امام احمد رضا بریلوی کے افتاء کی ایک خصوصیت (قسط: دوم)|شیخ کنیز فاطمہ

امام احمد رضا بریلوی کے افتاء کی ایک خصوصیت (قسط: دوم)
عنوان: امام احمد رضا بریلوی کے افتاء کی ایک خصوصیت (قسط: دوم)
پیش کش: شیخ کنیز فاطمہ

شامی میں زاہدی کی قنیہ سے ہے: لَا يَجِبُ عَلَى الْمُحْتَضَرِ الْإِيصَاءُ بِهَا وَقِيلَ يَجِبُ۔

صاحبِ قنیہ نے یہاں دو قول ذکر کیے: عدمِ وجوب اور وجوب۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: اشباہ میں عدمِ وجوب کی تصریح کی۔ صیرفیہ میں اس کو صحیح قرار دیا۔ علامہ شامی نے بھی تاتار خانیہ سے عدمِ وجوب ہی کی تصحیح نقل کی ہے۔

مزید فرماتے ہیں:

یعنی اس کا شرع میں کوئی بدل ٹھہرا نہیں
جز ادا یا توبہ وقت عجز کچھ چارہ نہیں

جب واجب کا مثل، مثلِ غیر معقول ہو۔ یعنی عقل اس کے ادراک سے قاصر ہو تو اس کے مثل و بدل ہونے کا نص سے ثبوت ضروری ہے۔ آیتِ کریمہ: وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ [سورۃ البقرۃ: 184] سے فدیہ کا بدل روزہ ہونا ثابت ہے۔ اس لیے روزہ سے عجز کے وقت فدیہ یا وصیتِ فدیہ واجب ہے۔ مگر فدیہ کا بدل سجدہ ہونا کسی نص سے ثابت نہیں۔ لہٰذا فدیہ سجدہ کا بدل قرار نہ پایا۔ اس لیے سجدہ کی جگہ فدیہ یا اس کی وصیت کے وجوب کی کوئی صورت نہیں۔ اب سجدہ سے سبک دوشی کی صرف دو صورتیں ہیں: (1) قادر ہو تو ادائے سجدہ۔ (2) عاجز ہو گیا تو توبہ۔

لیکن اگر کسی نے بصورتِ عجز، فدیہ ادا کر دیا یا فدیہ کی وصیت کر گیا تو یہ فدیہ ناجائز و بے کار بھی نہ ہوگا۔ بہر حال یہ ایک نیکی ہے اور نیکی گناہ مٹاتی ہے۔ جیسے فدیہ کا بدل نماز ہونا نص سے ثابت نہیں۔ مگر امام محمد رحمۃ اللہ علیہ زیادات میں فرماتے ہیں (مرنے والے نے ادائے فدیہ کی وصیت کی) اور اس کی طرف سے فدیہ ادا کیا گیا تو ان شاء اللہ تعالیٰ کافی ہوگا۔ فقہائے کرام اس کی وجہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ قرآن کا فدیہ کو بدل روزہ قرار دینا دو صورت رکھتا ہے؛ یا تو یہ بدلیت کسی ایسی علت (یعنی عجز) پر مبنی ہے جو روزہ و نماز دونوں میں مشترک ہے، تو بلا شبہ فدیہ روزہ کی طرح نماز کا بھی بدل ہو جائے گا۔ یا اس کی علت ایسی ہے جو روزہ ہی کے ساتھ مخصوص ہے تو فدیہ بدل نماز نہ ہوا مگر ایک صدقہ و نیکی ضرور ہے، جس میں گناہ مٹانے کی صلاحیت ہے۔ (اس لیے احتیاطاً نماز کے فدیہ کی وصیت کرنا واجب کیا گیا)۔

رد المحتار میں علامہ شامی فرماتے ہیں:

وَكَذَا عَلَّقَهُ (أَيِ الْإِمَامُ مُحَمَّدٌ رَحِمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ) بِالْمَشِيئَةِ فِيمَا إِذَا أَوْصَى بِفِدْيَةِ الصَّلَاةِ لِأَنَّهُمْ أَلْحَقُوهَا بِالصَّوْمِ احْتِيَاطًا لِاحْتِمَالِ كَوْنِ النَّصِّ فِيهِ مَعْلُولًا بِالْعَجْزِ، فَتَشْمَلُ الْعِلَّةُ الصَّلَاةَ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعْلُولًا يَكُونُ الْفِدْيَةُ بِرًّا مُبْتَدَأً يَصْلُحُ مَاحِيًا لِلسَّيِّئَاتِ۔ [رد المحتار، ج: 2، ص: 72]

امام احمد رضا علیہ الرحمہ یہی تفصیل اجمالاً بیان فرماتے ہیں:

یہ نہیں معنی کہ ناجائز ہے یا بے کار ہے
آخر اک نیکی ہے، نیکی ماحی اوزار ہے

چوں کہ خاص فدیہ سجدہ کے بارے میں جائز، مفید اور ماحی سیئات ہونے کا حکم کتبِ فقہ میں صراحتاً مذکور نہیں، اس لیے فرمایا:

