Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

محبتِ حسین اور اتباعِ شریعت|خامہ فرسائی

محبتِ حسین اور اتباعِ شریعت
عنوان: محبتِ حسین اور اتباعِ شریعت
تحریر: خامہ فرسائی
پیش کش: انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف

تاریخِ اسلام کے بعض واقعات محض تاریخی یادگار نہیں ہوتے بلکہ وہ امت کی فکری تشکیل، دینی بیداری اور عملی رہنمائی کا مستقل سرچشمہ بن جاتے ہیں۔ ان واقعات میں سانحۂ کربلا کو ایک منفرد اور نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ صرف ایک جنگ، ایک سیاسی اختلاف یا ایک المناک حادثے کا نام نہیں بلکہ حق و باطل کی کشمکش، اصول و مفادات کی آویزش، وفاداری و قربانی کی معراج اور دینِ اسلام کے تحفظ کے لیے پیش کی جانے والی بے مثال جانثاری کا عنوان ہے۔ کربلا کا تذکرہ آتے ہی نگاہوں کے سامنے صبر و استقامت، عزیمت و شجاعت، ایثار و وفا اور رضائے الٰہی کے لیے ہر چیز قربان کر دینے کا وہ عظیم منظر آ جاتا ہے جس نے تاریخِ انسانیت کو ہمیشہ کے لیے متاثر کر دیا۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شخصیت محض ایک فرد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک فکر، ایک کردار اور ایک عملی نمونہ کے طور پر امتِ مسلمہ کے سامنے موجود ہے۔ آپ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے، حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے فرزند اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے لختِ جگر تھے۔ آپ کی پرورش اس گھرانے میں ہوئی جس کے در و دیوار وحی کی برکتوں سے منور تھے اور جہاں شب و روز سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا عملی مظاہرہ ہوتا تھا۔ اسی لیے آپ کی پوری زندگی اطاعتِ الٰہی، اتباعِ رسول اور پاسداریِ شریعت کی روشن مثال نظر آتی ہے۔

قرآنِ مجید نے اہلِ ایمان کو ہمیشہ حق پر قائم رہنے، باطل سے اجتناب کرنے اور دین کے معاملے میں کسی قسم کی مداہنت سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:

وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ

ترجمہ: “اور ظالموں کی طرف مائل نہ ہونا ورنہ تمہیں آگ آ پکڑے گی۔” [سورۃ ہود: 113]

امام حسین رضی اللہ عنہ کی جدوجہد اسی قرآنی تعلیم کا عملی مظہر تھی۔ آپ نے امت کو یہ درس دیا کہ حق کی حفاظت اور شریعت کی بقا کے لیے اگر قربانی دینا پڑے تو مومن اس سے دریغ نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے وقتی مصلحتوں، دنیاوی فوائد اور سیاسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے حق کا علم بلند رکھا اور تاریخ کے صفحات پر ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر ملنا دشوار ہے۔

بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ واقعۂ کربلا کے حقیقی پیغام سے توجہ کم اور بعض رسوم و مظاہر پر زور زیادہ دیا جانے لگا۔ محبتِ حسین کا دعویٰ تو عام ہے لیکن محبت کے تقاضوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے والے نسبتاً کم نظر آتے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ محرم الحرام کے ایام میں بعض مقامات پر ایسے اعمال انجام دیے جاتے ہیں جن کا نہ تو قرآن و سنت میں کوئی ثبوت ملتا ہے اور نہ ہی سیرتِ امام حسین رضی اللہ عنہ سے ان کی تائید ہوتی ہے۔

ان ایام میں جگہ جگہ ڈھول، تاشے اور دیگر آلاتِ لہو و لعب کے ساتھ جلوس نکالے جاتے ہیں، حالانکہ شریعتِ مطہرہ نے ایسے آلات سے اجتناب کی تعلیم دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“میرے رب نے مجھے بانسری اور گانے باجے کے آلات کو توڑنے کا حکم دیا ہے۔” [مسند امام احمد بن حنبل]

ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ارشاد فرمایا:

“اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول) حرام کیا اور فرمایا: ہر نشہ والی چیز حرام ہے۔” [سنن الکبریٰ للبیہقی، کتاب الشہادات]

ان ارشادات کی موجودگی میں یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ جس شخصیت نے اپنی پوری زندگی شریعتِ مصطفوی کی اطاعت میں بسر کی، کیا ان کی محبت کا اظہار ان کاموں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے جن سے خود شریعت نے منع فرمایا ہو؟

اسی طرح مروجہ تعزیہ داری بھی ایک ایسا موضوع ہے جس پر اہلِ علم نے مختلف ادوار میں گفتگو کی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ طریقۂ کار خیر القرون میں معروف نہیں تھا۔ بعد کے ادوار میں بعض رسوم نے مذہبی شکل اختیار کر لی، حالانکہ دین کی اصل بنیاد کتاب اللہ، سنتِ رسول اور سلفِ صالحین کا فہم ہے۔

