Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

اسلام کے خلاف ایک سازش

اسلام کے خلاف ایک سازش
عنوان: اسلام کے خلاف ایک سازش
تحریر: خطیب اعظم علامہ قمر الزماں خان اعظمی
پیش کش: اقصیٰ عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

مکرمی! آپ کے مؤقر جریدے کے ذریعے میں مسلمانانِ عالم کو مصطفی عقاد کی مشہور فلم "دی میسج" (The Message / پیغام) کی شرعی حیثیت اور اس کے مجموعی تاثر سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں، تاکہ فلم دیکھنے والے اس کے مضر اثرات اور نقصانات سے بچ سکیں اور شریعت کی اتباع کرنے والے اس فلم کو کارِ ثواب سمجھنے کے بجائے حرام و ناجائز سمجھ کر دیکھنے سے بچیں۔ جیسا کہ مسلمانانِ عالم کو معلوم ہے کہ اس فلم کا پروپیگنڈہ کم و بیش چار سال سے زور و شور سے کیا جا رہا تھا، اور اب وہ برطانیہ کے بہت سے سینما ہالوں میں دکھائی جا رہی ہے۔ حالاں کہ مسلمانانِ عالم نے اس فلم کی شدید مذمت کی ہے اور بعض مسلم مملکتوں نے تو اپنے سفارتی ذرائع سے رُکوانے کی کوشش کی تھی، لیکن ان تمام مذمتوں اور کوششوں سے صرف اتنا ہوا کہ اس فلم کا نام "محمد صلی اللہ علیہ وسلم" کے بجائے "دی میسج" رکھ دیا گیا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مفروضہ شبیہ پیش کرنے سے اجتناب کیا گیا۔ حالاں کہ جن لوگوں نے اختلاف کیا تھا اُن کا اختلاف پوری فلم سے تھا، نہ کہ صرف نام سے۔ لیکن بار بار کی فریب خوردہ اور سادہ لوح قوم کو مزید فریب دینا آسان ہے۔ چنانچہ نام کی تبدیلی سے مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا کہ اس طرح ناجائز فلم جائز ہوگئی۔

میں اس سے پہلے کہ اس فلم کی شرعی حیثیت پر گفتگو کروں، مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مجموعی تاثر کو ناظرین کے سامنے پیش کردوں، تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو سکے کہ اس فلم کو عقلاً بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، اور اس کی نمائش مسلمانانِ عالم کو فریب دینے کے مترادف ہے۔

اس فلم میں حضرت امیر حمزہ، حضرت ابو سفیان، حضرت زید، حضرت بلال رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور دیگر بہت سے صحابہ کرام کی تصاویر اور ان کے تمثیلی کرداروں کو پیش کیا گیا ہے۔ ان تصاویر کو دیکھنے کے بعد پردۂ خیال پر صحابہ کرام کی غلط تصاویر مرتسم ہو جاتی ہیں اور فلم دیکھنے والے جب بھی اس عظیم و جلیل شخصیت کا نام پڑھیں گے یا سنیں گے تو ان کے ذہنوں میں "دی میسج" کی پیش کردہ تصاویر موجود ہوں گی اور نفسیاتی اعتبار سے ان سے چھٹکارہ ناممکن ہوگا۔ اسی طرح ان کے عظیم و جلیل کردار کو بھی اسی معیار پر جانچا جائے گا جو فلم کے اندر پیش کیا گیا ہے، اور یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ صحابہ کے عظیم کردار کی عظمت کو فلم پیش کرنے سے قاصر ہے۔