قُلْتُهُ أَخْذًا مِنَ التَّعْلِيلِ فِي أَمْرِ الصَّلَاةِ
وَهُوَ بَحْثٌ ظَاهِرٌ وَالْعِلْمُ حَقًّا لِلْإِلٰهِ

یہ حکم فقہا کی اس تعلیل سے ماخوذ ہے جو انھوں نے فدیہ نماز کے بارے میں افادہ فرمائی۔ اور یہ کوئی پوشیدہ و دقیق بات نہیں بلکہ روشن بحث ہے۔ اور علم کما حقہ معبودِ برحق ہی کو ہے۔ اور میں نے یہاں مسائل کو بسط و تفصیل کے ساتھ صرف اس لیے بیان کر دیا ہے کہ یہ سمجھا جا سکے کہ اعلیٰ حضرت نے نظم میں جواب کی پابندی کے باوجود مسئلے کا کوئی گوشہ تشنہ نہ چھوڑا۔ مسئلے کی توضیح، تنقیح، تصحیح، ترجیح، دلیل اور حوالہ کتاب اسی شان سے تحریر فرمایا جو نثر میں ان کے لیے معروف ہے۔ نظم کا نمایاں وصف ایجاز و اختصار ہے، تو اعلیٰ حضرت کا کمالِ ایجاز بھی یہ ہے کہ صرف ان ہی دس اشعار میں یہ ساری تفصیلات بیان کر دیں۔

ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

مزید خوبی آپ نے یہ بھی ملاحظہ فرمائی کہ سائل نے جس بحر میں سوال کیا، اعلیٰ حضرت نے اسی بحر میں جواب دیا۔ دیکھیے دونوں کی بحر، بحرِ رمل مثمن مقصور و محذوف ہے۔

فَاعِلَاتُنْ فَاعِلَاتُنْ فَاعِلَاتُنْ فَاعِلَاتُ / فَاعِلُن (مکرر)

سوال

عالمانِ شرع سے ہے اس طرح میرا سوال
دیں جواب اس کا برائے حق مجھے وہ خوش خصال

عالمِانِے (فاعلاتن) شرع سے ہے (فاعلاتن) اس طرح سے (فاعلاتن) را سوال (فاعلات)
دیں جوابس (فاعلاتن) کا برائے (فاعلاتن) حق مجھے وہ (فاعلاتن) خوش خصال (فاعلات) (مقصور)

گر کسی نے ترجمہ سجدہ کی آیت کا پڑھا
تب بھی سجدہ کرنا کیا اس شخص پر واجب ہوا

گر کسی نے (فاعلاتن) ترجمہ سج (فاعلاتن) دا ک آیت (فاعلاتن) کا پڑا (فاعلن)
تب ب سجدہ (فاعلاتن) کرن کا اس (فاعلاتن) شخص پروا (فاعلاتن) جب ہوا (فاعلن) (محذوف)

جواب

ترجمہ بھی اصل سا ہے وجہ سجدہ بالیقیں
فرق یہ ہے فہم معنی اس میں شرط اس میں نہیں

ترجمہ بھی (فاعلاتن) اصل سا ہے (فاعلاتن) وجہ سجدہ (فاعلاتن) بالیقیں (فاعلات)
فرق یہ ہے (فاعلاتن) فہمِ معنی (فاعلاتن) اس م شرطس (فاعلاتن) مے نہیں (فاعلات) (مقصور)

آیت سجدہ سنی جانا کہ ہے سجدہ کی جا
اب زباں سمجھے نہ سمجھے، سجدہ واجب ہو گیا

آیتِ سج (فاعلاتن) وہ سنی جا (فاعلاتن) ناک ہے سج (فاعلاتن) دہ ک جا (فاعلن)
اب زباں سم (فاعلاتن) جے نہ سم جے (فاعلاتن) سجدہ واجب (فاعلاتن) ہو گیا (فاعلن) (محذوف)

اس بحر کی پابندی کے باوجود جواب کی شعری خوبیاں نمایاں ہیں۔ دونوں کو ایک بار پھر پڑھ کر دیکھیے۔ سوال میں تکلف کی جھلک نمایاں ہے۔ خصوصاً “چاہیے ہے آپ کو دینا جواب باصواب” میں “ہے” کا لفظ مذاق پر گراں معلوم ہوتا ہے، مگر وزن اس کے بغیر درست بھی نہیں ہوتا۔ حالاں کہ سائل نواب مولانا سلطان احمد خاں صاحب بریلوی خود عالم و فاضل اور باکمال شاعر ہیں۔

سوال کے برخلاف اعلیٰ حضرت کے جواب میں کوئی لفظ محض وزن و قافیہ کی پابندی کے پیشِ نظر لایا گیا ہو، کہیں ایسا محسوس نہ ہوگا۔ حشو اور بھرتی کا کوئی لفظ نہیں۔ ہر جگہ برجستگی، سلاست، لطافت ہی لطافت ہے۔ تصنع و تکلف کا نام و نشان نہیں۔

یہ ہے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کا وہ ہمہ گیر کمال، جس نے شعرا، علما، فقہا سبھی کی محفل میں ان کا مقامِ امتیاز نہایت بلند کر دیا ہے۔

جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں

[حوالہ: مقالاتِ مصباحی، ص: 112-120]

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!