Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

امام احمد رضا اور علمِ اصولِ حدیث (قسط: پنجم)فیضان المصطفی قادری

امام احمد رضا اور علم اصول حدیث
عنوان: امام احمد رضا اور علم اصول حدیث
تحریر: فیضان المصطفی قادری
پیش کش: رافعہ ریاض
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

تعددِ طرق سے حدیثِ حسن

کبھی کبھی حدیث راوی کے حافظہ میں ضعف یا سند میں انقطاع وغیرہ ہونے کی وجہ سے ضعیف قرار دی جاتی ہے، مگر جب اسی کے مثل یا اس سے اقویٰ کوئی دوسری سند آ جاتی ہے جو پہلی والی سند کی تائید کرتی ہے، تو وہ ضعیف حدیث حسن ہو جاتی ہے۔ خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

إِذَا رُوِيَ الْحَدِيثُ مِنْ طُرُقٍ ضَعِيفَةٍ، لَا يَلْزَمُ أَنْ يَصِيرَ حَسَنًا، بَلْ حَيْثُ كَانَ ضَعْفُهُ بِسَبَبِ سُوءِ حِفْظِ الرَّاوِي، فَيَزُولُ بِتَعَدُّدِ الطُّرُقِ وَيُعْلَمُ أَنَّ الرَّاوِيَ حَفِظَهُ وَلَمْ يُخِلَّ بِهِ، وَإِنْ كَانَ بِسَبَبِ الْإِرْسَالِ أَوِ التَّدْلِيسِ فَيَزُولُ أَيْضًا، وَإِنْ كَانَ بِسَبَبِ الْفِسْقِ أَوِ الْكَذِبِ فَلَا يُؤَثِّرُ فِيهِ تَعَدُّدُ الطُّرُقِ لِأَنَّ الطُّرُقَ كُلَّهَا ضَعِيفَةٌ، بَلْ تَرْتَفِعُ عَنْ دَرَجَةِ الْمُنْكَرِ وَاللَّا أَصْلَ لَهُ، وَقَدْ صَرَّحَ بِذَلِكَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ رَحِمَهُ اللهُ: بَلْ قَدْ تُصَيِّرُ كَثْرَةُ الطُّرُقِ الرَّاوِيَ إِلى دَرَجَةِ مَسْتُورٍ وَسَيِّئِ الْحِفْظِ حَتَّى إِذَا وُجِدَ لَهُ طَرِيقٌ آخَرُ ضَعِيفٌ يَجْبُرُ نَقْصَهُ، وَصَلَ إِلَى دَرَجَةِ الْحُسْنِ. [تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی، ج: 1، ص: 94-93]

امام محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ حدیثِ معلق اور تین مسند ضعیف احادیث ذکر کرنے کے بعد تعددِ طرق سے حدیثِ ضعیف کے انجبار اور ضعف کے دور ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"یہ چاروں حدیثیں اگرچہ ضعیف ہیں مگر تعددِ طرق سے اس کا انجبار ہوتا ہے"۔ [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 5، ص: 240]

نیز اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"حدیث اگر متعدد طریقوں سے روایت کی جائے اور وہ سب ضعف رکھتے ہوں: تو ضعیف ضعیف مل کر بھی قوت حاصل کر لیتے ہیں، بلکہ اگر ضعف غایتِ شدت و قوت پر نہ ہو تو جَبْرِ نقصان ہو کر حدیث درجہ حسن تک پہنچتی اور مثلِ صحیح خود احکامِ حلال میں حجت ہوتی ہے"۔ [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 5، ص: 474]

اس کے بعد محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے اس قول کی تائید محدثینِ کرام کے اقوال سے پیش کرتے ہیں، ایک دو آپ بھی ملاحظہ فرمائیں، محدث علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

تَعَدُّدُ الطُّرُقِ وَالْأَسَانِيدِ، يُخْرِجُ الْحَدِيثَ الضَّعِيفَ عَنْ دَرَجَةِ الضَّعْفِ إِلى دَرَجَةِ الْحُسْنِ. [مرقاۃ المفاتیح، ج: 2، ص: 595، رقم: 1008]

امام ابنِ ہمام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وَيَجُوزُ أَنْ يَرْتَقِيَ الْحَسَنُ إِلَى الصِّحَّةِ بِتَعَدُّدِ الطُّرُقِ، وَالضَّعِيفُ إِلَى الْحُجِّيَّةِ لِأَنَّ تَعَدُّدَ الْ

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!