Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

قربانی کی حقیقت اور حضرت ابراہیم و اسماعیل کی سنت (پہلی قسط) | محمد اشفاق عالم امجدی

قربانی کی حقیقت اور حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی سنت (پہلی قسط)
عنوان: قربانی کی حقیقت اور حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کی سنت (پہلی قسط)
تحریر: محمد اشفاق عالم امجدی علیمی (بچباری آباد پور کٹہار، بہار)
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی اتر پردیش

قربانی کا معنی

قربانی کا لفظ "قرب" سے مشتق ہے، جس کے لغوی معنی ہیں: "نزدیکی" یا "قریب ہونا"۔ عربی زبان میں "قُرْب" اس حالت کو کہتے ہیں جس میں انسان کسی کے قریب ہو جائے۔ چوں کہ قربانی کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب اور رضا حاصل کرنا چاہتا ہے، اسی لیے اس عبادت کو "قربانی" کہا جاتا ہے۔

شریعت کی اصطلاح میں قربانی ایک عظیم مالی عبادت ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ مخصوص ایام میں مخصوص جانور کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور تقرب کی نیت سے ذبح کیا جائے۔ یہ عبادت نہ صرف اطاعت و فرمانبرداری کا مظہر ہے بلکہ اس کے ذریعے بندہ اپنی جان و مال کے نذرانے پیش کر کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرتا ہے۔

قربانی کیا ہے؟

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کیا یا رسول اللہ!

مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيِّ قَالَ سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالُوا فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ قَالُوا فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ

یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمارے لیے اس میں کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہر بال کے برابر نیکی ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: بھیڑ کے بال؟ آپ نے فرمایا: بھیڑ کے ہر سوت کے برابر نیکی ہے۔ [مشکوۃ شریف]

قربانی کی حقیقت

شمس الائمہ امام سرخسی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: مالی عبادت دو قسم کی ہیں، ایک بہ طریق تملیک ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی کو کوئی چیز دے دینا) جیسے صدقات و زکوۃ وغیرہ اور ایک بطریق اتلاف ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی چیز کو ہلاک کر دینا) جیسے غلام آزاد کرنا۔ قربانی میں یہ دونوں قسمیں جمع ہو جاتی ہیں، اس میں جانور کا خون بہا کر اللہ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے، یہ اتلاف ہے اور اس کے گوشت کو صدقہ کیا جاتا ہے، یہ تملیک ہے۔

قربانی کب سے شروع ہوئی؟

رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُمْ مِّنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ

اور ہر امت کے لیے ہم نے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں اس کے دیے ہوئے بے زبان چوپایوں پر۔ [کنزالایمان]

پتہ چلا کہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنے کا رواج بہت پہلے سے چلا آرہا ہے، مگر قبل از اسلام اس کی صورت دوسری تھی، وہ اس طور پر کہ جو قربانی اللہ عزوجل کی بارگاہ میں مقبول ہو جاتی تھی تو ایک سفید رنگ کی بغیر دھوئیں والی آگ شراٹے مارتی ہوئی آسمان سے اترتی تھی اور مقبول قربانی کو جلا کر خاک کر جاتی تھی، جسے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ حتیٰ کہ لوگ جھگڑے کی صورت میں اپنی حقانیت بھی اسی طرح ثابت کرتے تھے کہ جو سچا ہوتا تھا اس کی قربانی کو آگ جلا جاتی تھی، جھوٹے کی قربانی یوں ہی پڑی رہتی تھی، چنانچہ جب ہابیل و قابیل اقلیمہ نامی ایک عورت کے بارے میں جھگڑے کہ وہ کس کے لیے حلال ہے تو ان دونوں نے قربانیاں پیش کیں جسے انہوں نے پہاڑ پر رکھ دیا، ہابیل کی قربانی قبول ہوئی کہ اسے غیبی آگ جلا گئی، قابیل کی قربانی رد کر دی گئی کہ اسی طرح رہی۔ مگر اُمتِ محمدیہ کو یہ بھی ایک خصوصیت حاصل ہے کہ وہ اپنی قربانی کے گوشت کو خود کھا سکتے ہیں۔

حضرت ابراہیم کا خواب

اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قربانی کے واقعہ کو قرآنِ مقدس میں اس طرح بیان فرمایا:

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ، فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ یٰبُنَيَّ اِنِّیْۤ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰی

تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقلمند لڑکے کی پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہو گیا کہا اے میرے بیٹے! میں نے خواب دیکھا میں تجھے ذبح کرتا ہوں، اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے؟ [کنز الایمان]

مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آٹھویں ذوالحجہ کی رات کو خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کیجئے۔ جب صبح کو اٹھے تو سارا دن اسی شش و پنج میں گزرا کہ نامعلوم یہ حکمِ واقعی من جانب اللہ ہے یا وسوسہ ہے۔ اسی لیے اس دن کا نام "یَومِ تَرْوِیَہ" (سوچ کا دن) ہے۔ پھر نویں ذی الحجہ کو خواب میں اسی طرح کا حکم سنا تو صبح کو اٹھے تو یقین کیا کہ واقعی یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اسی لیے اس دن کا نام یَومِ عَرَفَہ (پہچاننے کا دن) ہے۔ پھر یہی خواب دسویں ذی الحجہ کی شب کو دیکھا تو صبح اٹھ کر عزم کیا کہ صاحبزادے کو ضرور ذبح کروں گا۔ اس لیے اس دن کا نام "یَوْمُ النَّحْرِ" (قربانی کا دن) رکھا گیا۔ [روح البیان، تفسیر مظہری]

انبیائے کرام کے خواب

اس بات پر اہل سنت و جماعت کا اتفاق ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے خواب بھی وحیِ الٰہی ہوا کرتے ہیں۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث نقل فرمائی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

اَوَّلُ مَا بُدِیَ بِہٖ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ فِی الْمَنَامِ

سب سے پہلے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوئی وہ بذریعہ خواب تھی۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام پر بھی بذریعہ خواب وحی نازل کی گئی کہ وہ حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کو ذبح کریں۔

انبیائے کرام کی آنکھیں سوتی ہیں مگر دل بیدار رہتے ہیں جیسا کہ بخاری شریف میں ایک مقام پر روایت ہے:

اَلْأَنْبِیَاءُ تَنَامُ أَعْیُنُہُمْ وَ لَا تَنَامُ قُلُوْبُہُمْ

یعنی انبیائے کرام کی آنکھیں سوتی ہیں مگر دل بیدار ہوتے ہیں۔

(جاری ہے...)

[حوالہ:- سہ ماہی القلم شمارہ نمبر 12 ذی الحجہ 1446 ھ تا 1447ھ، ص 22 تا 25]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!