| عنوان: | امام احمد رضا بریلوی کے افتاء کی ایک خصوصیت (قسط: اول) |
|---|---|
| پیش کش: | شیخ کنیز فاطمہ |
امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کی جلالتِ شان سے کون واقف نہیں؟ بلاشبہ ان کی ذات علوم و محاسن کا خزانہ تھی۔ آج بھی ان کے رشحاتِ قلم دنیائے علم و فن کو دعوتِ نظارہ دے رہے ہیں۔ مگر یہاں ان سب پر کوئی تفصیلی بحث مقصود نہیں۔ بس ان کے افتاء کی صرف ایک خصوصیت کی طرف مجھے اشارہ کرنا ہے۔
امام احمد رضا مسائل کے جواب میں جہاں سائل کے فکر و علم کا لحاظ فرماتے، وہیں ان کی زبان کی بھی پابندی کرتے۔ سوال اگر اردو میں ہوتا تو جواب بھی اردو میں ہوتا۔ اور اگر فارسی میں سوال آتا تو فارسی ہی میں جواب دیتے اور اگر سوال عربی میں ہوتا تو عربی ہی میں جواب لکھتے۔ اور کمالِ زبان کا یہ عالم ہے کہ ان کی فارسی دیکھی جائے تو کسی قادر الکلام ایرانی کا دھوکہ ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی عربی دیکھے تو کسی فصیح اللسان عربی نژاد کا تصور سامنے آتا ہے۔ زبان کی برجستگی، بیان کی شیرینی، اسلوب کی لطافت، محاوراتِ اہلِ زبان کا استعمال، اور ان سب سے بڑھ کر اصلاح و تاثیر کا نادر حسن سب جمع ہے۔ جبکہ فقہی مضامین میں زبان و بیان کی ان خوبیوں کا قائم و باقی رکھنا انتہائی دشوار ہے۔
عربی اور فارسی ہی پر بس نہیں بلکہ عرصہ ہوا فتاویٰ کی ایک قلمی جلد میں، میں تو یہ دیکھ کر سخت حیرت میں پڑ گیا کہ انگریزی کا جواب انگریزی میں ہے اور جواب بھی مختصر نہیں بہت مبسوط ہے۔ (آخر میں دستخط سے پہلے “أَمَرَ بِرَقْمِهٖ” تحریر ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل جواب اردو میں تھا، پھر سائل اور سوال کی رعایت سے اس کا ترجمہ انگریزی میں کرا کے بھیجا گیا۔)
اب میں ان کے افتاء کی ایک اور حیرت انگیز خصوصیت کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ امام احمد رضا کا جواب صرف زبان ہی کی پابندی تک محدود نہیں، صنفِ زبان کا بھی پابند ہے۔ یعنی اگر سوال نثر میں ہے تو جواب نثر میں۔ اور اگر کسی نے نظم میں سوال کر دیا ہے تو جواب بھی نظم ہی میں دے رہے ہیں۔
یہ دیکھیے فتاویٰ رضویہ جلد سوم، ص: 654، شائع کردہ سنی دارالاشاعت مبارک پور، اعظم گڑھ۔ جناب مولانا نواب سلطان احمد صاحب بریلوی نے سوال کیا ہے:
عالمانِ شرع سے ہے اس طرح میرا سوال
دیں جواب اس کا برائے حق مجھے وہ خوش خصال
گر کسی نے ترجمہ سجدہ کی آیت کا پڑھا
تب بھی سجدہ کرنا کیا اس شخص پر واجب ہوا
اور ہوں سجدے تلاوت کے ادا کرنے جسے
پھر ادا کرنے سے ان سجدوں کے پہلے وہ مرے
پس سبک دوشی کی اس کے شکل کیا ہوگی جناب؟
چاہیے ہے آپ کو دینا جواب باصواب
اس طرح استفتاء میں دو سوال ہیں (1) جس طرح آیتِ سجدہ پڑھنے سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوتا ہے کیا اسی طرح اس کا ترجمہ پڑھنے سننے سے بھی سجدہ واجب ہو جاتا ہے؟ (2) جس کے ذمہ سجدۂ تلاوت واجب ہو اور ادائے سجدۂ تلاوت سے پہلے انتقال کر جائے تو اس کی سبک دوشی کیوں کر ہو سکتی ہے؟
