Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تاریخِ ولادتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم|علامہ شریف الحق امجدی

تاریخِ ولادتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
عنوان: تاریخِ ولادتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
تحریر: شارحِ بخاری علامہ شریف الحق امجدی
پیش کش: انس احمد خان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار، نیپال گنج

سوال (۱): ایک کتاب جمعیۃ علماء ہند نے نکالی ہے جس کا نام ”دینی تعلیم“ ہے، درجہ دوم کے لیے۔ اس میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی صحیح تاریخ ۹ ربیع الاول ہے اور سوموار کا دن ہے، ۱۲ ربیع الاول غلط ہے۔ اس کی تشریح کی جائے۔ دوسری کتابوں میں 12 اپریل 571ء ہے، یہ صحیح ہے یا غلط؟ اس کی تشریح کریں۔

سوال (۲): اسی کتاب میں یہ مضمون درج ہے کہ کعبہ شریف کے پاس ایک دفعہ کافروں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا اور سب طرف سے لوگ ہمارے حضرت پر ٹوٹ پڑے۔ حارث بن ابی ہالہ (حضرت خدیجہ کے صاحبزادے) گھر میں تھے، ان کو خبر ہوئی تو دوڑے آئے اور ہمارے حضرت کو بچانا چاہا، لیکن ہر طرف سے ان پر تلواریں پڑیں اور وہ شہید ہو گئے؛ یہ عبارت کہاں تک درست ہے؟

الجواب (۱):

علامہ شبلی نعمانی نے 'سیرۃ النبی' میں یہی لکھا ہے کہ ولادتِ پاک ۹ ربیع الاول کو ہوئی، اور یہ ان کی اپنی ذاتی تحقیق نہیں بلکہ مصر کے ایک ماہرِ ہیئت محمود باشا فلکی گزرے ہیں، یہ ان کا ریاضیاتی حساب ہے۔ نئے مصنفین اس معاملے میں ان کی تقلیدِ جامد کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس امامِ اہل سنت، اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خان قدس سرہ العزیز کا ایک تحقیقی مضمون رسالہ "تحفۂ حنفیہ" (جمادی الاولیٰ ۱۳۱۸ھ) میں چھپ چکا ہے، اسے بعینہٖ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: ”دو، آٹھ، دس، بارہ، سترہ، اٹھارہ، بائیس؛ (تاریخِ ولادت میں) یہ سات اقوال ہیں، مگر اشہر، اکثر، ماخوذ اور معتبر دوازدہم (۱۲) ربیع الاول شریف ہے۔ مکہ معظمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ کو مکانِ مولدِ اقدس کی زیارت کرتے ہیں (جیسا کہ المواہب اللدنیہ اور مدارج النبوۃ میں ہے)۔ اور خاص اسی مکانِ جنت نشان میں اسی تاریخ کو محفلِ میلادِ مقدس ہوتی ہے۔“

علامہ قہستانی اور فاضلِ زرقانی فرماتے ہیں:

الْمَشْهُورُ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُلِدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ثَانِيَ عَشَرَ رَبِيعِ الْأَوَّلِ وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ إِمَامِ الْمَغَازِي وَغَيْرِهِ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ.

ترجمہ: مشہور یہی ہے کہ آنحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم دوشنبہ (پیر) کے دن بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے، یہی امامِ مغازی محمد بن اسحاق وغیرہ کا قول ہے اور اسی پر عمل ہے۔

شرحِ مواہب میں امام ابنِ کثیر سے مروی ہے کہ یہی جمہور کے نزدیک مشہور ہے۔ اسی میں ہے کہ اسی پر عمل ہے۔ 'شرح الہمزیہ' میں بھی صراحت ہے کہ یہی مشہور اور معمول بہ ہے۔

اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز مزید فرماتے ہیں: ”اگرچہ اکثر محدثین اور مورخین آٹھ تاریخ مانتے ہیں اور اسی پر اہلِ زیج (ماہرینِ تقویم) کا اتفاق ہے، اور اسے ابنِ حزم اور حمیدی نے اختیار کیا۔ یہ قول ابنِ عباس اور جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی مروی ہے۔ علامہ دمیاطی نے دس تاریخ کی تصحیح کی ہے۔ میں (اعلیٰ حضرت) کہتا ہوں: میں نے حساب لگایا تو سنِ ولادت کے محرم کا غرۂ وسطیہ (پہلی تاریخ) جمعرات کے دن پایا، تو ماہِ ولادتِ مبارکہ (ربیع الاول) کا غرۂ وسطیہ اتوار کو ہوا اور ہلالیہ پیر کو۔ پس پیر کے دن آٹھ ربیع الاول ہوئی، اسی وجہ سے اس پر اصحابِ زیج نے اتفاق کیا۔ محض غرۂ وسطیہ کے دیکھنے سے دیگر تمام اقوال کا محال (ناممکن) ہونا ظاہر ہو جائے گا، سوائے دو اور بائیس تاریخ کے۔ اور حقیقی علم تو شب و روز کو بدلنے والے (اللہ عزوجل) کے پاس ہے۔“

