| عنوان: | حضرتِ اسماعیل علیہ السلام کی داستانِ حیات (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | ابو التمش اعظمی |
| پیش کش: | نازیہ فاطمہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
نبوت کے آسمان پر جگمگاتے ہوئے ستاروں میں ایک ستارہ آج بھی اپنی پوری تابناکیوں کے ساتھ انسان کی نگاہوں کو خیرہ کر رہا ہے، اس ستارے کا نام ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام۔ اسماعیل اس مقدس ہستی کا نام ہے جن کی زندگی ایثار، قربانی، توکل، اطاعت، محبت اور نبوت کے رنگوں سے سجی ہوئی ہے اور تمام عالمِ انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی ولادت سے لے کر قربانی کے عظیم امتحان اور کعبہ کی تعمیر تک ہر لمحہ ایک ایسا سبق ہے جو دلوں کو ایمان کے نور سے منور کرتا ہے۔
ولادت اسماعیل: ایک دعا کا ثمر
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں اولاد کی حسرت موجزن تھی، انھوں نے ربِ کائنات سے التجا کی: “اے میرے رب! مجھے صالح اولاد عطا فرما۔” [سورۃ الصافات: 100]
یہ دعا ایسی تھی جیسے کوئی تشنہ لب صحرا میں میٹھے پانی کی فریاد کر رہا ہو۔ حضرت سارہ، جو ابراہیم علیہ السلام کی رفیقِ حیات تھیں، نے اپنی باندی حضرت ہاجرہ کو اپنے شوہر کے نکاح میں دینے کی تجویز پیش کی، تاکہ اللہ انھیں اولاد کے نور سے منور کرے۔ حضرت ابراہیم نے ان کی اس تجویز کو پسند فرمایا اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے حضرت ہاجرہ سے نکاح فرمایا۔ زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ حضرت ہاجرہ کی آغوش میں ایک رشکِ ماہتاب نمودار ہوا جس کا نام اسماعیل رکھا گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر 86 برس تھی۔ اللہ کریم کی اس عطا نے انھیں سرشار کر دیا اور ان کے لبوں سے بے اختیار حمد و ثنا کے کلمات جاری ہوئے۔
صحرا میں تنہائی: توکل کا امتحان
ایک دن جب صبح کا سورج اپنی تیز و تند شعاعوں سے زمین کا سینہ چھلنی کر رہا تھا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ اور ننھے اسماعیل کو ایک طویل سفر کے لیے تیار کیا۔ وہ چلتے رہے، شام ڈھلی، پھر صبح ہوئی، پھر شام ڈھلی، کئی روز چلتے رہے، پہاڑوں، وادیوں اور صحراؤں کو عبور کیا، اور آخر کار ایک ایسی وادی میں پہنچے جہاں نہ آدم نہ آدم زاد، دور دور تک زرد ریت کا سمندر موجیں مار رہا تھا، ننگی چٹانیں تھیں جنھیں سخت دھوپ نے تپا دیا تھا، ہریالی اور پانی کا نام و نشان تک نہ تھا، یہ وادی مکہ تھی، جو اس وقت ایک بنجر خطہ تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی اور بیٹے کو وہاں چھوڑا، کچھ پانی اور کھانے کا تھوڑا سامان ان کے حوالے کیا اور واپسی کا ارادہ فرمایا۔ حضرت ابراہیم کی واپسی کا ارادہ سن کر ہاجرہ مضطرب ہو گئیں، انھوں نے ایک نگاہ اپنے معصوم بیٹے کی طرف ڈالی، اور سوال کیا:
“آپ ہمیں اس بے آب و گیاہ وادی میں تنہا چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں؟”
ابراہیم علیہ السلام خاموش رہے، کیونکہ ان کا دل اللہ کے حکم کی ڈور سے بندھا ہوا تھا۔