جواب ملاحظہ کیجیے۔ حکمِ مسئلہ کی توضیح، دلیل، حوالہ کتاب بھی موجود ہے۔ اور مفتیانِ کرام کے حرفِ آخر “اَللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ” کی بھی پابندی ہے۔ ان سب کے باوجود کوئی لفظ حشو اور بھرتی کا نہیں۔ سب بامعنی اور افادۂ مطلب کے تحت ہیں۔ رقم طراز ہیں:
ترجمہ بھی اصل سا ہے وجہ سجدہ بالیقیں
فرق یہ ہے فہم معنی اس میں شرط اس میں نہیں
آیت سجدہ سنی جانا کہ ہے سجدہ کی جا
اب زباں سمجھے نہ سمجھے، سجدہ واجب ہو گیا
ترجمہ میں اس زباں کا جاننا بھی چاہیے
نظم و معنی دو ہیں ان میں ایک تو باقی رہے
تاکہ من وجہٍ تو صادق ہو سنا قرآن کو
ورنہ اک موجِ ہوا تھی چھو گئی جو کان کو
ہے یہی مذہب، بہ یفتی، علیہ الاعتماد
شامی از فیض و نہر واللہ اعلم بالرشاد
سجدہ کا فدیہ نہیں اشباہ میں تصریح کی
صیرفیہ میں اسی انکار کی تصحیح کی
کہتے ہیں واجب نہیں اس پر وصیت وقتِ موت
فدیہ گر ہوتا تو کیوں واجب نہ ہوتا جبرِ فوت
یعنی اس کا شرع میں کوئی بدل ٹھہرا نہیں
جز ادا یا توبہ وقت عجز کچھ چارہ نہیں
یہ نہیں معنی کہ ناجائز ہے یا بے کار ہے
آخر اک نیکی ہے نیکی ماحی اوزار ہے
قُلْتُهُ أَخْذًا مِنَ التَّعْلِيلِ فِي أَمْرِ الصَّلَاةِ
وَهُوَ بَحْثٌ ظَاهِرٌ وَالْعِلْمُ حَقًّا لِلْإِلٰهِ
بحث اور اشعار پر ایک نظر
“ترجمہ بھی اصل سا ہے وجہ سجدہ بالیقیں” اس میں پہلے سوال کا جواب ہو گیا کہ جس طرح آیتِ سجدہ پڑھنے سننے سے سجدہ واجب ہوتا ہے اسی طرح آیتِ سجدہ کا ترجمہ پڑھنے اور سننے سے بھی سجدۂ تلاوت واجب ہو جاتا ہے مگر دونوں کے وجوب میں ایک فرق تھا جسے مصرع ثانی میں بیان فرماتے ہیں: “فرق یہ ہے۔ فہم معنی اس میں شرط اس میں نہیں”۔ آیتِ سجدہ کا ترجمہ سننے سے سجدہ واجب ہونے کے لیے معنی کا سمجھنا ضروری ہے۔ اور خود عربی آیتِ سجدہ سننے کی صورت میں فہمِ معنی شرط نہیں۔ بس آیتِ سجدہ سن لینے ہی سے سجدہ واجب ہوتا ہے۔ البتہ غیر عربی داں کے لیے اگرچہ آیتِ سجدہ کے معنی سمجھنا شرط نہیں مگر اس پر وجوبِ سجدہ کے لیے اسے یہ علم ہو جانا ضروری ہے کہ یہاں آیتِ سجدہ ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی رد المحتار میں فرماتے ہیں:
لٰكِنْ لَا يَجِبُ عَلَى الْأَعْجَمِيِّ مَا لَمْ يَعْلَمْ كَمَا فِي الْفَتْحِ أَيْ وَإِنْ لَمْ يَفْهَمْ۔
منحۃ الخالق علی البحر الرائق میں مزید فرماتے ہیں:
وَعِبَارَتُهُ فِي الْخُلَاصَةِ لٰكِنْ يُعْذَرُ فِي التَّأْخِيرِ مَا لَمْ يَعْلَمْ بِهَا۔
اعلیٰ حضرت نے اس جزئیہ کا بھی افادہ فرما دیا: “آیت سجدہ سنی جانا کہ ہے سجدہ کی جا، اب زباں سمجھے نہ سمجھے سجدہ واجب ہو گیا، ترجمہ میں اس زباں کا جاننا بھی چاہیے”۔
سماعِ ترجمہ کی صورت میں زبان کا جاننا، معنی کا سمجھنا واجب ہونے کی دلیل نقل فرماتے ہیں:
“نظم و معنی دو ہیں ان میں ایک تو باقی رہے، تاکہ من وجہ تو صادق ہو سنا قرآن کو”۔
اس کی توضیح یہ ہے کہ قرآن نظم و معنی دونوں کا نام ہے اور وجوبِ سجدہ کے لیے دونوں میں سے ایک کا پایا جانا ضروری ہے۔ کل چار صورتیں ہوں گی:
-
