| عنوان: | وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر ریاض الدین بدایونی |
| پیش کش: | محمد رضا اشرفی فیضی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں ہے قوتِ بازو
آتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خدا داد
اے مردِ مجاہد تجھے وہ قوت نہیں حاصل
جا بیٹھ کسی گھر میں اللہ کو کر یاد
مسکینی و محکومی و نومیدیِ جاوید
جس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد
مُلّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
تاریخ کے کھنڈرات سے ہر عہد میں ایک نیابت تراش کر کھڑا کر دیا جاتا ہے، کبھی یہ بت عبداللہ بن سبا کی صورت میں اپنے پجاریوں سے اپنی جے بلند کرواتا ہے تو کبھی حسن بن صباح کی شکل میں تصوف کا ایک طلسمِ ہوشربا باخود ساختہ جنت کا مالک بن بیٹھتا ہے، جہاں وہ بھنگ کے نشے کو اپنا ہتھیار بنا کر اپنے چیلوں کا خود ساختہ مقدس بت بن جاتا ہے، یہ نشہ رنگ بدلتا ہے کبھی اکبر کے دینِ الٰہی کا روپ دھار کر اقتدار کے مندر میں اپنی پرستش شروع کرواتا ہے تو کبھی لارنس آف عریبیہ کی شکل اختیار کر کے ملتِ اسلامیہ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔
تاریخ کے ان کھنڈرات کو جب بھی کریدو گے تو خاک کے ساتھ خون بھی موجود ہوگا۔
اے اہلِ علم و دانش! تم سے یہ بات پوشیدہ تو نہیں کہ علم کا تکبر کتنا بھیانک ہوتا ہے، صرف ابلیس ہی راندۂ درگاہ کی مثال نہیں بلکہ بلعم بن باعورا جیسا مستجاب الدعوات عالم بھی اپنے قدم سنبھال نہ سکا اور پھر قرآن نے اس کی مثال دی:
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ ﴿۱۷۵﴾ [سورۃ الاعراف: 175]
اور اے محبوب! انہیں اس کے احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہو گیا۔
اسے تو بلندی ملنی تھی اسے تو اعزاز عطا ہونے تھے لیکن کیوں نہ مل سکے؟
وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ﴿۱۷۶﴾ [سورۃ الاعراف: 176]
اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے بلندی عطا فرماتے مگر وہ تو زمین پکڑ گیا اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تم نصیحت سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں۔
آخر کیوں؟ چانکیہ کا پیروکار تصوف اور صوفیاء کی بات کر رہا ہے؟ کیا کہو گے محمود غزنوی کو؟ شاید دنیا بھر کے نام نہاد محققین اور مجددین اس کو لٹیرا ہی کہہ دیں مگر کیا حکم لگائیں گے یہ تمہارے مفتی، ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ پر جن کے خرقہ کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ نے محمود غزنوی کو فتح عطا فرمائی۔
بتاؤ تو سہی یہ کج کلاہ کے آگے جھکنا کس صوفی کی تعلیم ہے، اے قافلہ سالارو! یہ کس سمت لیے جا رہے ہو قافلے کو؟ تم دولت و شہرت کی طلب میں سودا تو نہیں کر رہے؟ نہیں تم ایسا نہیں کر سکتے مجھے یقین ہے جن کی رگوں میں اہلِ محبت کا خون گردش کر رہا ہو وہ سودے نہیں کر سکتے۔