مستشرقین یورپ جو اسلام کے بدترین دشمن ہیں، دنیا کو ہمیشہ یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ اسلام کا یہ عظیم انقلاب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبر ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی حکمت عملی اور ان کے عسکری تدبر کی وجہ سے برپا ہوا تھا۔ چنانچہ ان کے علاوہ اگر کوئی دوسرا انسان بھی اسی سمجھ بوجھ سے کام لیتا جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا تو اس کو بھی وہی کامیابی ملتی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تھی۔ اس لیے وہ پیغمبر نہیں بلکہ مدبر، سیاست داں اور سپہ سالار تھے۔ اس پوری فلم سے یہ تاثر مجموعی طور پر قائم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں بے دست و پا تھے، اس لیے مظالم سہتے رہے، لیکن جب مدینہ میں ان کو طاقت ملی تو انہوں نے قبائل کو منظم کر لیا، اور کافر غیر منظم تھے اس لیے مسلمان بدر میں کامیاب ہو گئے۔ چنانچہ معرکہ بدر میں کافروں کے لشکر کی بد نظمی اور مسلمانوں کے حسن انتظام کو ہی نمایاں کیا گیا ہے۔ مثلاً کافروں کے پاس جنگ سے پہلے ہی پانی موجود نہیں تھا، چنانچہ ایک مشکیزہ پانی کے استعمال پر کافر لڑتے جھگڑتے دکھائی دیتے ہیں اور مسلمانوں کی فوج میں اتنا وافر مقدار میں پانی موجود ہے کہ صحابہ کرام وضو کرتے ہیں اور نمازیں ادا کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی فوج حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں منظم ہے، مگر کافروں کے حملے کا یہ عالم ہے کہ کافر خود ایک دوسرے کو دھکے دے رہے ہیں اور بھدی طرح حملہ آور ہیں۔ اس طرح انہوں نے مسلمانوں سے زیادہ خود کو نقصان پہنچایا۔ حالاں کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کا قرآنی فیصلے کے مطابق یہ عقیدہ ہے کہ بدر اور تمام غزوات میں جو کامیابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی وہ حضور کا پیغمبرانہ اعجاز ہے اور عسکری تدبیر بھی پیغمبرانہ امور کا ہی ایک حصہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ قرآن پاک میں ملائکہ کی نصرت کا بھی ذکر ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر کوئی سپہ سالار اس کام کو کرنا چاہتا تو کیا کامیابی نہ ملتی؟ یہ کامیابی سراسر اللہ کی تائید و نصرت پر موقوف ہے۔

اس فلم میں مسلمانوں کو کفر کی زندگی میں جس معیار زندگی کا حامل بتایا گیا ہے، اسلام کے بعد بھی اسی لباس اور اسی طرزِ معاشرت میں پیش کیا گیا ہے حتیٰ کہ کفر کے لباس اور اسلام کے لباس میں بھی فرق نہیں کیا گیا۔ حضرت ابو سفیان چند صحابہ کے پاس جاتے ہیں وہ روٹیاں پورے ہاتھوں سے توڑ کر کھا رہے ہیں اور ابو سفیان کھڑے ہیں مگر وہ ان کی طرف توجہ بھی نہیں کرتے۔ یہ بات اسلامی اخلاق کے بالکل منافی ہے۔ خواہ ابو سفیان کفر کی حالت ہی میں کیوں نہ آئے ہوں، وہ ان صحابہ کرام کے پاس آئے تھے جن کا اخلاق، اخلاقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پرتو ہے۔ کیا اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اسلام صرف ایک مذہب ہے، تہذیب نہیں؟ کیا مسلمان کفری تہذیب کو بھی قبول کرسکتا ہے؟ حالاں کہ اسلام ایک مکمل مذہب بھی ہے اور ایک مکمل تہذیب بھی۔ فتح مکہ کے بعد کعبہ کے مطاف میں مسلمانوں کو مسرت اور خوشی میں اچھلتے کودتے دکھایا گیا ہے۔ حالاں کہ مسلمان کی مسرت، تمکنت و وقار کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی اور دل اللہ کے شکر سے لبریز تھا۔ آنکھوں میں خوشی کے آنسو اور پیشانیوں سے شکر کے سجدے ٹپک رہے تھے۔ بھلا اس حالت کا اس حالت سے کیا موازنہ جو فلم کے اندر پیش کی گئی ہے، جس میں اسلام کے بعد بھی وہی بدویت نمایاں ہے جو اسلام سے پہلے تھی۔ یہ منظر یہ تاثر دیتا ہے کہ سوائے نماز اور اذان کے عادات و اطوار میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی تھی۔

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے لیے جس چہرے کا انتخاب ہوا ہے، وہ قطعاً غلط ہے۔ حضرت بلال دراز قد اور چوڑے چکلے جسم کے مالک تھے۔ چہرہ اقدس پر گھنی داڑھی تھی اور حبشی الاصل ہونے کے باوجود پُر وقار شخصیت کے مالک تھے۔ لباس پورے جسم کو ڈھکنے والا اور شریعت کے مطابق پہنتے تھے۔ مگر اس فلم میں اسلام کے بعد بھی اسی غلامانہ لباس کو دکھایا گیا ہے، جس لباس میں وہ اسلام سے پہلے رہا کرتے تھے۔ کیا وہ منظر جب کہ مسجد نبوی میں، خانہ کعبہ اور دوسری جگہوں میں اذان دیتے ہیں، جنگوں میں شرکت کرتے ہیں اور کمر سے اوپر کوئی لباس نہیں ہے، اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ اسلام نے حضرت بلال کو مؤذن تو بنا دیا تھا، مگر معیارِ زندگی میں کوئی ترقی نہیں ہوئی تھی؟ کیا فلم میں حضرت بلال کی شبیہ دیکھ کر اس عظیم بلال کا تصور اُبھرتا ہے جس کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، "سیدنا بلال" کہا کرتے تھے؟

حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حالتِ کفر میں جس شدت سے اسلام کی مخالفت کی تھی، اسلام کے بعد اس سے زیادہ خلوص و ایثار کے ساتھ انہوں نے اسلام کو آگے بڑھایا۔ مگر اس فلم میں صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو سفیان نے اچانک فتح مکہ کے روز اسلام قبول کر لیا تھا اور اسلام قبول کرتے وقت ان کا چہرہ ہر طرح کے تاثر سے عاری تھا، حتیٰ کہ سابقہ زندگی پر ندامت و انفعال کا کوئی اثر نہیں تھا۔ حالاں کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا ذہن تدریجاً اسلام کی طرف مائل ہوا تھا۔ اس تدریجی عمل کو چہرے سے نمایاں ہونا چاہیے تھا۔ یوں ہی اگر ان کے اسلام کے بعد ایک جملہ کہہ دیا گیا ہوتا کہ حضرت ابو سفیان نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام کی بہت خدمت کی تو تاریخ سے ناواقف انسان بھی اپنے دل کو بے غبار لے کر سینما ہال سے نکلتا۔ مگر ابو سفیان کا یہ سرسری اسلام جو فلم کے اندر پیش کیا گیا ہے، غیر تعلیم یافتہ مسلمانوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کرے گا۔

ہندہ اور وحشی بعد میں مسلمان ہو گئے تھے، حتیٰ کہ وحشی نے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کو قتل کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ایک وہ وقت تھا کہ میں نے اسلام کے بہترین آدمی حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا، اور ایک یہ وقت ہے کہ آج کفر کے بدترین انسان اور دشمنِ اسلام مسیلمہ کو قتل کیا ہے۔ مگر اس فلم سے ایک فلم بین ان کے متعلق نفرت و غضب کا ایک سمندر لیے ہوئے سینما ہال سے باہر نکلتا ہے اور ہزاروں گالیاں دیتا ہے (معاذ اللہ)۔ حالاں کہ اسلام کے بعد کفر کے بدترین گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں اور ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ اگر ان کی کفر کی زندگی کے بعد صرف دو جملے بڑھا دیے گئے ہوتے کہ بعد میں یہ لوگ مسلمان ہو گئے تھے، تو تاریخ سے ناواقف مسلمان بے غبار دل لے کر واپس لوٹتا۔

حضرت بلال کے علاوہ اور صحابہ کرام کی صورتیں بھی انتہائی ناپسندیدہ انداز سے پیش کی گئی ہیں، بلکہ صحابہ کے مقابلے میں کافروں کے چہرے پُر شکوہ اور وجیہ بنا کر پیش کیے گئے ہیں۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متبنّیٰ (منہ بولے بیٹے) تھے، ان کو ہپیوں، لا ابالی اور آوارہ قسم کے بال رکھنے والے نوجوان کی صورت میں پیش کیا گیا ہے اور چہرے پر داڑھی ایسی ہے جیسے دو روز سے شیو نہ کیا ہو۔ معاذ اللہ! کیا کوئی ایسی صورت دیکھ کر حضرت زید کے بارے میں اچھی رائے قائم کر سکتا ہے؟ آج بچے گلیوں میں چلاتے پھرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے بھی جدید فیشن کے لیے لمبے بال رکھتے تھے۔

فلم میں جگہ جگہ صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی "مقدس صورتیں" پیش کی گئی ہیں۔ کیا یہ اسلامی غیرت کے منافی نہیں ہے؟ کیا مسلمان جو فلم کے پردے پر اپنی ماں بہن کی تصویر دیکھنا گوارا نہیں کرتا، صحابیہ خواتین کے چہرے دیکھنا گوارا کرے گا، اگر چہ وہ فرضی کیوں نہ ہوں، منسوب تو دورِ رسالت سے ہیں!