نظم و معنی دونوں موجود جیسے کسی عربی داں نے آیتِ سجدہ سنی، معنی سمجھ گیا۔ سجدہ واجب، کہ یہاں دونوں موجود ہیں۔
-
نظم ہے، معنی نہیں۔ مثلاً عجمی نے آیتِ سجدہ سنی، اسے معلوم ہو گیا کہ یہ آیتِ سجدہ ہے مگر معنی نہ سمجھا۔ پھر بھی سجدہ واجب ہو گیا۔ کیوں کہ یہاں خود نظمِ قرآن موجود ہے اگرچہ سامع کے نزدیک ثبوتِ معنی نہیں۔
-
معنی ہے، نظم نہیں۔ ایرانی نے فارسی زبان میں آیتِ سجدہ کا ترجمہ سنا، سجدہ واجب ہو گیا۔ کیوں کہ اس نے باعتبارِ معنی قرآن سنا، اگرچہ باعتبارِ نظم نہ سنا، اور وجوبِ سجدہ کے لیے من وجہ قرآن سن لینا کافی ہے۔ رد المحتار میں شرح مجمع البحرین سے ہے:
لِأَنَّهُ إِذَا فَهِمَ كَانَ سَامِعًا لِلْقُرْآنِ مِنْ وَجْهٍ دُونَ وَجْهٍ۔
-
نظم و معنی دونوں نہیں۔ مثلاً ایرانی، ہندوستانی، پاکستانی کسی نے بھی انگریزی میں آیتِ سجدہ کا ترجمہ سنا، زبان سے آشنا نہیں، کچھ نہ سمجھا۔ سجدہ واجب نہ ہوا۔ اس لیے کہ سامع کے نزدیک نظم و معنی میں سے ایک کا بھی ثبوت نہ ہوا “بس اک موجِ ہوا تھی چھو گئی جو کان کو”۔
غور کیجیے اعلیٰ حضرت نے تیسری ہی صورت نہ بتائی۔ بلکہ چاروں صورتوں اور ان کی دلیل کی طرف بھی اشارہ کر دیا۔ ترجمہ سننے کی صورت میں امامِ اعظم اور صاحبین (امام ابو یوسف و امام محمد) رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک آیتِ سجدہ کی طرح ترجمہ کا بھی سمجھنا ضروری نہیں۔ سراج وہاج میں ہے کہ امامِ اعظم نے قولِ صاحبین کی طرف رجوع فرما لیا۔
وَفِي الْفَيْضِ وَبِهِ يُفْتَى وَفِي السِّرَاجِ أَنَّ الْإِمَامَ رَجَعَ إِلَى قَوْلِهِمَا وَعَلَيْهِ الِاعْتِمَادُ۔
اسی اختلاف پھر رجوعِ امام کے پیشِ نظر امام احمد رضا فرماتے ہیں:
“ہے یہی مذہب، بہ یفتی علیہ الاعتماد”
فتویٰ کے مختلف الفاظ و علامات اپنے اندر الگ الگ خصوصیت رکھتے ہیں، کوئی راجح، کوئی ارجح، کوئی ضعیف و مرجوح۔ اس لیے بِهِ يُفْتَى اور عَلَيْهِ الِاعْتِمَادُ کے الفاظ بعینہ استعمال کر دیے۔ تاکہ حیثیتِ ترجیح واضح ہو جائے اور چونکہ یہ ثابت ہے کہ امام صاحب نے قولِ صاحبین کی طرف رجوع فرما لیا اس لیے افادہ فرمایا کہ “ہے یہی مذہب”۔
“شامی از فیض و نہر واللہ اعلم بالرشاد”
اس مصرع میں حوالہ اور حوالے کا حوالہ دونوں ذکر کر دیا کہ پورا مسئلہ شامی میں ہے اور شامی نے فیض و نہر سے نقل کیا ہے۔ پھر وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالرَّشَادِ بھی نظم فرما دیا۔ والحمد للہ۔
مسئلہ دوم
سجدہ کا فدیہ نہیں اشباہ میں تصریح کی
صیرفیہ میں اس انکار کی تصحیح کی
کہتے ہیں واجب نہیں اس پر وصیت وقتِ موت
فدیہ گر ہوتا تو کیوں واجب نہ ہوتا جبرِ فوت
اگر کسی کے روزے فوت ہو گئے۔ ادا پر قدرت پائی مگر ادا نہ کیا۔ یہاں تک کہ وقتِ موت آ گیا۔ یا روزے سے عاجز شیخِ فانی ہے تو ان سب پر فدیہ واجب ہے۔ خود ادا نہ کیا تو ولی کو وصیت کر جانا واجب ہے۔ یہ فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے۔ نصف صاع گیہوں یا ایک صاع جَو جس طرح فطرہ میں ہے۔
لیکن اسی طرح اگر کسی پر سجدۂ تلاوت رہ گیا تو فدیہ یا وقتِ موت فدیہ کی وصیت واجب نہیں۔