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ امت کا کسی قول کو قبول کر لینا (تلقی بالقبول) ایک عظیم الشان امر ہے۔ یومِ عیدِ میلاد النبی جو کہ مسلمانوں کے لیے عیدِ اکبر ہے، اس کا انعقاد قولِ عمل اور جمہور کے مطابق (یعنی ۱۲ ربیع الاول کو) ہی سب سے بہتر اور موزوں ہے۔

اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ تاریخِ ولادت کے بارے میں اگرچہ سات اقوال ہیں، مگر قولِ مشہور اور معمول بہ قولِ جمہور ہی ہے، یعنی بارہ ربیع الاول۔ امت کے اجتماعی عمل اور تلقی بالقبول کی وجہ سے محفلِ میلاد اور خوشی منانے کے لیے ۱۲ ربیع الاول کا دن ہی سب سے بہتر ہے۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی اس باریک تحقیق سے ظاہر ہو گیا کہ ۹ ربیع الاول کا قول روایتی اور درایتی دونوں اعتبار سے درست نہیں بیٹھتا۔ روایتاً تو ۹ ربیع الاول کا کوئی معتبر قدیم قول موجود ہی نہیں، اور درایتاً (حساب کے لحاظ سے) تمام ماہرینِ فلکیات اصحابِ زیج اس پر متفق ہیں کہ عامِ ولادت میں ربیع الاول کی پہلی تاریخ کو پیر کا دن تھا، اس حساب سے پیر کا دن آٹھ تاریخ کو پڑے گا نہ کہ نو کو۔ چونکہ یومِ ولادت کا پیر ہونا متفق علیہ ہے، اس لیے فلکیاتی حساب سے آٹھ تاریخ بنتی ہے۔

چونکہ یہ معاملہ تاریخی ہے، اس لیے تاریخ میں معتبر روایات کو درایت پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ نو ربیع الاول کا احتمال پیدا کرنا ماہرین کے متفقہ فیصلے کے خلاف ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید حساب دانوں سے کہیں چوک ہوئی ہے۔ اعلیٰ حضرت علمِ ہیئت و فلکیات میں اپنے دور کے یکتا ماہر تھے، ان کا حساب بھی قدیم ماہرین کے عین مطابق ہے، لہذا ۹ ربیع الاول کے قول کو ترجیح دینا کسی طرح قابلِ قبول نہیں۔ رہا انگریزی تاریخ (12 اپریل 571ء) کا معاملہ، تو جدید فلکیاتی تحقیقات اور تقویمِ ہجری و عیسوی کے تطابق کے مطابق زیادہ راجح عیسوی تاریخ 20 یا 22 اپریل 571ء بنتی ہے، 12 اپریل کا حساب درست نہیں ہے۔

الجواب (۲):

سیرۃ النبی میں یہ واقعہ مذکور ہے۔ چونکہ اس وقت 'الاصابہ فی تمییز الصحابہ' سامنے موجود نہیں کہ تفصیلی مراجعت کی جائے، تاہم 'المواہب اللدنیہ'، اس کی شرح 'زرقانی' اور 'مدارج النبوۃ' کتبِ سیرت کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ابو ہالہ سے دو صاحبزادے تھے؛ ایک کا نام ہند اور دوسرے کا نام ہالہ تھا، اور یہ دونوں جلیل القدر صحابی ہیں۔ حضرت ہند رضی اللہ عنہ سے حضور ﷺ کا مشہور حلیہ مبارک مروی ہے اور وہ جنگِ جمل میں شہید ہوئے۔ دوسرے صاحبزادے حضرت ہالہ کا ذکر ملتا ہے کہ وہ ایک بار دوپہر کے وقت بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے انہیں محبت سے سینے سے لگا لیا۔

ہو سکتا ہے کہ حضرت ہالہ کا ہی دوسرا نام 'حارث' ہو یا وہ اس واقعے میں شہید ہوئے ہوں، یا کوئی اور صاحبزادے ہوں جن پر متقدمین سیرت نگار مطلع نہ ہو سکے یا انہوں نے کہیں اور ذکر کیا ہو جو ہماری نظر سے نہ گزرا ہو۔ بہر حال، اس واقعے کے وقوع پذیر ہونے میں کوئی عقلی یا شرعی استبعاد (دوری یا ممانعت) نہیں ہے کہ اس پر شک یا سوال کیا جائے۔

(فتاویٰ شارحِ بخاری، جلد اول)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!