| عنوان: | شارحِ بخاری اور خطابت (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی بدر عالم مصباحی پرنسپل الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور |
رحمت کے لوازم:
حضرت شارحِ بخاری کی تقریریں نکتہ آفرینیوں سے لبریز اور فکر انگیز باریکیوں سے مزین ہوتی ہیں۔ دلکش اور دل آویز اندازِ بیان سے سامعین مسحور ہو جاتے ہیں۔ اچھے اچھے اہلِ فکر و فن دم بخود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ آیتِ کریمہ “وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ” [سورۃ الانبياء: 107] پر جب آپ کا بیان ہوتا ہے تو نسیمِ خطابت اور بادِ سحر بیانی کے مست جھونکوں سے پورا مجمع جھوم اٹھتا ہے۔ لگتا ہے تقریر نہیں بلکہ فکر و فن کی موسلا دھار بارش ہو رہی ہے اور لوگ کیف و سرور کے عالم میں سیراب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
علمی اور تحقیقی اندازِ گفتگو شروع ہوتا ہے، دھیرے دھیرے علمی و فکری نکات کے موتی پورے مجمع میں بکھر جاتے ہیں۔ انگشتہائے دل و دماغ چننے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت کرنے لگتی ہیں۔ بحرِ فکر و فن کا غواص جذبۂ الٰہی سے سرشار، مائل بہ کرم ہو کر یوں تکلم ریز ہوتا ہے۔
مسلم قاعدہ ہے کہ “الشَّيْءُ إِذَا ثَبَتَ ثَبَتَ بِلَوَازِمِهِ”۔ شے جب ثابت ہوگی تو اپنے لوازم کے ساتھ ثابت ہوگی۔ مثلاً گلاب کا پھول جب بھی پایا جائے گا تو اس کے ساتھ اس کے لوازم بھی ضرور پائے جائیں گے۔ اس کے لیے چار چیزیں لازم ہیں: دیدہ زیب ہونا، خوشبودار ہونا، نرم و نازک ہونا، رنگین ہونا۔ شے کے لوازم میں سے کسی ایک کا انکار حقیقت میں اس شے کا انکار ہے۔
مسلمانو! اسی طرح رحمت کے بھی چند لوازم ہیں کہ ان لوازم میں سے کسی کا انکار درحقیقت رحمت کا انکار ہے۔ رحمت کے کل آٹھ لوازم ہیں۔ جس شے کو رحمت قرار دیا جائے گا اسے مالک ہونا، مختار ہونا، قادر ہونا، عالم ہونا، زندہ ہونا، حاجتمند کی زبان جاننا، حاضر ناظر ہونا، مستغنی ہونا، محتاج نہ ہونا لازم ہے۔۔۔ یہ کل آٹھ لوازم ہوئے۔ چونکہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا، “رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ” - حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سارے عالم کے لیے رحمت ہیں۔ تو “الشَّيْءُ إِذَا ثَبَتَ ثَبَتَ بِلَوَازِمِهِ” کے تحت ضروری ہوا کہ سارے عالم کے مالک بھی ہوں، سارے عالم پر قادر بھی ہوں، سارے عالم کے عالم بھی ہوں اور جب سے عالم ہے اور جب تک عالم ہے زندہ بھی ہوں، اور سارے عالم میں حاضر و ناظر بھی ہوں۔ سارے عالم سے مستغنی ہوں اور سارا عالم ان کا محتاج بھی ہو۔
حضرت شارحِ بخاری عوام کے ذہنوں سے قریب کرنے کے لیے یوں وضاحت فرماتے ہیں: رحمت کے لغوی معنی ہیں مہربان کے۔ تو اب مطلب یہ ہوا کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ساری کائنات کے لیے سراپا مہربان بن کر تشریف لائے۔
انتباہ:
کون نہیں جانتا کہ کسی مظلوم فریادی پر مہربانی وہی کر سکتا ہے جو مہربانی اور مدد کرنے کے اسباب کا مالک ہو۔ مثلاً ایک فریادی جس کو کچھ روپیوں کی ضرورت ہے وہ آپ کے پاس آیا کہ مجھے اتنے روپے درکار ہیں، میری مدد کرو۔ آپ کے پاس روپیوں کا انبار ہے لیکن آپ ان روپیوں کے مالک نہیں بلکہ محافظِ امین ہیں تو اب آپ اس فریادی کی مدد نہیں کر سکتے، اس کے ساتھ مہربانی نہیں کر سکتے۔ اسی طرح آپ روپیوں کے مالک تو ہیں لیکن مختار نہیں ہیں۔ مثلاً نابالغ کہ وہ مالک تو ہو سکتا ہے لیکن مختار نہیں ہو سکتا ہے، کسی دوسرے کو کچھ دے کر مالک نہیں بنا سکتا، لہٰذا کسی کی مدد کرنے کے لیے ضروری ہوا کہ مدد کرنے والا مختار بھی ہو۔ اب اگر کوئی مالک بھی ہے مختار بھی ہے لیکن مدد کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تو ایسا شخص بھی مالک مختار ہونے کے باوجود مدد نہیں کر سکتا۔ مثلاً ایک شخص بعدِ مغرب آپ کے پاس آیا، ایک ہزار روپے دے دیجئے، اس نے کہا: میں ہزار روپے کا مالک بھی ہوں، مختار بھی ہوں مگر میرے روپے بینک میں ہیں اور بینک کھلے گا کل دس بجے دن کو اور آپ ابھی چاہتے ہیں تو میں معذور ہوں۔ دیکھئے یہ مالک بھی ہے، مختار بھی ہے مگر اس وقت ایک ہزار روپے دینے پر قادر نہیں۔ تو اس کے ساتھ مہربانی کیسے کر سکتا ہے؟ پتہ چلا کہ مالک مختار ہونے کے ساتھ ساتھ قادر ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح مالک، مختار، قادر سب ہوں لیکن معلوم نہ ہو کہ کون فریاد کر رہا ہے؟ کہاں فریاد کر رہا ہے؟ تو آپ اس کی مدد نہیں کر سکتے ہیں۔ چلئے آپ مالک، مختار، قادر، عالم سب ہیں اور اس کے عالم بھی ہیں کہ فریادی کون ہے، فریادی کہاں ہے لیکن آپ زندہ نہیں مردہ ہیں تو آپ اس فریادی کی مدد نہیں کر سکتے۔ لہٰذا مالک، مختار، قادر، عالم ہونے کے ساتھ ساتھ زندہ ہونا بھی ضروری ہے۔ چلئے آگے بڑھئے، آپ مالک، مختار، قادر، عالم، زندہ سب ہیں لیکن فریادی کی زبان آپ نہیں جانتے، فریادی کو کیا چاہیے؟ فریادی کیا مانگ رہا ہے؟ آپ اس کی زبان سے ناواقف ہیں۔ مثلاً آپ انگلش نہیں جانتے، فریادی انگلش میں پانی مانگ رہا ہے تو آپ پانی پر مالک، مختار، قادر اور فریادی کا علم رکھتے ہوئے نیز زندہ رہتے ہوئے بھی اس کو پانی نہیں دے سکتے اس لیے کہ آپ کو خبر نہیں کہ وہ کیا مانگ رہا ہے۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ حاجتمند کی زبان کا بھی علم ہو۔ چلئے ان چھ چیزوں کے ہوتے ہوئے اگر آپ فریادی کے پاس حاضر نہیں تو آپ اس کی مدد نہیں کر سکیں گے۔ لہٰذا ضروری ہوا کہ حاضر بھی ہوں اور حاضر کے لیے اگر نابینا نہیں ہے تو ناظر ہونا لازم۔ اسی طرح مدد کرنے کے اسباب بھی اس کے پاس موجود ہونا چاہئیں، وہ اس میں مستغنی ہو، محتاج نہ ہو۔
مذکورہ بالا توجیہات سے ثابت ہو گیا کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ساری کائنات کے لیے رحمت بنایا گیا تو گویا بالفاظِ دیگر آپ کو مالک، مختار، قادر، زندہ، عالم، ماہرِ زبان، حاضر و ناظر، مستغنی سب بنایا گیا۔ اور صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ ساری کائنات کے لیے، یعنی حیوانات، جمادات، جنات، حور و ملک سب کے لیے۔ لہٰذا بلا دغدغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پوری کائنات کے مالک و مختار ہیں نیز کائنات کے چپے چپے کا آپ کو علم بھی ہے اور پوری کائنات پر آپ کو قدرت بھی عطا کی گئی ہے اور پوری کائنات کی تمام مخلوقات کی زبان کا علم بھی آپ کو عطا کیا گیا۔ آپ ساری کائنات کے لیے حاضر و ناظر ہیں اور آپ محتاج نہیں مستغنی ہیں۔ ان میں سے کسی کا بھی انکار درحقیقت رحمت کا انکار ہوگا۔ اور رحمت کا انکار قرآنی آیت کا انکار۔
