| عنوان: | حدیث ضعیف سے متعلقہ افادات رضویہ |
|---|---|
| تحریر: | سید حيدر الحسن شاہ |
| پیش کش: | سیدہ امنہ جیلانی و نقشبندی |
| منجانب: | جامعہ فاطمۃ الزھراء، گجرات |
علامہ سید علی بن محمد شریف جرجانی قدس سرہ (م: 816ھ) فرماتے ہیں؛ یہ وہ ہے جو مستند اور خیر کی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔ ترجمہ: ضعیف وہ حدیث ہے جس میں صحیح یا حسن کی شرائط جمع نہ ہوں۔ [علم اصول حدیث، صفحہ 43، مطبوعہ دار ابن حزم]
بلفظ دیگر یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ حدیث جس کے راویوں میں صحیح اور حسن کی تمام یا بعض شرائط مفقود ہوں اور یہ کمی پوری نہ ہو۔ یاد رہے کہ حدیث میں ضعف راوی کی وجہ سے ہوتا ہے ورنہ کوئی بھی حدیث جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے وہ ہرگز ضعیف نہیں۔
ضعیف کا حکم
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی المتوفیٰ علیہ الرحمہ (1340ھ) فرماتے ہیں: "حدیث ضعیف بالاجماع فضائل میں مقبول ہے تو اباحت میں بدرجہ اولیٰ۔" [فتاویٰ رضویہ، جلد 1، صفحہ 240]
"فضائل اعمال سے مراد اعمال (فضائل اعمال حسنہ) ہیں یعنی وہ اعمال کہ بہتر و مستحسن ہیں نہ خاص ثواب اعمال۔" [فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 600]
"(درجہ احکام میں) اگرچہ اتنی قوت درکار نہیں پھر بھی حدیث صحیح لذاتہ خواہ لغیرہ یا حسن لذاتہ یا کم سے کم لغیرہ ہونا چاہیے، جمہور علماء کا یہاں ضعیف حدیث نہیں سنتے۔" [فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 478]
"حدیث ضعیف احکام میں بھی مقبول ہے جبکہ محل احتیاط میں ہو۔" [فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 494]
تنبیہ
احادیث ضعیف اگرچہ مواعظ ترغیب و ترہیب میں بیان کی جاسکتی ہیں لیکن یہ یاد رہے کہ ضعیف حدیث کی نسبت بالجزم سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف کرنا روا نہیں۔ ہاں یوں کہا جا سکتا ہے کہ "رُوِيَ عن رسول الله صلى الله تعالى عليه وآله وسلم" یا "بلغنا عنه صلى الله تعالى عليه وآله وسلم كذا"۔
حدیث ضعیف کے مراتب
امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے حدیث ضعیف کے چار مراتب بیان فرمائے ہیں:
اول: ضعیف بضعف قریب یعنی ضعف اتنا کم ہے کہ لائق اعتبار ہے مثلاً یہ ضعف، اختلاط راوی، سوئے حفظ، تدلیس کی وجہ سے ہے یہ متابعات و شواہد کے کام آتی ہے اور جابر سے قوت پاکر حسن لغیرہ بلکہ صحیح لغیرہ ہو جاتی ہے۔
دوسرا: کمزور سے مضبوط کمزوری اور شدید کمزوری۔ جیسے وہ حدیث جو راوی کے فسق وغیرہ قوادح قویہ کے سبب متروک ہو بشرطیکہ ہنوز سرحد کذب سے جدائی ہو یہ احکام میں لائق احتجاج نہیں البتہ مذہب راجح پر فضائل میں مقبول ہاں تعدد مخارج و تنوع طرق سے انجبار کے بعد بالاتفاق مقبول۔
سوم: وہ جس کا راوی وضاع، کذاب یا متہم بالکذب ہو۔ یہ حدیث ضعیف کی بدترین قسم ہے بلکہ بعض محاورات کی بنا پر مطلقاً اور ایک اصطلاح پر اگر اس کا مدار کذب پر ہو تو اسے موضوع کہتے ہیں۔ بنظر دقیق ان اصطلاحات پر یہ قسم موضوع حکمی میں داخل ہے۔
چہارم: موضوع۔ یہ بالاجماع نہ قابل انجبار ہے نہ کہیں لائق اعتبار حتی کہ فضائل میں بھی بلکہ اسے حدیث کہنا بطور مجاز ہے حقیقت میں یہ حدیث ہی نہیں۔
ضعیف کی اقسام
حدیث ضعیف کی تعریف کے اعتبار سے کئی قسمیں ہیں، امام جلال الملت والدین سیوطی شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بقول عراقی شیخ ابن صلاح نے 42، ابن حبان نے 49، بعض محدثین نے 63، اور شیخ شرف الدین منادی نے 129 قسمیں ذکر کی ہیں، ان میں سے بہت سی اقسام کے لیے مخصوص القاب و اسما ہیں جیسے شاذ، موضوع، مقلوب، معلل، مضطرب، مرسل، منقطع، معضل اور منکر، اور بعض ضعیف ہی کے لقب سے جانی جاتی ہیں۔ [تدریب الراوی شرح تقریب النووی، جلد 1، النوع الثالث، صفحہ 196، مطبوعہ دار طیبہ]
کون سی ضعیف تعدد طرق سے حسن بنتی ہے؟
