Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

وہابیت کا جھگڑا (قسط: سوم)|صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ

وہابیت کا جھگڑا (قسط: سوم)
عنوان: وہابیت کا جھگڑا (قسط: سوم)
تحریر: صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ
پیش کش: سیدہ کلثوم امجدی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

چنانچہ جب آیت “أَتَى أَمْرُ اللَّهِ” نازل ہوئی تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں ایک جذبہ پیدا ہوا اور آپ فوراً کھڑے ہو گئے، اسی طرح حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت شریفہ کا ذکر سن کر بالخصوص ایسی مجلس میں جو حضور ہی کے ذکر مبارک کے لیے منعقد کی گئی ہو اور حضور کی نعت مبارک سن کر دلوں میں محبت موجیں مارنے لگی ہو، ذکر ولادت سن کر جذبات میں ایک لہر آ جانا اور سرور کا اظہار ادب و تعظیم کے لیے مستدعی قیام ہونا کچھ بعید نہیں۔ اور عین اس سنت کے مطابق ہے جو حضور کے قیام میں پائی گئی، نیز کسی عظیم الشان دینی ذکر کے سننے کے لیے اس ذکر کے احترام کے لیے قیام کرنا بھی سنت صحابہ ہے۔ چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک حدیث سننے کے لیے قیام فرمایا، اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر ولادت کا اور حضور کے بیان ظہور کا قیام تو خود اس سے ثابت ہے کہ خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس منبر پر قیام فرما کر اپنی ولادت کریمہ کا ذکر کیا۔ اب قیام میں کیا اشتباہ ہے؟ کیا اعتراض ہے؟ کیا عذر ہے؟ کیا حیلہ ہے؟ کیا بہانہ ہے؟ کتنے وجوہ سے قیام ثابت ہے۔ اچھا تمہاری آنکھیں بند ہیں؟ تمہیں یہ کچھ نظر نہیں آتا؟

احادیث تک تمہاری رسائی نہیں، افعال کریمہ پر نظر نہیں، سیرت صحابہ سے واقفیت نہیں، بے خبر انسان ہو، تو اگر عقل و خرد کا دعوی ہے تو کچھ ہوش سے بھی کام لو اور اتنا تو سوچو کہ قیام کرنے والا کس نیت سے قیام کرتا ہے۔ وہابیوں کو مارنے کے لیے اٹھتا ہے یا شیطانوں کو جلانے کے لیے اٹھتا ہے یا مجلس سے چلا جانا اس کا مقصود ہوتا ہے؟ اس کے اٹھنے کا مدعا کیا ہے؟ اگر تمہاری سمجھ اتنا بھی نہ بتا سکے کہ یہ لوگ اس وقت کیوں اٹھے تو اس عقل پر ماتم کرو کیونکہ اتنی بات تو وہ لوگ بھی سمجھ لیتے ہیں جو کھلے کافر ہیں اور اسلام کے دعوی دار نہیں۔ تمہاری سمجھ میں اگر یہ بھی نہ آئے تو میلاد خواں سے پوچھ لو، صاحب مجلس سے دریافت کرو، شرکائے مجلس سے سوال کرو، ہر شخص تمہیں بتا دے گا کہ یہ قیام بہ نظر تعظیم تھا۔ تو اب تم بتاؤ کہ تعظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ تمہیں عداوت ہے؟ اس کو ناجائز سمجھتے ہو؟ کیا قرآن و حدیث میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کے لیے کوئی ادا خاص کر دی گئی ہے اور طریقہ معین کر دیا گیا ہے؟ اور تعین کے دشمنو! اور تعین میں کلام کرنے والو! یہاں اپنے دل سے کیوں تعین کرتے ہو جو طریقہ تعظیم کا ہو جس قوم میں جو امر تعظیم کے لیے معروف ہو چکا وہ یقیناً تعظیم کا فرد اور “تُوَقِّرُوْهُ” کے حکم میں داخل ہے۔

دیکھو دیکھو! قرآن سے منحرف نہ ہو، جب تم مانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ضروری ہے تو کون وجہ سے قیام کا انکار کرو۔ اب رہا یہ حیلہ کہ قیام تعظیمی جائز تو ہے لیکن مجلس مبارک میں فقط ذکر ولادت شریف ہی کے وقت قیام کیوں کیا جاتا ہے؟ اول سے آخر تک قیام کیوں نہیں کیا جاتا۔ ایسے لغو حیلے امر جائز کو ناجائز نہیں کر سکتے۔ وہابیوں سے پوچھو کہ کیا کسی امر جائز کا ایک معین وقت میں کرنا اور دوسرے اوقات میں نہ کرنا ان کو ناجائز کر دیتا ہے؟

