Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

اسلام اور دیگر مذاہبِ عالم (قسط: اول)|علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی

اسلام اور دیگر مذاہبِ عالم (قسط: اول)
عنوان: اسلام اور دیگر مذاہبِ عالم (قسط: اول)
تحریر: علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اسلام کا دوسرے مذاہب سے موازنہ کرنے کی صورت میں اُن عناصر کا ایک سرسری خاکہ ضرور پیش کرنا پڑے گا جن پر مذاہبِ عالم کی بنیاد رکھی گئی ہے، جو مذاہب کے تنظیمی نقشوں میں اساس کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کے بغیر کوئی مذہب، مذہب اور کوئی نظام، نظام کہلانے کا مستحق نہیں ہو سکتا۔

وہ عناصر مندرجہ ذیل ہیں:

  1. نظامِ عقائد

  2. نظامِ عبادت

  3. نظامِ اخلاق

اسلام اور اس کے علاوہ دنیا کے تمام مذاہب خواہ وہ مُنَزَّل مِن اللہ ہوں اور بعد میں تحریف و تبدیلی کی نذر ہو گئے ہوں یا چند انسانوں کی مشترک اختراعِ فکر کا نتیجہ ہوں، ان کی بنیاد کچھ معقول دلائل کے اوپر ہو یا وہ اوہام و خرافات نیز اساطیرِ الاوّلین کا مجموعہ ہوں۔ مندرجہ بالا تین اساسی قدروں کا دعویٰ ہر ایک میں ملے گا۔ اس لیے مذاہبِ عالم کا تقابلی مطالعہ پیش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان عناصرِ ثلاثہ کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے۔ آئیے! سب سے پہلے ہم دنیا کے مشہور مذاہب کے نظامِ عقائد کا جائزہ لیں اس معذرت کے ساتھ کہ اس مختصر سے مقالے میں عقائد کی تمام جزئیات کا استقصا نہ ہو سکے گا، البتہ ان میں صرف عقیدۂ الٰہ اور عقیدۂ رسالت پر گفتگو ہو سکے گی۔

عقیدۂ الٰہ

دنیا میں اپنے اتباع کی کثرت، اپنے مِشنوں کی حرکت اور بلند و بانگ دعوؤں کی وجہ سے مذہبِ مسیحیت اِس وقت پورے کرۂ ارض کے اوپر چھایا ہوا ہے لیکن جب ہم اس کی مادی دل فریبیوں سے قطع نظر اس کے ایمانی، اخلاقی اور عبادتی اقدار کا جائزہ لیتے ہیں تو انتہائی حیرت ہوتی ہے کہ اس قدر کمزور اور ضعیف بنیادوں پر قائم ہونے والا مذہب اس قدر مقبول کیوں ہے! پھر ہمیں بے ساختہ اس دور میں پروپیگنڈے اور اشاعتی اداروں کی اہمیت کا اقرار کرنا پڑتا ہے کہ جب تک دنیا کا ہر فرد اس قدر بالغ نظر نہ ہو جائے کہ وہ مذاہب کا تقابلی مطالعہ کر کے اپنے لیے ایک موزوں اور مناسب راستہ، دوسرے لفظوں میں "صراطِ مستقیم" اختیار کر سکے اس وقت تک لوگ پروپیگنڈوں پر ایمان لاتے رہیں گے۔

ہم یقیناً اُس اسلام کے اوپر ایمان لائے ہیں جسے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام جلوہ گر ہوئے تھے، جس کے متعلق نجاشی شہنشاہِ حبشہ نے کہا تھا کہ یہ دونوں مذاہب تو ایک ہی نورِ مطلق کے دو جلوے ہیں... لیکن مسیحیت کا موجودہ تصورِ الٰہ کس قدر لرزہ دینے والا، کس قدر غیر معقول اور ناقابلِ یقین ہے، وہ اس عقیدے کی مشہور اصطلاح "التثلیث فی الوحدۃ والوحدۃ فی التثلیث" سے ظاہر ہے۔ یہ وہ اصطلاح ہے جس پر پورے عیسائی ازم کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک تین اور تین ایک کی غیر معقول ریاضی تقسیم اور وحدت کو کون قبول کر سکے گا؟ اس اصطلاح کا مفہوم مسیحی کتبِ عقائد میں یہ پیش کیا گیا ہے؛ حضرت عیسیٰ، روح القدس اور مریم علیہما السلام سے قطع نظر صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مزعومہ الوہیت کا ہم جائزہ لیں۔

عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بندوں کے گناہوں کی جزا کے طور پر سولی دے دی گئی تاکہ وہ خود سولی پر چڑھ کر اپنے امتیوں کے لیے کفارہ بن جائیں۔ اوّل تو یہ بات کس قدر عجیب سی لگتی ہے کہ گناہ امتی کر رہے ہیں اور کفارے کے طور پر سولی رسول کو دی جا رہی ہے! دوسرے یہ کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود اللہ تھے تو پھر کیوں کر وہی منتقم ہوئے اور وہی منتقم بہ بن گئے؟ انہی کے حکم پر سولی لٹکائی گئی اور خود ہی اپنی مرضی پر قربان ہو گئے! اور پھر جو سولی پر چڑھ جائے اور تختۂ دار پر انتہائی اضطراب کے عالم میں دم توڑ دے، کیا وہ خدا ہو سکتا ہے؟ پھر عبرانی کے تمام نوشتوں میں یہ بات متفق علیہ طور پر درج ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے وقتِ صلیب یہ ارشاد فرمایا تھا: اے میرے خدا، اے میرے خدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ اگر وہ خدا تھے تو کس خدا کو آواز دے رہے تھے؟ الوہیت کی جو صفت ان کی ذات کا لازمہ تھی، وہ ان سے جدا کیوں کر ہو گئی؟ دراصل اسلام کے علاوہ تمام مذاہبِ عالم میں شرک فی الالوہیت ہی ایک مشترک جرم ہے جو ناقابلِ معافی ہے۔ عیسائیت کی طرح یہودیت بھی ابوۃ اللہ کی قائل ہے۔ چنانچہ یہودی حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔ ہندو مت میں ہر اوتار درجہٴ الوہیت پر فائز سمجھا جاتا ہے۔

العیاذ باللہ! اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اسلام کے علاوہ تمام مذاہبِ عالم کا تصورِ الہ بدیہی البطلان ہے کیوں کہ الہِ واحد کے مقابلے میں متعدد الہ کا تصور خود عقیدہٴ الہ کے منافی ہے، اس لیے کہ متعدد الہ ممکن ہی نہیں۔ قرآنِ عظیم نے بہت واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے:

لَوْ كَانَ فِیهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا [سورۃ الانبیاء: 22]

کائنات کا نظام متعدد خداؤں کے ذریعے نہیں چل سکتا۔ غالباً اسی تصور کو ایک مغربی مفکر نے بہت واضح طور پر پیش کیا ہے: "کوئی شخص دو آقاؤں کی بندگی نہیں کر سکتا۔"

اسلام کا عقیدہٴ اللہ

تمام مذاہبِ عالم کے مقابلے میں اسلام نے عقیدہٴ اللہ کو بہت واضح طور پر پیش فرمایا ہے۔ اس طور پر کہ ذاتِ پاک تعالیٰ شانہٗ کی تمام صفات کا تصور کر ڈالیے؛ کہیں بھی آپ کی عقل، آپ کا ذہن یہ نہ کہے گا کہ یہ صفت شانِ الوہیت کے منافی ہے، بلکہ ہر صفت کے حقائق و معارف کے انکشاف کے بعد ہر صاحبِ شعور بے ساختہ پکار اٹھے گا کہ بے شک یہ صفت صفتِ الٰہی ہے۔ اسلام کے عقیدہٴ اللہ میں "قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ۔ اَللّٰهُ الصَّمَدُ" کے اثباتی انداز کے بعد "لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ۔ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ" کا منفی طریقہٴ تفہیمِ شانِ الوہیت کس قدر پیارا، کس قدر عقل و فکر سے قریب تر ہے! اسلام نے نہ صرف ذاتِ الٰہی میں ممکنات کی شرکت کا انکار کیا ہے، بلکہ واضح طور پر یہ اعلان فرمایا ہے کہ "وَلَا ضِدَّ لَهُ وَلَا نِدَّ لَهُ وَلَا شَبِیْهَ لَهُ وَلَا مَثِیْلَ لَهُ"۔ جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ صفات میں بھی شرکت ناممکن ہے۔ تجسیم وغیرہ کا انکار فرما کر عقیدہٴ اللہ کی بلند ترین حیثیت پیش فرما دی ہے۔ ایک مغربی مستشرق نے غالباً اسی حقیقت کا اعتراف اپنے ان جملوں میں کیا ہے: ”قرآن کا سب سے بڑا اعجاز یہ ہے کہ اس نے عقیدۂ الٰہ کو مرئی اور مجسم نہ پیش فرما کر ہمیشہ کے لیے ذلیل ہونے سے بچا لیا۔“

