس کے رحم و کرم پر ہوں۔ یہ ایک خود غرضانہ رویہ ہے جو دوسروں کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا اور معاشرتی تعلقات میں کشیدگی پیدا کرتا ہے۔ یہ محض چند مثالیں ہیں، لیکن یہ ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی ایک ایسی بیماری کی نشاندہی کرتی ہیں جو بظاہر چھوٹی لگتی ہے مگر اس کے اثرات گہرے ہوتے ہیں۔ راہ میں تھوکنا، کوڑا پھینکنا (خاص طور پر کیلے کے چھلکے اور پلاسٹک جیسی غیر حل پذیر اشیا)، دوسروں کے راستے میں رکاوٹ بننا، بلند آواز میں گفتگو کرنا جس سے دوسروں کو تکلیف ہو، عوامی مقامات پر شور شرابا کرنا، فٹ پاتھوں پر دکانیں لگانا جس سے پیدل چلنے والوں کو مشکل پیش آئے — یہ سب نہ صرف ہماری اخلاقی پستی کا مظہر ہیں بلکہ یہ ہمارے اردگرد کے ماحول کو بھی آلودہ کرتے ہیں۔ راستے اور بازار عوامی مقامات ہیں اور ان کی صفائی، ان کی پاکیزگی اور ان میں نظم و ضبط برقرار رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری سے پہلو تہی دراصل ہماری اپنی ہی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے اور ایک ایسے شہر کی تشکیل میں معاون ہے جہاں بے حسی کی وبا عام ہے۔
سیرتِ نبوی کی روشنی میں آدابِ راہ
یہ وہ آداب ہیں جن کا ذکر صرف جدید معاشرتی علوم میں ہی نہیں بلکہ آج سے چودہ سو سال قبل ہمارے پیارے نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نہایت وضاحت اور تاکید کے ساتھ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آداب کو نہ صرف اپنی تعلیمات کا حصہ بنایا بلکہ اپنی عملی زندگی میں ان کا بہترین نمونہ پیش کیا۔ سیرتِ نبوی کے مطالعے سے ہمیں ان آداب کی ایک مکمل اور جامع تصویر ملتی ہے، جو نہ صرف فرد کی تہذیب بلکہ پورے معاشرے کی فلاح و بہبود کی ضامن ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راستوں کا حق ادا کرو!“ یہ ایک مختصر مگر جامع حکم تھا جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے راہنمائی کا سرچشمہ بن گیا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! راستے کا حق کیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”نگاہیں نیچی رکھنا، تکلیف دہ چیزوں کو ہٹانا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا۔“ [مسلم، کتاب اللباس، رقم الحدیث: 5563]
یہ حدیثِ مبارک آدابِ راہ کا ایک مکمل دستورالعمل فراہم کرتی ہے، جو ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے قابلِ عمل ہے۔
نگاہیں نیچی رکھنا
یہ صرف جنسی بے راہ روی سے بچنے کے لیے ہی نہیں بلکہ یہ دوسروں کی پرائیویسی اور انفرادی حدود کا احترام بھی ہے۔ بازار میں چلتے ہوئے یا راستے سے گزرتے ہوئے بلاجواز دوسروں کی اشیا یا اعمال میں تاک جھانک کرنا اخلاقی گراوٹ کی علامت ہے، یہ دوسروں کو ناگوار گزرتا ہے اور انہیں غیر محفوظ محسوس کراتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرماکر ایک مہذب، باوقار اور باحیا معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں ہر شخص دوسرے کی عزت و آبرو کا خیال رکھتا ہے اور ایک دوسرے کے وجود کا احترام کرتا ہے۔
تکلیف دہ چیزوں کو ہٹانا
یہ ایک ایسا عمل ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کے شعبوں میں سے ایک قرار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کے ستر سے کچھ اوپر یا ستر سے کچھ کم شعبے ہیں اور سب سے ادنیٰ شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔“ [مسلم، کتاب الایمان، رقم الحدیث: 153]
یہ لکڑی کا ٹکڑا ہو یا پتھر، کانٹا ہو یا شیشے کا ٹکڑا، یا پھر منہ کی پچکاری، کیلے کا چھلکا، پلاسٹک کی بے کار بوتل، بسکٹ کا خالی ریپر، پانی کا خالی پیکٹ، سگریٹ کا بجھا ہوا ٹوٹا، یا کوئی بھی غیر حل پذیر کچرا — ہر وہ چیز جو کسی دوسرے کے لیے گرنے، پھسلنے یا کسی بھی قسم کی تکلیف کا باعث بنے، اسے راستے سے ہٹانا ایک ایمانی فریضہ ہے۔ آج جو لوگ راستوں پر کوڑا پھینکتے ہیں یا بے دریغ تھوکتے ہیں، وہ دراصل اس نبوی تعلیم کی صریحاً خلاف ورزی کر رہے ہیں اور اپنے ایمان کی کمزوری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس عمل میں نہ صرف صفائی ستھرائی کی اہمیت ہے بلکہ دوسروں کی راحت رسانی کا درس بھی مضمر ہے۔
سلام کا جواب دینا