اگر ہاں کہیں تو دلیل لاؤ، کوئی آیت یا حدیث سناؤ، محض اپنی رائے فاسد و خیال کاسد سے کسی جائز کو ناجائز مت ٹھہراؤ۔ شریعت کسی کے خیال کا نام نہیں ہے۔ وہ بیچارے مجبور ہوں گے اور کوئی دلیل نہ لا سکیں گے، تو ظاہر ہو جائے گا کہ ان کا دعوی جھوٹا تھا، اور امر جائز کو کسی وقت معین میں کرنا ناجائز نہیں کر سکتا۔

اس مضمون کو وہابیہ کے اور ذہن نشین کر دو۔ فقہ و حدیث کا درس مدرسوں میں جماعت بندی کے ساتھ جو تمہارا معمول ہے جائز ہے، موجب ثواب ہے۔ تو فقط دن ہی میں مدرسے کیوں کھلتے ہیں رات میں درس کیوں نہیں ہوتا؟ اس تعین پر کوئی آیت یا حدیث ہے؟ نہیں ہے تو کیا اس تعین سے وہ امر جائز ناجائز ہو گیا؟ اسی طرح جمعہ کے سوا باقی ایام میں پڑھانا جمعہ کو نہ پڑھانا، ایسے ہی رمضان شریف میں مدرسہ کو بند رکھنا، اس کی تعطیل کے لیے جمعہ و رمضان کی تخصیص و تعیین کیا اس کو ناجائز کر دیتی ہے؟ کرتی ہے تو تم سب اس کے مجرم ہو۔ نہیں کرتی تو قیام پر تمہارا اعتراض ایسی جاہلانہ ہٹ ہے جس کی خود تمہارے عمل تکذیب کرتے ہیں۔ علاوہ بریں اوپر ذکر کیے ہوئے دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ قیام کو وقت ذکر ولادت کے ساتھ ایک قوی مناسبت ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام کے ساتھ خود ذکر ولادت شریف فرمانا اسی نہج پر تھا، مجلس حاضر تھی، حضور تشریف فرما تھے، دین کے مسائل کا ذکر و بیان تھا۔ اسی میں جب ذکر ولادت مبارک فرمایا تو قیام فرمایا اور جب وہ ذکر مبارک فرما چکے پھر جلوس فرمایا پھر وہی ذکر مسائل تھا، تو معلوم ہوا کہ خاص ذکر ولادت شریف کے لیے قیام مستحب و مسنون ہے۔ اسی طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک مسئلہ سننے کے لیے قیام فرمانا، باوجود یہ کہ اس سے قبل بھی مسائل دین ہی کا ذکر ہو رہا تھا اس بات کی دلیل ہے کہ کسی مسئلہ خاص مہتم بالشان کے لیے مجلس میں بیٹھے ہوئے کھڑا ہو جانا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے اور سنت صحابہ بھی۔

حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بخاری شریف کی ہر ایک حدیث لکھنے کے لیے غسل فرماتے، دو رکعت نماز پڑھتے تب لکھتے۔ مولود و قیام سے چڑنے والے وہابی بتائیں تو کہ ان کا یہ فعل بدعت تھا یا نہیں؟ کیا صحابہ یا تابعین یا تبع تابعین نے بھی ایسا کیا تھا؟ قرون ثلاثہ میں یہ عمل پایا گیا تھا؟ جب ایسا نہیں ہے تو بقول تمہارے بدعت کیوں نہیں ہوا؟ اس سے بھی قطع نظر کر کے وہی قیام والا سوال کرو کہ اگر ہر حدیث لکھنے کے لیے نیا غسل اور دو رکعت نفل پڑھنا جائز ہو تو پھر بخاری ہی لکھتے وقت ایسا کرنے کی کیا تخصیص تھی؟ جب حدیث رسول اللہ لکھتے تھے ہمیشہ ہی ایسا کیوں نہیں کرتے تھے؟ حضرت امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ جب رسول کریم کی احادیث بیان فرماتے تھے تو مجلس آراستہ کی جاتی، بہترین فرش بچھائے جاتے، نفیس مسند لگائی جاتی۔ خود امام صاحب عمدہ پوشاک پہنتے، عطر لگاتے، خوشبوئیں مہکائی جاتیں۔ یہ اہتمام ان کی مجلس حدیث کے لیے ہوتا۔ تمہاری بدعت کہاں تک چلے گی؟

مگر بات یہ ہے کہ آنکھ والے تھے، قدر رفیع اور منزلت علیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انہیں معلوم تھی۔ آداب سے واقف تھے۔ تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک حدیث کے لیے اہتمام کرتے تھے۔ تم بھی اگر کچھ باخبر ہوتے اور حبیب رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو کچھ پہچانتے تو ذکر میلاد مبارک کی محفل اور تعظیمی قیام میں تمہیں پس و پیش نہ ہوتی۔ ایک حیلہ یہ ہے کہ ذکر ولادت و قیام تو سب درست ہے، لیکن اس میں نظمیں پڑھی جاتی ہیں اور آواز ملا کر پڑھی جاتی ہیں، یہ حیلہ بھی بے کار ہے۔ نظم کوئی ناجائز چیز نہیں، اور بالخصوص نعت شریف کی نظم۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نعت شریف کی نظمیں پڑھتے تھے۔ اور ان کے لیے مسجد شریف میں منبر بچھایا جاتا تھا۔ اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا فرماتے تھے۔ اور فرماتے تھے:

اَللّٰهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ

یعنی اے اللہ! حسان کی جبریل کے ذریعے مدد فرما۔ [صحیح بخاری، ج: 1، ص: 98، باب الشعر فی المسجد]

تو اب نظموں پر کیا اعتراض رہا؟ حضور کی مجلس شریف میں پڑھی گئیں، حضور کے اذن و اجازت سے پڑھی گئیں، حضور اس پر راضی و خوشنود ہوئے۔ حضور نے پڑھنے والے کے حق میں دعائیں فرمائیں۔ ایسا امر بھی ناجائز بدعت ہو سکتا ہے؟ رہا آوازیں ملانا، اس کی کہیں شریعت میں ممانعت وارد ہوئی؟ یا دین کے مسائل میں تمہیں کوئی ایسا اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ جس امر کو چاہو محض اپنی رائے سے ممنوع و ناجائز قرار دے لو؟ ایسے حکم دینا، ایسا ناجائز بتانا یہی احداث فی الدین اور یہی بدعت سیئہ ہے۔

اور بدعتیو! خود بدعت کرتے ہو اور متبعین سنت کے افعال کو بدعت بتاتے ہو۔ یہ تو تمہیں کیا خبر ہوگی کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین خندق کھودتے جاتے تھے اور آوازیں ملا کر ایک ساتھ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت شریف اور اپنی جان نثاری کی نظم پڑھتے جاتے تھے۔ اسی آواز ملانے کو بے دلیل ممنوع کہتے ہو۔ فعل صحابہ پر اعتراض ہے اور خاص اس فعل پر جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا۔

اب آپ کا صرف یہ اعتراض باقی رہ گیا کہ بعد ختم شیرینی تقسیم کی جاتی ہے تو کیا تقسیم شیرینی کوئی حرام ہے؟ ممنوع ہے؟ شریعت میں کہیں اس کی ممانعت وارد ہوئی؟ وہ کوئی ناجائز چیز ہے؟ ہدایا اور ضیافات کا زمانۂ اقدس میں معمول تھا۔ حضور نے اس کا حکم فرمایا، موجب ازدیاد محبت فرمایا۔ سرور کے وقت ضیافتیں اور احباب و اقارب میں تقسیم طعام یا شیرینی سنت صحابہ ہے۔ جا بجا اس کے تذکرے ہیں۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے بعد ختم قرآن اونٹ ذبح فرما کر ہدیۂ احباب کیا۔ ایک دو کیا صدہا مثالیں عہد کرامت مہد میں ملتی ہیں اور آپ کے یہاں جو بخاری شریف کا ختم اور اس میں تقسیم شیرینی کا معمول ہے وہ کبھی آپ کو نہ کھٹکا۔ اس پر کبھی بدعت ہونے کا حکم نہ لگایا۔ کیا زمانۂ اقدس میں کبھی اس طرح ختم کیا گیا تھا؟ اس میں تقسیم ہوئی تھی؟

بہرحال کوئی ادنیٰ سی وجہ بھی ایسی نہیں ہے، جس سے کوئی عاقل منصف مجلس مبارک میلاد کو ناجائز تو کیا غیر مستحب بھی سمجھ سکے۔ ایسی حالت میں اس کو موردِ بحث بنانا اور ذریعہ جدال قرار دینا اور اس حیلہ سے مسلمانوں کو برا کہنا اور جماعت میں تفرقہ ڈال دینا شیطانی فعل نہیں تو کیا ہے؟ آپ ہی تو وہ ہیں جو ہندوؤں کی محبت میں وارفتہ ہو کر جلوسوں میں پھرا کرتے ہیں، ہڑتالیں کرایا کرتے ہیں، مشرکین کے ساتھ آوازیں ملا کر جے پکارا کرتے ہیں۔ یہ کوئی چیز آپ کو بدعت نہیں معلوم ہوتی، مگر ذکر حبیب اور میلاد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بدعت نظر آتا ہے۔ اس کے نام سے سودا اٹھتا ہے، خفقان ہوتا ہے، آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ اس تفرقہ انگیزی سے باز آؤ! اور سوچو کہ مجلس مبارک میلاد شریف پر بے جا ضد اور ہٹ کیا فائدہ دے سکتی ہے، اور اس سے مسلمانوں میں تفرقہ انگیزی کر کے فتنہ پیدا کرنا تمہیں کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!