Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

سفر نامہ کیرالا (قسط سوم)

سفر نامہ کیرالا (قسط سوم)
عنوان: سفر نامہ کیرالا (قسط سوم)
تحریر: ابو تراب سرفراز احمد عطاری مصباحی

مسجد فیضانِ عشقِ رسول کا سنگِ بنیاد:

جامعہ سعدیہ کے دیگر تعلیمی اداروں کا وزٹ کرنے کے بعد ظہر کی نماز ادا کی گئی پھر ہمارا قافلہ ثوبان عطاری کے علاقے “اُپّلا” کی جانب روانہ ہوا، یہاں ایک ہدف کی تکمیل مقصود تھی، وہ تھا فیضانِ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کا سنگِ بنیاد۔ شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت علامہ الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ آپ دشمنانِ اسلام کا عملی بائیکاٹ کرتے ہوئے دین کی تبلیغ اور ترقی کے معاملات میں اضافہ فرما دیتے ہیں۔ اس مسجد کا تعلق بھی انہی معاملات میں سے ہے، دراصل گزشتہ دنوں کچھ دشمنانِ اسلام نے معاذ اللہ رسولِ معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو لوگوں کے دلوں سے کم کرنے کے لیے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا منصوبہ تیار کیا، تو امیرِ اہلِ سنت نے اس کے جواب میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اضافے کے لیے دنیا بھر میں فیضانِ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے 100 سے زائد مساجد بنانے کا اعلان کر دیا۔ اعلان کیا ہوا، دنیا بھر سے مساجد کی تعمیرات کی خوشخبریاں آنے لگیں۔ کیرالا کے اس علاقے میں بھی عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسجد کے لیے زمین دیکھ رکھی تھی۔ ثوبان عطاری کے گھر ہماری دعوت کا اہتمام تھا، کھانے کے بعد مسجد فیضانِ عشقِ رسول کی بنیاد رکھی گئی، گویا عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اضافے کے مرکز کی اساس رکھی گئی، اللہ نے چاہا تو اس جگہ سے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لبالب جام امت کو پلائے جائیں گے۔

کے جی این کیمپس دار الارشاد اور جامعۃ المدینہ فیضانِ امام شافعی میں حاضری:

بعد ازاں ہمارا قافلہ کرناٹک بارڈر پر واقع ایک شہر “مانی پڈ، منگلور” روانہ ہوا۔ جہاں دعوتِ اسلامی کا ایک جامعۃ المدینہ بنام فیضانِ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ قائم ہے۔ اس جامعہ کے لیے عمارت کی سہولت فراہم کرنے والے وہاں کے ایک بڑے عالمِ دین زین العلماء حضرت علامہ عبد الحمید مصلیار دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ حضرت فقہ شافعی کے بڑے عالم ہیں اور روزانہ آپ کے درسِ بخاری میں ایک بڑی تعداد شرکت کا شرف حاصل کرتی ہے۔

حضرت نے 5 طلبہ کے ذریعے ایک مکتب کا آغاز فرمایا تھا۔ شائقینِ علم جوق در جوق آپ کی طرف بڑھنے لگے، یہاں تک کہ مکتب کی وسعت تنگی میں بدل گئی، پھر آپ نے “دار الارشاد” نامی ایک ادارہ قائم فرمایا، مگر حضرت کے علم کا چرچہ دور دور تک ہونے لگا تھا، اس لیے کچھ دنوں میں وہ بھی چھوٹا پڑ گیا، پھر حضرت نے کے جی این کیمپس دار الارشاد کے نام سے دوسری جگہ بڑا ادارہ قائم فرمایا جس میں فی الحال 500 سے زائد طلبہ دین و دنیا کی تعلیم سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔

مولانا صداقت اللہ شافعی کی امیرِ اہلِ سنت سے عقیدت:

حضرت کے پانچ شہزادے ہیں، اللہ کی رحمت سے سارے عالمِ دین ہیں۔ بڑے شہزادے علامہ شریف صاحب کے جی این کیمپس دار الارشاد کا انتظام و انصرام دیکھتے ہیں، اور چھوٹے شہزادے علامہ صداقت اللہ صاحب سابق دار الارشاد کے معاملات سنبھالتے ہیں۔ حضرت اور آپ کے شہزادے دعوتِ اسلامی سے بے انتہا محبت فرماتے ہیں، یہاں تک کہ اپنے سابق ادارے دار الارشاد کی ایک عمارت دعوتِ اسلامی کے جامعۃ المدینہ فیضانِ امام شافعی کے لیے فراہم کر دی۔ اس جامعہ کے ناظمِ جامعہ مولانا اسلام عطاری نے علامہ صداقت اللہ صاحب کے بارے میں بتایا کہ حضرت بلا ناغہ مدنی مذاکرہ بشوق و ذوق دیکھتے ہیں، اور کہتے ہیں: “میرا کھانا چھوٹے تو چھوٹے مگر مدنی مذاکرہ نہ چھوٹے”۔

ہمارا قافلہ جامعۃ المدینہ فیضانِ امام شافعی میں پہنچ چکا تھا، وہاں کے اساتذہ سے ملاقات کے بعد علامہ صداقت اللہ صاحب سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مزید محبتوں کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے آپ کو اپنی ایک عمارت دی ہے، اگر آپ کہیں تو ہم اپنا بڑا ادارہ بھی آپ کے حوالے کر دیتے ہیں، کیوں کہ ہمارے پاس تعلیم ہے، دینی ہو یا دنیاوی، مگر تربیت و روحانیت دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے ملتی ہے وہ ہمارے پاس نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے یہاں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی خوب دھوم دھام ہو۔