مگر یاد رکھنا! نئے راستے تراشو گے تو منزل سے بھٹک جاؤ گے معاملہ تمہارا ہوتا تب بھی غم کم تھا، بات تو پوری ملتِ اسلامیہ کی ہے اور بات تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی ہے، بات تو اسلاف کے خون سے وفا کی ہے، بات تو سچائی اور حق کی ہے یہ صوفیوں کا اجتماع اور مسلمانوں کا قاتل سامنے ہو تو خود پکار پکار کر کہتی ہے۔
کس لیے آج سامانِ شبِ خون ہیں؟ کون سے راز سینوں میں مدفون ہیں؟ کون سے لشکر اب آمادۂ خون ہیں۔۔۔
احبابِ من! عورت مرد کا لباس زیبِ تن کر لے تو مرد نہیں بن جاتی بھیڑیے صوفیت کی بات کریں تو دیکھ لینا تمہیں وہ اپنے مذموم مقاصد کا چارہ تو نہیں بنا رہے ہیں؟
اور اوریا مقبول جان لکھتے ہیں:
“حیرت کی بات ہے کہ اسلام اور صوفیاء کی تعلیمات کے عالمی ماہرین وہ غیر مسلم بھی ہیں جن کی زندگیاں اسلام کے تصورات کو کاٹ چھانٹ کر مغرب کے سانچے میں فٹ کرنے میں گزریں۔ اس صوفی کانفرنس میں ایسے کئی تھے، جنہوں نے اپنے خیالاتِ عالیہ حاضرین کو ذہن نشین کرائے، ان عظیم صوفی اسکالروں میں کارل ارنسٹ Carl Ernest تھا جو نارتھ کیرولینا یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کا پروفیسر ہے اور اپنی ایک کتاب کی وجہ سے مشہور ہے جس کا نام ہے Re-thinking Islam in Contemporary World۔ یعنی موجودہ دور میں اسلام کے بارے میں ازسرِ نو سوچنا۔ مقررین میں ڈاکٹر والٹر اینڈرسن Walter Anderson تھا جو امریکہ کے محکمہ خارجہ میں جنوبی ایشیا کا مشیر رہا ہے اور بھارت میں امریکی سفیر کا مشیرِ خاص بھی رہا ہے۔ یہ بھی اسلام کی اپنی ایک تعبیر کے حوالے سے مشہور ہے۔ صوفی علم کا ایک اور ماہر ڈاکٹر ایلن گوڈلس Alan Godlas تھا جو امریکہ میں ایک خوبصورت مقرر کے طور پر جانا جاتا ہے اور جسے امریکہ کا دفترِ خارجہ دنیا بھر کے ممالک میں اسلام کی تعلیمات سمجھانے کے لیے خاص طور پر بھجواتا ہے۔ ان سب کے ساتھ ساتھ پاکستان سے ڈاکٹر طاہر القادری تھے کہ مغرب کے محبوب مفکروں میں ان کا بھی شمار ہوتا ہے۔” [روزنامہ ایکسپریس، 18 اپریل 2012ء]
بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگنے اور بلعم باعورا کا علم کیا خوب بولا بس اتنا ہی کہوں گا:
کسی نے دولتِ فانی کو دیوتا جانا
ادب کو رزق کمانے کا مشغلا جانا
جگر کے خون کو رنگینیِ حنا جانا
بتانِ ہیکلِ اوہام کو خدا جانا
غمِ حیات کو بے مدعا بنا ڈالا
ہُنر کو کاسۂ دستِ گدا بنا ڈالا
اے اہلِ صفا! تم نے جس راہ کو چنا ہے یہ کوئی معمولی راہ نہیں ہے، یہ وہی راہ ہے جہاں دل کو مارا جاتا ہے، خواہشِ نفس کا گلا گھونٹا جاتا ہے، گلے سے زمان و مکان کے طوق اتارے جاتے ہیں، اعلائے کلمۃ الحق کے نعرے لگائے جاتے ہیں، بلاؤں پر مسکرایا جاتا ہے، تاج و تخت کو ٹھوکر لگائی جاتی ہے۔
یہ راہ کس کے لیے ہے؟
ردائے زر کا نہیں جو کفن کا شیدا ہو
اُدھر وہ آئے جو دارِ رَسَن کا شیدا ہو
[دو ماہی الرضا انٹرنیشنل پٹنہ، مئی، جون، ص: 76]