کیا وجہ ہے کہ خلفائے اربعہ کی تصویریں نہیں پیش کی گئی ہیں اور بہت سے جلیل القدر صحابہ مثلاً حضرت امیر حمزہ جو سید الشہداء اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں، ان کی تصویر پیش کی گئی ہے؟ کیا یہ احتیاط اور بد احتیاطی دونوں اس لیے نہیں ہیں کہ خلفائے راشدین کی تصویریں نہ پیش کر کے مسلمانوں کو فریبِ احتیاط دیں گے اور بعض صحابہ کی تصویریں پیش کر کے آئندہ خلفا کی تصویروں کے لیے جواز تلاش کریں گے؟

10۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کو پیش کرنے میں اگر کامیابی ہوگئی تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آئندہ کی فلموں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ پیش نہ کیا جائے گا؟ ہوسکتا ہے اس فلم سے فریب خوردہ مسلمان ہی یہ مطالبہ کر دیں کہ حضور کی شبیہ بھی پیش کی جائے۔ اس کا امکان بھی ہے کہ مذاقِ فنی اپنی تسکین کے لیے پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں غیر پیغمبرانہ قسم کا رنگ بھرنے کی کوشش کرے۔ مثلاً ابتدا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ پر جو فلم بنی اس میں ان کے منصب کو خدا کے برابر پیش کیا گیا لیکن رفتہ رفتہ عام انسان کی سطح پر لائے گئے، اور اب ان کی جنسی زندگی پر فلم بن رہی ہے، جس کے لیے عیسائی دنیا سراپا احتجاج نظر آ رہی ہے لیکن بے اثر! الحمد للہ دنیا نے فلم ضرور دیکھی ہوگی۔ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ عیسائیت نے اپنے مقدس نبی کو پردۂ فلم پر پیش کرنے کی اجازت دے کر سخت غلطی کی تھی، جس کی بنا پر آج حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے "سیکس" تک بات آن پہنچی ہے، جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عقد بھی نہیں فرمایا تھا! پھر کیا بعید ہے کہ آج کے فلم بین کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اسی طرح کے مناظر پیش کیے جانے کی خبر سننی پڑے؟

11۔ ہم تاریخِ اسلام سے واقف ہیں اس لیے فلم کو آسانی سے سمجھ لیتے ہیں لیکن ایک غیر تعلیم یافتہ انسان جس کو اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ بھی نہ معلوم ہو، کیا وہ اس فلم کو آسانی سے سمجھ لے گا، جب کہ تاریخی واقعات کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے والی واقعاتی کڑیاں درمیان سے غائب ہیں اور صرف چند بڑے واقعات کو جذباتی انداز سے پیش کیا گیا ہے؟ اور اگر کسی نے سمجھ بھی لیا تو آج کا انسان اس دور کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا جس کو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے "خیر القرون" کے لقب سے نوازا ہے؟ اس طرح یہ فلم در اصل اسلام کی تضحیک کا سبب بنے گی۔

12۔ مندرجہ بالا تصریحات تو فلم کے ان مشاہداتی تاثرات سے متعلق ہیں جو ایک فلم دیکھنے والا قبول کرے گا، لیکن اگر بالفرض "دی میسج" ان تمام بدترین قباحتوں سے پاک ہوتی تب بھی شریعتِ اسلامیہ میں حرام قرار دی جاتی، اس لیے کہ فلم سازی اسلام میں ہر طرح سے حرام ہے، خواہ اس سے نتائج اچھے برآمد ہوں یا بُرے۔ اس لیے کہ سینما کے پردے پر جو تصویریں دکھائی جاتی ہیں، وہ بذات خود حرام ہیں۔ ایک درجن سے زیادہ احادیث مبارکہ میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر کشی کو حرام قرار دیا ہے، اور اس کی مذمت فرمائی ہے، اور اس فلم کو دیکھنا در اصل تصویر کشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ہمت افزائی ہوگی۔ ابھی تو پوری دنیا کے فقہائے اسلام فلم کو بالاجماع ناجائز قرار دے رہے ہیں، لیکن اگر اس فلم کو جائز قرار دے دیا جائے تو ایک ممنوع اور ناجائز کو جائز قرار دینے کا پہلا قدم ہوگا، اور قیامت تک اس سے جو مفسدہ پھیلے گا اس کا ذمہ دار وہ ہوگا جس نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔ تصاویر اسلام میں اس لیے حرام ہیں کہ ان سے شرک کی بنیاد پڑتی ہے۔ دنیا کی غیر مسلم اقوام نے اپنے اکابرین کی غلط اور محض ظن و تخمین کی بنا پر جو تمثیلیں بنائی تھیں آج ان کو حقیقی صورتیں سمجھ کر پوجا جا رہا ہے۔ اور لوگ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ یہ ظن و تخمین کی پیداوار ہیں۔ یہی حال ان صورتوں کا ہوگا جو بنامِ صحابہ پیش کی جا رہی ہیں، اور بعد میں احترام حاصل کر لیں گی۔ چنانچہ میں نے بعض لوگوں کو اخبارات میں چھپی ہوئی حضرت امیر حمزہ کی فرضی تصویر کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ اسلام کا یہ بہت بڑا کمال ہے کہ اس نے اپنے عظیم افراد کو مرئی اور مجسم شکل میں نہ پیش کر کے ہمیشہ کے لیے ذلیل ہونے سے بچا لیا ہے۔

