Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضرت عائشہ کی پاکدامنی اور حدیثِ افک (قسط چہارم)|علامہ شریف الحق امجدی

حضرت عائشہ کی پاکدامنی اور حدیثِ افک (قسط چہارم)
عنوان: حضرت عائشہ کی پاکدامنی اور حدیثِ افک (قسط چہارم)
تحریر: شارحِ بخاری علامہ شریف الحق امجدی
پیش کش: انس احمد خان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار، نیپال گنج

منافقین نے تو اسلام پر ضربِ کاری لگانے کی نیت سے یہ بہتان باندھا تھا، جس کا بالکلیہ قلع قمع قرآن مجید نے کر دیا۔ مگر آج کل وہابی اسے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے علمِ وسیع و اوسع کی تنقیص کے لیے دستاویز بنائے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اگر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم غیب جانتے تھے تو پریشان کیوں تھے؟ ان معاندین سے خطاب تو بے کار ہے، لیکن انصاف پسند ناظرین کی خدمت میں چند باتیں معروض ہیں۔ حدیث کے متن پر ایک نظر پھر ڈال لیں:

(۱) حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جب اس سلسلے میں ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش، حضرت اسامہ، اور حضرت بریرہ رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا تو سب نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پاکدامنی کو بیان کیا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر سکوت فرمایا جو بمنزلہ تقریر (تصدیق) ہے۔ یعنی اس قول کی تصدیق ہے، اور تصدیق اسی وقت ہوگی جب کہ اس کے سچ ہونے پر یقین ہو، اور یہ باتیں قول کی تصدیق ہیں۔ اس لیے بظاہر یہ ایک تصدیق، حقیقت میں تین تصدیقیں ہیں۔

(۲) پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا منبر پر تشریف لے جا کر علانیہ فرمانا:

مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِي

ترجمہ: اس شخص کے مقابلے میں میری کون مدد کرے گا، جس کی اذیت ناک باتیں مجھ تک میری اہلیہ کے بارے میں پہنچی ہیں۔

یہ بھی اس کی دلیل ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا یقین تھا کہ ام المؤمنین پاک دامن ہیں، اور یہ بہتانِ عظیم ہے۔ کیونکہ اگر اس میں شک ہوتا تو بہتان طرازوں کے مقابلے میں صحابہ کرام سے نہ فرماتے کہ اس بارے میں میری کون مدد کرے گا؟

(۳) پھر برسرِ منبر قسم کھا کر فرمایا:

وَاللهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا

ترجمہ: خدا کی قسم! مجھے اپنی اہلیہ کے بارے میں اچھائی کے سوا اور کچھ علم نہیں۔

برسرِ منبر قسم کھا کر صفائی دینے کے باوجود یہ کہنا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس بارے میں شک میں تھے، اس ارشادِ گرامی کو جھٹلانا ہے۔

(۴) پھر حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا:

وَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا

ترجمہ: اور ایسے شخص کا ان لوگوں نے اس سلسلے میں نام لیا ہے جس کے بارے میں خیر کے سوا مجھے اور کچھ علم نہیں۔

یہ بھی اس کی دلیل ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا یقینِ کامل تھا کہ یہ واقعہ سراسر جھوٹ اور افترا ہے۔

وجہِ اضطراب:

رہ گیا حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا اس واقعے سے اضطراب، تو یہ تقاضائے بشریت تھا۔ کسی بھی شریف انسان کی اہلیہ پر، اور وہ بھی سب سے زیادہ عزیز اہلیہ پر، کوئی بہتان باندھے اور علانیہ اس کا پروپیگنڈہ کرے، تو یہ فطری بات ہے کہ وہ پریشان اور بے چین ہو گا، اگرچہ اسے یقین ہو کہ یہ سراسر بے بنیاد بات اور خالص افترا ہے۔

رہا یہ امر کہ حضرت بریرہ وغیرہ سے دریافت فرمایا، تو یہ لاعلمی کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس لیے تھا کہ دوسروں کو مطمئن کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ یہی ہے کہ جس کے بارے میں بات ہو رہی ہو، اس کے خصوصاً قریب رہنے والے جب اس کے بارے میں صفائی دیں گے تو اسے ہر دیانت دار اور انصاف پسند قبول کر لے گا۔

رہا خود ام المؤمنین سے جو فرمایا: ”اے عائشہ! تمہارے بارے میں مجھ تک ایسی ایسی باتیں پہنچی ہیں الخ...“ تو یہ بھی (اس اعلان کے بعد کہ مجھے اپنی اہلیہ کے بارے میں خیر کے سوا کسی بات کا علم نہیں) اس کی دلیل نہیں کہ حضور کو کوئی شک تھا، بلکہ یہ اس بنا پر تھا کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ خود منبر پر آ کر صفائی دے رہے ہیں اور مخالفین کے مقابلے پر مدد کے لیے بلا رہے ہیں، مگر جس پر الزام لگا ہے، اس سے پوچھا تک نہیں! یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ جس پر بھی کوئی الزام لگایا جائے، اس سے سوال کیا جائے؛ یہ ضابطے کی خانہ پری تھی تاکہ ایک نظیر (مثال) قائم ہو جائے۔

فضائل کے متعدد پہلو:

اس واقعے میں حضرت صدیقِ اکبر اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اعلیٰ فضائل کے متعدد پہلو ظاہر ہوتے ہیں:

۱) یہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قلبِ پاک میں ان دونوں کی عظیم وقعت کی بین دلیل ہے۔ ایک سیدھی سادی بات ہے کہ کسی شخص پر یہ واجب نہیں کہ کسی بھی عورت کو اپنی زوجیت میں رکھے، اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا معاملہ تو ارفع اور اعلیٰ ہے۔ اس فتنے کا آسان حل یہ تھا کہ علیحدگی اختیار فرما لیتے، مگر یہ حضرت صدیقِ اکبر اور خود ام المؤمنین کے لیے کتنا بڑا سانحہ ہوتا، وہ ظاہر ہے کہ ان دونوں پر کیا گزرتی بتانے کی بات نہیں۔ مگر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کی دل داری بلکہ دل نوازی کے لیے اس آسان حل پر عمل نہیں فرمایا، بلکہ ابتداءً اس فتنے کو فرو کرنے کے لیے صحابہ کرام کو جمع فرمایا اور ان سے مدد کی درخواست کی، اور پھر ایک مہینے تک وحیِ ربانی کا انتظار فرمایا۔ یہ صرف اس لیے تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ان دونوں کا دل شکستہ ہونا پسند نہیں تھا۔

۲) حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مہاجرین کی کثیر تعداد تھی، اور انصارِ کرام ان کا بے حد احترام کرتے تھے، وہ چاہتے تو جو لوگ اس واقعے میں ملوث تھے، طاقت کے ذریعہ ان کا منہ بند کر سکتے تھے مگر وہ ایک دم خاموش رہے، صرف ایک بار فرمایا تو یہ فرمایا: ”بخدا! جاہلیت میں ہمارے بارے میں ایسی بات کبھی کسی نے نہیں کہی، پھر اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام سے عزت دی، یہ کیسے کہا جا رہا ہے!“ مگر ظاہر ہے کہ وہ اگر کوئی سخت اقدام کرتے تو مسلمانوں میں لڑائی کا اندیشہ قوی تھا، جس سے اسلام کی اشاعت میں خلل پڑتا۔ اس لیے وہ زہر کا گھونٹ پیتے رہے اور خاموش رہے؛ اسلام کی بہبود کی خاطر اتنے عظیم حادثے کے وقت راضی برضائے الٰہی رہنا صدیقِ اکبر ہی کی شان تھی۔ یہ ان کی اسلام کے ساتھ خیر خواہی، تدبر، دور اندیشی، عقل، استقامت، توکل علی اللہ اور رضا بالقضا کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہونے کی برہانِ قاطع ہے۔

۳) حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس میں کھل کر بھرپور حصہ لیا تھا، حتیٰ کہ خود ام المؤمنین سے مروی بعض طرق میں ہے کہ ”الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ“ (جس نے اس میں سب سے زیادہ حصہ لیا) میں یہ بھی داخل تھے۔ اس لیے حضرت صدیقِ اکبر نے قسم کھائی کہ اب مسطح کو کچھ نہیں دوں گا۔ مگر جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی:

وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينِ

ترجمہ: اور جو لوگ تم میں فضیلت اور وسعت والے ہیں، وہ اس بات پر قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور مسکینوں کو نہ دیں گے۔

تو فوراً سارا غیظ و جلال ختم ہو گیا، اور حکمِ ربانی کے حضور سرِ تسلیم خم کر دیا۔ اپنی لختِ جگر، نورِ نظر، سرورِ قلب و جگر کے خلاف—وہ بھی کون جو محبوبۂ محبوبِ رب العالمین ہوں—ایسی گندگی اور وہ بھی بے بنیاد اچھالنے والے پر بحکمِ خداوندی دوبارہ داد و دہش کرنا اس کی دلیل ہے کہ وہ ہر آن ہر لحظہ رضائے الٰہی کے طالب تھے، اور وہ بلا شبہ اس آیتِ کریمہ کے سب سے اعلیٰ مصداق تھے:

وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ۝ الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ

ترجمہ: اور بہت جلد اس (جہنم) سے دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیزگار ہے، جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ پاکیزہ ہو جائے۔

۴) حضرت ام المؤمنین کی براءت میں دس آیات نازل ہوئیں۔ بارگاہِ خداوندی میں ان کا کتنا اعزاز تھا، وہ اس سے ظاہر ہے۔ اور پھر ان آیات کے سیاق میں قہر و جلال کی کوندتی ہوئی بجلیاں اس کی دلیل ہیں کہ جبار و قہار مولیٰ عزوجل ام المؤمنین کے مخالفین سے اعلانِ جنگ فرما رہا ہے۔ کیا یہ اس کی دلیل نہیں کہ ام المؤمنین بارگاہِ قدس کے محبوبوں کی صف میں ہیں؟

اس حدیث میں ام المؤمنین کی ذہانت و فطانت، اصابتِ رائے، فصاحت و بلاغت، نادر بیان اور واقعات کے اسباب و علل کا اظہار جس حسن و خوبی سے ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ اسے دقیق نظر اور اہلِ معرفت ہی محسوس کر سکتے ہیں، جن میں سے بعض کی طرف میں نے اشارے کر دیے ہیں۔

(مقالات شارحِ بخاری علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!