آخر کار حضرت ہاجرہ نے سوال کیا: “کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟” حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آہستہ سے سر ہلا کر ہامی بھری۔ یہ جان کر حضرت ہاجرہ نے ایمان افروز لہجے میں کہا: “جب اللہ ہمارے ساتھ ہے، تو ہم بھی گم نہیں ہو سکتے۔” یہ الفاظ ایمان کی وہ چٹان تھے، جنھوں نے مکہ کے سلگتے ریگستان میں مضبوطی سے قدم گاڑ دیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وادی سے نکلتے ہوئے کعبہ کی جانب رخ کیا اور دعا مانگی: “اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد کو تیرے پاک گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں بسایا جہاں کوئی کاشت نہیں، تاکہ وہ تیری عبادت کریں۔ پس تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر اور انھیں رزق عطا فرما۔” [سورۃ ابراہیم: 37-38] یہ صرف دعا نہیں تھی بلکہ بنجر زمین میں ایمان کے ساتھ بویا گیا وہ بیج تھا جس کی سرسبزی و شادابی اللہ تعالی کی رضا کے سپرد کر دی گئی تھی۔
صفا و مروہ کے درمیان جدوجہد: ایمان کی دوڑ
مکہ کی اس بنجر وادی میں، جہاں زندگی کا نام و نشان نہ تھا، حضرت ہاجرہ اور ننھے اسماعیل علیہ السلام تنہا رہ گئے۔ ان کے پاس جو تھوڑا سا پانی تھا، وہ جلد ہی ختم ہو گیا۔ پیاس نے ماں بیٹے دونوں کو بے قرار کر دیا۔ ننھا اسماعیل تڑپ رہا تھا، اور ہاجرہ کا دل اپنے لختِ جگر کی تکلیف دیکھ کر پگھل رہا تھا۔ وہ اس منظر کو مزید برداشت نہ کر سکیں اور پانی کی تلاش میں امید کا دامن تھامے ہوئے صفا کی پہاڑی پر چڑھ گئیں۔ نگاہ اٹھائی، وادی میں چاروں طرف غور سے دیکھا، شاید کوئی راہگیر نظر آجائے، مگر وہاں سوائے خاموشی کے کچھ نہ تھا۔ وہ صفا سے اتریں اور کچھ چلتے کچھ دوڑتے ہوئے مروہ تک پہنچیں، مگر وہاں بھی کوئی نشانِ حیات نظر نہ آیا۔ اس طرح وہ سات بار صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی رہیں، پانی کی تلاش میں ان کی یہ دوڑ صرف جسم کی نہیں، بلکہ روح کی بھی تھی اور ان کی روح تو ایمان و توکل سے لبریز تھی۔
رحمتِ الہی کا چشمہ
جب حضرت ہاجرہ ساتویں بار مروہ پر پہنچیں، تو انھوں نے ایک آواز سنی، کان لگائے، آواز پھر آئی۔ انھوں نے پکارا: “اے تم جو بھی ہو! تم نے مجھے اپنی آواز سنائی، کیا تمہارے پاس کوئی مدد ہے؟” اور پھر اچانک ایک عظیم الشان معجزہ رونما ہوا، زمزم کے مقام پر ایک فرشتہ نمودار ہوا، جس نے اپنے پَر زمین پر مارے اور وہاں سے اللہ کی حمد و ثنا گنگناتا ہوا پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ حضرت ہاجرہ نے یہ دیکھا تو فوراً اپنے ہاتھوں سے اس کے گرد ایک حوض سا بنایا اور اپنے مشکیزے میں پانی بھرنا شروع کیا۔ پانی اس قدر بہتا تھا کہ وہ اسے روک نہ پاتی تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ اسماعیل کی ماں پر رحم کرے! اگر وہ زمزم کو بہنے دیتیں، تو زمزم زمین پر بہتا ہوا دریا بن جاتا۔”
یہ زمزم کا پانی آج بھی لاکھوں حاجیوں کی پیاس بجھاتا ہے، اور حضرت ہاجرہ کے صبر و ایمان کی گواہی دیتا ہے۔ حضرت ہاجرہ کی عظیم جدوجہد آج حج کے رکن “سعی” کی صورت میں زندہ ہے۔ حضرت ہاجرہ کی بے قرار دوڑ اللہ تعالی کو اس قدر پسند آئی کہ اسے حج کا رکن بنا دیا۔
مکہ میں آباد کاری کی ایک نئی صبح
زمزم کے معجزے کے بعد، حضرت ہاجرہ نے پانی پیا اور اپنے بیٹے کو پلایا۔ فرشتے نے ان سے کہا: “تمہیں تنہائی کا خوف نہ ہو، کیونکہ یہ اللہ کا گھر ہے، جسے یہ لڑکا اور اس کا باپ تعمیر کریں گے۔ اللہ اپنے بندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔”