علمی نکتہ:
حضرت شارحِ بخاری مدظلہ العالی اس موقع پر ایک علمی نکتہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ بنظرِ دقیق اگر دیکھا جائے تو اگر عالمین نہ بھی فرمایا جاتا صرف رحمت فرمایا جاتا تو بھی حاصل یہی نکلتا کہ حضور سارے عالم کے لیے رحمت ہیں۔ اس لیے کہ قاعدہ یہ ہے کہ جب فعل یا شبہِ فعل کا متعلق محذوف ہو تو وہ عموم کا افادہ کرتا ہے۔ تو اب بھی حاصل یہی نکلے گا کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تمام عالم کے لیے رحمت ہیں لیکن کوئی کہہ سکتا تھا کہ رحمت ہیں اپنے گھر کے لیے، گھر والوں کے لیے، اپنے زمانے والوں کے لیے، صرف انسانوں کے لیے۔ اس قسم کے واہمہ کی گنجائش ختم کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا “رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ”۔ یعنی حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک عالم کے لیے رحمت نہیں بلکہ جس جس چیز پر عالم کا اطلاق ہے سب کے لیے رحمت ہیں۔
حضرت شارحِ بخاری کی یہ تقریر بہت لمبی ہے۔ اگر پوری تقریر صفحۂ قرطاس پر منتقل کی جائے تو آیتِ کریمہ کی ایک مبسوط تفسیر ہوگی جو عوام تو عوام خواص کے لیے بھی ایک علمی، تحقیقی سرمایہ ہوگا۔ اور گستاخانِ شانِ رسالت کے بہت سارے اعتراضات و توہمات کے لیے دفع اور قلع قمع کا مضبوط و محکم ذریعہ ہوگا۔ حضرت شارحِ بخاری کی تقریریں جن حضرات نے سنی ہوں گی انہیں بخوبی معلوم ہوگا کہ آپ کی تمام تقریروں میں اثباتِ عقائدِ اہلِ سنت اور تردیدِ عقائدِ باطلہ بنیادی عنصر ہوتا ہے۔
عقیدہ و ایمان کی باتیں:
حضرت شارحِ بخاری مدظلہ العالی مسلکِ اہلِ سنت و جماعت کی حقانیت پر جب خطاب فرماتے ہیں، تو یہ لگتا ہے کہ سامعین کا ذہن و دماغ جام ہے، اور حضرت شارحِ بخاری ساقی ہیں اور نہایت ہی سنجیدہ انداز اور حسنِ سلیقہ سے عقیدہ و ایمان کے جام پُر کرتے جا رہے ہیں اور لوگ طرب و مستی میں پیتے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر بعض بد مذہبوں کو یہ کہتے بھی سنا گیا کہ ایسی ہی دو چار بار تقریریں ہو گئیں تو ہمارا مذہب خاک میں مل جائے گا۔ گفتگو یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ آج بنامِ اسلام فرقوں کی بہتات ہے۔ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “تَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً” [مشکوٰۃ، ج: 1، ص: 30] میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، سوائے ایک فرقے کے سب جہنمی ہوں گے۔ صحابہ نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ! وہ جنتی فرقہ کون سا ہے؟ ارشاد فرمایا: “مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي” جس عقیدے اور طریقے پر میں ہوں اور میرے صحابہ۔ اب اگر پوچھا جائے کہ رسول اللہ اور صحابہ کے عقیدے اور طریقے پر کون ہے تو ہر فرقہ یہی کہے گا کہ رسول اللہ اور صحابہ کے عقیدے پر ہم ہیں، فیصلہ بڑا مشکل ہوگا، حدیث سے ظاہر ہے کہ وہ کوئی ایک ہی فرقہ ہوگا، بقیہ بہتر جہنمی ہوں گے۔
