| عنوان: | نظام تعلیم: مادہ پرستی سے روحانیت تک |
|---|---|
| تحریر: | مہتاب پیامی |
| پیش کش: | محمد شہید حسین عطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج نیپال |
انسان کا وجود ایک ایسا شاہکار ہے جسے خالق ارض و سما نے اشرف المخلوقات کے مقام پر فائز کیا ہے۔ یہ اعزاز اس کی جسمانی ساخت یا مادی قوت کی بنا پر نہیں، بلکہ اس جبلتی اور فطری استعداد کے سبب ہے جس کے ذریعے وہ اپنے مبدا کو پہچاننے، اپنے وقار کی حفاظت کرنے اور روحانیت کی بلندیوں کو چھونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسلام کے نظام فکر میں تعلیم کا اصل مقصود ہی یہی ہے کہ وہ انسان کو اس کے حقیقی مقام سے روشناس کرائے اور اسے بندگی کی اس معراج پر فائز کر دے جہاں وہ اپنی ذات میں صفاتِ الٰہیہ کا پرتو تلاش کر سکے۔
تاہم، دورِ حاضر کے تعلیمی ڈھانچے پر نظر ڈالی جائے تو انتہائی مایوس کن صورت حال نظر آتی ہے۔ آج کا نظام تعلیم اپنی تمام تر سائنسی ترقیوں اور وسعتوں کے باوجود مادی بہبود اور سماجی برتری کے گرد سمٹ کر رہ گیا ہے۔ اس کا پورا زور انسان کو ایک کامیاب پرزہ بنانے پر تلا ہے، لیکن اسے ایک کامل انسان بنانے سے قاصر ہے۔ مادی دوڑ اور بے ہنگم مسابقت نے انسان کو خود غرضی اور لایعنی مہم جوئی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے، جس کے نتیجے میں دلوں سے سکون رخصت ہو گیا ہے اور معاشرے میں حرص و ہوس کا ایک ایسا طوفان بپا ہے جس نے زندگی کو ایک مستقل ذہنی تناؤ کی صورت دے دی ہے۔
جیسا کہ ہم نے لکھا، اسلامی تعلیمات کا پہلا اور بنیادی ہدف انسان کو اس کی اصل سے روشناس کرانا ہے۔ جب انسان اپنی اصل کو پہچان لیتا ہے، تو اسے ادراک ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا اور سونا نہیں بلکہ اپنے خالق کی بندگی اور اس کی صفات کا عکس اپنی ذات میں پیدا کرنا ہے۔ صوفیا کے ہاں مشہور ہے:
“جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔”
یہی وہ علم ہے جو انسان کو خود پسندی سے نکال کر بندگی کی معراج پر کھڑا کرتا ہے۔
اس کے علاوہ تعلیم کا مقصد انسان کو ان تمام سفلی جذبات سے پاک کرنا ہے جو اسے حیوانی سطح پر گرا دیتے ہیں۔ اسلام ایسی تعلیم چاہتا ہے جو انسان کو خود دار بنائے تاکہ وہ اپنے سوا کسی کے سامنے سر نہ جھکائے، اور ساتھ ہی اسے “احسن تقویم” (بہترین ساخت) کے سانچے میں ڈھال کر معاشرے کا ایک باوقار اور نفع بخش رکن بنائے۔ یہ ہدف انسان کو مادی دوڑ میں اندھا ہونے کے بجائے اخلاقی اقدار کا علم بردار بناتا ہے اور روحانی تعلیم کا مقصد انسان کے باطن کی صفائی ہے تاکہ اس کے دل میں ہر وقت اللہ کی یاد تازہ رہے۔ جب روح توانا ہوتی ہے، تو انسان مادیت کے بوجھ سے آزاد ہو کر دل کا سکون حاصل کرتا ہے، اور یہی چیز اسے معاشرے میں ظلم کے بجائے عدل اور نفرت کے بجائے محبت کا پیکر بنا دیتی ہے۔
دور حاضر کا نظام تعلیم بنیادی طور پر انسان کی سماجی ترقی اور مادی بہبود پر مرکوز ہے۔ اس طرز فکر نے آج کے انسان کو انتہائی مسابقت پسند تو بنا دیا ہے، مگر وہ ساتھ ہی ساتھ خود غرضی کا شکار ہو کر ایک لایعنی دوڑ میں مبتلا ہو گیا ہے۔ دورِ جدید کی زندگی کی یہی دیوانہ وار رفتار دلوں اور ذہنوں میں مزید حرص و ہوس کو جنم دیتی ہے، جس کا حتمی نتیجہ ایک ذہنی تناؤ سے بھر پور زندگی کی صورت میں نکلتا ہے۔
لہٰذا، آج کے نظام تعلیم پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ نصاب تعلیم میں روحانیت کے اساسی عنصر کو شامل کرنا ناگزیر ہے، تاکہ موجودہ نسل کے اندر اس ہمہ گیر الوہیت کا شعور بیدار ہو سکے۔ یہی وہ احساس ہے جو انسان کو اپنے رب کا شکر گزار بناتا ہے، اور یہی شکر گزاری زندگی میں حقیقی اطمینان و سکون کا باعث بنتی ہے، جب کہ ناشکری زندگی کو برباد کر دیتی ہے۔ قرآن حکیم ایسے شخص کی مذمت کرتا ہے جو اپنے رب کا احسان فراموش ہو اور وہ خود اس حقیقت پر گواہ ہے، جیسا کہ فرماتا ہے:
إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ وَإِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌ [سورۃ العادیات: 6، 7]
بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ اور وہ خود بھی اس (بات) پر گواہ ہے۔
ہر حال میں شکر گزاری کا جذبہ، روحانی تربیت کی سمت میں پہلا قدم ہے۔ اس کا آغاز تبھی ہو سکتا ہے جب بچہ ابھی ماں کی گود میں ہو۔ ابتدائی برسوں میں ہی بچے کو یہ سکھایا جا سکتا ہے کہ ماں کی آغوش ایک شیر خوار کے لیے اللہ کا عظیم ترین تحفہ ہے۔ یہ سبق اس کی پوری زندگی پر اثر انداز ہو گا اور بچہ اللہ کے حضور سر تسلیم خم کرنے والا بنے گا۔
آج ہم مسابقت میں تو آگے ہیں لیکن اپنی ذات تک محدود ہو چکے ہیں۔ ہم ایک بظاہر مہذب دنیا میں جی رہے ہیں، لیکن بد قسمتی سے روزانہ لا تعداد غیر مہذب افعال کا مشاہدہ کرتے ہیں اور خود ان افعال میں مبتلا بھی ہوتے ہیں۔ دنیا کے بیش تر حصوں میں آج بھی جنگل کا قانون نافذ ہے۔ جنگل میں شیر اپنی طاقت اور درندگی کی وجہ سے بادشاہ کہلاتا ہے، جس کی موجودگی میں دیگر تمام جانور خوفزدہ رہتے ہیں کیوں کہ وہ انھیں چیر پھاڑ ڈالتا ہے۔ موجودہ نظام تعلیم کی بدولت یہ دنیا ایک ایسے جنگل کی طرح ہو گئی ہے جہاں بقا کا دارومدار صرف طاقت پر ہے۔ یہاں وہی شخص بڑا سمجھا جاتا ہے جو مقتدر، مضبوط اور زور آور ہو۔ آج کے عالمی اور سماجی منظر نامے میں اس کی مثالیں جا بجا نظر آتی ہیں۔ “مہذب” دنیا میں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے بے شمار ادارے موجود ہیں، لیکن عملی طور پر وہی ہوتا ہے جو طاقتور ممالک چاہتے ہیں۔ جس طرح جنگل میں شیر اپنی بھوک مٹانے کے لیے کسی بھی ضابطے کا پابند نہیں ہوتا، اسی طرح طاقتور ممالک اپنے مادی مفادات اور وسائل (تیل، معدنیات) پر قبضے کے لیے کمزور ممالک پر جنگیں مسلط کر دیتے ہیں۔ وہاں معصوم انسانوں کا خون بہتا ہے، مگر “عالمی ضمیر” صرف اس لیے خاموش رہتا ہے کہ حملہ آور مقتدر اور زور آور ہے۔ اسی طرح معاشی اجارہ داری ہے، بڑی مقتدر کمپنیاں (Corporates) چھوٹے کاروباروں کو اس طرح ختم کر دیتی ہیں جیسے شیر چھوٹے جانوروں کا شکار کرتا ہے۔ یہاں اخلاقیات اور ہمدردی کے بجائے صرف “منافع” اور “مارکیٹ شیئر” کی اہمیت ہے۔ ایک عام ملازم یا چھوٹا تاجر اس نظام کی چکی میں صرف اس لیے پستا ہے کہ وہ مادی طور پر اتنا مضبوط نہیں جتنا کہ وہ ادارے جو سرمایے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ “وی آئی پی پروٹوکول” کی بھی مثال دی جاسکتی ہے، یہ اصل میں وہی درندگی ہے جو بظاہر سوٹ بوٹ پہن کر مہذب بننے کی کوشش کرتی ہے، مگر اس کے اندر کا انسان روحانیت سے خالی ہونے کی بنا پر وحشی ہی رہتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ جب تعلیم انسان کو خالق سے نہیں جوڑتی اور اسے صرف مخلوق پر غلبہ پانے کے طریقے سکھاتی ہے، تو وہ انسان کو بڑا تو ضرور بنا دیتی ہے مگر اعلیٰ نہیں بنا پاتی۔ تعلیمی نظام ان خرابیوں کا مداوا کر سکتا ہے۔
تعلیم کی دو اقسام ہیں: رسمی اور غیر رسمی۔ رسمی تعلیم بنیادی اسکولنگ پر مشتمل ہے۔ اسی رسمی تعلیم کی بنیاد پر آج کی دنیا میں لوگوں کو “تعلیم یافتہ” کہا جاتا ہے، یہی تعلیم معاشرے میں روزگار کے حصول کے لیے اسناد اور ہنر فراہم کرتی ہے۔ آج کی دنیا میں رسمی تعلیم کو تو ناگزیر سمجھا جاتا ہے، مگر جو دوسری قسم ہے غیر رسمی، اس کو عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اس کی اہمیت بھی مسلم ہے۔
کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی کا تصور نہیں کر سکتا جب تک اس کے شہری رسمی اور غیر رسمی، دونوں طرح سے تعلیم یافتہ نہ ہوں۔ روحانی تعلیم بیک وقت رسمی اور غیر رسمی، دونوں طریقوں سے دی جا سکتی ہے۔
رسمی تعلیم ایک مقررہ وقت تک محدود ہوتی ہے جب کہ غیر رسمی تعلیم عمر بھر جاری رہتی ہے۔ ہر انسان اپنے روز مرہ کے تجربات سے اپنے رب کا شکر گزار اور اس کا فرماں بردار رہنا سیکھتا ہے۔ یہی عمل زندگی میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی شناخت اور معاشرے میں اپنے کردار کے تعین میں مدد دیتا ہے۔ دنیا کے بہت سے معاشرے رسمی سطح پر بہترین تعلیم کے باوجود ابھی تک منفی سوچ سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکے۔ ایسے افراد بھی موجود ہیں جو عدل و انصاف اور رواداری کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن ان کا اپنا رویہ جابرانہ ہوتا ہے۔ ان کے عمل ان کے قول کی نفی کرتے ہیں اور ان کی عادات میں وحشت جھلکتی ہے۔ اس طرح یہ قوتیں عملی زندگی میں روحانیت کے فقدان کے باعث تباہی مچاتی رہتی ہیں۔ اس تباہی سے چھٹکارا پانے کے لیے ضروری ہے کہ روحانیت کو اسکول کے نصاب میں شامل کیا جائے اور والدین کو بھی اس نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ تعلیمی اداروں کی جانب سے والدین کو اس ضرورت پر لیکچر دیے جائیں کہ وہ اپنے گھروں میں ایک روحانی ماحول پروان چڑھائیں۔ ہمارا خیال ہے کہ روحانیت کو پورے تعلیمی نظام کا جزو لا ینفک ہونا چاہیے کیوں کہ تعلیم صرف ڈگریوں کے حصول، معاشی استحکام یا مادی برتری کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے باطن کو جلا بخشنے اور اسے بندگی کے مقام عالی سے روشناس کرانے کا عمل ہے۔ اگر نظام تعلیم انسان کو صرف “کمانے والی مشین” بنا دے اور اس کے دل کو شکر گزاری اور روحانیت کے نور سے محروم رکھے، تو ایسا معاشرہ مادی طور پر جتنا بھی ترقی یافتہ نظر آئے، اخلاقی اعتبار سے وہ ایک ایسے جنگل سے مختلف نہیں ہوتا جہاں صرف طاقت کا سکہ چلتا ہے۔ انسانیت کی بقا مادی مسابقت میں نہیں، بلکہ اس روحانی ہم آہنگی میں ہے جو خالق سے منسلک ہونے کے بعد ہی نصیب ہوتی ہے۔
لہٰذا، وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنے تعلیمی ڈھانچے کی بنیادوں کو دوبارہ استوار کریں۔ ہمارا ماننا ہے کہ نصاب تعلیم میں روحانیت کی شمولیت صرف اضافی انتخاب نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے، تاکہ ہم ایسی نسل تیار کر سکیں جو ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ شفیق بھی ہو اور طاقتور ہونے کے باوجود منصف مزاج بھی۔ جب رسمی تعلیم کی مہارتیں اور غیر رسمی تربیت کی روحانی اقدار یکجا ہوں گی تبھی وہ انسانِ کامل جنم لے گا جو دنیا میں عدل، محبت اور سکون کا سفیر بنے گا اور جس کے دم سے یہ کرۂ ارض ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن سکے گا۔
روحانیت کے بغیر تعلیم ایسے جسم کی مانند ہے جس میں روح نہ ہو۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں آدمیت کے درجے سے نکل کر انسانیت اور اشرف المخلوقات کے اصل مقام کو پالیں، تو ہمیں گھر اور مدرسے، دونوں جگہوں پر اللہ کی یاد اور اس کی مخلوق سے محبت کا چراغ روشن کرنا ہو گا۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں آج کے پر آشوب اور بے ہنگم دور کے ذہنی تناؤ سے نکال کر ابدی اطمینان اور حقیقی کامیابی کی منزل تک لے جاسکتا ہے۔