اس وقت کعبہ ایک بلند ٹیلے کی طرح تھا، جس کے دائیں بائیں سیلابی ریلے بہتے تھے۔ حضرت ہاجرہ اور اسماعیل اُسی وادی میں رہنے لگے۔
ایک دن قبیلہ جرہم کے کچھ لوگ اس راستے سے گزر رہے تھے۔ انھوں نے ایک پرندہ دیکھا جو پانی کے گرد چکر لگا رہا تھا۔ انھوں نے کہا: “یہ پرندہ پانی کے گرد ہی پرواز کرتا ہے۔” انھوں نے اپنے چند آدمیوں کو بھیجا، جنھوں نے زمزم کے چشمے کو دریافت کیا اور واپس جاکر اپنے کارواں کو اطلاع دی۔ جب وہ سب زمزم کے پاس پہنچے، تو وہاں حضرت ہاجرہ اپنے بیٹے کے ساتھ موجود تھیں۔ جرہم کے لوگوں نے پوچھا:
“کیا ہم تمہارے ساتھ یہاں رہ سکتے ہیں؟”
حضرت ہاجرہ نے جواب دیا: “ہاں، مگر تمھیں اس پانی پر کوئی حق نہیں ہوگا۔”
وہ اس شرط پر راضی ہو گئے۔ حضرت ہاجرہ کو بھی ان لوگوں کا ساتھ بھا گیا، کیونکہ وہ تنہائی کے مقابلے میں رفاقت کو ترجیح دیتی تھیں۔ جرہم کے لوگوں نے اپنے خاندانوں کو بھی بلا لیا، اور وہ وہاں مستقل طور پر آباد ہو گئے۔ حضرت اسماعیل بھی کچھ بڑے ہو گئے، انھوں نے جرہم کے لوگوں سے عربی سیکھی اور ایسی سیکھی کہ سکھانے والے دانتوں تلے انگلیاں دبانے پر مجبور ہو گئے۔
قربانی کا امتحان، ایمان کی معراج
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی اللہ کے احکام کی مکمل اطاعت کا ایک روشن باب ہے۔ ایک دن، جب وہ اپنے خیمے کے باہر بیٹھے اپنے پیارے بیٹے اسماعیل اور اللہ کی رحمتوں کے بارے میں غور کر رہے تھے، ان کے دل میں اللہ کی نعمتوں کا شکر اور اس کی عظمت کا خوف موجزن تھا۔ ایسے میں ایک آنسو ان کی آنکھ سے ٹپکا، جو اسماعیل سے ان کی محبت کی گواہی دے رہا تھا۔ غنودگی طاری ہوئی تو اللہ تعالی نے انھیں ایک خواب دکھایا اور اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرنے کا حکم دیا۔ متواتر کئی بار جب یہ خواب دیکھا تو سمجھ گئے کہ اللہ مجھ سے اسماعیل کی قربانی چاہتا ہے، انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا: “اے میرے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، تو بتا تیری کیا رائے ہے؟”
حضرت اسماعیل تو اطاعت و فرماں برداری اور صبر و استقامت کا حسین پیکر تھے، والدِ کریم کی بات سن کر فوراً جواب دیا: “جو آپ کو حکم دیا گیا ہے، اسے بجا لائیں۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔”
حضرت ابراہیم اسماعیل کو عرفات کے پہاڑ پر لے گئے، چھری اور رسی لی۔ اسماعیل نے کہا کہ ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دیں تاکہ وہ جدوجہد نہ کریں، اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں تاکہ وہ اپنے بیٹے کی تکلیف نہ دیکھ سکیں۔ ابراہیم نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اللہ کے حکم کے مطابق چھری چلائی، جب انھوں نے پٹی ہٹائی، تو دیکھا کہ سامنے ایک ذبح شدہ دُنبہ پڑا ہے اور اسماعیل بالکل صحیح سلامت ان کے پاس کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ ایک لمحے کے لیے انھیں لگا کہ ان سے کوئی غلطی ہو گئی، مگر پھر غیب سے آواز آئی کہ انھوں نے خواب کی تعمیل کر دی ہے۔ اللہ نے ان کی قربانی کو ایک عظیم ذبیحہ (دنبہ) سے بدل دیا۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے: “اے ابراہیم! تم نے خواب کی تعمیل کر دی۔ بیشک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ یہ ایک کھلا امتحان تھا۔” [سورۃ الصافات: 104-106]