13۔ اول تو اس فلم کے سلسلے میں تنہا کسی ایک فقیہ یا مفتی کی رائے معتبر نہیں ہے لیکن اگر کوئی ایسی جرأت کرے اور علماء کے اجماع کے خلاف فتویٰ دے دے کہ یہ جائز ہے، تو سوال یہ پیدا ہوگا کہ اس کے نزدیک فلموں کی حرمت و حلت کا معیار کیا ہے؟ اگر وہ کہتا ہے کہ اچھی فلمیں جائز اور بری فلمیں ناجائز ہیں، تو پھر فلموں کے اچھے اور برے ہونے کا معیار متعین کرنا ناممکن ہوگا۔ اس لیے کہ انسانوں کے اندر حسن و قبح کا مزاج ماحول سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک ماحول میں ایک شے بری ہوتی ہے تو دوسرے ماحول میں وہی شے اچھی ہوتی ہے۔ پھر تو شاید ہی کوئی ایسی فلم ہو جس کے کچھ افادی پہلو نہ نکال لیے جائیں۔ اس طرح تمام فلموں کو جائز قرار دینا ہوگا۔ رہا علمائے ازہر سے جواز کا معاملہ، تو ابھی تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ علمائے ازہر نے کن شرائط کے ساتھ اسے جائز قرار دیا ہے۔ جواز کی تشہیر تو کی جا رہی ہے مگر وجہِ جواز کو چھپایا جا رہا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ عربی میں "عالم" صرف علومِ دینیہ کے ماہر کو نہیں کہتے بلکہ ہر صاحبِ علم کو کہتے ہیں۔ ازہر ایک یونیورسٹی ہے جس میں تاریخ داں بھی ہوں گے، جغرافیہ کے عالم بھی ہوں گے، نفسیات اور عمرانیات کے ماہر بھی ہوں گے، نباتات اور حیوانات کے عالم بھی ہوں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح کے علماء نے اس کو پسند کیا ہے؟ بفرضِ محال اگر مصر کے علمائے شریعت نے جواز کا فتویٰ دے دیا ہے تو بھی ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے یہ سندِ جواز نہیں ہے، اس لیے کہ مصر کے بعض علماء نے تو جمال عبدالناصر کی قیادت کو محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مقابلے میں فوقیت دیتے ہوئے وطنیت کے فرعونی تصور کو مذہب کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی تھی، اور یہ کل ہی کی بات ہے۔

14۔ ابھی تو فلم کے ڈائریکٹر مصطفیٰ عقاد صاحب کا عالم یہ ہے کہ وہ برطانیہ کے ہر شہر سے پھر پھر کر لوگوں سے ملاقات کر کے فلم کا مجموعی تاثر پوچھتے ہیں۔ مثلاً لندن اور بریڈ فورڈ وغیرہ میں ایسے لوگوں کو مدعو کیا گیا جن کا علم شریعت کے بارے میں صفر ہے۔ ان لوگوں نے جو مجموعی تاثر دیا اس کو وہ سندِ جواز بنا رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ مصر میں بھی ایسے ہی علماء سے جواز لے لیا گیا ہوگا۔ خود مجھ سے گفتگو کے دوران انہوں نے یہ کہا کہ اچھائی یا برائی اس عمل میں ہے جو لوگ کرتے ہیں، جب کہ محض دیکھنا گناہ نہیں ہے۔ حالاں کہ شریعت میں بُری نگاہ بھی گناہ گار ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اس فلم میں کچھ کمزوریاں (Lapses) ہیں، جس کی وجہ وقت کی کمی ہے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ اول تو اسلامی دنیا اس فلم کو کبھی برداشت نہیں کرے گی۔ اور اگر بعض عرب مملکتوں نے برداشت کر لیا تو ہندوستان اور پاکستان کا مسلمان اسے کبھی گوارا نہیں کرے گا، اس لیے کہ ابھی بر صغیر کے مسلمانوں کی دینی حس بیدار ہے۔ میں ورلڈ اسلامک مشن کے جوائنٹ سکریٹری کی حیثیت سے دنیا کے تمام مسلمانوں سے استدعا کرتا ہوں کہ اس فلم کا مکمل بائیکاٹ کریں اور مسلم حکومت کے سربراہوں سے استدعا کروں گا کہ اس فلم کو اپنے اپنے ملک میں نمائش کی ہرگز اجازت نہ دیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!