| عنوان: | اہل حق کی نشانیاں کیا ہیں؟ (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق نور مصباحی |
| پیش کش: | ثمینہ پروین قادریہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی مرادآباد |
(۵) ہر صدی میں مجدد کی آمد
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - فِيمَا أَعْلَمُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ Lِهَٰذِهِ الْأُمَّةِ عَلَىٰ رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا.
[سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم؛ معرفة الآثار والسفن للبیہقی، ج 1، ص 208؛ المستدرک علی الصحیحین، ج 4، کتاب الفتن والملاحم؛ المعجم الکبیر للطبرانی، ج 19، ص 467]
(ترجمہ) حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رب تعالیٰ اس امت کے لیے ہر صدی کے اخیر میں ایسے کو مبعوث فرمائے گا جو اس امت کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔
توضیح: حدیثِ مذکورہ میں صریح لفظوں میں بتایا گیا کہ ہر صدی میں مجددین کی آمد ہو گی، یعنی جب تک اسلام رہے گا، تب تک ہر صدی میں مجدد کا وجود ہوتا رہے گا۔ بد مذہب جماعتیں اسلام کی ہر صدی میں موجود نہیں رہیں۔ بعض ایک صدی تک، بعض دو تین صدیوں تک رہیں، پھر معدوم ہو گئیں، اب کتابوں میں ان جماعتوں کے صرف نام ملتے ہیں۔ ان جماعتوں کے حق ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں، کیونکہ جماعتِ حق کی یہ علامت ہے کہ ہر صدی میں اس جماعت کو مجدد عطا کیا جائے گا، اور جس جماعت کا وجود ہر صدی میں نہ ہو، اس جماعت میں ہر صدی میں مجدد آنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔
اسی طرح عہدِ حاضر کی نوزائیدہ جماعتوں کے حق ہونے کا بھی کوئی راستہ موجود نہیں، کیونکہ حق جماعت کی اصلاح کے لیے ہر صدی میں مجددین کی آمد ہوگی، اور جو جماعت ہر صدی میں موجود نہ ہو، وہ جماعتِ حق نہیں ہو سکتی، بلکہ وہ اسلام کا ایک نیا فرقہ ہو گا۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اہلِ حق ہر صدی میں ہوں گے۔ کوئی صدی اہلِ حق سے خالی نہیں ہو گی۔ اسی طرح ہر عہد میں اہلِ حق ہوں گے، حدیث "لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي..." الایۃ سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ یہ سب نشانیاں جماعتِ حق کی بتا دی گئیں، تاکہ امت کو آسانی ہو۔
حدیثِ مذکورہ بالا سے یہ حقیقت بھی ظاہر ہو جاتی ہے کہ بقائے اسلام تک ہر صدی میں جماعتِ حق کا وجود ہو گا، اور اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کے لیے ہر صدی میں علما و فقہا کے علاوہ چند مخصوص افراد کو خاص صفات کے ساتھ پیدا فرماتا رہے گا، جو مذہبِ حق میں جنم لینے والی کسی بھی برائی کو دور کر دیں گے، اور حق و باطل کو واضح کر دیں گے، پھر جو لوگ برائی پر مصر رہیں، وہ قانونِ اسلام کے سبب اہلِ حق سے خارج قرار پائیں گے۔
ہر عہد میں اسی طرح اہلِ باطل کو اہلِ حق سے جدا ہونا پڑا۔ وہ اپنے باطل عقائد پر قائم رہے، اور اپنے باطل اعتقادات کی تاویلیں کرتے رہے۔ جب اہلِ حق نے دیکھا کہ اب یہ لوگ حق کی طرف آنے والے نہیں تو ان کے بطلان کا فیصلہ کر دیا اور باطل جماعتوں نے خود کو اہلِ حق سے جدا کر لیا اور اہلِ حق کے دلائل کو قبول نہ کیا۔ اسی مفہوم کو حدیثِ نبوی میں "مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ" سے تعبیر فرمایا گیا، یعنی باطل معتقدات پر اصرار کے سبب یہ لوگ خود ہی اہلِ حق سے جدا ہو جائیں گے۔ ایسا نہیں کہ کوئی عالم یا مجدد ان کو اسلام سے خارج کر دے گا، بلکہ اصرار کے سبب اسلامی قانون کے اعتبار سے وہ اہلِ باطل قرار پاتے ہیں۔ علمائے دین صرف اسلامی احکام کو ظاہر کرتے ہیں۔ ظاہر کرنا الگ بات ہے، اور خارج کرنا الگ بات ہے۔
اہلِ باطل کے اصرار کا سبب یہ ہوتا ہے کہ قومِ مسلم کے کچھ افراد ان کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ ساتھ ہونے کے متعدد اسباب ہوتے ہیں۔ مامون رشید تلوار کے زور سے لوگوں کو مذہبِ معتزلہ کی طرف لایا، کبھی دنیاوی عہدوں کا لالچ دیا جاتا ہے، جیسے یزید نے فوجیوں اور سالاروں کو میدانِ کربلا بھیجنے کے لیے حکومت و دولت کا لالچ دیا اور بات نہ ماننے پر عہدوں سے برطرف کرنے کی دھمکی دی گئی ۔ آج بھی دنیاوی منفعت دکھا کر لوگوں کو باطل مذہب کی طرف لایا جاتا ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے، جس کی توضیح کی ضرورت نہیں، بلکہ احساس کرنے کی ضرورت ہے:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ حَبِيبِهِ الْكَرِيمِ وَآلِهِ الْعَظِيمِ.
[کتاب السواد الاعظم، ص: 7 تا 16]