حقیقت یہ ہے کہ تمثیل و تجسیم وغیرہ ہی حقیقتِ الٰہ پر پردہ ڈال دیتی ہیں اور انسان الٰہ تک پہنچنے کے بجائے مظاہر میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ وہ نقوشِ راہ کو منزلِ معرفت تصور کر لیتا ہے۔ عقیدۂ الٰہ کا اثر انسان کی پوری زندگی پر پڑتا ہے۔ بالخصوص وہ نظام تو براہِ راست متاثر ہوتا ہے جو اس عقیدے سے تشکیل پاتا ہے۔ وہ معاشرہ جس کی تعمیر عقیدۂ الٰہ کے تحت ہوتی ہے اس کا ہر گوشہ اس عقیدے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کذبِ باری تعالیٰ کو ممکن مان لیا جائے تو اسلامی نظامِ حیات کی دیواریں متزلزل ہو جائیں گی، بلکہ اسلامی قوانین کا قصرِ رفیع فرشِ زمیں پر ڈھیر ہو جائے گا۔ اس لیے کہ یہ امکانِ کذب نہ معلوم کتنے نقائص کے امکانات اپنے دامن میں لیے ہوئے ابھرے گا۔ یہاں تک کہ مسلم پرسنل لا میں جس کو خالص الٰہی قانون کی حیثیت سے تسلیم کیا جا چکا ہے، وہ خود منزلِ امکان میں ممکن التغیر والتبدّل قرار پائے گا، کیوں کہ ممکن ہے کہ کسی قانون کے ارشاد کے وقت امکانِ کذب دائرۂ امکان سے صرف ایک قدم آگے بڑھ کر وقوع پذیر ہو گیا ہو... العیاذ باللہ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام قومیں جو خدائے واحد کے مقابلے میں بے شمار خداؤں کی پرستش کرتی ہیں، جن کی پیشانیاں بے شمار بارگاہوں میں خراجِ سجدہ پیش کرنے کے لیے جھکی ہوتی ہیں، وہ اپنی زندگی کے تمام مسائل میں انتہائی مضطرب اور بے قرار نظر آتی ہیں۔ ایک سر ہے اور ہزاروں موہوم مراکزِ سجدہ سجدہ کر رہے ہیں۔ بے چارہ کہاں کہاں اپنی پیشانی جھکائے اور اپنے کمزور سے وجود کے اوپر کس کس کی حاکمیتِ مطلقہ مسلط کرے۔ غالباً یہی وہ مصلحت تھی جس کے پیشِ نظر قرآنِ حکیم نے بے شمار مقامات پر عقیدۂ توحید کو بہت واضح طور پر پیش فرما کر بار بار مختلف اسالیبِ بیان کے ساتھ ذہنوں میں اتارا ہے کہ کہیں سے یہ مقدس عقیدہ مجروح نہ ہونے پائے، ورنہ انسان گمراہی کے ورطہٴ دیجور سے نکل کر ہدایت کے ساحلِ نور تک کبھی رسائی حاصل نہ کر سکے گا۔

مندرجہ بالا تصریحات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اسلام کے علاوہ تمام مذاہبِ عالم کے یہاں عقیدہٴ الٰہ تصدیقِ عقیدہ کی صراحت لیے ہوئے نہیں، بلکہ تصوُّرِ محض کا ابہام لیے ہوئے ملتا ہے۔ اِس لیے کہ ان کے یہاں اللہ کا صرف تصوُّر ہے جسے ”تصوُّرِ الٰہ“ سے تعبیر کرتے ہیں اور اسلام میں اللہ ایک حقیقت ہے، ایک عقیدہ ہے، اور یہ ایک امرِ مسلّم ہے کہ تصوُّر زندگی نہیں دیتا، بلکہ زندگی صرف عقیدے سے ملا کرتی ہے جو انسان کی پوری زندگی پر چھا جاتا ہے اور انسان اپنی زندگی کا ہر قدم اللہِ واحد کو شہید و بصیر یقین کرتے ہوئے اٹھاتا ہے۔ اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کی بنیاد کا جب یہ عالم ہے تو اس بنیاد پر جس معاشرے کی عمارت تعمیر کی جائے اس کا کیا عالم ہوگا؟

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!