| عنوان: | امام احمد رضا اور فن مناقب (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد اشرف رضا جیلانی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
مناقب کا لغوی معنی: تنگ راستہ، سوراخ
مناقب کا اصطلاحی معنی: فضیلت و بزرگی
مناقب: جمع ہے۔ اس کا واحد منقبت ہے۔
فن مناقب کی تعریف:
وہ علم جس میں حضرات صحابہ کرام و تابعین عظام و مشائخ فخام و علمائے اسلام کے کمالات و کرامات و مدائح و صفات کا بیان ہو۔ [حیات اعلیٰ حضرت، ج: 2، ص: 334، اکبر بک سیلر لاہور]
موضوع و غرض و غایت:
اس کا موضوع خدا رسیدہ و محبوبان خدا کی ذات مبارکہ، اور اس کی غایت محبوبان خدا کی تعریف و توصیف کے ذریعے حصول رضائے الٰہی ہے۔
اہمیت و افادیت:
یہ طریق مصطفیٰ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صحابہ کے درمیان حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے مناقب اور حالات و واقعات سنایا کرتے تھے، تاکہ ان کے حالات سے بھی آشنائی ہو، اور ان واقعات سے وہ سبق حاصل کریں۔
اللہ کے محبوب بندوں کے مناقب بیان کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دل یاد خدا سے معمور ہو جاتا ہے۔ دل نیکیوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ نفس امارہ دم توڑنے لگتا ہے۔ گناہوں کے میل سے دل صاف ہونے لگتا ہے اور بندہ جادۂ مستقیم و راہ حق کا مسافر بن جاتا ہے۔
وجہ تسمیہ:
مناقب کا معنی سوراخ ہے۔ فضیلت کو منقبت اس لیے کہتے ہیں کہ کسی کی فضیلت سن کر اس کے مخالف کے دل میں سوراخ ہو جاتا ہے۔ یہ مجاز ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے دل میں تکلیف ہوتی ہے۔
فن کی تاریخ اور آغاز و ارتقا:
قرآن حکیم میں اللہ رب العزت نے جگہ جگہ حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اور اپنے محبوب بندوں کے فضائل و مناقب بیان فرمائے ہیں، جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس فن کا آغاز زمانۂ نزول قرآن سے ہی ہو گیا تھا۔ البتہ بعد کے ادوار میں اسے اور ترقی ملی۔
جب محدثین کا دور آیا تو باضابطہ انھوں نے اپنی کتابوں میں مناقب کے ابواب وضع کیے۔ جس سے یہ فن اور زیادہ وسیع و پختہ ہو گیا۔ بعد کے مصنفین و مورخین نے اس فن کو مزید عروج بخشا، مکمل طور سے اس موضوع پر کتابیں تحریر کی گئیں۔ اس طرح سے صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین و علمائے دین کے مناقب میں ہزارہا کتابیں معرض وجود میں آگئیں۔
فن کے ماہرین اور ان کی کتابیں:
-
خَصَائِصُ عَلِيٍّ: امام نسائی
-
اَلرِّيَاضُ النَّضِرَةُ: علامہ محمد بن جریر طبری
-
تَبْيِيْضُ الصَّحِيْفَةِ: علامہ جلال الدین سیوطی
-
اَلْخَيْرَاتُ الْحِسَانُ: علامہ ابن حجر مکی شافعی
-
جَمْعُ الْقُرْآنِ وَبِمَ عَزْوُهُ لِعُثْمَانَ: اعلیٰ حضرت
-
تَنْزِيْهُ الْمَكَانَةِ الْحَيْدَرِيَّةِ: اعلیٰ حضرت
فن مناقب میں اعلیٰ حضرت کی مہارت:
جس طرح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تفسیر، فقہ، حدیث، عقائد، منطق و فلسفہ، شعر و ادب اور مختلف علوم وفنون پر دسترس و عبور حاصل تھا، اسی طرح فن مناقب میں بھی آپ کو مہارت تامہ حاصل تھی۔ آپ کی متعدد تالیفات وتصنیفات باب فضائل و مناقب میں موجود ہیں جو اس بات کی گواہ ہیں کہ آپ فن مناقب کے بھی امام ہیں۔ آپ کے فتاویٰ و دیگر تصنیفات میں جگہ جگہ اکابر امت کا تذکرہ دل نشین پیرایۂ بیان میں ملتا ہے۔
فن مناقب میں اعلیٰ حضرت کی انفرادیت و خصوصیت:
اس فن میں اعلیٰ حضرت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کا قلم جوش عقیدت میں بھٹکتا نہیں، بلکہ تحقیق و تفتیش اور تلاش و تتبع کے ذریعہ دلائل و براہین کا انبار لگا دیتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صاحب تذکرہ کی پوری شخصیت اور افکار و کارنامے نکھر کر سامنے آ گئے ہیں۔ آپ کی تحریر غلو و افراط و تفریط سے پاک ومنزہ ہوتی ہے۔ شخصیت و مرتبے کا خاص خیال رہتا ہے اور حیات و کارنامے کے تذکرہ پر گہری نظر ہوتی ہے۔ یہ باب مناقب میں قلم رضا کے نمایاں اوصاف ہیں۔