اس موقع پر حضرت شارحِ بخاری اپنے تجربات کی روشنی میں بڑی پختہ بات بیان فرماتے ہیں اور ایسی پختہ کہ معمولی ذہن و فکر کا آدمی بھی اسے بخوبی محسوس کر لے گا۔ آپ فرماتے ہیں: دیوبندی، وہابی، جماعتِ اسلامی، نیچری، چکڑالوی، رافضی اور اہلِ سنت نام کے فرقے ہماری زبانوں پر آتے رہتے ہیں، اور سبھی لوگ کچھ کچھ ان کے عقائد اور طور طریقوں سے بھی واقف ہیں۔ آپ سبھی لوگوں کو معلوم ہے کہ اہلِ سنت کے علاوہ کسی بھی فرقے سے دوسرے فرقوں کے بارے میں پوچھئے تو یہی کہے گا کہ جنتی ہیں، طریقے الگ الگ ہیں، ہم کسی کو برا نہیں کہتے ہیں۔ دیوبندی سے پوچھئے کہ غیر مقلدین کے بارے میں کیا خیال ہے، تو یہی کہے گا کہ وہ بھی جنتی ہیں صرف نماز پڑھنے کا طریقہ الگ ہے، غیر مقلد دیوبندی کو جنتی کہے گا، اسی طرح جماعتِ اسلامی، نیچری، چکڑالوی سب ایک دوسرے کو جنتی کہیں گے۔ لیکن اہلِ سنت کے کسی فرد سے پوچھئے تو وہ سب کو جہنمی کہے گا، صرف اپنے کو جنتی کہے گا، اور حضور نے یہی فرمایا کہ جنتی ایک ہی ہوگا، بقیہ سب جہنمی ہوں گے۔ اس کے بعد شارحِ بخاری سامعین کے ذہنوں کو موڑتے ہیں اور فرماتے ہیں: چلئے آگے بڑھئے۔ اور مختلف فرقوں کے عقائد کو سامنے رکھ کر جائزہ لیجئے کہ کون سا فرقہ رسول اللہ اور صحابہ کے عقیدے پر ہے، جو فرقہ رسول اللہ اور صحابہ کے عقیدے پر مل جائے اس کو حق مان لیا جائے۔ آئیے ایک عقیدہ سامنے رکھئے رسول اللہ کو علمِ غیب ہے یا نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عقیدے میں بھی اہلِ سنت کے علاوہ سب ایک پلیٹ فارم پر ہیں، کوئی کہتا ہے کہ ان کو دیوار کے پیچھے کی خبر نہیں، کوئی کہتا ہے رسول اللہ کے لیے علمِ غیب ماننا شرک ہے، کوئی کہتا ہے رسول اللہ کا علمِ غیب زید، عمرو، بکر، جانور، پاگل جیسا ہے، کوئی کہتا ہے کہ ان کو اپنے خاتمے کا بھی حال معلوم نہیں، صرف اہلِ سنت فرقہ یہ کہتا ہے کہ رسول اللہ کو علمِ غیب ہے، یہاں بھی یہ اکیلا ہے۔ اب آگے بڑھ کر یہ دیکھ لیا جائے کہ رسول اللہ اور صحابہ کا اس سلسلے میں کیا عقیدہ تھا، تو اس بارے میں ہمارے سامنے ایک حدیث آتی ہے: ایک صحابی کی اونٹنی گم تھی، تلاشِ بسیار کے بعد بھی نہ ملی، وہ اللہ کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میری اونٹنی گم ہو گئی ہے، ارشاد فرمائیں کہ وہ کہاں ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “إِنَّ نَاقَةَ فُلَانٍ بِوَادِي كَذَا” الخ [الدر المنثور للسيوطي، سورة التوبة، تحت الآية: 65-66، ج: 10، ص: 230] تیری اونٹنی فلاں وادی میں فلاں درخت کے نیچے ہے۔ صحابیِ رسول گئے اور وہاں سے اپنی اونٹنی لے آئے۔
یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حضرت شارحِ بخاری فرماتے ہیں: آپ حضرات غور فرمائیں، اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کا عقیدہ تھا کہ حضور غیب کی بات بتا دیں گے اسی لیے وہ تلاشِ بسیار کے بعد حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور پوچھا اور حضور نے بھی انہیں بتا دیا۔ یہ نہیں کہا کہ یہ غیب ہے، اور مجھے غیب کی خبر نہیں۔ اب واضح ہو گیا کہ صحابہ کا بھی عقیدہ یہی تھا کہ حضور کو غیب کا علم ہے اور خود حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ مجھے علمِ غیب ہے۔ تو اب پتہ چل گیا، ظاہر ہو گیا کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علمِ غیب کا عقیدہ “مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي” کے بالکل مطابق ہے۔
حضرت شارحِ بخاری اس کے بعد فرماتے ہیں: بات اس پر ختم نہیں ہو جاتی ہے، بلکہ آگے بڑھیں۔ صحابیِ رسول کو جب حضور نے بتا دیا کہ تمہاری اونٹنی فلاں جگہ ہے تو وہ خوشی خوشی دربارِ رسالت سے واپس ہو رہے تھے کہ چند منافقین نے انہیں پکڑا، کہاں سے آ رہے ہو؟ صحابیِ رسول نے پورا واقعہ بتا دیا، تو زید بن لصیت نامی منافق اور اس کے دیگر منافق ساتھیوں نے کہا: “مَا يُدْرِيهِ بِالْغَيْبِ” محمد کو غیب کی کیا خبر؟ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی تو آپ نے منافقین سے پوچھا، کیا تم لوگوں نے ایسا کہا؟ اس پر منافقین نے فوراً کہہ دیا، ہم لوگوں نے تو یونہی بطورِ مذاق ایسا کہہ دیا تھا۔ منافقین کا اتنا کہنا تھا کہ قرآنِ عظیم نے ان پر کفر کا فتویٰ لگا دیا۔ آیتِ کریمہ نازل ہو گئی:
قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ * لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ [سورۃ التوبة: 65-66]
اس سے پتہ چلا کہ منکرینِ علمِ غیب پر سب سے پہلا کفر کا فتویٰ قرآنِ عظیم نے صادر کیا، امام احمد رضا نے تو اسی فتوے کا فقط اعادہ فرما دیا ہے۔
دلچسپ اندازِ بیان:
حضرت شارحِ بخاری کی تقریریں اگر بغور سماعت کی جائیں تو یہ کہنے میں قطعی جھجھک محسوس نہ ہوگی کہ شارحِ بخاری وافر مواد کے ساتھ ساتھ ایسے ایسے لطیف اور عمدہ نتائج پیش کرتے ہیں کہ پورا مجمع نعروں کی گونج سے جوش مارنے لگتا ہے، اور عقیدہ و ایمان میں تازگی، نئی روشنی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں خطاب کا اعلیٰ نمونہ۔
غزوۂ خندق کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے خندق کھودی جا رہی ہے، اچانک ایک سخت چٹان آ جاتی ہے، کسی بھی صحابیِ رسول کا پھاوڑا اثر نہیں کر رہا ہے۔ صحابہ کرام نے روحانی و جسمانی طاقتوں کے مرکزِ اعظم کی بارگاہ میں حاضری دی، یا رسول اللہ! ایک چٹان ہے جو بہت سخت ہے، کسی بھی صحابی کا پھاوڑا اس پر اثر نہیں کر رہا ہے۔ قوتِ الٰہیہ کے مظہرِ کامل چٹان کے پاس تشریف لے جاتے ہیں، دستِ اقدس سے پھاوڑا اٹھاتے ہیں، تین بار بسم اللہ پڑھتے ہیں، پھر چٹان پر پھاوڑا مارتے ہیں، تہائی چٹان ریزہ ریزہ ہو کر گرد و غبار بن گئی، اس سے ایک روشنی چمکی آپ نے نعرۂ تکبیر بلند کیا، ساتھ میں صحابہ نے بھی اللہ اکبر کہا، پھر دوسری بار چٹان پر پھاوڑا مارا اس پر بھی سرکار سرکاراں نے اللہ اکبر کہا، اس سے بھی روشنی چمکی، پھر تیسری بار پھاوڑا مارا اس سے پوری چٹان ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گئی، اس پر بھی حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اور اس وقت بھی ایک روشنی چمکی۔
صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تینوں بار نعرہائے تکبیر کیوں بلند فرمایا، اور نئی روشنی کیسی نکلی؟ مالک و مختار رسولِ اعظم نے ارشاد فرمایا: پہلی بار جب میں نے چٹان پر پھاوڑا مارا تو مجھے ملکِ شام کی کنجیاں عطا کی گئیں اور میں ملکِ شام کے سرخ محلوں کو اب بھی دیکھ رہا ہوں عنقریب میری امت شام فتح کر لے گی، اور دوسری ضرب میں مجھے فارس کی کنجیاں عطا کی گئیں میں فارس کے سفید محلات دیکھ رہا ہوں، تیسری بار جب چٹان پر میں نے پھاوڑا مارا تو مجھے یمن کی کنجیاں عطا کی گئیں بخدا میں صنعاء کے دروازوں کو یہاں سے اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ جبریل نے مجھے بتایا کہ میری امت ان سب کو فتح کر لے گی۔
حضرت شارحِ بخاری واقعہ بیان کرنے کے بعد بہت ہی عمدہ اور زور کی بات کرتے ہیں کہ پورا مجمع پھڑک اٹھتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم چٹان توڑنے کے ساتھ ساتھ اپنے غلاموں کو دنیا کی حکومتیں بھی تقسیم فرما رہے تھے۔
اثر آفرینی:
حضرت شارحِ بخاری کی تقریر کی اثر آفرینی ضرب المثل ہے، جب کبھی موڈ میں آ کر تقریر فرماتے ہیں تو مجمع جھوم جھوم اٹھتا ہے اور بار بار نعرہائے تکبیر و رسالت کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، اور حاضرین میں سے کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی چار چار گھنٹے تقریر فرمائی ہزارہا ہزار کے مجمع سے ایک بھی اپنی جگہ سے نہیں اٹھا۔ تقریر میں کبھی کبھی لطائف و ظرائف بھی بیان فرماتے ہیں۔ یہ ضروری بھی ہے، تاکہ سامعین اکتائیں نہیں اور ان کے ذہن میں تازگی رہے۔ لطائف و ظرائف پر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مجمع دیر تک قہقہہ لگاتا رہ جاتا ہے اور جب کبھی رقت انگیز مضمون بیان فرماتے ہیں تو دفعۃً وہی قہقہہ لگانے والا مجمع رونے لگتا ہے۔ اور ذکرِ شہادت کے موقع پر تو میں نے برسہا برس اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب ذکرِ شہادت فرماتے ہیں تو مجمع دھاڑیں مار مار کر رونے لگتا ہے، خصوصیت سے حضرت علی اکبر اور حضرت سیدنا امام حسین کی شہادت پر تو شاید ہی کوئی ایسا سنگدل انسان ہوتا ہے جس کی آنکھیں نم نہیں ہوتیں۔
عرسِ حافظِ ملت کے موقع پر حاضرین اس کے گواہ ہیں کہ قل کے موقع پر جب دعا کرتے ہیں تو ایک سماں بندھ جاتا ہے۔ پھر خود بھی زار و قطار روتے ہیں، اور مجمع بھی روتا ہے، غرضیکہ اللہ عزوجل نے آپ کی زبان میں بے حد تاثیر عطا فرمائی ہے، تقریر کریں یا دعا مانگیں، سب کے دلوں میں گھر کر جاتے ہیں۔
اختتام:
حضرت شارحِ بخاری مدظلہ الاقدس کی خطابت کے جلوؤں کی معمولی سی جھلک میں نے اختصار کے ساتھ محض بطورِ نمونہ پیش کر دی ہے، ورنہ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ شارحِ بخاری کے اہم خطبات جمع کیے جائیں۔ جس سے دنیائے علم و حکمت نیز اسلامیات میں ایک عظیم علمی شاہکار کا اضافہ ہو۔