اللہ نے ابراہیم اور اسماعیل کی اس اطاعت کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک عظیم یادگار بنا دیا، اور فرمایا: “ابراہیم پر سلام ہو! بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔” [سورۃ الصافات: 109-111]
یہ قربانی آج عید الاضحیٰ کی صورت میں ہر سال منائی جاتی ہے جو ہمیں ایمان، اطاعت اور قربانی کا درس دیتی ہے۔
اسماعیل کی ازواج اور حکمت کا امتحان
جب حضرت اسماعیل علیہ السلام جوان ہوئے تو جرہم نے ان کا نکاح اپنے قبیلے کی ایک خاتون سے کر دیا۔ حضرت ہاجرہ کے انتقال کے بعد، حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے اور اس کے خاندان سے ملنے مکہ تشریف لائے، مگر اسماعیل علیہ السلام گھر پر نہ تھے۔ انھوں نے اسماعیل کی بیوی سے ان کے بارے میں پوچھا۔ اس نے بتایا کہ اسماعیل روزی کی تلاش میں گئے ہیں۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے ان کے حالات کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے شکایت کرتے ہوئے کہا: “ہم تنگی اور افلاس میں زندگی گزار رہے ہیں۔” حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا: “جب تمہارا شوہر آئے، تو اسے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ وہ اپنے گھر کی دہلیز بدل دے۔”
جب اسماعیل علیہ السلام واپس آئے، تو انھوں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ کیا کوئی آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ ایک بزرگ تشریف لائے تھے، جنہوں نے ان کے حالات کے بارے میں پوچھا اور دہلیز بدلنے کا پیغام دیا۔ اسماعیل علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ ان کے والد تھے اور ان کا اشارہ بیوی کو طلاق دینے کی طرف تھا۔ چنانچہ انھوں نے اسے طلاق دے دی اور قبیلہ جرہم کی ایک دوسری خاتون سے نکاح کر لیا۔
کچھ عرصے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام دوبارہ تشریف لائے۔ اس بار بھی اسماعیل گھر پر نہ تھے۔ انھوں نے ان کی نئی بیوی سے حالات دریافت کیے۔ اس نے خوشی سے بتایا: “ہم خوش حال ہیں اور اللہ نے ہمیں وافر رزق دیا ہے۔” ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا کہ وہ کیا کھاتے پیتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ گوشت کھاتے ہیں اور پانی پیتے ہیں۔
ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی: “اے اللہ! ان کے گوشت اور پانی میں برکت عطا فرما۔”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت ان کے پاس اناج نہ تھا، ورنہ ابراہیم علیہ السلام اس میں بھی برکت کی دعا کرتے۔
ابراہیم علیہ السلام نے اسماعیل کی بیوی سے کہا: “جب تمہارا شوہر آئے، تو اسے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ وہ اپنی دہلیز کو مضبوط رکھے۔”
جب اسماعیل علیہ السلام واپس آئے، تو انھوں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ کیا کوئی آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ ایک بزرگ تشریف لائے، جنھوں نے ان کے حالات کے بارے میں پوچھا اور دہلیز مضبوط رکھنے کا پیغام دیا۔ اسماعیل علیہ السلام نے کہا: “وہ میرے والد تھے، اور تم ہی وہ دہلیز ہو۔ انھوں نے مجھے تمھیں ساتھ رکھنے کا حکم دیا ہے۔” یہ واقعہ حکمت اور بصیرت کا ایک ایسا سبق ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ گھر کی بنیاد شکر اور صبر پر استوار ہوتی ہے۔ (جاری ہے)