یہ تعلقات کو مضبوط بنانے، باہمی محبت کو فروغ دینے اور معاشرتی ہم آہنگی پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اسلام میں سلام کرنا سنت ہے اور اس کا جواب دینا واجب۔ راستے پر جب کوئی سنی صحیح العقیدہ شخص سلام کرے تو اس کا جواب دینا نہ صرف اخلاقی فرض ہے بلکہ مذہبی حکم بھی ہے۔ یہ معاشرے میں ایک مثبت اور دوستانہ ماحول پیدا کرتا ہے، جہاں لوگ ایک دوسرے سے تعلق محسوس کرتے ہیں۔
اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا
یہ وہ معاشرتی ذمہ داری ہے جو ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے۔ راستے پر اگر کوئی غلط کام ہو رہا ہو، کوئی کسی پر ظلم کر رہا ہو، یا کوئی معاشرتی آداب کی خلاف ورزی کر رہا ہو، تو حکمت اور نرمی کے ساتھ اسے روکنا اور اچھائی کی طرف مائل کرنا بھی راستے کا حق ہے۔ یہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے کہ ہم محض خاموش تماشائی نہ بنیں بلکہ ایک فعال اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ اس سے معاشرے میں اصلاح کا ایک مستقل عمل جاری رہتا ہے۔ ان بنیادی آداب کے علاوہ سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مزید کئی پہلوؤں پر روشنی ملتی ہے، جو ہمیں ایک مکمل معاشرتی ضابطہ حیات فراہم کرتے ہیں، جیسے:
آہستہ روی اور وقار
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود چلنے میں ٹھہراؤ اور وقار پسند فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال میں ایک خاص قسم کا سکون اور اطمینان تھا۔ تیز روی اور بھاگ دوڑ جو بلاوجہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ تھی۔ اس میں یہ درس ہے کہ ہم راستے پر ایک سکون اور اطمینان کے ساتھ چلیں، دوسروں کو ہراساں نہ کریں اور نہ ہی ان کے لیے بھاگ دوڑ یا پریشانی کا سبب بنیں۔
بے جا شور سے پرہیز
بازاروں اور راستوں میں غیر ضروری شور شرابا کرنا یا بلند آواز میں باتیں کرنا دوسروں کے لیے اذیت کا باعث بنتا ہے۔ اسلام میں ہر اس عمل سے منع کیا گیا ہے جو دوسروں کو تکلیف پہنچائے یہ اصول ہمیں ایک خوشگوار اور پُر سکون ماحول برقرار رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
لوگوں کو راستہ دینا
ہجوم یا تنگ راستوں میں دوسروں کو راستہ دینا، خصوصاً کمزوروں، بچوں اور خواتین کو ایک اعلیٰ اخلاقی رویہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ دوسروں کو ترجیح دی اور اس کی تعلیم دی۔
تہذیب کی عمارت اور ہماری ذمہ داری
تمام تعلیمات ہمیں یہ سمجھاتی ہیں کہ ہمارا وجود صرف اپنی ذات تک محدود نہیں بلکہ ہم ایک وسیع اور انٹر کنیکٹڈ معاشرے کا حصہ ہیں۔ ہماری ہر حرکت، ہماری ہر نگاہ، ہمارا ہر لفظ دوسروں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک مہذب معاشرہ تبھی وجود میں آ سکتا ہے جب اس کے افراد ذاتی نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں۔ یہ نظم و ضبط صرف قوانین کی پابندی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اندرونی احساس ہے جو ہمیں دوسروں کے لیے سہولتیں پیدا کرنے پر اکساتا ہے اور اجتماعی بھلائی کی طرف مائل کرتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارے ایک چھوٹے سے عمل کا بھی دوسرے پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ ایک مسافر کا پھینکا ہوا چھلکا، ایک شخص کی اچھالی ہوئی پچکاری، ایک بے ترتیب پارک کی گئی گاڑی، سڑک پر بکھرا ہوا پلاسٹک کا کچرا یہ سب مل کر ہمارے شہروں کو بد نمائی کا روپ دیتے ہیں۔ یہ اعمال ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ ہم ایک اجتماعی ملکیت کا حصہ ہیں۔ جس طرح ہم اپنے گھر کو صاف ستھرا رکھتے ہیں، اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے راستوں اور بازاروں کو بھی صاف ستھرا رکھنا چاہیے۔ تہذیب کا تقاضا ہے کہ ہم راستے پر چلتے ہوئے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، نہ کہ مشکلات۔ ہمارے قدموں میں شائستگی ہو، ہماری نگاہوں میں حیا ہو اور ہماری زبان میں نرمی ہو۔ ہمیں اپنے بچوں کو بھی ان آداب کی تعلیم دینی چاہیے تاکہ وہ مستقبل کے مہذب شہری بن سکیں۔ راستوں میں چلنے کے آداب دراصل انسانیت کا احترام ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی جی رہے ہیں۔ جب ہم ان آداب کو اپنائیں گے تب ہی ہمارے بازار اور راستے حقیقی معنوں میں تہذیب کا گہوارہ بن سکیں گے۔ یہ محض ایک مضمون نہیں ہے، ایک پکار ہے کہ ہم سب مل کر اپنے راستوں کو، اپنے بازاروں کو تہذیب کا آئینہ بنائیں، جہاں سے انسانیت کا عکس نمایاں ہو اور جہاں سے سیرت نبوی کی خوشبو مہکے۔