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

“عشرۂ محرم میں تعزیہ داری اور تعزیے یا قبروں کی صورت بنانا جائز نہیں ہے۔” [فتاویٰ عزیزیہ، ص: 72، مطبوعہ دہلی]

حقیقت یہ ہے کہ مروجہ تعزیہ داری کے ساتھ اکثر ایسی متعدد رسومات بھی شامل ہو جاتی ہیں جو نہ صرف بے اصل ہوتی ہیں بلکہ بعض اوقات شرعی قباحتوں کا سبب بھی بنتی ہیں۔ کہیں نذر و نیاز کے تقدس کو مجروح کیا جاتا ہے، کہیں عوامی ہجوم کی صورت میں بے پردگی اور اختلاطِ مرد و زن پیدا ہو جاتا ہے، کہیں مذہبی عقیدت کے نام پر فضول خرچی اور نمود و نمائش کا بازار گرم ہوتا ہے اور کہیں محرم الحرام کے تقدس کو شور و غوغا اور غیر سنجیدہ سرگرمیوں کی نذر کر دیا جاتا ہے۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان اعمال میں شریک بہت سے افراد یہ سمجھتے ہیں کہ وہ امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کا حق ادا کر رہے ہیں، حالانکہ محبت کا حقیقی معیار جذباتی نعروں یا رسمی مظاہروں سے نہیں بلکہ اطاعت اور پیروی سے متعین ہوتا ہے۔ دنیا کا عام اصول ہے کہ جس سے محبت ہو، اس کی پسند کو اختیار کیا جاتا ہے اور جس سے عقیدت ہو، اس کے طریقے کو اپنایا جاتا ہے۔ پھر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کا دعویٰ کرنے والوں کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ان کی زندگی میں امام حسین کی تعلیمات، ان کے کردار اور ان کے اسوہ کی جھلک نظر آتی ہے؟

اگر ہم سیرتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ آپ کی زندگی کا بنیادی وصف شریعت سے وابستگی تھا۔ آپ عبادت گزار تھے، متقی تھے، علم و حلم کے پیکر تھے، حقوق العباد کا خیال رکھنے والے تھے، اخلاقِ نبوی کے آئینہ دار تھے اور سنتِ رسول کے عاشق تھے۔ آپ کی شخصیت میں کہیں بھی غلو، بے اعتدالی یا دین سے ہٹ کر جذباتیت کا عنصر دکھائی نہیں دیتا۔

یہی وجہ ہے کہ حقیقی حسینیت کا مفہوم محض غم کا اظہار یا مخصوص رسومات کی ادائیگی نہیں بلکہ شریعتِ اسلامیہ کی پابندی ہے۔ حسینیت یہ ہے کہ انسان نماز کا پابند بنے، سنتوں کو زندہ کرے، اپنے معاملات کو شریعت کے مطابق ڈھالے، حلال و حرام کی تمیز پیدا کرے، اخلاقِ حسنہ اختیار کرے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرے اور دین کی سربلندی کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کر دے۔

واقعۂ کربلا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دین کے اصول وقتی جذبات سے بالاتر ہوتے ہیں۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے امت کو یہ پیغام دیا کہ حق کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن کامیابی اسی میں ہے کہ انسان ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو مقدم رکھے۔ یہی وہ پیغام ہے جو آج بھی اتنا ہی زندہ اور مؤثر ہے جتنا چودہ سو برس پہلے تھا۔

آج امتِ مسلمہ کو ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ محرم الحرام کو محض چند ظاہری سرگرمیوں کا نام سمجھنے کے بجائے اس کے حقیقی پیغام کو سمجھے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی یاد کو زندہ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے مقصد کو زندہ رکھا جائے، ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کی جائے اور شریعتِ مطہرہ کو اپنی زندگی کا محور بنایا جائے۔

محبتِ حسین کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان صرف زبان سے عقیدت کے دعوے کرے، بلکہ محبت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال سے ثابت کرے کہ وہ واقعی امام حسین رضی اللہ عنہ کے راستے کا مسافر ہے۔ جس قدر ہماری زندگی سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوگی، اسی قدر ہم حقیقی معنوں میں فکرِ حسینی سے وابستہ شمار ہوں گے۔ اور جس قدر ہم شریعت سے دور ہوں گے، اتنا ہی ہم اس عظیم مقصد سے دور ہوتے جائیں گے جس کے لیے امام حسین رضی اللہ عنہ نے میدانِ کربلا میں اپنی جان کا نذرانہ پیش فرمایا تھا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی سچی محبت نصیب فرمائے، ان کی سیرت و کردار سے رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، شریعتِ مطہرہ پر استقامت بخشے اور ہمیں ان تمام رسوم و خرافات سے محفوظ رکھے جو دین کے اصل پیغام کو دھندلا دیتی ہیں۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!