فن مناقب میں اعلیٰ حضرت کی خدمات:
تصنیفات کتب اعلیٰ حضرت پر اگر تفصیلی نگاہ ڈالی جائے تو مختلف علوم وفنون پر بہت سی کتابیں نظر آتی ہیں، لیکن فضائل و مناقب میں تصنیفات و تالیفات کی تعداد کم نہیں ہے اور فتاویٰ و ملفوظات اس پر مستزاد ہیں، ساتھ ہی عربی، اردو، فارسی تینوں زبانوں میں نعت و منقبت اور قصائد موجود ہیں۔ جملہ انبیائے کرام و حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے لے کر زمانہ اعلیٰ حضرت تک کی مقتدر شخصیات کے فضائل و مناقب آپ کی تحریروں میں نظر آتے ہیں۔
امام اہل سنت نے اس فن میں مستقل تصنیفات کے علاوہ منظوم مناقب بھی بیان فرمائے ہیں۔ قصیدہ اکسیر اعظم، نظم معطر، قصیدتان رائعتان، مناقب غوثیہ کا تذکرہ اس فن میں کیا جا سکتا ہے۔ چوں کہ یہ فن بہت کشادہ اور وسیع ہے۔ ایک مختصر سے مقالے میں ان کے تمام عناصر کا احاطہ کرنا ایک مشکل امر ہے۔ حضور اقدس سید المرسلین کے فضائل و مناقب و محامد و محاسن پر اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کی بہت سی مستقل تصانیف بھی ہیں اور آپ کے فتاویٰ و دیگر تحریروں میں بھی جا بجا مدح نبوی و فضائل و مناقب کا بیان موجود ہے۔ اسی طرح حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے بھی آپ کی تصانیف و تالیفات مالا مال ہیں۔
اس مقالہ میں والدین مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، صحابہ کرام، اولیائے عظام اور صوفیا و علما کے مناقب و محاسن کا کچھ حصہ، تصنیفات رضا سے کشید کر کے قلم بند کر دیا جاتا ہے۔
اصحاب فضائل کے مناقب:
1: مناقب والدین مصطفیٰ علیہ و علیہما الصلوٰۃ والسلام
اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فضائل مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ والدین مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فضائل و مناقب بھی بڑے اچھوتے انداز میں بیان فرمائے ہیں، نیز ایک رسالہ بنام “شُمُوْلُ الْإِسْلَامِ لِأُصُوْلِ الرَّسُوْلِ الْكِرَامِ” حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آبا و اجداد کے اسلام لانے کے اثبات میں ہے۔ اسی رسالہ سے ایک اقتباس ملاحظہ کریں:
“اب ذرا چشم حق بیں سے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ مراعات الہیہ کے الطاف خفیہ دیکھئے، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والد ماجد کا نام پاک عبداللہ کہ افضل اسمائے امت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:”
أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللّٰهِ عَبْدُ اللّٰهِ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ
تمھارے ناموں میں سب سے زیادہ پیارے نام اللہ تعالیٰ کو عبداللہ و عبدالرحمن ہیں۔ [سنن ابی داؤد، کتاب الادب، ج: 2، ص: 320]
“والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام آمنہ کہ امن وامان سے مشتق اور ایمان سے ہم اشتقاق ہے۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 19، ص: 327، 328، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی شریف]
2: مناقب اہل بیت اطہار
اہل بیت مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فضائل و مناقب قرآن و حدیث کی روشنی میں یوں تحریر فرماتے ہیں:
“پھر اللہ اکبر حضرات علیہ سادات کرام اولاد امجاد حضرت خاتون جنت بتول زہرا کہ حضور پر نور سید الصالحین، سید العالمین، سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بیٹے ہیں اور ان کی شان تو ارفع و اعلیٰ و بلند و بالا ہے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے:”
إِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا
ترجمہ: اللہ یہی چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی دور رکھے اے نبی کے گھر والو! اور تمھیں ستھرا کر دے خوب پاک فرما کر۔