اسی دوران کہ تذکرۂ امیرِ اہلِ سنت چل رہا تھا، علامہ صداقت اللہ نے کہا کہ میرا تو یہ نظریہ ہے کہ امیرِ اہلِ سنت کا تصور ہی گناہوں سے نفرت دلانے کے لیے کافی ہے۔ میں بارہا تصورِ امیرِ اہلِ سنت کی سعادت حاصل کرتا ہوں اور دل میں سکون و اطمینان محسوس کرتا ہوں۔

سبحان اللہ۔ الحمد للہ آج دعوتِ اسلامی کی ترقی علماء کی دعا و تعاون ہی کی بدولت ہے، اللہ کریم سے دعا ہے کہ دعوتِ اسلامی پر علمائے کرام کا سایہ ہمیشہ برقرار رکھے۔ آمین۔

صبح کے وقت زین العلماء علامہ عبد الحمید مصلیار دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کی سعادت ملی، حضرت نے بھی دعوتِ اسلامی کو خوب دعاؤں سے نوازا۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ۔

مرکز الثقافۃ السنیہ کالی کٹ کیرالا کا سفر:

قبل از ظہر ہمیں مرکز الثقافۃ السنیہ کالی کٹ کیرالا کی طرف نکلنا تھا، وہاں کے لیے منگلور اسٹیشن سے ہمیں ٹرین پکڑنا تھی، علامہ صداقت اللہ صاحب خود اپنی گاڑی سے ہمیں اسٹیشن چھوڑنے آئے اور دعاؤں سے نوازتے ہوئے ہمیں رخصت کیا۔

اسٹیشن پر تمام شرکائے قافلہ نے نمازِ ظہر ادا کی اور اس کے بعد گاڑی میں سوار ہو گئے، یہ تقریباً 4 گھنٹے کا سفر تھا۔ گاڑی اسٹیشن سے نکل چکی تھی، ایک بار پھر زہے قسمت کہ مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساحل کے بوسے کی مستقل سعادت پانے والا سمندر نگاہوں کے سامنے تھا، عقیدت کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں سلام پیش کیا۔

عصر کی نماز ٹرین میں ہی ادا کی گئی، مغرب سے قبل ہماری گاڑی کالی کٹ اسٹیشن پہنچ گئی۔ وہاں پہنچے تو پہلے ہی ہمیں ریسیو (receive) کرنے مرکز کی گاڑی پہنچ چکی تھی، ہمیں بڑی خوشی ہوئی کہ اب بآسانی مرکز پہنچا جا سکتا ہے۔ مگر ڈرائیور اردو سمجھتے ہی نہیں تھے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ ہمارے ساتھ ثوبان عطاری (کیرالا) موجود تھے جو بخوبی ملیالم زبان بول اور سمجھ لیتے تھے۔

ڈاکٹر شیخ عبد الحکیم ازہری سے ملاقات:

گاڑی کچھ ہی منٹ میں مرکز الثقافۃ السنیہ کے احاطے میں داخل ہو گئی اور مختلف عمارتوں کے سامنے سے گزرتے ہوئے مہمان خانہ کے دروازے پر جا کر رک گئی۔ ہم لوگ گاڑی سے اتر کر سامان اتارنے لگے، تبھی وہاں موجود کچھ ثقافی اسلامی بھائی لپکے اور ہمارے ہاتھوں سے سامان لے لیا، اور کہا کہ آپ اندر تشریف لے چلیں سامان پہنچ جائے گا۔

یہ مہمان خانہ تھا یا کوئی بڑا بنگلہ، عمارت کے سامنے کی طرف پھولوں کی حسین کیاری عمارت کے حسن میں مزید اضافہ کر رہی تھی، دراصل یہ مہمان خانہ کوئی عام نہیں تھا، بلکہ عرب سے آئے علماء کے لیے بنایا گیا تھا، کبھی کبھی یہاں شیخ ابو بکر دامت برکاتہم العالیہ بھی قیام کرتے ہیں۔ اسی عمارت میں ہماری رہائش کا انتظام تھا۔ ابھی ہم عمارت میں داخل ہو کر ویزیٹنگ روم (Visiting Room) میں پہنچ کر صوفے پر بیٹھے ہی تھے کہ ڈاکٹر علامہ عبد الحکیم ازہری سامنے نظر آئے، یہ ہمارے لیے غیر معمولی بات تھی، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ موصوف ہی مرکز الثقافۃ السنیہ اور نالج سٹی کے ڈائریکٹر ہیں، ان سے ملاقات کے لیے پیشگی اپائنٹمنٹ (Appointment) لینا پڑتا ہے، بصورتِ دیگر ملاقات کی کوئی صورت نہیں، یہاں بنا کسی اپائنٹمنٹ ہماری ملاقات ہو گئی تھی۔

آپ بڑے عالم، عظیم مفکر، بہترین رہنما، اور قائدانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں، دعوتِ اسلامی سے انتہائی محبت فرماتے ہیں۔ جس کی ایک نظیر یہ ہے کہ آپ کو اسی وقت دبئی کے سفر پر نکلنا تھا، مگر جیسے ہی ہمارے آنے کی خبر آپ تک پہنچی تو آپ نے اپنی فلائٹ کینسل کی اور اگلی فلائٹ سے سفر کا ارادہ بنا لیا تھا۔ سادہ طبیعت اتنے کہ ہم سے بعض تو پہچان بھی نہ سکے۔ ہماری ملاقات پر خوشی کا اظہار فرمایا، اور ہمارے لیے یہ تو ایک نعمتِ غیر مترقبہ تھی۔ (جاری)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!