اعلیٰ حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں: "حدیث اگر متعدد طریقوں سے روایت کی جائے اور وہ سب ضعف رکھتے ہوں تو ضعیف ضعیف مل کر بھی قوت حاصل کر لیتے ہیں، بلکہ اگر ضعف غایت شدت و قوت پر نہ ہو تو جبر نقصان ہو کر حدیث درجہ حسن تک پہنچتی اور مثل صحیح خود احکام حلال و حرام میں حجت ہو جاتی ہے۔" [فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 472]
یاد رہے کہ "حصول قوت کے لیے کچھ بہت سے ہی طرق کی حاجت نہیں صرف دو بھی مل کر قوت پا جاتے ہیں۔" [فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 475]
واضح ہوا کہ ضعیف بضعف قریب ہی تعدد طرق سے درجہ حسن کو پاتی ہے اور اس کے لیے کم از کم دو مروی ہونا کافی ہے۔ فسق، بدعت، فحش غلط، کذب، اتہام بالکذب، کثرت غفلت، بدعت مکفرہ وغیرہ ضعف شدید اور باقی کم درجے کے قوادح مثلاً اختلاط راوی، سوء حفظ، تدلیس، ارسال، شذوذ، انقطاع، ابہام راوی، جہالت راوی، بدعت غیر مکفرہ وغیرہ ضعف قریب ہیں۔ [ماخوذ از رسالہ منیر العین]
کون سا ضعف فضائل میں قبول ہے؟
فضائل میں روایت کے قبول ہونے کے لیے ضعف قریب کی بھی تخصیص نہیں خواہ ضعف بعید ہی کیوں نہ ہو جب تک روایت موضوع نہیں تب تک اسے فضائل میں بیان کرنا جائز ہے۔ چنانچہ امام اہلسنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "جمہور علما کے عامہ کلمات مطالعہ کیجیے تو وہ مواقع مذکورہ میں قابلیت عمل کے لیے کسی قسم ضعف کی تخصیص نہیں کرتے، صرف اتنا فرماتے ہیں کہ موضوع نہ ہو۔" [فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 524]
حدیث ضعیف کب قوی ہو جاتی ہے؟
1. تعدد طرق سے ضعیف حدیث درجہ حسن کو پہنچ کر مثل صحیح احکام میں مقوی ہو جاتی ہے۔ [ملتقطا از فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 472]
2. اہل علم کے عمل کر لینے سے بھی حدیث قوت پاتی ہے، اگرچہ سند ضعیف ہو۔ [ایضاً، صفحہ 475]
3. بالفرض اگر ایسی جگہ ضعف سند ایسی ہی حد پر ہو کہ اصلاً قابلِ اعتماد نہ رہے مگر جو بات اس میں مذکور ہوئی وہ علما و صلحا کے تجربہ میں آچکی تو علمائے کرام اس تجربہ ہی کو سند کافی سمجھتے ہیں کہ آخر سند کذب واقعی کو مستلزم نہ تھا۔ [ایضاً، صفحہ 551]
4. تلقی امت بالقبول سے بھی حدیث ضعیف قوی ہو جاتی ہے۔ "تلقی علماء بالقبول وہ شے عظیم ہے جس کے بعد ملاحظہ سند کی حاجت نہیں رہتی بلکہ سند ضعیف بھی ہو تو حرج نہیں کرتی۔" [فتاویٰ رضویہ، جلد 30، صفحہ 659]
مختصر افادات رضویہ
سنیت بھی حدیث ضعیف سے ثابت ہو سکتی ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 600]
راوی کی تعریف و ستائش، روایت کی تعریف و ستائش نہیں۔ اور راوی کا فی نفسہ صادق ہونا، حدیث میں اس کے ضعیف ہونے کے منافی نہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد 3، صفحہ 353]
علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ان علوم (سیر و مغازی) میں صحاح درکنار ضعاف بھی مقبول ہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صفحہ 654]
ضعف راویان کے باعث حدیث کو موضوع کہہ دینا ظلم و جزاف ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد 5، صفحہ 453]
بارہا موضوع یا ضعیف کہنا صرف ایک سند کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ اصل حدیث کے اعتبار سے۔ [ایضاً، صفحہ 468]
کسی حدیث کی سند میں راوی کا مجہول ہونا اگر اثر کرتا ہے تو صرف اس قدر کہ اسے ضعیف کہا جائے نہ کہ باطل و موضوع۔ [صفحہ 443]
چند اوہام یا کچھ خطائیں محدث سے صادر ہونا نہ اسے ضعیف کر دیتا ہے نہ اس کی حدیث کو مردود۔ [صفحہ 184]
حدیث معلول کے لیے ضعف راوی ضروری نہیں۔ [صفحہ 206]
ضعیف و متروک راوی میں زمین و آسمان کا فرق ہے کہ ضعیف کی حدیث معتبر و مکتوب اور متابعت و شواہد میں مقبول ہے بخلاف متروک۔ [صفحہ 303]
حدیث ضعیف پر عمل کے لیے خاص اس فعل میں حدیث صحیح کا آنا ضروری نہیں۔ [صفحہ 501]
کتب موضوعات میں کسی حدیث کا ذکر مطلقاً ضعف ہی کو مستلزم نہیں۔
[صفحہ 548]
[ماہنامہ اشرفیہ، مئی 2026ء، ص: 30]