اسی ضمن میں ایک حدیث نقل فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَعَدَنِيْ رَبِّيْ فِيْ أَهْلِ بَيْتِيْ مَنْ أَقَرَّ مِنْهُمْ بِالتَّوْحِيْدِ وَلِيْ بِالْبَلَاغِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ
ترجمہ: میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے اہل بیت سے جو شخص اللہ کی وحدانیت اور میری رسالت پر ایمان لائے گا، اسے عذاب نہ فرمائے گا۔ [المستدرک للحاکم، ج: 3، ص: 150، بحوالہ فتاویٰ رضویہ، ج: 19، ص: 345، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی]
3: مناقب حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما
حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا ذکر جمیل امام احمد رضا اس طرح فرماتے ہیں:
کیا بات رضا اس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
اور آگے ارشاد فرماتے ہیں:
حسنِ مجتبیٰ سید الاسخیا
راکبِ دوشِ عزت پہ لاکھوں سلام
اوجِ مہرِ ہدیٰ، موجِ بحرِ ندیٰ
روحِ روحِ سخاوت پہ لاکھوں سلام
اس شہیدِ بلا، شاہِ گلگوں قبا
بے کسِ دشتِ غربت پہ لاکھوں سلام
درِ درجِ نجف، مہرِ برجِ شرف
رنگ و روئے شہادت پہ لاکھوں سلام
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز فتاویٰ رضویہ میں حضرات حسنین کریمین کے مناقب اس طرح بیان فرماتے ہیں:
“صحیح بخاری شریف میں ہے حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کنار اقدس میں لے کر فرمایا:”
إِنَّ ابْنِيْ هٰذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللّٰهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيْمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ
بیشک میرا یہ بیٹا سید ہے۔ امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے سبب مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے گا۔ [صحیح البخاری، ج: 3، ص: 681]
“حضرت بتول زہرا خاتون جنت سیدۃ النسا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کی، حضور نے اپنے دو بیٹوں کو کیا عطا فرمایا ہے؟ ارشاد ہوا:”
أَمَّا الْحَسَنُ فَلَهُ جُوْدِيْ وَسُؤْدَدِيْ، وَأَمَّا الْحُسَيْنُ فَلَهُ هَيْبَتِيْ وَجُرْأَتِيْ
حسن کے لیے میری سخاوت اور میری سیادت ہے اور حسین کے لیے میری ہیبت اور میری شجاعت ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 19، ص: 28، 29، امام احمد رضا اکیڈمی، بریلی]
4: حضرات صحابہ کرام کے مناقب
صحابہ کی وہ مقدس جماعت جس کی شان و رفعت اللہ رب العزت نے “وَكُلًّا وَعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى” کے ذریعہ بیان فرمائی۔ رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جن کی عظمت و بزرگی یوں بیان فرمائی ہو کہ میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں، تم جس کی بھی اقتدا کرو گے، راہ یاب ہو جاؤ گے۔ اعلیٰ حضرت اس مقدس گروہ کی مدح خوانی کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
ان کے مولیٰ کے ان پر کروڑوں درود
ان کے اصحاب و عترت پہ لاکھوں سلام
فتاویٰ رضویہ میں جب اس مبارک جماعت سے متعلق سوال ہوتا ہے تو آپ فرماتے ہیں:
“اہل سنت کے عقیدے میں تمام صحابہ کرام کی تعظیم فرض ہے۔ ان میں سے کسی پر طعن حرام، اور ان کے مشاجرات میں خوض ممنوع۔ حدیث میں ارشاد ہے:”
إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِيْ فَأَمْسِكُوْا
جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے (بحث و خوض سے) رک جاؤ۔ [معجم الکبیر، رقم الحدیث: 10431]
ایک دوسرے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:
“ضرور ہر صحابی کے ساتھ “حضرت” کہا جائے گا۔ ضرور “رضی اللہ تعالیٰ عنہ” کہا جائے گا۔ ضرور اس کا اعزاز و احترام فرض ہے۔ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 29، ص: 228، مرکز اہل سنت گجرات]
